پہلی شخصیت سر سید احمد خان (1898-1817) ہیں۔
سر سید نے یورپ کا صرف ایک سفر کیا۔ 1869 سے 1870 تک۔
وہ یکم اپریل 1869 کو بنارس سے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ چار لوگ تھے، ان کے دو بیٹے، سید حامد اور سید محمود، ایک عزیز، مرزا خداداد بیگ، اور ایک ذاتی ملازم، چھجو۔
سید محمود کو حکومت کی طرف سے برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظیفہ ملا تھا۔
بمبئی سے یہ لوگ 10 اپریل کو ’’ایس ایس بڑودا‘‘ میں بیٹھے۔ یہ جہاز 23 اپریل کو سوئز پر لنگر انداز ہوا۔ سکندریہ پہنچ کر یہ لوگ مارسے، فرانس کے لیے ’’ایس ایس پونا‘‘ پر سوار ہوئے۔ بالآخر 4 مئی کو یہ لوگ لنڈن پہنچے۔
سر سید کا انگلستان کا یہ سفر کوئی 17 ماہ پر دراز تھا۔
سر سید اور سید حامد 4 ستمبر 1870 کو لنڈن سے روانہ ہو کر سال کے اواخر میں ہندوستان واپس آ گئے۔
دوسری شخصیت ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (1938-1877) ہیں۔
علامہ اقبال نے دو مرتبہ یورپ کا سفر کیا۔
پہلا سفر تعلیم کے حصول کے لیے تھا۔ 1905 سے 1908 تک۔
دوسری مرتبہ وہ گول میز کانفرینسوں (1932-1931) میں شرکت کے لیے یورپ گئے۔
ان کے سفر کا پہلا دور 1905 تا 1907 کے عرصے پر مشتمل ہے۔ وہ 1905 میں انگلستان پہنچے۔ 1906 میں کیمبرج سے بی اے کیا۔
وہاں سے وہ جرمنی آئے۔ اور 1907 میں لڈوگ میکسی ملین یونیورسٹی، میونخ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
انگلستان واپس آ کر انھوں نے لنڈن یونیورسٹی میں عربی کی تدریس کا کام کیا۔ اور لِنکنز اِن سے بیرسٹر ایٹ لا کی تحصیل کی۔
وہ جولائی 1908 میں واپس ہندوستان آئے۔
بعد میں قریباً 23 برس بعد علامہ اقبال پھر یورپ پہنچے۔ 1931 میں انھوں نے ایک وفد کی حیثیت سے دوسری گول میز کانفرینس میں شرکت کے لیے لنڈن کا سفر اخیتار کیا۔
وہ تیسری گول میز کانفرینس میں شرکت کے لیے ایک مرتبہ پھر 1932 میں لنڈن واپس آئے۔
اس سفر میں پیرس، فرانس میں ان کی ملاقات ممتاز فرانسوی فلسفی ہینری برگساں سے ہوئی۔
اگلے برس 1933 میں انھوں نے ہسپانیہ کا سفر کیا۔ میڈرڈ اور اندلس گئے۔
ہندوستان واپسی کے سفر میں وہ اٹلی رُکے اور روم میں بینیٹو مسولینی سے ملاقات کی۔
اس کے علاوہ، 1933 میں علامہ اقبال نے افغانستان کا سفر بھی کیا۔
حاصلِ گفتگو:
سر سید اور علامہ اقبال نے کس کس ملک سفر اختیار کیا۔
عیاں ہے کہ سر سید نے صرف انگلستان کا سفر کیا اور وہ بھی صرف ایک مرتبہ۔
جبکہ علامہ اقبال نے کئی مرتبہ انگلستان کا سفر کیا۔ انھوں نے دوسرے ممالک میں بھی وقت گزارا۔ جیسا کہ فرانس، ہسپانیہ، اٹلی، افغانستان۔
سر سید انگلستان میں کم و بیش 17 ماہ رہے۔ جبکہ علامہ اقبال نے انگلستان کے علاوہ چند دوسرے ممالک کا سفر بھی کیا اور وہاں بھی وقت گزارا۔
سر سید جب انگلستان کے لیے عازمِ سفر ہوئے تو وہ ہندوستان میں ایک اہم تر مقام و مرتبے کی حامل شخصیت تھے۔ ایک جانب انھیں معزز اور اصلاح پسند ذہن کا حامل برطانوی راج کا سِول سروینٹ مانا جاتا تھا، تو دوسری جانب وہ ایک قابلِ احترام لیکن متنازع مسلم سکالر سمجھے جاتے تھے۔
علامہ اقبال نے اپنا پہلا سفرِ یورپ ایک نوجوان سکالر کے طور پر کیا۔ ابھی انھیں شہرت حاصل نہیں ہوئی تھی۔
ان کا دوسرا سفر نہ صرف ہندوستان بلکہ بیشتر دنیا میں معروف ایک مسلمہ و مقبول شاعر و فلسفی اور سیاسی نظر کی حامل شخصیت کے طور پر تھا۔
سر سید جب انگلستان گئے تو ان کی عمر 51 برس تھی۔ سر سید نے 80 برس سے زیادہ عمر پائی۔
جب علامہ اقبال نے یورپ کا پہلا سفر اختیار کیا تو ان کی عمر 27 برس تھی۔ دوسرے سفر کے وقت یعنی 1931 میں ان کی عمر 53 برس تھی۔ علامہ اقبال 61 برس کچھ ماہ زندہ رہے۔
دونوں شخصیات کے اسفار اور ان کی فکری تشکیلات میں ایک فرق اتنا نمایاں ہے کہ اس کا کچھ ذکر مناسب بھی ہے ضروری بھی۔
سر سید نے اپنے سفرِ انگلستان کے بعد، 28 برسوں میں بہت کچھ لکھا اور بہت کام کیا۔ جیسا کہ علی گڑھ تحریک کا آغاز، محمڈن اینگلو اورینٹل کالج اور آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرینس کا قیام، تہذئب الاخلاق کا اجرا، خطباتِ احمدیہ اور تفسیرِ قرآن کی تکمیل، وغیرہم۔
علامہ اقبال کے پہلے اور دوسرے اسفار کے درمیان کوئی 23 برس کا طویل وقفہ حائل ہے، اور یہ بھی عیاں ہے کہ ان کا پہلا دور طالب علمانہ تحصیلات سے تعلق رکھتا ہے۔ جبکہ اپنے دوسرے سفرِ یورپ کے بعد علامہ اقبال صرف پانچ برس زندہ رہے۔ اس دوران انھوں نے کئی شعری مجموعے شائع کیے۔ جیسا کہ مسافر یعنی سیاحتِ چند روزہ افغانستان (1934)، بالِ جبریل (1935)، ضربِ کلیم (1936)، ارمغانِ حجاز (1938)۔
محتاط انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب سر سید نے یورپ کا سفر کیا، اس وقت ان کے تصورات و نظریات کی تشکیل ابھی جاری تھی اور سفر سے واپسی کے بعد اس تشکیل کے اہم خطوط ترتیب پاتے رہے۔
علامہ اقبال کے ضمن میں بھی محتاط طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دونوں اسفار کے دورانیے میں ان کے تصورات و نظریات کی تشکیل تدوین پاتی رہی، اور جب انھوں نے یورپ کا دوسرا سفر اختیار کیا تو ان کی یہ تشکیل قریب قریب مکمل ہو چکی تھی۔
یہاں میرا ارادہ ان تفاصیل میں جانے کا ہرگز نہیں کہ سمندر پار سفر سے پہلے دونوں شخصیات کے تصورات و نظریات کیا تھے۔ سفر کے بعد ان میں کیا تبدیلی واقع ہوئی۔ یہ تبدیلی کیوں واقع ہوئی۔ کونسی شخصیت سفرِ یورپ سے زیادہ متاثر ہوئی، اور کونسی کم۔ کونسی شخصیت کے تصورات و نظریات پہلے ہی پختہ ہو چکے تھے اور کس قدر پختہ ہو چکے تھے۔ بعدازاں ان میں کیا تغیر ظاہر ہوا، یا کوئی تغیر ظاہر نہیں ہوا۔ یہ مدرسانہ معاملات ہیں اور ان پر تحقیق ہوئی ہے اور ہوتی رہے گی۔
اس تحریر سے میرا منشا صرف اور صرف اس نقطے پر زور دینا ہے کہ یورپ کے اسفار کے بعد دونوں شخصیات کی فکری تشکیلات کا تعین کیونکر ہوا ہو گا اور یہ سفر ان کی فکری تشکیلات پر کیونکر اثر انداز ہوئے ہوں گے۔ اور پھر یہ بھی کہ ازاں بعد یہ تشکیلات کس شکل میں ظہور پذیر ہوئیں۔ ساتھ ہی ساتھ میرے نزدیک یہ نکتہ بھی اتنا ہی اہم ہے، بلکہ خاصا اہم ہے کہ دونوں شخصیات کی فکری تشکیلات کے دانشورانہ، سماجی، مذہبی، تمدنی، سیاسی اور ریاستی مضمرات کیا تھے اور کس صورت میں سامنے آئے۔ یعنی ان کی فکری تشکیلات، دانش، سماج، مذہب، کلچر (تمدن)، سیاست اور ریاست کے ضمن میں کن صورتوں میں ظاہر ہوئیں۔ بلکہ یہ بھی کہ عملاً انھوں نے کیا اور کیسی شکلیں اختیار کیں۔
مختصراً یہ کہ سفرِ یورپ کے تناظر میں سر سید اور علامہ اقبال کی فکری تشکیلات کی جو تعیین سامنے آئیں، انھوں نے بالخصوص پاکستان میں کس نوع کی دانش، سماج، مذہب، کلچر، سیاست اور ریاست کو جنم دیا۔
جہاں تک سر سید کا تعلق ہے، تو اسلام آباد میں قائم پرائم انسٹی ٹیوٹ (پالیسی ریسرچ انسٹی ٹویٹ آف مارکیٹ اِکانومی) نے گذشتہ برس (2025) میرے ایما پر ’’سر سید احمد خان پبلک لیکچر‘‘ کا اجرا کیا تھا۔ اور انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر علی سلمان کے ایما پر پہلا لیکچر میری ذمے داری بنا۔ یہ لیکچر سر سید کے 208ویں یومِ پیدائش پر 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں دیا گیا۔ اس کا عنوان تھا، ’’سر سید پراجیکٹ: ایک نئی تفہیم کے نشانات۔‘‘
یہ لیکچر نہ صرف سر سید کی فکری تشکیلات بلکہ ان کے دانشورانہ، سماجی، مذہبی، تمدنی، سیاسی اور ریاستی مضمرات کو بھی کھول کر بیان کرتا ہے۔ یہ لیکچر مطبوعہ شکل میں پرائم انسٹی ٹیوٹ سے دستیاب ہے۔
علامہ اقبال کی فکری تشکیلات اور اس کے متذکرہ مضمرات میرے زیرِ غور ہیں اور میں ان پر بھی ایک طویل مضمون لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
تاہم، یہاں آخر میں میں اس بات کا اظہار کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ آج ہم جس پاکستان میں زندہ ہیں وہ علامہ اقبال کی فکری تشکیلات کا ثمر ہے۔
جبکہ میری فہم یہ ہے کہ اگر پاکستان کے لوگ فکری، علمی اور سائنسی ارتقا چاہتے ہیں، اپنے لیے معاشی و مادی خوش حالی اور سماجی و مذہبی استحکام کے متمنی ہیں، ساتھ ہی ساتھ شخصی آزادی اور ذمے داری کے متلاشی ہیں، امن و آشتی کے طلب گار ہیں، اور دنیا میں اپنے ملک کے لیے ایک رہنمایانہ مقام کے خواہش مند ہیں تو انھیں اپنی توانائیوں کا رُخ سر سید کی فکری تشکیلات کی جانب موڑنا ہو گا۔ سر سید کی سجھائی اور دِکھائی راہ پر واپس عازمِ سفر ہونا ہو گا۔
[28 مئی 2026]