دانشور لوگوں کو اپنے تصورات اور نظریات کا غلام بنانا چاہتے ہیں

دانشور لوگوں کو اپنے تصورات اور نظریات کا غلام بنانا چاہتے ہیں:
انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے ایک ہفتہ وار خصوصی اجلاس کی منتخب روداد

آج شام 7 اکتوبر (2026) کو انجمنِ ترقی پسند مصنفین لاہور (پنجاب) کا ہفتہ وار خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ صدارت کامریڈ خالد محمود نے کی۔ موضوع تھا: پاکستان میں سیاسی اور فکری جمود کے محرکات۔ شرکائے گفتگو تھے: ڈاکٹر آثر اجمل اور ڈاکٹر علی عثمان قاسمی۔

اس اجلاس کا اعلان فیس بک پر میری نظر سے گزرا۔ چونکہ یہ موضوع میری دپچسپی کا تھا، سو میں اس میں شریک ہوا۔ میں صرف سننا چاہتا تھا کہ سیاسی اور فکری جمود کے کیا محرکات گنوائے جاتے ہیں۔ کیا بات ہوتی ہے اس موضوع پر۔

میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ میں اس پر کچھ لکھوں گا، میں صرف سننے گیا تھا۔ مگر کچھ باتیں وہاں ایسی ہوئیں، جنھوں نے مجھے اکسایا کہ میں اس اجلاس کی منتخب روداد بیان کروں تو اچھا رہے گا۔ خاص طور صدر نے اور بالعموم شرکائے گفتگو نے جو گفتگو کی، مناسب ہے کہ نہ صرف اسے بیان کیا جائے، بلکہ اس کے کچھ حصوں کے مضمرات کی طرف اشارہ بھی کیا جائے۔

پہلے ڈاکٹر آثر اجمل نے گفتگو کی۔ انھوں نے جو اہم بات کی وہ یہ تھی کہ تین برس کی عمر میں ایک بچے کا ذخیرہٴ الفاظ تین ہزار کے قریب ہوتا ہے، اور اسی طرح چار پانچ برس تک یہ ذخیرہٴ الفاظ بڑھ کر چار پانچ ہزار ہو جاتا ہے۔ اب جب ایک پنجابی بولنے والا بچہ سکول جاتا ہے تو وہاں جا کر اس کا یہ سارا ذخیرہٴ الفاظ موزوں نہیں رہتا۔ بچے کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کا ذخیرہٴ الفاظ درست نہیں۔ انھوں نے تعلیم کے نصاب اور طریق پر بھی بات کی۔

ان کے بعد، ڈاکٹر علی عثمان قاسمی نے گفتگو کی، جو بھارت اور پاکستان سے متعلق کچھ تاریخی اور سیاسی حوالوں پر مشتمل تھی۔ جیسا کہ انھوں نے ہندو دلت برادری سے تعلق رکھنے والے جوگندر ناتھ منڈل کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسیمبلی کا پہلا عبوری چیئرمین بنانے کے معاملے کو نمایاں کیا۔ (منڈل پاکستان کی پہلی کابینہ میں پہلے وزیرِ قانون و محنت بھی بنے۔)

میں نے بھی تبصرے کی اجازت چاہی، اور دو باتیں حاضرین کے سامنے رکھیں:

میں نے کہا میرا خیال تھا کہ اس موضوع کے تحت بائیں بازو کے فکری اور سیاسی جمود پر بات ہو گی۔ کیونکہ انجمنِ ترقی پسند مصنفین بائیں بازو کا ایک گروہ ہے۔ باقی جہاں تک موضوع کی بات ہے، تو یہ نہایت وسیع ہے۔ پاکستان میں تو کوئی سیاسی اور فکری جمود نہیں۔ یہاں تو بہت کچھ ہو رہا ہے۔ لیکن دونوں مقررین کی گفتگو موضوع سے براہِ راست مس نہیں کرتی تھی۔

دوسری بات میں نے یہ کی کہ آثر اجمل صاحب نے زبان کے ضمن میں جو بات کی وہ علمی و تحقیقی طور پر بالکل درست ہو گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ دانشور سماجی و سیاسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی تشخیص کرتے ہیں، اور پھر حل بتاتے ہیں۔ میں نے آثر صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو تشخیص بیان کی، یقیناً اس میں حل بھی پوشیدہ ہے کہ تعلیم مادری زبان میں ہو۔

میں نے یہ بات بھی سامنے رکھی کہ ایک حل تو یہ ہے جو دانشور بتاتے ہیں۔ اور دوسرا حل یہ ہے کہ خود لوگوں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ کوئی تجربی تحقیق ہو جائے، سروے ہو جائے، لوگوں کے پاس جایا جائے اور ان سے پوچھ لیا جائے کہ وہ زبان کے مسئلے کو کیسے حل کرنا چاہتے ہیں۔ یا یہ دیکھ لیا جائے کہ لوگوں نے زبان کے مسئلے کو کیسے حل کیا ہے۔

جبکہ دانشور جو تشخیص کرتے اور حل بتاتے ہیں، وہ تو یہ ہے کہ پھر کوئی گروہ، کوئی پارٹی یا کوئی حکومت اسے اپنا لے اور اسے لوگوں پر مسلط کر دے۔ یعنی نافذ کر دے۔

دوسرا حل وہی ہے کہ لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

میں نے کہا، لوگ تو اپنے بچوں کو انگریزی پڑھانا چاہتے ہیں، انگریز بنانا چاہتے ہیں، امریکی بنانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو پاکستان سے باہر بھیجنا چاہتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر میں نے آثر اجمل صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو سکوپ (Scope) کی بات کی ہے، تو یہاں تو زندہ رہنے کا سکوپ بھی نہیں۔ لوگ پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ آثر صاحب نے اپنی گفتگو میں یہ بتایا تھا، جیسے کہ چین میں بچے یا والدین تعلیم کے ضمن میں سکوپ کی بات نہیں کرتے۔ یہ بات پاکستان ہی میں ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ کس نوع کی تعلیم کا کیا سکوپ ہے۔

(مجھے ایک بولی یاد آتی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: وڈے صاحب دے برابر کرسی/اج مرے ویرے دی۔)

اور بھی تبصرے ہوئے، لیکن وہ سب میری تحریر کے مدعا سے تعلق نہیں رکھتے۔

بعد میں صدر صاحب، کامریڈ خالد محمود نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اوپر میں نے جو یہ بات کی تھی کہ لوگوں سے بھی پوچھ لیں کہ وہ زبان کے مسئلے کو کس طرح حل کرتے ہیں، کس طرح کا حل کرنا چاہتے ہیں، اس کا جواب دیتے ہوئے کامریڈ خالد محمود نے جو کچھ کہا، اس کا لبِ لباب یہ ہے: اگر لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ تو پھر نہ تو پنجابی زبان رہے گی نہ پنجابی ثقافت۔

ان کی یہ بات سن کر میں چونک گیا۔

کامریڈ خالد محمود کے جواب میں، میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ پھر تو آپ نے میری اس بات پر صاد کیا کہ آپ دانشوروں والا حل چاہتے ہیں۔

اور یہی بات محرک بنی کہ میں انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے اس ہفتہ وار خصوصی اجلاس کی کچھ روداد کو قلم بند کروں۔

یہاں سے آگے میں اس معاملے سے کچھ مزید بحث کرنا چاہوں گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک منہاجیاتی (Methodological) معاملہ ہے۔ یعنی یہ آئیڈیالوجی یا نظریے کا مسئلہ نہیں۔

اس ضمن میں دلیل یہ ہے کہ فرض کیجیے آپ ایک آئیڈیالوجی یا نظریے کی حکومت چاہتے ہیں۔ مراد یہ کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آئیڈیالوجی یا یہ نظریہ لوگوں کے مسائل کا حل ہے۔

تو اسی طرح، کوئی دوسرا گروہ یہ سمجھتا ہو گا کہ جو اس کی آئیڈیالوجی یا نظریہ ہے، وہ لوگوں کے مسائل کا حل ہے۔

اور اسی طرح کوئی تیسرا گروہ، کوئی چوتھا گروہ، علیٰ ہذا القیاس۔

تو کیا اس طرح کے متعدد یا لاتعداد گروہوں کے مابین یہ کشمکش اور کشاکش ہمیشہ چلتی رہے گی، یا چلتی رہنی چاہیے۔ یا اس کا کوئی حل نکلنا چاہیے۔

خیالات، تصورات اور نظریات کی بحث ہمیشہ چلتی رہتی ہے، چلتی رہنی چاہیے۔ مسئلہ اس وقت بنتا ہے، (1) جب اس بحث میں جبر و تشدد کا عنصر داخل ہو جاتا ہے، اور ایک گروہ تشدد کے ذریعے اپنے نظریات کو درست ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اور (2) جب کوئی گروہ جبراً اپنے نظریے کو ریاست کی طاقت کے ذریعے لوگوں پر ٹھونسنا اور نافذ کرنا چاہتا ہے۔

حل اس کا یہ ہے، یا حل یہی ہے کہ جن لوگوں کے مسائل یہ گروہ حل کرنا چاہتے ہیں، ان لوگوں سے جا کر پوچھ لیا جائے کہ وہ کس حل کو درست سمجھتے ہیں، یا کس حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

یعنی ایک مفہوم میں جمہوریت اس کا حل ہے۔ یعنی لوگوں کو خود فیصلہ کرنے دیا جائے۔

یہی وہ چیز ہے جسے میں نے منہاجیاتی کا نام دیا۔ یعنی بجائے اس کے کہ کوئی گروہ یا دانشور کوئی تشخیص کرے یا کوئی حل تجویز کرے، آیا یہ بہتر نہیں کہ لوگوں کے پاس جایا جائے اور ان سے رائے لے لی جائے کہ وہ کیا کہتے ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں۔

یعنی بجائے اس کے کہ کیا کہتے ہیں علما بیچ اس مسئلے کے، کیوں نہ خود ان لوگوں سے جا کر پوچھا جائے جو کسی مسئلے کے بیچ پھنسے ہوئے ہیں۔

کیونکہ اس معاملے کو کسی حل کے بغیر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ یعنی اگر ہر گروہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہِ راست پر ہے، اور جیسا کہ ہر گروہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہِ راست پر ہے، اور اس کی آئیڈیالوجی یا اس کا نظریہ اور اس کا حل ہی حرفِ آخر ہے، تو دریں صورت اس کا کوئی حل نکلنا ممکن نہیں۔ اور دنیا میں مختلف نوع کی جو کشمکش اور کشاکش موجود اور جاری ہیں، ان کی تہہ میں یہی حرکیات کارفرما ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، حل جمہوریت ہے۔ یعنی یہ کہ لوگوں کے پاس جایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیا نظریہ، کیا حل چاہتے ہیں۔ کس نظریے یا کس حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

کامریڈ خالد محمود نے اپنی گفتگو میں لبرل جمہوریت کو بھی نشانے پر رکھا۔ مگر یہ لبرل جمہوریت ہی ہے، جس نے یہ منہاجیاتی حل پیش کیا اور جو اس منہاجیاتی حل کی محض ایک صورت ہے۔ اس کی اور صورتیں بھی ممکن ہو سکتی ہیں۔

لیکن اس چیز کو بھی پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے کہ جمہوری حل سے قبل ہر حکومت جنگ اور خون خرابے کی مدد سے تبدیل ہوتی تھی۔ جمہوریت نے اس مخمصے کا حل یہ بتایا کہ لوگوں پر حکومت صرف اور صرف لوگوں کی رضا سے کی جا سکتی ہے۔ یوں حکومت کی تبدیلی کا ایک مفہوم میں صدیوں سے لاینحل مسئلہ یوں حل ہوا کہ حکومت لوگوں کی رضا سے بنے گی اور لوگوں کی رضا سے تبدیل ہو گی۔

میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کے ادارے میں بہت خامیاں ہیں۔ اور خاص پاکستانی جمہوریت کو اس قدر بگاڑا اور مسخ کیا گیا ہے کہ اس کا چہرہ مہرہ جمہوریت کا رہا ہی نہیں۔ اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں ایک حل جو آج کل خاصا زیرِ بحث ہے، یہ ہے کہ سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں سے قطع نظر لوگوں کی نمائندگی کے لیے انتخابات کے بجائے ہر شہری کو ایک امیدوار سمجھا جائے اور لاٹری کے انداز پر پرچی نکالی جائے، یوں لوگوں کے نمائندوں پر مبنی شہریوں کی اسیمبلی بنائی جائے، جو لوگوں کی نمائندگی کرے۔ ہر چار یا پانچ برس بعد لاٹری پر مبنی نمائندوں کا انتخاب کیا جائے۔ اور یوں ہر شہری باقی شہریوں کی نمائندگی کا اہل بھی بن سکے گا۔ سیاسی پارٹیوں کا اجارہ ختم ہو جائے گا۔ یہ طریقِ انتخاب بنیادی طور پر پاکستان کے اشرافی نظام کی جڑیں کاٹ دے گا۔

یہ ہے جمہوریت کے منہاجیاتی حل کی ایک زیادہ بہتر صورت۔

اس ضمن میں ایک اور نکتہ یہ ہے کہ دانشور بزعمِ خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کے نمائندہ ہیں، وہ لوگوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ آیا ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت یا کوئی سند ہے؟ کسی بھی قسم کا کوئی ثبوت؟ کسی بھی نوع کی کوئی سند؟

ایک مزید نکتہ یہ ہے کہ وہ دانشور جو بزعم خود لوگوں کے نمائندہ بنتے ہیں اور ان کے مفادات کے تحفظ کے دعوے دار بھی، وہی دانشور یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے، اور یہ ہم ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے کیا بہترہے۔ اور ہم نے انھیں راستہ دکھانا ہے۔

اس سے یہ چیز عیاں ہے کہ یہ دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ زیادہ باعلم ہیں، اور لوگ لاعلم ہیں، لہٰذا، انھیں یعنی لوگوں کو اپنے لیے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں، یا حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

جیسے کہ یہ معاملہ کہ آیا لوگ اپنی زبان کو چھوڑنا چاہتے ہیں، کوئی اور زبان اپنانا چاہتے ہیں۔ یا اپنی ثقافت کو چھوڑنا چاہتے ہیں، اور کوئی اور ثقافت اپنانا چاہتے ہیں۔ دانشوروں کی نظر میں یہ فیصلہ کرنے کا حق صرف دانشوروں کو حاصل ہے۔ کیونکہ کامریڈ خالد محمود کی دلیل کے مطابق، اگر لوگوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق دے دیا گیا، تو یوں ان کی زبان و ثقافت کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

(میری رائے میں ایسا نہیں ہو گا۔ ایک مخصوص زمان و مکان کے اندر رہتے ہوئے تو نہیں!)

عیاں ہے کہ یہ ایک علمیاتی برتری کا معاملہ بھی ہے۔ یہ دانشور سمجھتے ہیں کہ لوگ اتنے عقل مند نہیں، وہ نہیں جانتے اور نہیں جان سکتے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے۔ اور ہم، یعنی دانشور عاقل ہیں، باعلم ہیں، اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم انھیں یہ بتائیں کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے۔

یعنی وہ لوگوں سے یہ پوچھنے پر یقین نہیں رکھتے کہ خود وہ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے۔

اوپر میں نے جو تجربی جائزوں کی بات کی تو ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ یہ 2023 کی بات ہے جب ضلع نارووال میں بڑی تعداد میں کورین زبان سکھانے والے ادارے کھلنے شروع ہوئے۔ کیونکہ وہاں جنوبی کوریا کی طرف سے ویزا لاٹری پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ (ملاحظہ کیجیے ڈان، 18 فروری 2023)

کیا یہ اچنبھے کی بات معلوم نہیں ہوتی کہ نارووال کے لوگ کورین زبان سیکھیں گے! اور آپ کو امریکہ کا ویزا لاٹری پروگرام بھی یاد ہو گا۔

حقیقت یہ ہے کہ بالعموم، لوگ اپنی زندگی اور اپنے خاندان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنی جان تک داؤ پر لگا دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ کتنے پاکستانی پاکستان چھوڑ کر باہر کسی ملک میں جانے کے لیے زمین، جائیداد، زیورات، وغیرہ، بیچتے ہیں، اور کتنے پاکستانی دھوکہ بازوں کے ہاتھوں دھوکہ کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی جاتے ہیں۔

جو دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ کسی زبان یا ثقافت کو بچانے کی خاطر زندہ لوگوں کو قربانی دینی چاہیے۔ یعنی جو لوگ زندہ ہیں، انھیں اپنی زندگی کو آنے والی زندگی، یعنی مستقبل کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے لیے قربان کر دینا چاہیے، اپنی زندگی اور اپنی زندگی کی بہتری کو موخر کر دینا چاہیے۔ اصل میں یہ دانشور لوگوں سے ان کی زندگی چھیننا چاہتے ہیں۔

یہ ایک عجیب مخمصہ ہے۔ یعنی آپ کتنی نسلوں سے ان کی زندگیوں کے ترک کا تقاضا کریں گے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک خاص زبان بولتی رہیں اور ایک خاص ثقافت کو اپنائے رہیں۔ اسے سلسلے کو کہیں تو روکنا ہو گا۔ تو کیوں نہ اسے جو لوگ زندہ ہیں، انھی پر روک دیا جائے۔ اور انھیں خود فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ کس طرح کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیا نہیں کرنا چاہتے۔

یاد رہے کہ ہر فرد کو اس کی زندگی ایک بار ہی ملتی ہے، اور اس زندگی پر اس کے حق کو اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔

لہٰذا، لوگ اپنی انمول زندگی کو دانشوروں کے تصورات اور نظریات کے چبوترے پر کیوں قربان کریں؟

ایک اور بات، جسے میں کئی بار لکھ چکا ہوں، اور مختلف مواقع پر کہتا رہتا ہوں کہ لوگ پیدا ہوتے ہیں، مرنے کے لیے نہیں۔ لوگ زندہ رہنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ہر طرح کے حالات میں زندہ رہ لیتے ہیں۔ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ برے یا بہت زیادہ برے، جیسے بھی حالات ہوں۔ وہ جینا چاہتے ہیں، اور اپنی زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انھیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ وہ کچھ بھی کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، اور کرتے ہیں۔

ایک معمول کی روش کے طور پر زندگی کا یہی ڈھنگ ہوتا ہے، یہی ڈھنگ رہتا ہے، ہمیشہ۔

دانشور کون ہوتے ہیں لوگوں سے یہ تقاضا کرنے والے کہ وہ ان کے تصورات و نظریات کو مانیں اور ان پر عمل پیرا ہوں!

میں خود یہ بات کہتا ہوں میں لوگوں کی نمائندگی کرتا ہوں۔ اور یہ میرا انتخاب اور فیصلہ ہے۔ لیکن میرا یہ انتخاب منہاجیاتی ہے۔ میں لوگوں کے یعنی ہر فرد کے حقوق اور ہر فرد کی شخصی آزادی کی بات کرتا ہوں۔ میں لوگوں پر کسی نظریے کے تسلط یا نفاذ کی بات نہیں کرتا۔

اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جو شخص لوگوں کے حقوق اور آزادیوں (یعنی شخصی آزادی) کی بات نہیں کرتا، وہ لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ وہ صرف اور صرف اپنے نظریے کی بات کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے نظریے کا چارہ اور مواد گردانتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے تصورات اور نظریات کا غلام بنانا چاہتا ہے۔

ایک انوکھی بات: ایک اور صاحب وہاں اجلاس موجود تھے۔ تبصرے اور سوالات کے دوران مائیک ان کے پاس آ گیا۔ ان سے مائیک واپس لینے کی کوشش کی گئی۔ مگر پھر انھیں گفتگو کی اجازت مل گئی، جو ناقابلِ فہم تھی۔ آخر میں انھوں نے بار بار کہا: تم سب ڈیپارٹمنٹ سٹور ہو، تم سب ڈیپارٹمنٹ سٹور ہو!

توجہ: اگر کوئی صاحب سمجھتے ہیں کہ میں ان کی گفتگو کے مفہوم کو درست طور پر بیان نہیں کر پایا، تو وہ مجھے تصحیح کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

[8 اکتوبر 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted