تصور کیجیے کسی بھی ملک میں کوئی حکومت وہاں کے معاملات کو دیکھ رہی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ یہ حکومت منتخب ہے، یا کسی اور انداز سے برسرِاقتدار آئی ہے، اور یہ انداز وہاں کے آئین و قانون سے میل رکھتا ہے یا نہیں۔ ان سب باتوں کو علاحدہ رکھ دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اپنے دور میں یہ حکومت خود کو ایک ایسی جنگ میں موجود پاتی ہے، سمجھ لیجیے کہ جو اس نے شروع نہیں کی۔
بحث کو مختصر رکھنے کے لیے یہ فرض کرنا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر یہ سوال بھی جواب چاہے گا کہ کسی حکومت کو کس نوع کی جنگ شروع کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ ویسے میری رائے میں اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ کسی بھی نوع کی جنگ شروع کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ مگر اس معاملے میں پیچیدگی اس وقت در آتی ہے، جب ہم کسی بھی حکومت کو دفاعی جنگ کا اخیتار دیتے ہیں۔ دفاعی جنگ متعدد صورتیں بدل سکتی ہے، جس میں سب سے اہم حفظِ ما تقدم کے طور پر شروع کی جانے والی اور لڑی جانے والی جنگ ہے۔
اور اس جنگ میں اس ملک کی یہ حکومت اپنی فتح، وغیرہ، کو اپنی انا کی مسئلہ بنا لیتی ہے۔ اور ہر طرح کا نقصان اُٹھائے جاتی ہے۔ جیسا کہ مادی و مالی۔ ملک کا شہری، غیرعسکری اور عسکری انفراسٹرکچر تباہ ہوتا جاتا ہے۔ اور پھر انسانی جانوں کا زیاں بھی ہو رہا ہے۔
میں جس بات کو یہاں فرض کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ یہ حکومت اپنی فتح کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے میں درست نہیں۔
کیونکہ یہ قدیمی یا وسطی عہد تو نہیں، جہاں مطلق العنان حکمران، بادشاہ، وغیرہ، کسی جنگ کو، خواہ یہ ان پر مسلط کی گئی ہو، یا انھوں نے دوسرے فریق پر مسلط کی ہو، اپنی انا کا مسئلہ بنا لیں اور محکوم لوگوں کی جان و مال کو جنگ میں جھونکتے رہیں۔
تو آیا اس حکومت کو اپنی فتح کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے کا حق حاصل ہے؟ یہ حق اسے کہاں سے مل گیا؟
میرا بنیادی سوال یہی ہے۔ ٹھوس مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایران کی مثال۔ یا آپ امریکہ کی مثال بھی لے سکتے ہیں۔
ایران پر ایک جنگ مسلط کی گئی۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے۔ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ ایران تو دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔
مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ ایران اپنے مذہبی انقلاب کے بعد سے متعدد جنگیں شروع کر چکا اور لڑ چکا ہے۔ ایران کے عزائم ڈھکے چُھپے نہیں۔ ایران کو عسکری اعتبار سے نیوکلیئر بننے دینا اس علاقے اور دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ اندازے محض اندیشے نہیں۔
یہ ہے وہ سیاق و سباق جس میں یہ سوال اہم بن جاتا ہے کہ آیا کسی حکومت کو کسی بھی جنگ کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اپنے ملک کے لوگوں کو نقصان پہنچانے کا اختیار ہے یا نہیں۔ لوگوں کے نقصان سے مراد جیسا کہ اوپر ذکر ہوا مادی و مالی، شہری اور غیرعسکری انفراسٹرکچر اور عسکری اہلیت ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر لوگوں کی جان و مال کا نقصان۔
کوئی معترض یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر کسی حکومت کو اپنے لوگوں کا شفاف اور کامل مینڈیٹ حاصل ہے تو خود اس ملک کے لوگ کسی جنگ کو اپنی انا کا مسئلہ سمجھتے ہیں تو اس ملک کی حکومت اُس جنگ کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے میں حق بجانب ہو سکتی ہے۔
نظری طور پر یہ صورت قابلِ قبول ہے۔ مگر عملی طور پر یہ صورت کبھی معتبر اور قابلِ قبول نہیں بن سکتی۔ کیونکہ ہر ملک میں ایک اقلیت ہمیشہ ایسی موجود ہو سکتی ہے، جو کسی ایسی جنگ کو قبول نہیں کرے گی۔ عیاں رہے کہ یہ اقلیت 49 فیصد سے لے کر ایک فیصد تک بھی ہو سکتی ہے۔ چلیے اسے 15-20 فیصد پر لے آتے ہیں۔
با ایں صورت، یہ سوال سیاسی فلسفے کا ایک ایسا سوال بن جاتا ہے، جو ہمیں بارہا ہر موڑ سے واپس اپنی بنیاد کی طرف لے آتا ہے۔ یعنی اگر اقتدارِ اعلیٰ لوگوں سے کسی حکومت کو منتقل ہوتا ہے، تو یہ منتقلہ اقتدارِ اعلیٰ سالم ہوتا ہے یا متعینہ، جزوی، اور مخصوص ہوتا ہے۔
اس نوع کے سوالوں پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ایک ایسی دنیا تک پہنچ چکے ہیں، جہاں جنگ اور اس میں فتح و شکست کا مفہوم یکسر بدل چکا ہے۔
[5 مئی، 2026]