[توجہ رہے ڈیل کارنیگی پاکستانی نہیں، امریکی ہے۔]
یہ 2025 کے اوائل کی بات ہے۔ میں اسلام آباد میں تھا۔ 12 فروری کو ’’بلیک ہول‘‘ میں اڑان پاکستان: معاشی منصوبے کے بارے میں ایک مباحثہ منعقد ہوا۔ اس میں مہمانِ خصوصی رانا احسان افضل تھے، جو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر برائے کامرس اور انڈسٹری ہیں۔
اتفاق سے میں اگلی نشستوں پر بیٹھا تھا، اور مباحثہ شروع ہونے میں کچھ وقت تھا۔ رانا صاحب بھی وقت سے پہلے پہنچ گئے۔ اور خوش قسمتی سے میرے ساتھ والی نشست پر تشریف فرما ہوئے۔ یوں ان کے ساتھ تعارف بھی ہوا اور بات چیت بھی۔ گفتگو بہت اچھی رہی، جیسا کہ عام طور پر حکومتی شخصیات کے ساتھ ممکن نہیں ہوتی۔
رانا صاحب بہت دھیمی شخصیت ہیں۔ توجہ سے بات سنتے ہیں، اور بہت تحمل اور مٹھاس کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔
یہ اور اسی طرح کی دوسری باتیں مجھے نہایت حوصلہ افزا معلوم ہوئیں، اور دلی خوشی ہوئی کہ چلیں ایک حساس اور درد مند آدمی موجودہ کابینہ کا حصہ ہے۔
مباحثہ ہوا۔ سوالات ہوئے۔ اور یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
میں راستے سے ہٹ کر ایک جانب کھڑا ہو گیا۔ رانا صاحب وہاں سے گزرنے لگے تو ان کی نظر مجھ پر پڑی اور انھوں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ میں نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔ یہی چند لمحے تھے جب میرے ذہن میں ایک فیصلہ ہو گیا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا، ’میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں، میرا کوئی ذاتی کام نہیں۔ کچھ ایسا مسئلہ ہے جو سب لوگوں کا مسئلہ ہے۔‘ وہ رک گئے اور انھوں نے میری بات توجہ سے سُنی۔ اسی اثنا میں میں نے اپنے کوٹ کی جیب سے اپنا تعارفی کارڈ نکال لیا تھا۔ فوراً یہ کارڈ ان کی طرف بڑھایا۔ انھوں نے کارڈ لیا اور جو شخص ان کے ساتھ تھا، غالباً ان کا سیکریٹری ہو گا، اسے دیا اور کہا، اِنھیں منگل کو بلا لیں۔
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ میرے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ میں نے سوچا آج جمعہ ہے، اور منگل کو ان سے ملاقات ہو جائے گی، اور اغلب ہے کہ جو دو مسائل میں ان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ ان کی وساطت سے وزیرِ اعظم تک بھی پہنچ جائیں گے، اور یوں یہ امید پیدا ہو گئی کہ ان مسائل سے متعلق کچھ نہ کچھ مثبت پیش رفت کا وقت آنے والا ہے۔
ہفتہ، اتوار، پیر۔ منگل آیا۔ منگل گزر گیا۔ رانا صاحب کے آفس کی طرف سے کوئی فون کوئی اطلاع نہیں آئی۔ مایوسی یعنی ڈپریشن کی برف کی ایک دبیز تہہ تھی، جو میرے ذہن و دل پر چھا گئی۔ میں اس میں قید ہو کر رہ گیا۔ ہر انسانی قدر جیسے بے کار و بے مقصد معلوم ہونے لگی۔ ہفتے بھر سے زیادہ دن اسی طرح گزرے۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا۔ کچھ بھی کر کے کیا کرنا۔ کیا حاصل ہو گا اس سے۔
اور جیسا کہ میں اسلام آباد میں ایک تھِنک ٹینک کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اس تھِنک ٹینک کی کوئی تقریب تھی۔ ہم تھِنک ٹینک کے احباب ہال روم کے دروازے کے اندر کھڑے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ اتنے میں رانا احسان افضل آتے نظر آئے۔ وہ دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ انھوں نے مجھے پہچان کر میری طرف مسکرا کر دیکھا۔ جواباً میں بھی مسکرایا۔ ’آپ ٹھیک ہیں؟‘ انھوں نے پوچھا۔ میں نے آگے بڑھ کر ان سے ہاتھ ملایا۔ ’جی، ایم فائن۔‘ وہ آگے چلے گئے۔
کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اس ملک میں جہاں اشرافیہ حاکم ہے، بے بسی کا کوئی علاج نہیں۔ اشرافیہ کا جی چاہے تو کسی ایک فرد پر لکھ لُٹا دے، وگرنہ لوگ مرتے ہیں تو مرتے رہیں۔
کس کے پاس کان ہیں سُننے کے لیے؟ کس کے پاس آنکھیں ہیں دیکھنے کے لیے؟
لوگوں کے کیا مسائل ہیں۔ اشرافیہ کو کیسے پتا ہو سکتا ہے۔ ہاں، اشرافیہ جو سوچے جیسے سوچے اس طرح کا کچھ احسان لوگوں پر کر دے، یہ اس کی عنایت ہے۔ صرف عنایت نہیں، عنایتِ خسروانہ ہے۔
مثلاً اشرافیہ کو کبھی سڑک پار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ضرورت پڑتی ہی نہیں۔ گاڑی ہے یا سرکاری گاڑی ہے، سڑک کے اِس جانب اُتر گئے، یا اُدھر جانا ہے تو سڑک کے اُس جانب اُتر گئے۔
سڑک پار کرنے کے لیے یہ بے چاری اجلافیہ ہے نا۔ کسی گاڑی سے ٹکرا جائے۔ یا کوئی گاڑی انھیں کچل دے، تو کونسا بڑا ظلم ہو گیا۔
دو انتہائی ہولناک مسائل میں سے ایک یہی مسئلہ تھا، جسے میں رانا احسان افضل سے مل کر ان کے علم میں لانا چاہتا تھا تا کہ وہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے علم میں لا سکیں۔
لاہور اور متعدد دوسرے شہروں، کراچی، پشاور، وغیرہ میں بھی جو سڑکیں بنی ہیں، ان پر زیبرا کراسنگ گدھے کے سینگوں کی طرح غائب کر دیے گئے ہیں۔ ان سڑکوں پر سڑک پار کرنے کے لیے کوئی اوور ہیڈ پُل نہیں، یا انڈر پاس نہیں۔ جیسے کہ لاہور میں پوری جی ٹی روڈ پر کہیں کوئی زیبرا کراسنگ نہیں۔ سڑک کے اوپر یا نیچے سے سڑک پار کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔ سڑک پار کرنا ایک انتہائی خطرناک کام بن چکا ہے۔
یہ قصہ صرف جی ٹی روڈ کا نہیں۔ پورے لاہور کی سڑکوں کا یہی حال ہے۔ ان سڑکوں پر شہباز ’’سپیڈ دوڑ‘‘ رہی ہے، اور بے چارے لوگ سڑکوں پر حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ (میں چاہتا ہوں ان تمام حادثات کی ایف آئی آر میں متعلقہ صوبے کے منتظمِ اعلیٰ کا نام بھی درج ہونا چاہیے۔)
ایک دہائی سے بھی زیادہ برس ہو گئے ہیں کہ میں اس مسئلے پر لکھ اور بول رہا ہوں۔ رانا صاحب سے مل کر یہ امید بندھی تھی کہ غالباً یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مگر رانا صاحب کے میٹھے بول میں جادو اصلی نہیں نکلا۔
اسی طرح دوسرے مسئلے کے بارے میں بھی میں ڈیڑھ دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے لکھ اور بول رہا ہوں۔ لیکن اجلافیہ کی آواز اشرافیہ کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتی۔ اشرافیہ کی گورنینس یک طرفہ ہوتی ہے۔
شہنشاہ جہانگیر کی زنجیرِ عدل کب کی ٹوٹ پھوٹ چکی، ورنہ آگرے جا کر اسے بھی ہلانے کی کوشش کر لیتا۔
خاص طور پر موسمِ سرما میں اور عام طور پر پورا برس لاہور کی فضا آلودگی کے اشاریے پر ان شہروں میں سرِفہرست ہوتی اور رہتی ہے، جہاں کا ماحول لوگوں کے سانس لینے کے لیے زہرآلود قرار دیا جاتا ہے۔
خود میں لاہور کے جس علاقے میں رہتا ہوں، وہاں ارد گرد فیکٹری ایریا ہے۔ بیشتر بھٹیاں ہیں، جہاں رات بھر استعمال شدہ ٹائر جلائے جاتے ہیں اور لوہا پگھلایا جاتا ہے (’’پاکستان صنعت کاری کے دور سے گزر رہا ہے!‘‘)۔ صبح کو اُٹھ کر دیکھیں تو گھروں کے اوپر کالک کی تہہ جمی ہوتی ہے۔ کالک کے ذرے رات بھر ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ کبھی رات کو گھر سے باہر نکلیں یا چھت پر جائیں، تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سانس نہ لیں تو بہتر ہے۔ چھت پر نہ بھی جائیں تو یہ آلودہ ہوا گھروں کے کمروں میں سرایت کر آتی ہے۔
لاہور شہر کے اطراف میں کتنے ایسے فیکٹری ایریے ہیں، جہاں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اور ہوتا رہتا ہے۔
ایک طرف پنجاب حکومت کا محکمہٴ تحفظِ ماحولیات اپنا کام کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف فیکٹریاں اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ اسی لیے میں نے بارہا یہ لکھا اور اپنی گفتگو میں کہا کہ جب تک یہ محکمہٴ تحفظِ ماحولیات موجود ہے، لاہور کی فضا آلودگی سے پاک نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ محکمہ فضائی آلودگی کو ریگولیٹ کر رہا ہے۔
بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج تھے، جنھوں نے لاہور کی فضائی آلودگی سے متعلق مستقل نوٹس لیا ہوا تھا، ہر ہفتے دو ہفتے بعد اس مقدمے کی پیشی ہوتی تھی۔ سردیوں میں تو خاص طور پر۔ وہ جج ریٹائر ہو گئے، مگر لاہور کی فضائی آلودگی ویسے کی ویسے ہی برقرار ہے۔ تغیر کی طرح فضائی آلودگی کو بھی زمانے میں ثبات حاصل ہے۔
گورنینس ہو تو ایسی ہو!
چلیں اچھا ہوا، رانا صاحب نے میری استدعا سنی، مگر اسے قابلِ توجہ نہیں سمجھا۔ میں نے شہباز شریف کے لیے اس وقت سے ایک سزا تجویز کی ہوئی ہے، جب وہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ یہ ہائی وے اور موٹر وے جیسی سڑکیں بیشتر انھی کے دور میں بنی ہیں۔ میں نے سوچا ہوا تھا اگر رانا صاحب کی وساطت سے شہباز شریف سے روبروئی ہوئی (کیسا نادان اور خوش فہم تھا میں بھی!) یا اگر رانا صاحب ہی سے ملاقات ہو گئی تو اس سزا کے بارے میں انھیں بھی ضرور بتاؤں گا، جو شہباز شریف کو ملنی چاہیے۔
سزا یہ ہے کہ شہباز شریف سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور حاضر وزیر اعظم پاکستان کو صبح 7 بجے لاہور کی سڑکوں پر چھوڑ دیا جائے اور انھیں پابند بنایا جائے کہ وہ شام 7 بجے تک لاہور کی سڑکیں پار کیا کریں۔ ایک سڑک کے بعد دوسری سڑک۔ تاکہ انھیں احساس ہو کہ انھوں نے لاہور (اور پنجاب کے دوسرے) شہریوں کے ساتھ کیسا ہولناک ظلم کیا ہے۔
اور ہاں، جہاں تک لاہور کی فضائی آلودگی کے جرم کا تعلق ہے تو اس کی سزا بھی تجویز کرنا اب ضروری ہو گیا ہے، کیونکہ سردیاں شروع ہو گئی ہیں، اور لاہور کی فضائی آلودگی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ شہباز شریف کو داروغہ والا کے فیکٹری ایریا میں کم از کم ہفتے بھر کے لیے رات بھر کُھلے آسمان تلے یا کسی گھر کی چھت پر سونے کا پابند بنایا جائے، اور پھر ہفتے بعد ان سے پوچھا جائے ان کے پھیپھڑوں کا کیا حال ہے۔ بے شک وہ لنڈن جا کر اپنے پھیپھڑوں کا چیک اپ کروا آئیں۔
لیکن جیسا کہ شیخ چلی کے ساتھ ہوا، ہم اجلافیہ کے شیخ چلیوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ میری ساری خام خیالیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ رانا احسان افضل صاحب نے مجھے منگل کو بلایا ہی نہیں۔
[31 اکتوبر 2026]