سقراط نے اپنے شاگردوں کے اس اصرار کے باوجود کہ وہ اسے قید خانے سے فرار کروا سکتے ہیں، زہر کا پیالہ پی کر موت کو قبول کیا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گیلیلیو نے کلیسائی حکام کے سامنے تسلیم بجا لا کر زندگی بچانے کو مقدم رکھا۔ کس نے صحیح فیصلہ کیا اور کس نے صحیح فیصلہ نہیں کیا؟ کس کا فیصلہ درست ثابت ہوا؟ کیا سقراط کو بھی جان بچانا چاہیے تھی؟ اور، اسی طرح، کیا گیلیلیو کو حقائق کا ساتھ دینا چاہیے تھا؟
اس تحریر میں، میں ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کروں گا۔
یاد رہے کہ جب پہلی مرتبہ سقراط کی حیات کی تفصیلات میری نظر سے گزریں، تب ہی میرے ذہن میں ایک یہ قضیہ وضع ہو گیا تھا کہ سقراط کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ اور اسی اندازِ نظر کے تحت سقراط کے بارے میں، جولائی 2021 میں، میں ایک طویل مضمون پہلے ہی لکھ چکا ہوں، جس کا عنوان ہے: ’’سچائی، سقراط اور موت: کیا جان بچانا ایک موثر فیصلہ نہیں ہوتا؟‘‘
بلکہ یہ ستمبر 2013 کی بات ہے جب میں نے ایک مختصر مضمون بعنوان، ’’زندگی سے محبت کی تاریخ‘‘ لکھا تھا، جس میں زندگی سے محبت کے بجائے موت کو ترجیح دینے کے معاملے کو سمجھنے کی سعی کی گئی تھی۔
یہ دونوں متذکرہ تحریریں تو کلیتاً اسی معاملے پر متوجہ ہیں، جس معاملے پر یہ موجودہ تحریر مرتکز ہے۔ لیکن یہاں وہاں جہاں بھی میں نے مناسب سمجھا، اپنی تحریروں میں موت کے مقابلے میں زندگی کی قدروقیمت کو اجاگر کرنے کا جتن کرتا رہا ہوں۔ اور اپنے اس قضیے کے حق میں استدلال کا ایک دفتر تیار کرنے میں لگا ہوں۔
جیسا کہ گیلیلیو کے بارے میں اردو میں جتنا کچھ بھی پڑھا اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ گیلیلیو کو زمین پر ناک سے لکیریں نکالنے یا ناک رگڑنے کی سزا دی گئی، تو اس نے لکیریں تو نکالیں یا ناک کو تو رگڑا، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ یوں زمین سورج کے گرد گھومنے سے رک نہیں جائے گی۔ یعنی اسے جو سزا دی گئی اس نے اسے قبول کیا اور کلیسائی حکام کے سامنے اپنی سائنسی دریافتوں کے بیان سے بھی منحرف ہو گیا اور یوں سزا سے بچ کر زندہ رہا۔
اسی سیاق میں مجھے یہ خیال سوجھا کہ کیوں نہ سقراط اور گیلیلیو کا تقابلی مطالعہ کر کے دیکھا جائے۔ یوں خود میرا جو قضیہ ہے اسے بھی مزید تقویت ملتی ہے یا نہیں۔ سو میں نے گیلیلیو کے بارے میں تحقیق شروع کی اور میری توجہ بیشتر اس چیز پر مرکوز تھی کہ کلیسائی حکام نے اس پر جو مقدمہ چلایا، اس میں اسے کس بداعتقادی (Heresy) کا مرتکب قرار دیا گیا، اور پھر یہ کہ گیلیلیو نے اپنے حق میں کیا دفاع اختیار کیا۔ اور یہ کہ اس مقدمے کا کیا نتیجہ نکلا، بالخصوص یہ کہ اس مقدمے سے گیلیلیو نے اپنی گلو خلاصی کیسے کرائی اور کیوں کر کلیسائی حکام کے عتاب سے بچ سکا۔ میری کھوج کا ایک اور نکتہ یہ بھی رہا کہ مقدمے سے بچنے کے بعد گیلیلو کی سانئسی خدمات کیا تھیں۔
گیلیلیو گیلیلائی کی پیدائش 15 فروری 1564 میں پیسا، اٹلی میں ہوئی۔ وہ 8 جنوری 1642 کو 78 برس کی عمر میں طبعی موت مرا۔
اس کا خاندان چرچ میں رسوخ کا حامل تھا۔ خود وہ بھی اہلِ کلیسا سے اچھے تعلقات رکھتا تھا۔ پھر فلورینس کے بینکار خاندان میڈیچی کے ساتھ وابستہ ہوا۔
پہلے اس نے طب کی تعلیم حاصل کرنا چاہی۔ پھر اسے ترک کر کے فلکیات، طبیعیات، ریاضیات، وغیرہ، کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے دوربین (ٹیلی سکوپ) میں بہتری لا کر فلکیاتی اجسام کا مشاہدہ شروع کیا۔ جب اس نے اپنے مشاہدات اور تحقیقات کو شائع کیا تو انھیں چرچ کے عقائد کے مخالف سمجھا گیا۔
اس زمانے میں مباحثوں اور مذاکروں کا ایک ذریعہ دوسرے علما کے ساتھ خط و کتابت بھی تھا۔ گیلیلیو کے ایک ایسے ہی خط کو بہت شہرت ملی، جس میں نکولس کوپرنیکس کے ’’شمس مرکز فلکیاتی نظریے‘‘ (1543) کی طرف اس کا جھکاؤ عیاں تھا۔ اس خط کی نقول ادھر ادھر پھیل گئیں۔ بات چرچ حکام تک پہنچی۔ انھوں نے اس خط کی نقل حاصل کی، اور گیلیلیو کو کلیسائی بازپرس کے لیے طلب کر لیا۔
ابھی معاملات اتنا بگڑے نہیں تھے، سو اسے اس تنبیہ کے ساتھ چھوڑ دیا گیا کہ وہ کوپرنیکس کے ’’شمس مرکز فلکیاتی نظریے‘‘ سے خود کو اور اپنی تحقیقات کو علاحدہ رکھے گا، کیونکہ یہ نظریہ چرچ حکام کے مطابق بائبل میں موجود ’’زمین مرکز فلکیاتی نظریے‘‘ سے متصادم ہے۔
اس وقت گیلیلیو کی عمر 46 برس تھی۔
جیسا کہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ زمین دنیا کا مرکز نہیں، بلکہ یہ سورج ہے، نظامِ شمسی کے تمام اجسام جس کے گرد گردش کر رہے ہیں، لیکن یہ تو اب ایک مسلمہ امر سمجھا جاتا ہے، اس وقت مسلمہ امر بالخصوص کلیسا کی نگرانی کے تحت اس کے بالکل برعکس تھا۔ یعنی اس وقت زمین کو مرکز متصور کیا جاتا تھا اور تمام فلکیاتی اجسام اس کے گرد گھومتے تھے۔ اس میں انسان کی بڑائی اور اس کے دنیا کا مرکز ہونے کا دعویٰ بھی مخفی تھا۔
عیاں ہے کہ گیلیلیو کے مشاہدات یہی کچھ بتا رہے تھے۔ یعنی وہ خود اپنی نگاہوں سے جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ یہ تھا کہ زمین دنیا کا محور نہیں، تو دریں اثنا وہ اس بات کے برعکس کسی بھی نظریے کو کیسے تسلیم کر سکتا تھا۔ یہ بالکل وہی بات تھی کہ کسی کو رات کو دن ماننے پر مجبور کیا جائے۔
اس معاملے کو اس متذکرہ صورت میں پیش کرنے سے میرا مقصود صرف یہ ہے کہ گیلیلیو جس مخمصے میں گرفتار تھا ہم خود اس کا درست احساس و ادراک کر سکیں۔
بہرحال گیلیلیو نے اپنی تحقیقات جاری رکھیں۔ اس کے مشاہدات اور تحقیقات اسے جس سمت میں لے جا رہے تھے، وہاں وہی کوپرنیکس کی دنیا منکشف ہو رہی تھی۔ بالخصوص جیوپیٹر (مشتری) کے چاند اور وینس (زہرہ) کے مراحل کے مشاہدے سے۔
یہ 1632 کی بات ہے، جب اس نے اپنی نہایت اہم کتاب شائع کی۔ یہ تین افراد کے مابین مکالمے پر مشتمل ہے۔ اس کا عنوان ہے: ’’دنیا کے دو بڑے نظاموں سے متعلق مکالمہ۔‘‘ ان میں ایک کردار گیلیلیو کی زبان بولتا ہے، اور دوسرا کردار ایک ذہین مشاہدہ کرنے والا ہے۔ جبکہ تیسرا کردار ارسطاطالیسی/ بطلیموسی نظام کا طرفدار ہے۔ اس تیسرے کردار کو گیلیلیو نے جو نام دیا، وہ اسمِ بامسمیٰ تھا، یعنی سادہ لوح۔
اس کتاب کے بارے میں گیلیلیو کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ اس میں دو بڑے نظاموں کے درمیان ایک مقابلہ پیش کر رہا ہے تاکہ ان کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ سامنے آ سکے۔ لیکن کتاب سے کرپرنیکس کے نظام کی طرف جھکاؤ صاف طور پر عیاں تھا۔
سو یہ کتاب وہ نقطہ ثابت ہوئی جس پر آ کر کلیسائی حکام نے ایک مرتبہ پھر گیلیلیو پر ’’بازپرس‘‘ (Inquisition) قائم کر دی۔ کتاب کو جانچا گیا، اور بعدازاں اسے روم طلب کر لیا گیا۔ اس وقت وہ ستر کی عمر (69) کو چھو رہا تھا۔ اس کی صحت بھی اچھی نہیں تھی۔
گو کہ جس معاملے پر اس پر مقدمہ قائم کیا گیا، وہ یہ نہیں تھا کہ اس کی کتاب شمس مرکز فلکیاتی نظریے کا اثبات کرتی ہے۔ جیسا کہ حکام اسے پہلے ایک تنبیہہ جاری کر چکے تھے کہ وہ خود کو اور اپنے کام کو کوپرنیکس کے اس نظریے سے پرے رکھے، لیکن اس نے اس تنبیہہ کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ یہ عدول حکمی اصل معاملہ تھی۔
وہ جنوری 1633 میں روم پہنچا۔ اپریل سے اس کی باز پرس شروع ہوئی۔ متعدد مرتبہ اس سے تفتیش کی گئی۔ اور اس کی حتمی پیشی 21 جون 1633 کو ہونا قرار پائی۔ 22 جون 1633 کو اسے سانتا ماریا سوپرا مِنروا کانوینٹ لے جایا گیا۔ وہاں اسے دی جانے والی سزا سنائی گئی۔ یعنی یہ کہ گیلیلیو ’’شدید طور پر بداعتقادی (Heresy) کے شک‘‘ کا حامل پایا گیا ہے۔
اس سے یہ عیاں ہے کہ اسے سخت گیرانہ مفہوم میں باضابطہ طور پر بداعتقاد قرار نہیں دیا گیا، صرف بداعتقادی کے قوی شک کا اظہار کیا گیا۔ حکام کے مطابق وہ اس قضیے کا حامل اور دفاع کرنے والا پایا گیا کہ سورج دنیا کے مرکز میں وجود رکھتا ہے اور ساکت ہے؛ زمین گردش کرتی ہے اور مرکز میں نہیں۔ اسے دی جانے والی سزا میں اس کی کتاب ’مکالمہ‘ کو بھی معتوب قرار دیا گیا اور اس کا اندراج ممنوعہ کتب کے اشاریے میں کر دیا گیا۔
گیلیلیو نے اپنے دفاع میں صرف یہ کہا: ’میرا ارادہ چرچ کی نافرمانی کا نہیں۔‘ اس نے کہا کہ کتاب ’مکالمہ‘ ایک مباحثے کی حیثیت سے لکھی گئی ہے جو مختلف حریفوں کے مفروضات پر مشتمل ہے اور وہ کوپرنیکیت کو ایک مسلمہ صداقت کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس نے یہ نشان دہی بھی کہ اس نے کتاب میں کوپرنیکائی نظام کے خلاف دلائل بھی شامل رکھے ہیں۔
اصل میں اس کا دفاع کچھ یوں تھا: ’میں نے کوپرنیکائی نظریے سے بحث کی ہے؛ میں نے باضابطہ طور پر اس نظریے کو چرچ کے مخالف نظریے کی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔‘
تاہم، کلیسائی ’باز پرس‘ نے اس کے اس دفاع کو قبول نہیں کیا۔ کیونکہ کتاب کا مجموعی استدلال، جیسا کہ اوپر بھی ذکرہوا، شدت کے ساتھ کوپرنیکیت کے حق میں تھا۔
گیلیلیو کے دفاع میں ایک اہم جھول موجود تھا۔ بازپرس حکام 1616 میں اسے تنبیہ جاری کر چکے تھے اور ان کے پاس اس کی شہادت موجود تھی۔ اور اس کی کتاب، ’مکالمہ‘ کو اس کے عہدنامے کی خلاف ورزی مانا گیا۔ اور بالآخر دباؤ کے تحت اسے سزا کو قبول کرنا پڑا۔
اسے کہا گیا کہ وہ حلفاً کوپرنیکیت سے دست برداری کا اظہار کرے۔ اس کا باضابطہ بیان یوں شروع ہوتا ہے: ’میں، گیلیلیو گیلیلائی، ولد وِن چینزو گیلیلائی۔۔۔‘ پھر اسے اعلانیہ یہ کہنا پڑا کہ میں ہمیشہ کیتھولک چرچ کی تعلیمات پر یقین رکھتا تھا اور اب بھی یقین رکھتا ہوں۔ اسے باضابطہ طور پر ان قضایا کو ترک اور مطعون کرنا پڑا جو زمین کی حرکت اور سورج کے سکوت سے تعلق رکھتے تھے۔
اس کے رجوع کا خلاصہ بس اتنا ہی ہے۔
کلیسائی باز پرس کی طرف سے گیلیلیو کو اصلاً جو سزا سنائی گئی، وہ قید کی سزا تھی۔ لیکن عملاً اسے زمین دوز قید خانے (Dungeon) میں نہیں ڈالا گیا۔ بعدازاں، اس کی سزا کو نظر بندی (یعنی خانہ بندی) میں بدل دیا گیا۔ پہلے اسے آرچ بشب آف سی اینا کی تحویل میں رکھا گیا، پھر فلورینس میں اس کے اپنے گھر قید کر دیا گیا۔
گیلیلیو باقی تمام عمر اپنے گھر میں بند رہا، یہاں تک کہ 1642 میں وہ وفات پا گیا۔
یہاں جس بات کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ اس کلیسائی مقدمے، باز پرس اور سزا سے گیلیلیو کے سائنسی کام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ جو رخنہ پیدا ہوا وہ عارضی تھا۔ جیسے ہی وہ اپنے گھر منتقل ہوا، وہ پھر سے اپنے تحقیقاتی کام میں منہمک ہو گیا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس کا ایک بڑا کام اس کلیسائی عتاب کے بعد مکمل ہوا۔
اس کی ایک نئی کتاب، ’’دو نئی سائنسوں سے متعلق ریاضیاتی مظاہرات اور مکالمات‘‘ 1638 میں تکمیل کو پہنچی۔ چونکہ وہ معتوب تھا اور اس پر اشاعت کی پابندی تھی، اس کتاب کو سمگل کر کے جرمنی لے جایا گیا، جو رومن حکام کے براہِ راست دائرہٴ کار سے باہر تھا۔ وہاں لائیڈن میں یہ کتاب شائع ہوئی۔ اور پھر وہاں سے اٹلی پہنچی۔ اسے جدید میکانیات کے ضمن میں ایک بنیادی کتاب مانا گیا۔
اس کے کل کام پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بدنامِ زمانہ باز پرس اور مقدمے کے بعد بھی گیلیلیو نے اپنا کام جاری رکھا اور اس بعد کے دور میں اس نے جو سائنسی تحقیقات کیں اور کتب شائع کیں، ان کی اہمیت اس کے اس کام سے کسی بھی طرح کم نہیں، جو اُس نے اس ابتلا سے قبل انجام دیا تھا۔
۔ قبل از 1609۔ ریاضیات، میکانیات، حرکت
۔ 1610-1609۔ ٹیلی سکوپ اور فلکیاتی مشاہدات
۔ 1610۔ چاند پر پہاڑ
۔ 1610۔ مشتری کے چار چاند
۔ 1610۔ زہرہ کے مراحل
۔ 1610۔ زحل (Saturn) کی بدنما ہیئت
۔ 1613-1610۔ سورج کے داغ
۔ 1616-1613۔ کوپرنیکیت کا بڑھتا ہوا ظاہرا دفاع
۔ 1632۔ ’’دنیا کے دو بڑے نظاموں سے متعلق مکالمہ‘‘ (کتاب کی اشاعت)
۔ 1633۔ مقدمہ، تادیب و استرداد، اور گھر پر نظربندی
۔ 1638-1633۔ بندشوں کے باوجود اس کا سانئسی کام جاری رہا
۔ 1638۔ ’’دو نئی سائنسیں‘‘ (کتاب کی اشاعت)
۔ 1642۔ وفات
عیاں ہے کہ مقدمے اور سزا سے قبل اس کی فلکیاتی دریافتیں نہایت اہمیت کی حامل تھیں، لیکن اس کا ایک اور غیرمعمولی طور پر اہم کام جو طبیعیات سے تعلق رکھتا تھا، اس کی جان بچنے کے بعد تکمیل کو پہنچا۔
گیلیلیو کے مقدمے سے متعلق جو دو حکایات اکثر پڑھنے اور سننے کو ملیں، چیٹ جی پی ٹی کے مطابق وہ غلط ہیں۔ یعنی شمس مرکز فلکیاتی نظریے سے متعلق اپنے رجوع کے بیان کے وقت اس نے سرگوشی میں یہ کہا کہ زمین تو پھر بھی گھومتی ہے۔ اسی طرح، ایک اور حکایت جس کی رو سے اسے زمین پر تین مرتبہ ناک رگڑنے اور شمس مرکز دنیا کے تصور سے دست برداری کے لیے کہا گیا، تو اس نے زمین پر ناک رگڑتے ہوئے کہا، زمین تو پھر بھی سورج کے گرد گھومتی رہے گی۔ یہ تمام حکایات ہیں، جو ازاں بعد رواج پا گئیں۔
مختصر یہ کہ گیلیلیو کا فیصلہ درست تھا اور یہ بھی کہ اس کے رجوع اور دست برداری سے ان حقائق کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، جن کے مشاہدوں اور دریافتوں کو وہ ملفوظ کر رہا تھا۔
یہ بات عیاں ہے کہ گیلیلیو کے مقابل سقراط کوئی سائنس دان نہیں تھا، لیکن خود سقراط کا کام فلسفیانہ اہمیت کا حامل تھا، اور فرار ہو کر اپنی جان بچانے کے اقدام سے اس کے کام پر کوئی زد نہیں پڑتی تھی۔
دو باتیں اہم ہیں۔ ایک تو زندگی کی قدروقیمت۔ خواہ وہ سقراط ہو یا گیلیلیو یا کوئی بھی شخص، ہر کسی کے لیے زندگی ایک انمول تحفہ ہے۔ اسے یوں دوسروں کی ’’بدنیتی‘‘ اور ’’بدخواہی‘‘ سے ضائع ہونے دینا ناقابلِ فہم بھی ہے اور ناقابلِ دفاع بھی۔
دوسری بات یہ کہ جیسا کہ گیلیلیو کی مثال سے عیاں ہے کہ فرض کیجیے اگر گیلیلیو مشاہدات پر مبنی اپنے نظریات پر مصر رہتا، اور باز پرس حکام کے سامنے لیکچر جھاڑتا، صداقت کا نعرہٴ مستانہ بلند کرتا، تو اس کا نیجہ کیا نکلتا۔
یعنی بصورتِ دیگر کیا ہوتا؟ فرض کیجیے اسے بھی جیارڈانو برونو (Giordano Bruno) کی طرح زندہ جلا دیا جاتا، یا جیسا کہ اسے جو سزا سنائی گئی تھی، اس کے تحت اسے زمین دوز قید خانے میں ڈال دیا جاتا، جہاں ظاہر ہے کہ وہ ایک دن اپنی موت سے ہمکنار ہو جاتا۔
یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ مقدمے اور باز پرس کے بعد کلیسائی حکام نے برونو کو زندہ جلانے کی سزا دی تھی، اور اسے 1600 میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ یہ واقعات گیلیلو سے چھپے نہیں تھے، اس کے سامنے ظہور پذیر ہو رہے تھے۔ گو کہ ایسے کوئی حقائق دستیاب نہیں کہ اس نے برونو کے مقدمے اور سزا پر کسی ردِ عمل کا اظہار کیا یا نہیں۔
لیکن گیلیلو نے سقراط کے برعکس حالات کی نزاکت کو سمجھا اور طاقت کے زعم کا شکار رومن چرچ کے حکام نے جو کہا اسے مان لیا اور ان کے سامنے اپنے نظریات سے دست برداری کا اعلان کیا۔ اور یوں سخت ترین سزا سے بچ گیا۔ لیکن اس کی مصلحت اندیشی کام آئی۔ وہ نامساعد حالات کے سامنے درست فیصلہ کر سکا اور یوں اپنے سائنسی کام کو جاری رکھ سکا۔ بلکہ جاری رکھا اور غیرمعمولی سائنسی خدمات انجام دے سکا۔
یعنی دوسری بات کا جوہر یہ ہے کہ کسی بھی فرد کا کام اہم ہے۔ اگر وہ کام کا فرد ہے، تو اسے اپنے کام کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اپنی انا کو نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس کی زندگی ہے تو اس کا کام ہے۔ یعنی اس کی زندگی سے اس کا کام ہے۔ اس کا کام اس کی زندگی کا ثمر اور حاصل ہے۔ اسے اس انداز میں ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔
سقراط کی عمر قریباً 70 یا 71 برس تھی، جب اس نے زہر کا پیالہ پیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ قابلِ رشک جسمانی اور ذہنی صحت کا حامل تھا، جب اس نے موت کو گلے لگایا۔ بلکہ بتایا جاتا ہے کہ موت سے قبل کے چند گھنٹے اس نے سرگرم فلسفیانہ بحث میں گزارے۔ زہر پینے کے بعد بھی وہ چہل قدمی کرتا رہا، یہاں تک کہ زہر نے اس کے نچلے دھڑ پر اثر کرنا شروع کر دیا، اور پھر اس کا اثر اوپر کے جسم کی طرف بڑھا اور دل تک پہنچا۔ یوں اس کی موت واقع ہوئی۔
اس سے یہ بات عیاں ہے کہ اگر سقراط زندگی کے حق میں فیصلہ کرتا اور زندہ رہتا تو آج اس سے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے، ہم اس سے بالکل مختلف گفتگو کر رہے ہوتے۔
مجھے تسلیم ہے کہ یہ گفتگو کچھ بھی ہو سکتی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ سقراط کی تعلیمات اور اس کے خیالات، تصورات اور نظریات کا دائرہٴ اثر بڑھ جاتا۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی تعلیمات میں کچھ زیادہ ہی یا کچھ نہ کچھ اور اضافہ کیا ہوتا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی کچھ تعلیمات سے رجوع کر لیتا۔
یہ سب قیاسات یا ممکنات ہیں۔ تاہم، اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر وہ زندہ رہتا تو جیسا کہ اوپر دو باتوں کا ذکر آیا، وہ اپنی زندگی سے بھی کچھ اور متمتع ہوتا، اور ساتھ ہی ساتھ فلسفیانہ معاملات اور اپنی فلسفیانہ تعلیمات کے ضمن میں بھی کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور کر پاتا۔
یعنی گیلیلیو کے برعکس، سقراط نے اپنی انا یا اپنی فلسفیانہ انا کو اولیت دی اور اپنے کام کو ثانوی حیثیت کا حامل گردانا، نتیجتاً اس کی زندگی اس کے مقدمے اور سزا کے ساتھ ختم ہو گئی۔
یہاں یہ نکتہ وضاحت چاہتا ہے کہ سقراط نے اپنی تعلیمات کی صداقت کو اپنی سزا کے ساتھ منسلک کر لیا تھا۔ یعنی جو سزا اسے سنائی گئی اگر وہ اس سزا سے بھاگتا ہے تو وہ اپنی تعلیمات کی سچائی کو زک پہنچائے گا۔
اس کا موقف یہ بھی تھا کہ وہ ان قوانین سے فرار اختیار کر کے اس بات کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا کہ وہ اپنے شہر کے قوانین کو نہیں مانتا۔ مراد یہ کہ اسے ان قوانین کا منحرف نہیں بننا جن کے درمیان وہ پلا بڑھا، وغیرہ۔ کاش سقراط نے یہ سوچا ہوتا کہ قوانین غلط اور غیراخلاقی بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قوانین جیسے بھی ہوں، ان کا اطلاق اور نفاذ بدنیتی اور بدخواہی پر بھی مبنی ہو سکتا ہے اور مقتدر حکام کے غلط مقاصد کے حصول کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
آخر میں اس نتیجے کو بیان کرنا ضروری ہے کہ سقراط کے مقابلے میں گیلیلیو نے درست فیصلہ کیا۔ یعنی سقراط سے بڑی لاپروائی یہ برتی گئی کہ اس نے زندگی کو قابلِ قدر نہیں سمجھا اور اپنے نظریات کو اپنی زندگی پر فوقیت دے کر اصل میں زندگی کی ناقدری کا مرتکب ہوا۔ جبکہ گیلیلیو نے نہایت معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا، اس نے زندگی کو تقدم کا حامل سمجھتے ہوئے اپنے کام کو اپنی زندگی کا ثمر ثابت کیا۔
[9 ستمبر 2026]