شاعری کیا ہے؟ شعریت کی ماہیت سے متعلق ایک نظریہ

ابتدائیہ:

یہ بھی میرا ایک پرانا کام ہے، جو نامکمل پڑا تھا۔ یہ بارہا مجھے اپنی یاد دلاتا رہا۔ بلکہ ہمیشہ میرے ذہن میں کروٹیں بدلتا رہا۔ اور ابھی چند دن قبل جب اسی طرح کا ایک کام، یعنی محمد حسن عسکری کے بارے میں ادھورا مضمون تکمیل کو پہنچا، تو یہ نیا کام ایک نئے دریا کی طرح میرے سامنے موجود تھا۔

محمد حسن عسکری سے متعلق کام کی طرح اس کام کی ابتدا بھی کلر سیداں میں فروری 1992 میں ہوئی۔

آج (10 اگست 2026) میں نے اپنے مختلف منصوبوں کی فائلوں کے پلندوں کو کھولا اور ’’دا پوئیٹری پراجیکٹ‘‘ کے نام سے ایک بڑا پلندہ مل گیا۔ مجھے خود حیرانی ہوئی کہ اس کے بڑے سائز کے جو کل صفحات میں لکھ چکا تھا، ان کی تعداد 24 ہے۔ اس کے حواشی بھی ساتھ ساتھ لکھے گئے ہیں، ان کی تعداد 26 ہے۔

بلکہ پلندے میں اس مضمون کو ایک اور عنوان دینے کی شہادت بھی ملی۔ نام تھا: نالہٴ خام۔ یہ اقبال کے شعر سے مشتق ہے: نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی/اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی۔

جیسا کہ محمد حسن عسکری سے متعلق مضمون کے ابتدائیے میں بیان ہوا، میری اچھی بری عادت یہ تھی کہ جو بھی کام کروں اسے جامع انداز میں کروں (اب یہ عادت خواہش میں سمٹ کر رہ گئی ہے؛ وقت کی کمی کا احساس ہر دم ساتھ لگا ہوا ہے)۔ اس کام کے لیے بھی میں نے جو نوٹس تیار کیے تھے، اور پھر اردو اور انگریزی اقتباسات اور اس ادھورے مضمون کے علاوہ شعریت سے متعلق خود میرے اپنے شذرات اور منتخب اشعار سمیت یہ کام، کل ملا کر کوئی دو سو سے زیادہ کاغذوں پر بکھرا ہوا ملا۔

چونکہ عسکری صاحب سے متعلق کام کو مکمل کرنے کے دوران ایک خاکہ تیار ہو گیا تھا، تو شعریت سے متعلق اس کام کو بھی پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لیے میں کچھ تبدیلی کے ساتھ اسی خاکے کی پیروی کروں گا۔ یعنی پہلے ادھورا مضمون درج کروں گا (پہلا حصہ)۔ پھر خود میرے اپنے شذرات کی باری آئے گی (دوسرا حصہ)۔ پھر اس ادھورے مضمون پر جو اضافہ میں کرنا چاہتا ہوں، یعنی شعریت سے متعلق جو نظریہ میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اجمالاً اس کی تفصیل آئے گی (تیسرا حصہ)۔ اس کے بعد اس کام سے متعلق جو اردو اور انگریزی اقتباسات محفوظ کیے گئے ہیں، ان میں سے جو ضروری ہیں انھیں نقل کروں گا (چوتھا حصہ)۔ اس کام سے متعلق میں نے ایک بڑی تعداد میں منتخب اشعار بھی جمع کیے تھے، پھر وہ درج ہوں گے (پانچواں حصہ)۔ آخر میں حواشی و تعلیقات (چھٹا حصہ) اور کتابیات ہوں گے (ساتواں حصہ)۔

شاعری سے متعلق شذرات (نوٹس) مختلف مواقع پر لکھے جاتے رہے۔ کبھی کسی گفتگو یا بحث کے بعد یا کسی کتاب کو پڑھتے ہوئے، یا کبھی مختلف حلقوں (جیسا کہ حلقہٴ اربابِ ذوق ۔ ادبی، حلقہٴ اربابِ ذوق ۔ سیاسی، پنجابی ادبی سنگت، نئے افق، حلقہٴ اربابِ غالب (راولپنڈی) میں شمولیت سے تحریک پا کر خیالات بنتے بگڑتے رہے اور میں انھیں لکھتا رہا کہ جب یہ کام کروں گا تو یہ شذرات اس کام کا حصہ بن جائیں گے۔

تاہم، اب جب میں اس کام کو کوئی 34 برس کے بعد مکمل کرنے جا رہا ہوں، تو نہ تو اتنا وقت دستیاب ہے کہ میں ان تمام شذرات کو ان کے مناسب اور موزوں مقام پر بٹھاؤں اور ان کی توضیح و توجیہہ بھی کروں، لہٰذا، انھیں ویسے کا ویسا ہی نقل کر رہا ہوں، جیسے یہ موقع بہ موقع قلم بند کیے گئے۔

یہی صورت ان اردو اور انگریزی اقتباسات کی بھی ہے، جو اس کام کے ضمن میں اکٹھے تو کیے گئے، لیکن سب کے سب کو اصل مضمون میں استعمال نہیں کیا جا سکا۔ انھیں بھی نقل کرنے پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے جو نظریہ اس تحریر میں وضع کیا گیا ہے، یہ تمام شذرات اور اقتباسات، اور منتخب شاعری بھی، کسی نہ کسی انداز میں اس نظریے کے مقناطیس کے ارد گرد لوہے کے ذروں کی طرح اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یعنی نظریے کی توسیعات کی شاخوں میں کہیں نہ کہیں برگ و بار بن کر معلق دیکھے جا سکتے ہیں۔

پہلا حصہ: ادھورا مضمون

اعلیٰ شاعری، اعلیٰ تنقید سے بھی بڑی چیز ہوتی ہے۔

اس لیے کہ وہ شاعری کا بڑھتا ہوا معیار مقرر کرتی ہے، تنقید کو راہ دکھاتی ہے، اور یوں دونوں کے لیے ایک آدرش کا تعین کرتی ہے۔ لیکن اگر آدرش سامنے نہ ہو تو شاعری اور اس کی تنقید دونوں پسماندگی کا شکار ہو جاتے ہیں: (1) شاعری ایسی تنقید کو سند بنا کر اور تنقید ایسی شاعری کو معیار قرار دے کر خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ شاعری اور تنقید دونوں ایک دائرے میں اسیر ہو کر رہ جاتی ہیں۔ (2)

یہی مقام ہے جہاں شاعری موضوع کے مطابق تقسیم ہونے لگتی ہے، اور اس کے ساتھ مختلف سابقے لگانے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ شاعری کو نیچرل شاعری، قومی شاعری، سیاسی شاعری، انقلابی شاعری، مذہبی شاعری، ’انحطاطی شاعری‘ (3)، وغیرہ، کا نام دے دینا ضروری ٹھہرتا ہے؛ کیونکہ شاعری کو محض شاعری کہنا یا سمجھنا ناکافی ہو جاتا ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ شاعری (یا کسی شاعر کی شاعری) کی وجہٴ جواز کو شاعری کے باہر سے ڈھونڈنا تنقید کا وطیرہ بن جاتا ہے۔

ہمارے یہاں یہ ’مقام‘ یا ’حال‘ الطاف حسین حالیؔ (1914-1837) کے آس پاس سے شروع ہوتا ہے۔ اب موضوع اہم ہو جاتا ہے۔ شاعری مقصود بالذات نہیں رہتی، بلکہ ذریعہ (محض ’ذریعہٴ عزت‘ ہی نہیں!) بن جاتی ہے۔ شاعری کا معروضی تجزیہ ترک ہو جاتا ہے۔ شاعری کو (شاید غیرشعوری طور پر) ایک پُراسرار فن سمجھ لیا جاتا ہے۔ شاعری کا معیار اور آدرش دونوں، انگریزوں کے ساتھ مغربی تہذیب اور علوم و فنون کی آمد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہمہ گیر و ہمہ جہت انسانی و سماجی بحران میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ (4) کچھ مخصوص موضوعات کو وزن اور بحر میں گرفت کر کے بیان کر دینا شاعری قرار پاتا ہے۔ (5) حاصلِ حصول یہ کہ ’شعریت‘ عنقا ہونے لگتی ہے۔

پھر یہ بھی کہ شاعری کی تفہیم و پرکھ کے لیے جدید تنقید میں شاعر کی ذات و شخصیت اور اس کے ماحول کو تو کافی خیال کیا گیا، لیکن شاعری اس سارے عمل میں سے عملاً نفی ہو کر رہ گئی۔ وہی دائرہ یہاں بھی در آیا۔ شاعر کو شاعری کے ذریعے اور شاعری کو شاعر کے ذریعے سمجھا جانے لگا۔ اور تنقیدِ شعر شاعر کی سوانح کا چربہ بن گئی۔ مزید یہ کہ شاعری میں شاعر اور اس کے ماحول اور معاشرے کو پڑھنے کی کوشش کی گئی، اور ماحول اور معاشرے میں شاعری کو۔ سیدھی سی بات ہے کہ شاعر (و ادیب) اور اس کی شاعری پر کسی نہ کسی صورت زمانی و مکانی اور شخصی و شخصیتی اثرات تو ہوتے ہی ہیں۔ تنقید میں جب یہ اثرات (اشعار بطور مثال ڈھونڈ ڈھونڈ کر) دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو نہ جانے اس سے کیا ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ (لگتا تو یوں ہے کہ محض کچھ لکھنا مقصود ہوتا ہے۔) اگر اثرات ثابت ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ شاعر اپنے آپ کو زمانی و مکانی اور شخصی و شخصیتی حدوں سے بلند نہیں کر پایا ہے۔ یا اگر برعکس ہو تو کیا یہ کہ شاعر ماورائے حد تک چلا گیا ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے اور مانتے کہ ادب ہر طرح کی حدود و قیود سے بلند ہونے کا ہی نام ہے۔

اس تنقیص سے مراد یہ ہے کہ شاعری (یا ادب) کو اپنے طور پر مکمل، آزاد، اور معروضی حیثیت نہ دینے کے یہی نتائج نکل سکتے ہیں۔

موجودہ تحریر کا مقصد شاعری کے اسی کھوئے ہوئے آدرش اور معیار کی تلاش و تحقیق اور ان کی آزمائشی تشکیل ہے۔ یہ کام، بغیر کسی دعوے کے، امتحاناً، ایک کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں سُقم بھی ہو سکتے ہیں، منطقی پیچیدگیاں، اور وضاحت طلب امور و مسائل بھی۔

ہمارے برِصغیر میں معروض کو ایک پُراسرار شے کے طور پر سمجھا اور جانا گیا، (6) ، اور اسے کھولنے اور دسترس میں لانے کی سعی نہیں کی گئی۔ شاید اسی لیے آزاد فلسفیانہ فکر اور سائنس پروان نہیں چڑھ سکی، اور شاید اسی لیے معروضیت اور معروضی تجزیہ بھی۔ (7)

بعینہٖ، یہی رویہ شاعری کی طرف بھی کارفرما رہا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ابھی تک کارفرما ہے۔ (8) شاعری کو ایک پُراسرار صلاحیت (9) اور ودیعتی فن سمجھا گیا اور شاعر کو مجنون، آسیب زدہ، وغیرہ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شاعری کے معروضی تجزیے سے دامن بچایا گیا، اور ممکنہ اور اضافی طور پر اسے ایک قابلِ تعلیم اور قابلِ انتقال فن نہ بنایا جا سکا۔ (10) اس صورتِ حال میں شاعری اور اس کا فن کوئی معروضی مقام حاصل نہ کر سکے۔ شاعر، اچھے بُرے، محض پیدا ہوئے، شاعری کی اور گزر گئے۔

ہم کیا کہیں احباب کیا کارِ نمایاں کر گئے/بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی اور مر گئے۔ اکبرؔ الہٰ آبادی

تاہم، شاعری کے معروضی تجزیے کی عدم موجودگی میں ہماری تنقید میں تین چیزیں نہایت شدت کے ساتھ زیرِ بحث رہیں۔ ایک تو سُننے اور پڑھنے والے پر شعر کا اثر اور اس اثر کی نوعیت۔ دوسرے (’’کلاسیکی تنقید‘‘ میں) شعر کا صوری حُسن اور صحت، اور (جدید تنقید میں) موضوعِ شعر کی رنگا رنگی۔ انتہا یہ کہ ان ہی چیزوں، یعنی شعری تاثیر، صوری عیوب و محاسن، اور موضوع کو شاعری کی پرکھ کا معیار بنا لیا گیا۔ یہاں اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ کلاسیکی تنقید میں شاعری کا معروضی تجزیہ تو ہوا، لیکن یہ لسانی اور لسانیاتی اصطلاحات میں محدود رہا، اور شاعری کی روح تک نہیں پہنچ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی تنقید، کلاسیکی شاعری اور اس کی ماہیت کی نظری تشکیل نہیں کر پائی۔

جدید تنقید تک آتے آتے شعر کا صوری حُسن اور صحت قریب قریب بالکل ہی نظرانداز ہو گئے۔ شعری تاثیر کا نظریہ تنقیدِ شعر کی بنیاد ٹھہرا، (11) اور رہا سہا معروضی تجزیہ بھی قصہٴ پارینہ بن گیا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اب شاعری ’’موضوع‘‘ کے گرداب میں پھنس کر رہ گئی۔ (12) کلاسیکی شاعری اور تنقید کے حاصلات کو قلم زد کر دیا گیا۔ شاعری غیرِشاعری اور اس کی تنقید غیرِتنقید میں ڈھل گئیں۔ (13) یوں شاعری کے ساتھ ساتھ شاعری کی جدید تنقید بھی کلاسیکی شاعری اور تنقید کے مقابل کسی قابلِ ذکر اور اہم مقام تک پہنچے بغیر واماندگی کا شکار ہو گئی۔ (14)

درست ہے کہ کلاسیکی شاعری میں شعر کے ’’ظاہری پہلوؤں‘‘ پر ہی مطلق توجہ دی گئی تھی، اور اس کا باطن (اور موضوع و مواد) نظر انداز ہو کر رہ گیا تھا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’ظاہری پہلوؤں‘‘ پر اس ’’مطلق توجہ‘‘ ہی کہ وجہ سے شاعری کے باطن (: موضوع و مواد) سے اعلیٰ شاعری برآمد ہوئی تھی۔ (15) جبکہ جدید شاعری میں، شاعری کے ’’ظاہری پہلو‘‘ تو نظرانداز ہوئے ہی، ساتھ ساتھ شاعری کا باطن (: اس کی روح) بھی ’’موضوع‘‘ کی بھول بھلیوں میں کھو کر رخصت ہو گیا۔ (16) ’’کلامِ موزوں‘‘ اور ہر طرح کا ’’کلام‘‘ شاعری کہلانے لگا۔

مبالغہ نہ ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ یہ شاعری، شاعری کی روح سے عاری شاعری ہے۔ بے روح اور بے جان۔ محض شاعری کا لاشہ۔ فکرِ جمیل خوابِ پریشاں ہے آج کل/شاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل (جگرؔ مراد آبادی)۔

اس بیان سے کل جدید اور معاصر شاعری کا مکمل استرداد قطعاً مقصود نہیں۔ صرف اتنا کہنا مطلوب ہے کہ اس شاعری نے اعلیٰ شاعری کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ محض خواب کی بھولی بسری یاد باقی رہ گئی ہے۔ (17) بس کوئی جھلک، کوئی لپک، کبھی کبھی اِدھر اُدھر نظر پڑ جاتی ہے۔

چلتے چلتے کلاسیکی تنقیدِ شعر اور جدید تنقیدِ شعر کے متذکرہ رجحانات پر نظر ڈالتے جانا مناسب رہے گا۔ کلاسیکی تنقید میں لسانی اور لسانیاتی اصطلاحات میں شاعری کا جو معروضی تجزیہ ہوا، اس سے شاعری کی معروضیت کو تقویت نہیں پہنچی، بلکہ اس کی پرکھ کا (قطعی) معیار ’’ذوقِ شعری‘‘ کا موضوعی پیمانہ ہی رہا۔ صنائع و بدائع اگرچہ شعر کا خارجی حُسن تصور کیے جاتے تھے، لیکن ’شاعری کی روح میں یہ کیا تغیر پیدا کرتے ہیں؟‘، اور ’شاعری کیا ہے؟‘ کے بارے میں کوئی معروضی نقطہٴ نظر وضع نہیں کیا جا سکا۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ شاعری کے ’’خارج‘‘ (یعنی لفظی ملبوس) اور ’’داخل‘‘ (یعنی موضوع و مواد) کی دوئی کو پاٹ کر اس کے بارے میں وحدت پسندانہ نقطہٴ نظر وضع نہ ہو سکا۔

یہی صورتِ حال جدید تنقید میں بھی جاری رہی۔ بس اتنا ہوا کہ کلاسیکی شاعری کے ضمن میں موضوعات کی ’’تنگنائے‘‘ کو عبور کرنا شعر کی سند قرار پا گیا، اور وہ موضوعات، جنھیں عام طور پر اب تک ’’غیرشاعرانہ‘‘ (18) سمجھا جاتا تھا، ان پر طبع آزمائی اور خامہ فرسائی خود موضوعِ تنقید بن گئی۔ مزید برآں، مغربی فکر اور شاعری کے زیرِاثر ہماری شاعری کی پرکھ مغربی شاعری کو سامنے رکھ کر ہونے لگی، اور اسے ’گل و بلبل کا نغمہ‘، اور ’عشق و محبت کی داستان‘ کہہ کر رد کر دیا گیا۔ (19)

جہاں تک شعری تاثیر کا تعلق ہے، اسے شاعری کی پرکھ کے سلسلے میں کسی بھی قسم کے معیار کا درجہ دینا خطرات سے خالی نہیں۔ افراد کے ذوق اور حالتیں تغیر پذیر رہتی ہیں، اسی لیے ایک شعر یا نظم چند افراد پر بھی یکساں اثر پیدا کر سکتی ہے یا نہیں، اس کے بارے میں نہ تو حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے، اور نہ ہی کوئی قوانین وضع کیے جا سکتے ہیں۔ (20) لہٰذا، شعر کے اعلیٰ یا پست ہونے کے معیار کو (چاہے بہ امرِ مجبوری ہی) محض شعر کے اثر کے ساتھ جوڑ دینا شعر، معیار اور تنقید تینوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک شعر افراد میں کیا اثر پیدا کرتا ہے، شعر کے معیار اور تنقید دونوں کے لیے یہ ایک غلط سمت ہے۔ جبکہ معروضی نقطہٴ نظر کی رو سے دیکھنے والی چیز تو یہ ہے کہ شعر میں ایسا کیا کچھ ہے، یا ایسا کیا کچھ نہیں ہے، جو افراد میں اچھے یا برے اثرات پیدا کرنے یا پیدا نہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ (21) لیکن ہماری کلاسیکی اور جدید تنقید دونوں میں بالعموم جو کام کیا گیا، وہ اعلیٰ شاعری کے معیار کو شاعری اور شاعری کی ماہیت میں تلاش کرنے کے بجائے اسے شاعری کے وجود سے باہر ’’زمین و آسمان‘‘ میں تلاش کرنا تھا۔ بچہ بغل میں ہونے کے باوجود شہر بھر میں ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ اور یوں شاعری کی معروضی نظری تشکیل و تفہیم کی طرف کوئی اہم پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔

(ع مطلب کتاب کا نہیں باہر کتاب سے۔ آتش)

شاعری کی لاتعداد تعریفیں کی گئی ہیں۔ تاہم، اس پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ شاعری میں دو چیزوں کا اجتماع بہرحال ضروری ہے۔ یعنی صوت اور معنی (Sound and sense)۔ (22) ’صوت‘ سے مراد الفاظ کی صوتِ ترتیبی یا موسیقیت سے قریب ہونا ہے، اور ’معنی‘ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مہمل صوتِ ترتیبی کو شاعری کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ نثر اور نظم کی تفریق میں بھی شاعری کی روح کی طرف معنی خیز اشارے ملتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نثر چہل قدمی (Walking) اور نظم رقص (Dancing) کی مانند ہے۔ (23) اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شاعری میں واقعیت، واقعیت کی حیثیت سے نہیں، بلکہ تخیل یا/اور سرمستی سے متصل ہو کر صورت پذیر ہوتی ہے۔ ’صوت و معنی‘ والی تعریف شاعری کی ترکیبی نوعیت کو سامنے لاتی ہے، جبکہ موخرالذکر میں اس کی کیفیتی نوعیت کو بیان کیا گیا ہے۔ با ایں ہمہ، ’صوت‘ سرمستی پر، اور ’معنی‘ تخئیلی عنصر پر بھی دلالت کرتے ہیں۔

تاہم، متذکرہ تعریفوں کے مزید تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ اپنی اہمیت کے باوجود یہ تعریفیں بالآخر شعری تاثیر سے ہی مشتق ہیں۔ یا یوں سمجھ لیجیے، ان کے ڈانڈے غیرمعروضیت سے ہی جا ملتے ہیں۔ صوتِ ترتیبی یا موسیقیت ایک تاثیری مسئلہ ہے، (24) اور افراد کے مختلف گروہ اس کی جانچ کا معیار ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ موسیقی شاعری سے علاحدہ، بلکہ کہنا چاہیے کہ بامعنی آوازوں سے علاحدہ اپنا آزاد اور جداگانہ وجود رکھتی ہے۔ مزید برآں، ہماری جدید شاعری (بشمول نثری شاعری) کی صورتِ حال اور مغربی (انگریزی!) شاعری کے اوزان و بحور کے (ارتسامات و اثرات کے) پیشِ نظر یہ بات فیصل نہیں کہ موسیقی شاعری کا لازمی عنصر ہے۔ معروضی نقطہٴ نظر کا تقاضا بھی یہ ہے کہ شاعری کی اصل روح تک پہنچنے کے لیے اس میں سے (دوسرے عناصر کے ساتھ ساتھ) موسیقی کو بھی تحلیل کیا جائے، اور شعر کی ماہیت کو ہی توجہ کا مرکز بنایا جائے۔

ذی معنی یا مہمل ہونے کا مسئلہ ایک سطح پر جا کر صورتِ حال کے تخصص اور ابلاغ کے مسئلے سے انسلاک اختیار کر لیتا ہے۔ علاوہ ازیں، اہم نکتہ یہ ہے کہ صوت و معنی کی شرائط کا اطلاق نثر پر بھی تو آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ نثر میں بھی معانی کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی نوع کی صوتِ ترتیبی بہرحال موجود ہوتی ہے، جسے نثر کے ردھم (Rythm) یا آہنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ (25) یہ اگرچہ اس نوعیت کی نہیں، جیسی شاعری میں پائی جاتی ہے، لیکن یہ کہنا بھی بے جا نہیں کہ نثر اور نظم کی صوتِ ترتیبی یا موسیقیت میں نوع کا نہیں بلکہ تدریج کا فرق ہے۔ (26) یہاں شاعری کے لیے وزن اور بحر کے ازکارِ رفتہ لوازم سے بحث عبث ہے۔ (27) ویسے بھی شعر کی ماہیت تک پہنچنے کے لیے ان کی تفریق ضروری ہے۔ پھر یہ بھی کہ آج کی (اعلیٰ) نثری شاعری اس بات کا واضح اظہار ہے کہ شاعری اوزان و بحور کی رسوم و قیود سے معریٰ ہو کر بھی صوت و معنی سے مبریٰ نہیں ہو جاتی۔ مراد اس مبحث سے یہ ہے کہ ’صوت و معنی‘ کی تعریف معروضی اصطلاحوں میں شاعری کی ماہیت و حقیقت کو سمجھنے اور بیان کرنے میں ناکام ہے۔

نثر اور نظم کے مابین فرق کو قائم کرتے ہوئے جس چیز کو شاعری کا خاصہ قرار دیا جاتا ہے، وہ ایک طرح سے سرمستی، اور اضافی لحاظ سے، ٹھوس واقعیت سے جزوی یا کلی انحراف اور ماورائیت، یعنی تخئیلی ہونا ہے۔ سرمستی اور تخئیل دونوں انسان کی داخلی اور اضافی کیفیات ہیں۔ یہ محض شاعری سے مختص نہیں۔ سرمستی کا تعلق اصلاً تو موسیقی سے بنتا ہے، اور تخئیل، نثر (بالخصوص فکشن) اور مصوری (وغیرہ) سے بھی عام ہے۔ شاعری میں ان کا ہونا یا نہ ہونا (اور شاعری کے سامع/اور قاری میں ان کا پیدا ہونا یا پیدا نہ ہونا) افراد (کی تصدیق و تردید) پر ہی منحصر ہو سکتا ہے۔ باالفاظِ دیگر یہ کہ ان کی موجودگی یا عدم موجودگی کو جانچنے کے لیے کوئی معروضی معیار وضع کرنا مشکل ہے۔ (28) مزید یہ کہ متذکرہ فنون یعنی موسیقی، مصوری، وغیرہ، علاحدہ، مکمل، اور جدا عنصری حیثیت کے حامل ہیں۔ اور شاعری کی علاحدہ، مکمل، اور عنصری حیثیت معلوم کرنے کے لیے اسے تمام قسم کی لازمی و غیرلازمی آمیزشوں سے مقطر کرنا ضروری ہے، تب ہی اس کی اصل ماہیت تک پہنچا جا سکتا ہے اور اسے ایک معروضی فن کی حیثیت سے منوایا بھی جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ محض موسیقی اور ’کلامِ موزوں‘ کے الم غلم کا نام ہی رہے گی۔

شاعری کے بارے میں معروضی نقطہٴ نظر بشمول دوسری باتوں کے اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ اس کی مدد سے شاعری سے متعلق ایک نہایت بنیادی مسئلے کے سلجھنے کے امکانات بھی روشن ہو جاتے ہیں، اور اس کے مقام اور غایت کے تعین میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ شاعری پر بہت سے ’’الزامات‘‘ وارد ہوتے رہے ہیں، اور اب بھی گاہے گاہے مختلف صورتوں میں ان کا اعادہ ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے اساسی نوعیت اور اہمیت کے حامل الزام یہ ہیں: شاعری میں تناقض پایا جاتا ہے؛ اس کی صداقت مشکوک ہے؛ وغیرہم۔ غیرجانبدارانہ لحاظ سے اس بات کو یوں بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ آیا ایک خاص طرح کے نفسِ مضمون یا فکر کو بیان کرنے سے شعر میں شعریت پیدا اہوئی، یا شعریت پیدا کرنے کے لیے ایک خاص طرح کے نفسِ مضمون یا فکر کو کام میں لایا گیا۔ (29) بادی النظر میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ بیچ اس مسئلے کے خود شاعر کی گواہی ہی کافی و وافی ہے۔ وہی بتا سکتا ہے کہ اس کا منتہائے نظر شعریت تھی یا فکر۔ لیکن معروضی نقطہٴ نظر شاعر کو اس مسئلے کے بیچ لائے بغیر راہ سجھا دیتا ہے۔ ایک شعر پارے کو آزادانہ وجود کا حامل جانتے ہوئے اور شعر یت کے (اضافی) معروضی معیار پر پرکھتے ہوئے شعریت اور فکر کی ثنویت کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ شعریت اور فکر، شعریت میں ڈھل کر ایک ہو جاتے ہیں۔ فکر یا فکرِ تازہ اس پرکھ میں اپنی اہمیت و وقعت کھو بیٹھتی ہے۔ اگر وہ شعریت ہے تو شعر ہے، ورنہ نہیں (اس کی مفصل وضاحت آگے آ رہی ہے)۔ ایک ذیلی حاصل اس کا یہ بھی ہو گا کہ خود شعر اور شعریت، نقطہٴ تحقیق اور نقطہٴ تعمق بن جائیں گے۔

تاہم، حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ انفرادی ذوق یا پسند و ناپسند یا اکثریتی و اقلیتی رد و قبول شاعری کی پرکھ کا پیمانہ قرار پائے ہوئے ہیں۔ ان اذواق کی تشکیل میں، اور علاحدہ حیثیت میں بھی، کلاسیکی تنقیدِ شعر یا مغربی تنقیدِ شعر کے معیار جزوی یا غیرجزوی طور پر اس پرکھ میں عمل دخل رکھتے ہیں۔ یا پھر فکری رجحانات و تعصبات کو معیارات کے طور پر کام میں لایا جاتا ہے۔ لیکن نہایت افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں شاعری کی اپنی معروضی حیثیت مشبتہ ہو جاتی ہے۔ جبکہ شاعری کو ایک آزاد اور معروضی حیثیت دینے کا اولین تقاضا یہ ہے کہ اسے پرکھنے کے معروضی معیار تشکیل دیے جائیں، (30) تب ہی شاعری کی ماہیت کو جاننا اور سمجھنا اور شاعری کو خالص تنقیدی نقطہٴ نظر سے پرکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔

اس معترضانہ تمہید کے بعد تنقیدی امتحان و آزمائش کے لیے شاعری کے بارے میں موجودہ متشکلہ معروضی نقطہٴ نظر کو سامنے لایا جاتا ہے:

شاعری کا جوہر شعریت ہے، اور شعریت کی روح شعریتی حربہ ہے۔

شاعری کی ماہیت کے بارے میں استفسار ہی شاعری سے متعلق پہلا بنیادی سوال ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ کہ شاعری کیا ہے؟ یہ سوال خود وضاحت طلب ہے۔ ’شاعری کیا ہے؟‘ سے ہماری مراد کیا ہے؟ (31) تفصیل میں جائے بغیر یہاں یہ جواب کافی ہو گا کہ وہ کیا چیز ہے جو شاعری کو شاعری بناتی ہے۔ یا یہ کہ وہ کیا امرِ لازم ہے جس کی موجودگی شاعری کو شاعری سے موسوم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

شاعری کے بارے میں موضوعی، لسانیاتی، تاثراتی، نفسیاتی، تاثیراتی، فصیحانہ و بلیغانہ، وغیرہ، اور خواہش مندانہ نظریات سے قطع نظر، اور شاعری کے ماخذ، یعنی آمد و آورد، اور نزول و مراحلِ نزول کے مسائل سے علاحدہ، شاعری کو آزادنہ اور جداگانہ معروضی حیثیت کے حامل فن کے طور پر جانچنے کی کوشش میں یہ پتا چلتا ہے کہ شاعری میں ایک خاص چیز موجود ہوتی ہے، جس کی بنا پر اسے شاعری کہا جاتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے، جسے عام طور پر شعریت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہی شعریت شاعری کا جوہر ہے۔ اسی کی موجودگی یا عدم موجودگی شاعری اور غیرِشاعری (یا متشاعری) میں حدِ امتیاز قائم کرتی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شعریت کیا ہے۔ یا یہ کہ وہ کیا چیز ہے جو شعریت کے وجود کے لیے امرِ لازم ہے۔ یا یہ کہ شعریت کیونکر پیدا ہوتی ہے۔ شعریت کی معروضی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز سے شعریت پیدا ہوتی ہے وہ ایک طرح کا ’’حربہ‘‘ (32) ہوتا ہے۔ اسے ’’شعریتی حربہ‘‘ سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔ (33) لیکن اب یہ سوال آ موجود ہوتا ہے کہ خود شعریتی حربہ کیا ہے۔ شعریتی حربہ ایک طرح کا مخفی طریق یا مخفی نظام ہے جو لفظوں کے واسطے یا ذریعے سے متشکل ہوتا ہے۔ اس میں مقاماتِ وقف کے استعمال یا عدم استعمال کو بھی کام میں لایا جاتا ہے۔ اسے مخفی اس لیے کہا گیا ہے کہ عام طور پر یہ مستور رہ کر ہی شعریت پیدا کرتا یا کر سکتا ہے۔ (34) پھر یہ کہ حربہ خود اخفا میں رہ کر محض شعریت کو افشا کرتا ہے۔ معروضی تحقیق کا منشا اسی حربے کی ماہیت و حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے۔

شعریتی حربے کا واحد مقصد شعریت کی بارآوری ہوتا ہے۔ ایک کا تصور دوسرے کے بغیر محال ہے۔ جہاں کہیں بھی شعریتی حربہ ہو گا، وہاں شعریت ضرور ہو گی۔ اور شعریت کی عدم موجودگی شعریتی حربے کے فقدان کا اعلان ہو گی۔ ایک کہانی کی چند سطریں ملاحظہ کیجیے:

“You are in this real estate game. You sell some fellow a lot on which to build a house, like you did to me. He is going to build himself a house, a home. He is a bird who is going to build himself a nest.”
A. P. was often like that. He was inclined to slip off into something like poetry.” (35)

یہاں جس چیز کو شاعری کہا گیا ہے وہ حقائق کے بیان سے ہٹ کر ایک خاص طرح کا بیان ہے۔ عام زندگی میں بھی جب کوئی فرد ایک خاص لمحے میں ٹھوس حقیقت سے بلند ہونے کی سعی کرتا ہے یا تخئیل آمیز گفتگو کا سہارا لیتا ہے تو اسے شاعری جیسی چیز کے حامل ہونے کا نام دیا جاتا ہے۔ شبلی نعمانی نے ’’شعر العجم‘‘ میں ایک ایسا ہی واقعہ درج کیا ہے: ’’کتبِ ادبیہ میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ حضرت حسّان بن ثابتؓ کے صغیرالسن بچے کو بھِڑ نے کاٹ کھایا۔ وہ حسان کے سامنے روتا ہوا آیا کہ مجھ کو ایک جانور نے کاٹ کھایا ہے۔ حسان نے جانور کا نام پوچھا، وہ نام سے واقف نہ تھا۔ حسان نے کہا اچھا اس کی صورت کیا تھی؟ بچے نے کہا ’’کانہ ملتف ببردی حیرة‘‘۔ گویا یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ مخطط چادروں میں لپٹا ہوا ہے۔ چونکہ بھِڑ کے پروں پر رنگین دھاریاں ہوتی ہیں، اس لیے اس نے مخطط چادر سے تشبیہ دی۔ حسان اُچھل پڑے اور خوشی کے جوش میں کہا ’’واللہ صارا بنی الشاعر‘‘۔ یعنی خدا کی قسم میرا بیٹا شاعر ہو گیا۔ فقرہ موزوں نہ تھا، لیکن چونکہ نہایت عمدہ تشبیہ تھی، حسان نے سمجھا کہ بچے میں شاعری کی قابلیت موجود ہے۔‘‘ (36)

ان دونوں اقتباسات میں موجود اور جاری روش سے ہٹ کر بیان میں ایک نئی سمت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور اس مقصد کے لیے خاص حربوں کو کام میں لایا گیا ہے۔ یوں ایک نئی ’’فکری سمت‘‘ سامنے آتی ہے، جسے ’شاعری‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہی نئی فکری سمت شعریت ہے، اور یہی شعریتی حربے کا مقصود بھی۔ (37) دریں صورت کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک شے کی جگہ دوسری کو رکھ دینا، واقعی کو غیرواقعی، غیرواقعی کو واقعی، مرئی کو غیرمرئی، یا غیرمرئی کو مرئی بنا لینا، (وغیرہ) ہی ’’شعریتی حربہ‘‘ ہے۔ بلاشبہ یہ شعریتی حربے ہی کی صورتیں ہیں۔ لیکن انھیں شعریتی حربے کی ساختی تعریف کے طور پر نہیں اپنایا جا سکتا۔ یہ شعریتی حربے کو محدود کر دینے کے مترادف ہو گا۔ شعریتی حربے کا کوئی شمار اور کنار ممکن نہیں۔ اس کی لاتعداد معلوم اور نامعلوم قِسمیں ہو سکتی ہیں، جن میں سے اکثر کو تاریخ و تنقیدِ شعر میں کھول کر بیان کیا جا چکا ہے اور بیشتر ایسی بھی ہوں گی جو اب تک نامعلوم اور مستور ہوں گی۔ یعنی شعریتی حربے کی بوقلمونی اور وسیع دامانی میں ہی شعریت کا راز پوشیدہ ہے۔ (38)

شعریتی حربے کی ایک نہایت عام اور معروف قسم تشبیہ ہے۔ اس کے بارے میں وزیر آغا کی رائے قابلِ غور ہے: ’’۔۔۔ فن کار یا شاعر کوئی نئی چیز تخلیق نہیں کرتا، بلکہ دو اشیا کے مابین ایک ایسا ربط دریافت کرتا ہے جو اس سے قبل دریافت نہیں ہوا تھا۔ ۔۔۔ تشبیہ جو فن کی مختصر ترین صورت ہے اس کی بہترین مثال پیش کرتی ہے کہ دراصل تشبیہ میں محض اس ربط کو اجاگر کیا جاتا ہے جو پہلے سے دو اشیا میں موجود تھا لیکن جس کا احساس اس سے قبل کسی کو نہیں ہوا تھا، دریافت کا یہی عمل فن کار کی تخلیق ہے۔ مثلاً اگر برف کے گالوں کو کسی پیڑ کی گرتی ہوئی نورانی پتیوں سے تشبیہ دی جائے تو محسوس ہو گا کہ دراصل برف کے گالے بھی پہلے سے موجود تھے اور پیڑ کی گرتی ہوئی پتیوں کا بھی ہر کسی نے مشاہدہ کیا تھا۔ لیکن شاعر نے چونکہ سب سے پہلے ان دونوں کے ربط کو محسوس کیا تھا اس لیے اس کا یہ عمل ایک شعری تخلیق قرار پایا۔‘‘ (39)

یہاں جس دریافت کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ ’شعری تخلیق‘ (یا شاعری) کو نہایت محدود اور میکانکی سا عمل بنا کر رکھ دیتی ہے۔ کیا شاعری محض ’دو اشیا کے مابین ایک ربط دریافت کرنے کا‘ نام ہے؟ کیا ’اجاگر کیا گیا ربط‘ کسی نئی چیز کی تخلیق نہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ’دو اشیا کے مابین ایک ایسا ربط دریافت کرنا جو اس سے قبل دریافت نہیں ہوا تھا‘ شاعری یا ’شعری تخلیق‘ کی فقط ایک صورت ہے۔ یہ شعریت پیدا کرنے کا صرف ایک حربہ ہے۔ علاوہ ازیں، یہ ایک عام مطالعے کی بات ہے کہ شعریت کی تخلیق کے لیے شعریتی حربہ نئی سے نئی صورتوں میں ظہور پاتا ہے۔ اگر یہ نو بہ نو صورتیں اختیار نہ کرے تو شعریت عنقا ہو کر رہ جائے۔ شعریتی حربے کے امکانات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ یہ کائنات کی طرح ناتمام اور لامحدود ہیں۔ تشبیہ بھی استعارے، مبالغے، رعایتِ لفظی، تکرار، تجسیم، تضاد، وغیرہ، کی طرح شعریتی حربے کی چند معلوم و معروف اقسام میں سے ہے۔

جہاں تک ’نئی چیز تخلیق کرنے‘ کا تعلق ہے، تو یہ کہنا کہ ’فن کار، یا شاعر کوئی نئی چیز تخلیق نہیں کرتا، شاعری کو اس کے مقام سے گرا دینے کے مترادف ہے۔ (40) اس طرح تو شاعری محض غیر دریافت روابط کی دریافت بن کر رہ جائے گی اور شعریت اور اس کا حربہ ذیلی حیثیت کے حامل اور مجموعی طور پر شاعری، شعریت اور شعریتی حربہ، تینوں علوم و فنون میں ایک ضمنی مقام کے مستحق قرار پائیں گے۔ دراصل اس نقطہٴ نظر کی پشت پر کائنات کا ایک جامد و ساکت (اور ساقط) تصور کارفرما ہے۔ یعنی یہ کہ سب کچھ خلق ہو چکا یا یہ کہ کائنات کی تخلیق مکمل ہو چکی۔ اس کے بعد جو کچھ بھی تخلیق ہو گا وہ نیا نہیں ہو گا بلکہ پہلے سے موجود کا علم اور غیردریافتہ کی دریافت ہو گا۔ اس نقطہٴ نظر کے برعکس حرکی نظریے کی رو سے کائنات ہر لمحہ تخلیق ہو رہی ہے، اور اہم بات یہ ہے کہ کائنات کی خود تخلیقیت کے ساتھ ساتھ انسان بھی کائنات کو تخلیق کر رہا ہے۔ جو کچھ آج تک انسان نے بنایا ہے اور تخلیق کیا ہے، کیا وہ انسان کی عدم موجودگی میں بھی تخلیق ہوا ہوتا۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ جن غیردریافتہ روابط کو شاعر نے دریافت کیا ہے، کیا وہ شاعر (یعنی انسان) کی عدم موجودگی میں دریافت ہوئے ہوتے۔ یقیناً نہیں! لہٰذا، یہ نتیجہ نکالنا مناسب ہے کہ غیردریافتہ روابط کی دریافت یا پیدا شدہ شعریت بالکل ایک نئی چیز ہوتی ہے۔ چاہے یہ ایک ذرے ہی کی حیثیت کی حامل کیوں نہ ہو۔ لیکن ذخیرہٴ علم میں ایک نیا اضافہ ضرور ہوتی ہے۔ درحقیقت شعریتی حربے کا مقصد ہی شعریت کی صورت میں نئے سے نئے علم کی تخلیق ہے۔ (41) ہاں، دوسرے علمیاتی طریقوں کے مقابلے میں اس کا طریق اگرچہ بہت مختلف ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ تصورِ علم پر نئے سرے سے غور و خوض کرتے ہوئے اس کے دامن کو کچھ زیادہ وسعت آشنا کیا جائے۔ (42) مراد یہ کہ شاعری کو سنجیدگی سے پڑھا جائے، علوم کی طرح، محض فنون کی طرح نہیں۔

شعریتی حربے کی بوقلمونی قلم بند نہیں ہو سکتی۔ یہاں مختلف النوع حربوں کی چند مثالیں دینے پر اکتفا کیا جاتا ہے:

سید عبداللہ لکھتے ہیں: ’’غالبؔ کا ایک شعر ہے: جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار/صحرا مگر بہ تنگیٴ چشمِ حسود تھا
عام خیال کے مطابق شعر کا پہلا مصرع محض خبر ہے یا محض بیان ہے یعنی غالب کے نزدیک ’’جز قیس اور کوئی بھی‘‘ عشق کی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ںہیں ہو سکا۔ کیونکہ صحرائے عشق چشمِ حاسد کی مانند تنگ تھا اور اس میں کسی کا گزر ممکن نہ تھا، ہاں ان میں صرف قیس ہی سے یہ ہو سکا، یعنی قیس کو اس معاملے میں یکتائی حاصل ہے!

مگر یہ شرح صحیح نہیں ہے۔ میرے نزدیک شعر کا مصرع اول طنزیہ تعجب کا حامل ہے اور اس میں اس عام خیال کی تشکیک بلکہ تضحیک ہے کہ قیس ہی عشق کی دنیا کا واحد ہیرو تھا اور عاشقی کی روایت اس پر ختم ہو گئی۔ غالب کہتا ہے کہ یہ کتنا مضحکہ خیز خیال ہے کہ عشق کے ممکنات کو اتنا محدود سمجھ لیا جائے کہ اس کو قیس کے تجربات تک منحصر کر لیا جائے۔ عشق کے تو ہزاروں ممکنات ہیں اور ان میں سے قیس کے علاوہ اور بھی بے شمار نامور پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ کیوں سمجھ لیا جائے کہ قیس کے بعد عاشقی کی دنیا سنسان ہو گئی ہے۔ یہاں تو ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں!‘‘ (43)

غالبؔ کے شعر کی اس تفہیم سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، تاہم، یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شعریتی حربہ کیسے کیسے اشارات و کنایات کا حامل ہو سکتا ہے اور اپنی ماہیت اور سالمیت میں کیسی کیسی جہات سے مملو ہو سکتا ہے۔

آگ بُجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر/کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کاروں (اقبالؔ)
یہاں شعری حربہ مخصوص علامتوں کی مدد سے ایک خاص تہذیبی تناظر کا خاکہ کھینچتا ہے اور تہذیبوں اور قوموں کی ناپائیداری کی حقیقت استفہامیہ و متحیرانہ انداز میں ایک مستزاد کے طور پر اس تناظر میں متشکل نظر آتی ہے۔ بنیادی بات اس حربے میں علامتوں کا چناؤ ہے۔ گو کہ پہلا مصرع اپنے طور پر مکمل ہے، مگر دوسرا مصرع معنی کی جہات کو دوچند کر دیتا ہے۔

دل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی کہ نہ پوچھ/جانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا (میرؔ)
حملہ آور لشکر کس طرح تاخت و تاراج کرتے گزرتے تھے (ہیں)۔ اس شعر میں یہی نفسیاتی تلازمہ حربے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اور یہ تاخت و تاراج کی مجموعی کیفیت ’دل کی آبادی کی خرابی کی حد‘ کو حد سے بڑھا ہوا دکھانے کے لیے آئی۔ یوں شعریتی حربہ تکمیل کو پہنچا۔

دھوکہ ہے تمام بحرِ دنیا/دیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہو گا (میرؔ)
دنیا کا بحر ہونا اور ہونٹ کا تر نہ ہو سکنا بتلا کر دنیا کو دھوکہ ثابت کیا گیا ہے۔ یعنی دنیا کے تین چوتھائی حصے کے بحر ہونے کو سرِ جہاں کے ضمن میں ہونٹ کے تر نہ ہونے کے متوازی دھوکہ کہا گیا ہے۔

میں نہ کہتا تھا کہ منہ کر دل کی اور/اب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا (میرؔ)
دل کو آئینہ کہہ کر اس کی طرف منہ نہ کرنا دکھا کر دل کا ٹوٹنا بتایا گیا ہے۔ کہ اگر دل کی طرف منہ ہو جاتا تو آئینہ نہ ٹوٹتا۔ دل کو آئینہ اور اس میں دیکھنے کے لیے کہنے سے شعریت پیدا ہوئی ہے۔ وگرنہ یہ مضمون عام سی بات ہے۔

حیرتِ آغاز و انتہا ہے/آئینے کے گھر میں اور کیا ہے (اقبالؔ)
ہر شے کو آئینہ کہہ کر اور اسی آئینے میں اسے دکھا کر اس شے کے آغاز و انتہا (کا اتا پتا نہ ہونے) پر حیرت دکھائی گئی ہے۔ ہر شے آئینہ ہے اور خود اس آئینے کے یعنی اپنے مقابل بھی۔ آئینہ در آئینہ، آئینہ بالمقابل آئینہ، شبیہی جہات کا ایک سلسلہ چلتا چلتا سرِ کائنات سے جا ملتا ہے۔ یہی شعریتی حربے کا مرکزہ ہے۔

ایک نثری نظم کی تین سطریں: ’’میں مشرق ہوں/میرے پاس فلسفے ہیں، مذاہب ہیں/کون مجھے سے ہوائی جہازوں کے بدلے میں یہ سب لے گا۔‘‘ (44)
یہاں تہذیبوں سے مخصوص جاندار علامتوں کے ذریعے تہذیبی تفاوت کو ایک فرد کی حسرت زدگی میں متشکل کرنے سے شعریت پیدا ہوئی ہے۔

ایک انگریزی نظم کی ابتدائی سطریں: (45)

Sleep, sleep, beauty bright,
Dreaming in the joys of night;
Sleep, sleep; in thy sleep
Little sorrows sit, and weep.

ایک غیرمرئی چیز کا جاندار کی طرح عمل۔

برائی میں ہماری گر وہ اپنا کچھ بھلا سمجھے/برا سمجھے برا سمجھے برا سمجھے برا سمجھے (ذوقؔ)
یہاں تکرار سے محبت اور خلوص کی انتہا پر زور دیا گیا ہے۔ اسی سے شعریت پیدا ہوئی ہے۔

ایک پنجابی لوک گیت کی دو سطریں: میں نہ جمدی ماہی وے/توں کیکر ویاہی دا ڈھولا
سلاست، سادگی، اور معنویتی تہوں کی پیچ داری کا غیرمتوقع امتزاج شعریت کا سبب بنا ہے۔

شعریتی حربے کی نوعیت کی گونا گونی کی ان گنت مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ بلکہ ایک لحاظ سے یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ ہر شعریتی حربہ اپنی کاملیت اور سالمیت میں یکتا ہوتا ہے۔ اسی کے انداز اور طریق پر اگرچہ مزید شعریتی حربے وضع ہو سکتے ہیں (اور ہوتے ہیں)، لیکن معنوی سطحوں پر یہ اپنی نظیر آپ ہوتا ہے۔ ایک ہی مضمون پر کہے جانے والے بہت سے اچھے اشعار کو اگر بہ غور دیکھا جائے تو ہر شعر میں موجود شعریتی حربہ بالعموم اپنی علاحدہ شناخت کا حامل ضرور ہو گا۔ اگر کچھ مثالوں میں اس طرح کی صورتِ حل نہ بھی پائی جائے تو بہرحال اسے سرقہ یا توارد کی ذیل میں ڈالا جا سکتا ہے۔
یہاں شعریتی حربے کی ایک ایسی نوع کا ذکر ضروری ہے، جو کہانی سے گڈ مڈ ہو جاتی ہے یا اسے شعوری طور پر کہانی کے ساتھ خلط ملط کیا جاتا ہے۔ اس نوع میں شعریت پیدا کرنے کے لیے کہانی کو حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ بات حربے کے تخصص سے طے ہوتی ہے کہ کہانی کا بیان کس طرح سے ہو۔ ایک مثال دیکھیے: ’’ہرن جنگل میں ہرنی کو اکیلا چھوڑ گیا/ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہرنی تھک گئی/ہرنی آم کے درخت کے تلے کھڑی ہے/کسی طرف سے شکاری آیا/ہرن کے بغیر ہرنی اکیلی ہے۔‘‘ (سری لنکا کا لوک گیت)

جانوروں اور بالخصوص ہرن ہرنی کے ساتھ ہمارے (انسانی) جذباتی لگاؤ کے تلازمے کو بیدار کرنے، کہانی کی ابتدائی کڑیوں کو بیان کرنے اور ناگزیر نتیجے کو ان کہا چھوڑ دینے سے شعریتی حربہ وضع ہوا ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ مقصد کہانی کہنا نہیں، بلکہ شعریت پیدا کرنا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ شاعری میں کہانی کی کوئی جگہ نہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ شاعری کہانی کہنے کا مقام نہیں۔ (46) اس طرح کہانی کو نقصان پہنچے یا نہ پہنچے، شاعری کو خسارہ ضرور اٹھانا پڑتا ہے۔ (47) دراصل شعریت آزادی میں پھلتی پھولتی ہے۔ ثانوی حیثیت پا کر یا ذریعہ بن کر یہ دب جاتی ہے یا منہدم و منتشر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ شعریت خود ایک منتہا و مقصد ہے۔ ہاں، کہانی میں شعریت پیدا کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ (48) لیکن شاعری، کہانی کو بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہر ہر شے کو بطور شعریتی حربہ کام میں لا سکتی ہے۔ موجود اور متخئیلہ تمام کی تمام کائناتیں شعریتی حربے کا مغز و مواد ہیں۔ باقی کا کام یعنی شعریتی حربے کی تشکیل شاعر کی اہلیت پر منحصر ہے۔

اوپر دی گئی مثالوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شعریتی حربوں میں صرف ایک چیز مشترک ہے۔ یہ ہے زبان کا غیرروایتی، غیرمروج، عام ڈگر سے ہٹا ہوا اور مختلف استعمال۔ ہر حربے میں زبان کو ایک نئی طرح سے کام میں لایا گیا ہے۔ جیسے صحرا مگر بہ تنگیٴ چشمِ حسود تھا، دل کی آبادی، بحرِدنیا، آئینے کے گھر میں، میں مشرق ہوں، چھوٹے چھوٹے دکھ، بیٹھتے ہیں اور روتے ہیں (ترجمہ)۔ یہی صورتِ حال شاعری کے معتد بہ حصے میں موجود دیکھی جا سکتی ہے۔ (49) ایسا کیوں ہے؟ کیا شعریتی حربہ اس انحراف کے بغیر تکمیل و تسلیم نہیں پا سکتاَ یا، کیا شعریت پیدا کرنے لیے یہ انحراف ناگزیر ہے؟ یا، کیا عام مستعمل و مروج زبان کی مدد سے شعریت یا نئی فکری سمت تخلیق نہیں ہو سکتی؟

ان سوالات کا جواب وضع کرنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ شاعری (یا شاعر) کا مقصود شعریت ہے یا فکر و خیال۔ یہ بات فیصل ہے، اور اوپر بھی اس کا ذکر آ چکا ہے، کہ شاعری کا جوہر شعریت ہے، یہی اس کی پہچان ہے، اور یہی چیز نثر سے شاعری کو ممتاز و متمیز کرتی ہے۔ (50) اور یہ شعریت ایک علاحدہ، یا مختلف، یا نئی فکری سمت ہے، جو شعریتی حربے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بات متنازعہ نہیں کہ شاعری کا اصل مقصود شعریت ہے، فکر و خیال نہیں۔ فکر و خیال کے لیے نثر اور اس کی اصناف مختص ہیں۔ نثر و نظم دونوں میں اگرچہ کوئی نہ کوئی فکر و خیال موجود ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ ’شعریت‘ یا ’نئی فکری سمت‘ ہی ہے جو نثر کو نظم سے جدا اور متمیز بناتی ہے۔ (51) تاہم، یہ مسئلہ غورطلب رہ جاتا ہے کہ کیا ’شعریت‘ فکر و خیال سے علاحدہ کوئی چیز ہے، یا یہ کہ کیا ’شعریت‘ فکر و خیال کے بغیر بھی وجود پا سکتی ہے۔

شعر الفاظ کا مترتب مجموعہ ہے اور الفاظ، فکر و خیال کے اظہار کا وسیلہ (52) (بھی اور مقصود بھی!)۔ اس طرح یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعریت فکر و خیال کے بغیر وجود نہیں پا سکتی۔ مزید وضاحت کے لیے یہ کہنا چاہیے کہ فی زماننا (یعنی موجودہ عہد میں رہتے ہوئے) فکر و خیال الفاظ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ (ایک نارمل فرد کے لیے) الفاظ خود فکر و خیال ہیں۔ لہٰذا، شعریت، الفاظ/فکر و خیال کے بغیر محال ہے۔

اس مسئلے کو، جس کی طرف اوپر بھی اشارہ آ چکا ہے، ایک اور پہلو سے بھی زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں مقدمے کی شکل یہ بنتی ہے: آیا شعریت پیدا کرنے کے عمل میں یا شعریت پیدا کرنے کے عمل سے (یعنی شعریتی حربے کے استعمال کی وجہ سے) ایک خاص طرح کی فکر سامنے آتی ہے۔ یا ایک خاص طرح کی فکر کے بیان کی وجہ سے شعریت پیدا ہوتی ہے (یعنی شعریتی حربہ صورت پذیر ہوا)۔ مراد یہ کہ کیا ایسی فکر کا وجود ثابت ہے جو بذاتہٖ شعریت سے مملو ہو، جہاں فکر اور شعریت کے درمیان میں سے شعریتی حربہ نفی ہو گیا ہو۔

ان مسائل کے بارے میں کوئی مصنوعہ نتیجہ بیان کرنے سے پہلے ہم اپنے ابتدائی سوال کی طرف واپس آتے ہیں۔ یعنی جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا شعریت فکر و خیال سے علاحدہ کوئی چیز ہے، تو اس مضمون میں اتنی وضاحت کافی ہو گی کہ شعریت فکر و خیال ہی کا ایک غیرمحسوس اور غیرمعلوم پہلو ہے، جب تک کہ یہ شعریتی حربے میں گرفت ہو کر یا شعریتی حربے میں متشکل یا تخلیق ہو کر محسوس و معلوم کا درجہ نہ پا جائے۔ اسی لیے اسے ایک نئی فکری سمت کا نام بھی دیا گیا ہے۔ نئی فکری سمت (یا شعریت) کوئی مطلق حقیقت نہیں۔ یہ ایک اضافی چیز ہے۔ عہد، زبان، فکری استعمالات، شاعری کی تاریخیت اور اس کا معاشرتی مقام، وغیرہ، جیسے عوامل اسے متعین کرتے ہیں۔ ان عوامل کے تغیر و تبدل سے اس کا وجود، اس کی معنویت، اور اہمیت متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عمل عہد بہ عہد غیرمحسوس طور پر وقوع پذیر ہوتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر آج اگر شاعری میں چہرے کو چاند کہا جائے تو چند سو سال پہلے اس حربے سے پیدا ہونے والی شعریت کی تخلیق کو پہنچنا ممکن نہیں ہو گا۔ تاہم، شعریتی حربے کی جامعیت اور بے کنار حربیت چاند اور چہرے کو اس طرح پرونے یا/اور بکھیرنے پر قادر ہے کہ شعریت کے اعلیٰ مقام کو گرفت یا تخلیق کر لیا جائے۔ اس وضاحت سے یہ نتیجہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ اصل چیز شعریتی حربہ ہے۔ یہی شعریت کو جنم دیتا ہے۔ اس کے بغیر شعریت نامعلوم رہتی ہے۔

یہاں لفظ ’گرفت‘ کا استعمال ژاں کوکتو کے اشارے سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی یہ کہ فکر و خیال (یا کیفیت) کو پکڑنا۔ اور ’تخلیق‘ کا لفظ ان معنوں میں کہ شعر میں وہ فکر و خیال بھی آ جائے جو گرفت کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ جیسا کہ ژاں کوکتو کا کہنا ہے کہ شاعر اپنا خیال لفظوں سے اخذ کرتا ہے۔ (53)

اب ہم متذکرہ صدر سوالات کی طرف آتے ہیں۔ کیا شعریت محض زبان کے غیرروایتی، غیرمروج، عام ڈگر سے ہٹے ہوئے اور مختلف استعمال سے ہی پیدا ہوتی ہے؟ کیا شعریتی حربہ اس انحراف کے بغیر تکمیل و تسلیم نہیں پا سکتا؟ یا کیا عام مستعمل اور مروج زبان کی مدد سے شعریت یا نئی فکری سمت تخلیق نہیں ہو سکتی؟ نئی فکری سمت یا شعریت پیدا کرنے کے لیے اگر کوئی عام اصول وضع کیا جا سکتا ہے تو وہ یہی ہو سکتا ہے کہ شعریتی حربے کی حربیت کو محدود و معین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نامعلوم و غیرمعین ہے۔ اور اس ضمن میں جہاں تک زبان کے استعمال کا تعلق ہے، شعریتی حربہ زبان کو کسی بھی طرح استعمال کر سکنے میں آزاد و خودمختار ہے۔ (54) یہ زبان کو روایتی اور غیرروایتی، مروج و غیرمروج، ہر طور سے کام میں لا سکتا ہے۔ (55) مراد یہ کہ شعریتی حربہ زبان کے روایتی، یا مروج، یا عام استعمال سے بھی شعریت یا نئی فکری سمت تخلیق کر سکتا ہے۔ (56) اوپر دی گئی مثالوں میں زبان کا اس انداز میں استعمال بھی موجود ہے۔ جیسے: جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار؛ آگ بجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر/کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں؛ جانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا؛ دیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہو گا؛ میں نہ کہتا تھا کہ منہ کر دل کی اور/اب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا؛ حیرتِ آغاز و انتہا ہے؛ میرے پاس فلسفے ہیں، مذاہب ہیں/کون مجھ سے ہوائی جہازوں کے بدلے میں یہ سب لے گا؛ برائی میں ہماری گر وہ اپنا کچھ بھلا سمجھے/برا سمجھے، برا سمجھے، برا سمجھے، برا سمجھے؛ میں نہ جمدی ماہی وے/توں کیکر ویاہی دا ڈھولا۔

علاوہ ازیں، ایک مکمل شعریتی حربے میں زبان کے مختلف استعمالات کو بھی کام میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے شعریتی حربے بھی موجود ہیں، جن میں زبان کا غیرروایتی یا غیرمروج، (وغیرہ) استعمال ہی حربے کی تکمیل کے لیے کافی ہوتا ہے، اور ایسے بھی جہاں روایتی و مروج استعمال ہی کام دے جاتا ہے۔ (پھر یہ بھی کہ دونوں مصرعوں کو ملانے سے بھی زبان کے استعمال کی شناخت بدل سکتی ہے یا بدل جاتی ہے۔) مزید برآں یہ کہ شعریتی حربہ کئی صورتوں میں ایک مصرعے میں ہی مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ دوسرا مصرع اس کی وضاحتی یا اضافی یا معنوی تکمیل کا کام انجام دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ مثلاً قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو/خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔ دوسرے مصرعے میں مکمل شعریتی حربہ موجود ہے۔ پہلا مصرع اس کی اضافی معنوی تکمیل کرنے کے لیے ہے۔ یا، کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے/غبارِ قیس خود اٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہے۔ یہاں بھی پہلا مصرع دوسرے کی اضافی معنوی تکمیل کرتا ہے۔ یا، میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا/بگولہ رقص میں رہتا ہے صحرا میں نہیں رہتا۔ اس شعر میں بھی دوسرا مصرع اپنی جگہ مکمل شعریتی حربہ ہے۔

ان چند مثالوں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ شعریتی حربہ کئی پرتوں اور تہوں کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہ سادہ بھی ہو سکتا ہے اور پیچیدہ بھی۔ اسی طرح ایک مصرعے یا شعر میں متعدد شعریتی حربوں کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ دریں صورت، شعر کی معنوی جہتوں میں اگرچہ اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم، شعریتی حربے کی وحدت و سالمیت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جیسے کہ جدید اور معاصر شاعری میں شعریتی حربہ وحدت اور سالمیت سے عاری نظر آتا ہے۔ صرف کوئی اچھی شبیہ، کوئی تازہ یا نئی ترکیب، کوئی نئی تشبیہ یا استعارہ یا کوئی اچھا مصرع یا شعر نظر آ جاتا ہے جبکہ شاعری تخلیق نہیں ہو پاتی۔ (57) (اور المیہ تو یہ ہے کہ ہم ہیں کہ اسی پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ بلکہ اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔ باایں سبب اعلیٰ شاعری کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔) کلاسیکی شاعری بلکہ شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت (اور عظمت بھی) شعریتی حربے کی وحدت و سالمیت ہی میں مضمر ہے۔

شعریت کا خالق، شعریتی حربہ عدم یا خلا میں وجود میں نہیں رکھتا۔ یہ ایک موجود، اس سے مربوط متصورہ تناظر میں شعریتی حربہ بنتا ہے۔ اس کی حربیت اور تخلیق، یعنی شعریت، اسی تناظر میں حیات آشنا ہوتی اور زندہ رہتی ہیں۔ شعریتی حربہ اسی تناظر میں سانس لیتا اور پھلتا پھولتا ہے۔ یہ تناظر شعر و ادب، علوم و فنون، فطرت اور انسانی تہذیب سے تشکیل پاتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعریتی تناظر جتنا ہمہ گیر اور آفاقی ہو گا، شعریتی حربہ اتنا ہی غیرزمینی (58)، آفاقی اور انسانی ہوتا جائے گا۔ اور یہ تناظر اس وقت ہمہ گیر اور آفاقی بن جاتا ہے، جب شعریتی حربے کے ’’آلات‘‘ آفاقی اور انسانی سطح کو پہنچ چکے ہوں۔

شعریتی تناظر سے کٹ کر شاعری اپنے جوہر یعنی شعریت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ اس طرح شعریتی حربہ بے جان اور پھسپھسا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہماری جدید اور معاصر شاعری کا معتد بہ حصہ اسی صورتِ حال کا شکار ہے۔ شعریتی تناظر ہی کی وجہ سے ’’اجنبی‘‘ زمینوں اور ملکوں کی شاعری کا اچھا ذوق پیدا ہونا ایک نہایت مشکل امر ہے، اور اسی لیے شاعری کے تراجم بھی محض تراجم ہی رہتے ہیں۔ فطری ودیعت سے محرومی اور دماغ سوزی کی غیرموجودگی سے بھی یہی نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ شعریتی حربہ ایک ڈھانچے اور انجر پنجر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ساری باتیں دراصل شاعری کی طرف شاعر، نقاد، اور طالبِ شعر کے رویے سے متعین ہوتی ہیں۔ کیا وہ شاعری کو سنجیدگی سے ایک علم و فن کی حیثیت دیتے ہیں یا نہیں، ایک ایسا علم و فن جسے محنت سے پڑھا، جانا، سمجھا اور حاصل کیا جائے۔ یا اگر شاعر محض یہ سمجھتا ہے کہ مختلف طرح کے شعریتی حربوں پر دسترس پا لینے سے اچھی شاعری تخلیق کر لے گا۔ یا اگر اس کے پاس کوئی مضمون و مواد نہیں ہے، یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے، اور وہ محض ’’فن‘‘ پر گزارہ کرنا چاہتا ہے، یا وہ شاعری کے لیے شعریتی حربے کی ’تکنیک‘ پر عبور کو کافی سمجھتا ہے، تو اس صورت میں وہ شاعری کا حق ادا نہیں کر سکے گا۔ اس طرح شاعری تو وجود میں آ جائے گی، لیکن شعریت نہیں۔ (59)

شاعری کی ماہیت کے بارے میں نظری و معروضی نقطہٴ نظر وضع کر لینے کے بعد شاعری کے بارے میں دوسرا اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاعری کی بنیادی اکائی کیا ہے۔ کیا یہ شعر ہے، یا ایک مصرع، یا کچھ اور۔ جہاں تک شعر یا مصرعے کا تعلق ہے تو یہ تو خود شعریت کے مظہر ہیں۔ اور جیسا کہ اوپر بھی ذکر آ چکا ہے کہ شعریتی حربہ بسا اوقات دو مصرعوں یعنی ایک شعر میں تکمیل پاتا ہے، اور کبھی ایک مصرعے میں۔ یوں ہم ایک شعر یا ایک مصرعے کو اکائی کا درجہ نہیں دے سکتے۔ یا اگر ہم نظم اور نثری شاعری کو بھی پیشِ نظر رکھیں تو ایک سطر یا ایک لائن کو بنیادی اکائی قرار دینا بھی مسئلے کو الجھا دیتا ہے۔ کہیں ایک مصرعے میں، یا ایک شعر میں، یا نظم کی ایک لائن میں شعریتی حربہ مکمل ہوتا ہے اور کہیں نہیں۔ ان پیچیدگیوں کے مدِ نظر شاعری کی بنیادی اکائی کے لیے ایک ایسی جامع اور مانع تعریف وضع کرنا ضروری ہے جس کی بنیاد پر مختلف شعری اصناف کے وجود و جواز سے بھی انصاف ممکن ہو سکے۔ ایسی تعریف شعر یا مصرعے یا سطر یا لائن سے قطع نظر کر کے ہی تشکیل دی جا سکتی ہے۔ یا یہ کہ شعر، یا مصرعے، یا سطر، یا لائن کی جگہ ہم الفاظ کا مجموعہ کہہ لیں تو یہ مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ اس طرح شاعری کی بنیادی اکائی الفاظ کا ایک ایسا مجموعہ قرار پاتا ہے جن میں شعریتی حربے کی تکمیل ہو جائے۔

یہ تعریف نہ صرف شعر، مصرعے، اور نظم کی تفہیم میں مدد دیتی ہے، بلکہ مختلف شعری اصناف کے جواز کو بھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کی رو سے شعریتی حربے کی تکمیل اصل چیز ہے، چاہے یہ ایک مصرعے میں ہو، چاہے ایک شعر میں، یا چاہے ایک نظم میں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر شعریتی حربہ ایک مصرعے، یا ایک سطر، یا ایک لائن میں تکمیل نہ پائے تو پھر شعر کا اور اگر شعر میں بھی تکمیل نہ پائے تو پھر نظم کا جواز پیدا ہو جاتا ہے، اور غزل میں قطعے کا۔ یہ نظم، غزلِ مسلسل، قطعے، رباعی، آزاد نظم، معریٰ نظم، یا نثری نظم، وغیرہ، کسی بھی صورت میں وجود آشنا ہو سکتا ہے۔ اسی بات کو باالفاظِ دیگر یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک مصرعے یا شعر میں، شعریتی حربہ (اور اس طرح شعریت بھی) اپنی مرتکز (یا فشاری یا فشار زدہ) صورت میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس میں شعریتی حربہ زیادہ کامیاب اور شعریت زیادہ دستیاب ہوتی ہے۔ جبکہ ایک نظم میں شعریتی حربہ پھیلاؤ پا لینے کی وجہ سے کسی حد تک کمزور پڑ جاتا ہے۔ تاہم، ایک کامیاب نظم ایسے شعریتی حربے پر مشتمل ہوتی ہے جسے ایک مصرے یا ایک شعر میں بیان نہ کیا جا سکے۔ اس کی یکتائیت اسی میں پوشیدہ ہے۔ مزید یہ کہ نظم کی طوالت یا اختصار بھی اسی معیار سے طے ہوتا ہے کہ شعریتی حربہ کتنے الفاظ اور کتنی سطروں میں مکمل ہوتا ہے۔

بطور مثال ایک معاصر یورپی شاعر کی نظم دیکھیے۔ اس کا عنوان ہے ’دا ڈور‘:

“Go and open the door,
Even if there’s only the darkness ticking,
Even if there’s only hollow wind,
Even if nothing is there,
Go and open the door
At least there’ll be a draught.” (60)

یہ نظم اپنے نظم ہونے کا مکمل جواز ہے۔ اس میں موجود شعریتی حربہ اپنی وحدت اور سالمیت کی ایک نمائندہ مثال بھی ہے، اور شعریت پیدا کرنے میں کامیاب بھی۔

اس مرحلے پر ضروری ہے کہ نثری شاعری اور نظم کے جواز کو بھی پرکھ لیا جائے۔ یہاں بھی شاعری کے بارے میں متذکرہٴ بالا نظری و معروضی نقطہٴ نظر سے رجوع لانے سے پہلے صورت یہی بنتی ہے کہ اگر شعریتی حربہ وزن یا/اور بحر یا/اور قافیہ و ردیف میں نہ سمائے، یا ان میں سے کوئی بھی قید سہار نہ سکے تو اسے بالنثر بیان کرنے میں کوئی حرج یا پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مقصود تو شعریتی حربے کو گرفت کرنا اور بیان کرنا ہے۔ وزن، بحر، قافیہ، ردیف، وغیرہ، ترصیعات اور تسجیعات ہیں۔ اگر شعریتی حربہ اپنی نرول اور خالص شکل میں بیان ہو کر بھی شعریتی حربہ ہی رہتا ہے تو اس میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ (61)

ممکنہ طور پر یہی وجوہات ہوں گی جن کے پیشِ نظر ’’نثری شاعری‘‘ کے امکان کو کبھی بھی کلیتاً رد نہیں کیا گیا۔ مسعود حسن رضوی ادیب جیسے نقاد بھی یہ ’’گنجائش‘‘ رکھتے تھے: ’’شعر کی منطقی اور عروضی تعریفوں کا انداز خود بتاتا ہے کہ منطق نے نفسِ شعر سے بحث کی ہے اور عروض نے صورتِ شعر سے۔ لہٰذا، جو کلام شعر کی منطقی تعریف پر ٹھیک اترے مگر عروضی تعریف کے مطابق نہ ہو اس پر شعر کا اطلاق اس کلام سے زیادہ صحیح ہے جو شعر کی عروضی تعریف پر ٹھیک اترے، مگر منطقی تعریف کے مطابق نہ ہو، یعنی موزوں اور بے اثر کلام کے مقابلے میں ناموزوں اور بااثر کلام کو شعر کہنا زیادہ صحیح ہے مگر کامل شعر وہی ہے جس میں موزونیت بھی ہے اور اثر بھی۔‘‘ (62)

آگے چل کر وہ موزونیت کو کلام میں اثر پیدا کرنے کا ایک آلہ قرار دے دیتے ہیں: ’’موزونیت بھی کلام میں اثر پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے، اس لیے شعر کی تعریف صرف اتنی ہی کافی تھی کہ بااثر کلام کو شعر کہتے ہیں اور موزونیت کا ذکر ان چیزوں کے سلسلے میں کیا جا سکتا تھا جن پر شعر کے اثر کا انحصار ہے۔ مگر چونکہ موزونیت شعر کی ایک نہایت نمایاں خصوصیت ہے یہاں تک کہ اہلِ عروض شعر کے لیے صرف اسی صنعت کو کافی سمجھتے ہیں اور ایسے ہر کلام کو جس میں موزونیت ہو شعر کہتے ہیں۔ اس لیے یہی مناسب معلوم ہوا کہ شعر کے لیے موزونیت لازم کر دی جائے، اور شعر کی تعریف میں اس کا ذکر صراحتاً کر دیا جائے۔‘‘ (63)

حقیقتِ حال اور دلیل جو کچھ ثابت کرتی ہے اسے استناد مسترد نہیں کر سکتا۔ اس طرح مسعود حسن رضوی ادیب کی تعریف کے مطابق ’’بااثر کلام‘‘ کو ہی شعر کہا جانا چاہیے۔

جدید نقادوں میں سید عابد علی عابد کے ہاں نثری شاعری کے امکان کا اشارہ ملتا ہے۔ اگرچہ وہ اس امکان تک ایک بالکل مختلف سمت سے پہنچتے ہیں اور بہت سرسری انداز میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔ تاہم، انھوں نے اسے رد نہیں کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ہمارے ہاں اب جو صفاتِ ادبی بہت مقبول معلوم ہوتی ہیں وہ ترنم، آہنگ، اور ’’نغمگی‘‘ ہیں۔ نئے شاعر بھی اپنے کلام میں وزن کی بجائے ایک اندرونی آہنگ پر اعتماد کرتے ہیں۔‘‘ (64)

بلکہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ نئے شاعروں نے اپنے کلام میں یہ ’’اندرونی آہنگ‘‘ پیدا کر لیا ہے: ’’نئی نسل نے بھی اپنے اشعار کے اندرونی آہنگ سے ایک وزن اور ایک نغمہ پیدا کیا ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر ترنم اور نغمے کے مسائل بہت متنازعہ فیہ ہیں کہ نئی نسل کے آہنگ اور وزن کو سمجھنے کے بعد ہی ہم دراصل ترنم اور نغمے کے صحیح معانی متعین کر سکتے ہیں۔‘‘ (65)

اس بحث کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نثری شاعری کو محض اس وجہ سے مسترد اور نامقبول نہیں کیا جانا چاہیے کہ یہ وزن، بحر اور قافیہ و ردیف سے عاری ہے۔ یہ ایک معتقدانہ اور غیرعقلی و غیرمعروضی رویہ ہو گا۔ تاہم، نثری شاعری کی بے لاگ پرکھ ضروری ہے۔ مزید یہ کہ نثری شاعری کے لیے یہ جواز کافی نہیں کہ کچھ ’’موضوعات‘‘ ایسے ہیں جنھیں اوزان و بحور میں قافیے اور ردیف کے ساتھ گرفت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو ایک عذرِ لنگ ہے۔ دیکھنے والی چیز تو یہ ہے کہ شاعر شعریتی حربہ تخلیق کرنے پر قادر ہے یا نہیں۔ کیا وہ شعریتی حربے کی وحدت و سالمیت برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔ اگر اس کا جواب ’نہیں‘ میں ہے تو اوزان و بحور بیکار ہو کر رہ جائیں گے۔ اور اگر اس کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو اوزان و بحور کی حیثیت ثانوی ہو جائے گی۔ مقدم ہر حال میں شعریتی حربہ ہو گا۔ پھر کیوں نہ شعریتی حربے کو ہی مطمحٴ نظر بنایا جائے۔ اور اسی معیار پر شاعری کو پرکھا جائے۔

جہاں تک ’’موضوعات‘‘ کے وزن و بحر اور قافیے و ردیف میں نہ سما سکنے کا تعلق ہے تو اس سے پہلے کہ کوئی حتمی رائے دی جائے، ضروری ہے کہ اس مسئلے پر بھی غور کر لیا جائے کہ شاعری کا موضوع (یا نفسِ مضمون) کیا ہے۔ ایک سرسری نظرِ تصور سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شاعری کے موضوع و مواد کی کوئی حد نہیں۔ موجود و غیرموجود سب شاعری کا نفسِ مضمون بن سکتا ہے۔ باالفاظِ دیگر یہ کہ شاعری کی حدیں دراصل اس کے ’’طریق‘‘ سے طے ہوتی ہیں۔ اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تنہا شعریت ہی شاعری کا نفسِ مضمون ہے، اس کے لیے مغز و مواد جیسا بھی اور جہاں سے بھی حاصل کر لیا جائے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ’موجود و غیرموجود سب‘ یا یہ کہ جو کچھ اب تک کامیاب شاعری کا موضوع بن چکا ہے، اس کے علاوہ جو کچھ باقی ہے، وہ سب شاعری کا موضوع بن سکتا ہے یا نہیں۔ بالعموم اس کا جواب یہی بنتا ہے کہ نہیں۔ لیکن اسے قاعدے قانون کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقتاً ہوتا یہ ہے کہ شاعری میں کام آ جانے والے موضوعات ہی شاعری کے عام موضوعات بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جن موضوعات سے کام لے لیا گیا ہوتا ہے، وہ شعریتی تناظر اور شعریتی حربے کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انھیں ’’شاعرانہ‘‘ موضوعات کہا جانے لگتا ہے۔ جیسے خام مٹی کے مقابلے میں چُنی اور گُندھی ہوئی مٹی کو کسی شکل میں ڈھالنا بہرحال ایک آسان عمل ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی باور کر لیا جاتا ہے کہ ابھی تک کام میں نہ لائے جانے والے اور ’’غیرشاعرانہ‘‘ موضوعات بالعموم شاعری کا موضوع نہیں، یا موضوع نہیں بن سکتے۔ لہٰذا، یہ مسئلہ کہ شاعری کے موضوعات کیا ہیں، یا کیا ہونے چاہییں، موضوعاتی تعصب، تلازماتی مانوسیت اور استنادی شہادتوں سے حل ہونے کے قابل نہیں۔ اس کا واحد حل شعریتی معیار ہی ہو سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ شاعری کا موضوع یا شاعری کے لیے موضوع دراصل مٹی کی طرح ہی ہے۔ یہ اس وقت تک مٹی ہے جب تک چاک پر چڑھ کر اس کی کوئی شکل نہ بن جائے۔ مراد یہ کہ اصل چیز تو شعریت یا وہ ہیئت ہے جسے شعریتی حربہ، موضوع کے مواد سے وجود میں لاتا ہے۔ اور یہ شعریتی ہیئت خیال اور حربے میں منفرد طور پر ایک غیرمحسوس ربط پیدا کرتی ہے جو ایک نئی فکری سمت کو جنم دیتا ہے۔ (66)

یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کر دینا ضروری ہے۔ خیال اور حربے کا غیرمحسوس اور ناقابلِ تقسیم ربط جو نتیجتاً ایک نئی فکری سمت کی وحدت کو جنم دیتا ہے، لازمی طور پر ایک انفرادی مثال میں ہی وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ انفرادی مثالوں سے علاحدہ عمومی و مجموعی طور پر خیال اور حربہ اپنا آزاد وجود رکھتے ہیں۔ مراد یہ کہ خیال اور حربہ کوئی ناقابلِ تقسیم اکائی نہیں۔ ہاں، ایک انفرادی مثال میں (یعنی کامل اور سالم شعریتی حربے میں) خیال اور حربہ اس طرح مُدغم ہو سکتے ہیں کہ قابلِ تقسیم نہ رہیں۔ لیکن حربہ اپنا ایک عمومی تصور بھی رکھتا ہے۔ مطلب یہ کہ حربہ محض خیال کی دین نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ خیال حربے کی دین ہوتا ہے۔ یہی چیز ہے جو شعریتی حربے کو نہ صرف معروضیت کے درجے تک پہنچاتی ہے، بلکہ ایک کامل اور سالم شعریتی حربے کو یکتا بھی بناتی ہے۔ تاہم، اس سے یہ مفہوم قطعاً اخذ نہ جائے کہ شعریتی حربہ کسی افلاطونی عین کی مانند مستقل بالذات، ازلی اور غیرفانی ہے۔ اور انفرادی مثالوں میں ظہور پاتا ہے۔ صورت اس کے برعکس ہے۔ شعریتی حربہ اگرچہ انفرادی مثالوں میں ہی وجود پذیر ہوتا ہے، لیکن جب خیال حربے میں ڈھل کر اور (نتیجتاً حربہ خیال میں متشکل ہو کر) ایک نئی فکری سمت کی وحدت اخیتار کرتا ہے تو حربے اور خیال کو جدا کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ درحقیقت جو چیز جدا ہونے کے قابل معلوم ہوتی ہے وہ شعریتی حربے کی ہیئت ہوتی ہے، حربہ تو خود خیال میں متشکل ہو گیا ہوتا ہے، اور خیال حربے میں ڈھل گیا ہوتا ہے۔ تاہم، اس طرح جو ایک نئی چیز یعنی کامل اور سالم شعریتی حربہ تخلیق ہوا ہوتا ہے، وہ ایک نئی شعریتی ہیئت کو بھی وجود میں لاتا ہے۔ اور یہ نئی چیز یعنی شعریتی ہیئت ہی حربے کے عمومی تصورات کو اجاگر کرنے کا سبب بنتی ہے۔

مراد یہ کہ شعریتی حربے اور شعریتی مواد کے ایک دوسرے میں ناقابلِ تحلیل طور پر مرکب ہو جانے کی صورت میں ایک نئی فکری سمت یا شعریت کے ساتھ ساتھ ایک نئی شعریتی ہیئت بھی سامنے آتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگرچہ دوسرے علوم و فنون میں بھی نئی فکری سمتیں دریافت ہوتی رہتی ہیں، جیسے کہ فلسفہ، مصوری، مجسمہ سازی، تعمیر، موسیقی، وغیرہ۔ لیکن چونکہ ان کا مغز و مواد بلکہ ’’طریق‘‘ بھی مختلف ہوتا ہے، لہٰذا، شاعری کے ذیل میں نئی فکری سمت، شعریت کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے، اور شعریت کا وجود شعریتی حربے کے بغیر ممکن نہیں۔ اس طرح، اگرچہ یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ نئی فکری سمت بھی نئی شعریتی ہیئت کو جنم دیتی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ شعریت دراصل ہیئت ہی ہوتی ہے۔ یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن/قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن (اقبالؔ) میں قاری کے قرآن میں مقلب ہو جانے سے نہ صرف ایک نئی فکری سمت یعنی شعریت حاصل ہوتی ہے، بلکہ شعریتی ہیئت خود شعریت کا بدل بن کر سامنے آتی ہے۔

یا جیسا کہ بلھے شاہ کی سطر ہے: رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی۔ یہاں بھی وہی صورت موجود ہے کہ خیال اور حربہ باہم پیوست ہو کر ایک نئی فکری سمت یعنی شعریت کو جنم دیتے ہیں۔ یہاں حربے کو خیال سے علاحدہ کرنا ممکن نہیں۔ مثلاً اگر ’میں‘ یعنی ہیر کو ’ا‘ اور ’رانجھا‘ کو ’ب‘ سے پہچانا جائے تو ’حربے‘ کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے ’ا‘ کو ’ب‘ سمجھ لیا جائے۔ مزید برآں یہ کہ اب اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ ’ا‘ اور ’ب‘ کی جگہ کوئی سی دو اشیا کو رکھ دینے سے بھی شعریت پیدا ہونی چاہیے۔ لیکن یہ عیاں ہے کہ جو شعریتی حربہ اور جو شعریت اس مخصوص سطر میں مخصوص الفاظ کی ترتیب سے پیدا ہوئی ہے، اس کا کسی بھی دوسری صورت میں پیدا ہونا ناممکن ہو گا۔ (یا شعر کو ایک بالکل مختلف اقلیم میں منتقل کرنا ہو گا، جیسا کہ اقبال کے شعر کی نوعیت سے ظاہر ہے۔) کیونکہ ہیر اور رانجھا کے ساتھ جو رومانی، جذباتی، ثقافتی، تہذیبی، لسانی، (وغیرہم) تلازمات وابستہ ہیں وہ کسی بھی دوسری شے یا دو اشیا کے ساتھ وابستہ ہونا ممکن نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی شعر میں استعمال کی گئی دو اشیا کے مابین پیدا کیے گئے تعلق کو مثلاً ’ا‘ اور ’ب‘ میں اخذ نہیں کیا جا سکتا، اور اگر یہ شرط عائد کر دی جائے ’ا‘ اور ’ب‘ ہیر اور رانجھا کے متذکرہ تلازمات کے حامل ہوں، تو بھی ایسی دو اشیا ناممکن الحصول ہوں گی۔ علاوہ ازیں، ہیر اور رانجھا کے مابین قائم کیے گئے باہمی روابط ایک ہیئت کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔ موجودہ مثال میں شعریتی ارکان، ہیر اور رانجھا میں ایک ایسا ربط دکھایا گیا ہے جو ہیر کو رانجھے کی حیثیت دے دیتا ہے اور یوں ایک ایسی ہیئت کا ہیولا نظر آتا ہے، جس میں ہیر جیسی کسی شے اور رانجھا جیسی کسی شے میں ایسا ربط قائم کر دیا جائے، جو ہیر جیسی شے کو رانجھا جیسی شے میں بدل ڈالے۔

یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ متذکرہ مثال میں ’رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی‘ کہنے سے حقیقتاً کیا مراد ہے۔ آیا یہ کہنا مقصود بھی ہے یا نہیں کہ ہیر حقیقت میں رانجھا ہے۔ یا محض حربے کے طور پر یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ اس مسئلے کو چھیڑنے کا مطلب شعر کی تشریح قطعاً نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد شعریتی حربے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نئی فکری سمت یا شعریت کے مقام کا تعین ہے۔

فرض کیجیے کہ اس مصرعے ’رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی‘ میں یہ بات محض حربے کے طور پر ہی کہی گئی ہے۔ لیکن یہ استفسار کیا جا سکتا ہے کہ حربے کا مقصود کیا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ حربے کا مقصود بلاشبہ شعریت ہے، اور شعریت ایک نئی فکری سمت کا نام ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ شعریت یا نئی فکری سمت کس چیز پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کا جواب اگرچہ یہی بنتا ہے کہ شعریت یا نئی فکری سمت، خیال اور حربے کے مرکب پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شعریت یا نئی فکری سمت خیال اور حربے کے مرکب کے علاوہ کسی نہ کسی شعریتی صداقت یا اس کے انکشاف پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔ شعریتی صداقت اور اس کے انکشاف کو یہاں اس لیے علاحدہ علاحدہ بیان کیا گیا ہے کیونکہ پہلے سے معلوم شعریتی صداقت یا پھر پہلے سے معلوم عمومی صداقت شعری قالب میں آ کر شعریت سے مملو ہو سکتی ہے ۔ جبکہ کسی نئی شعریتی صداقت کا محض انکشاف ہی شعریت کا بدل بھی بن سکتا ہے۔

اوپر اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ شعریت بالکل ایک نئی تخلیق ہوتی ہے، اور اگر اسے نئی تخلیق کا درجہ نہ دیا جائے، تو یہ فعل شاعری کو اس کے مقام سے گرا دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ شاعری (یعنی شعریت) کو ایک علم کے طور پر بھی سنجیدگی سے پڑھا اور سمجھا جائے، محض فن کے طور پر نہیں۔ باالفاظِ دیگر یہ کہ اسے صرف ’’تفریحِ طبع‘‘ کا ذریعہ ہی نہ جانا جائے بلکہ علم کا منبع بھی مانا جائے۔ اس لیے کہ شعریت ایک نئی تخلیق ہوتے ہوئے ایک نئی صداقت بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی‘ کی سطر شعریتی حربہ بنتی ہی اس وقت ہے جب اسے کہنے کہ بات نہیں، بلکہ ایک صداقت کے طور پر مانا اور تسلیم کیا جائے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر شعریتی حربہ ایک نئی صداقت کو تخلیق کرتا ہے، جو اس کے ایک جزوِ لازم کی حیثیت سے شعریت کی تخلیق کے عمل میں شمولیت اخیتار کرتی ہے۔ اسے ہم شعریتی صداقت سے موسوم کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ شعریتی صداقت کے قابلِ قبول یا مقبول ہونے کا تدرج ہی ہے، جو شعریت کے اعلیٰ اور کم تر ہونے کے پیمانے کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

دوسرا حصہ: شعریت سے متعلق اردو شذرات

یہ شذرات ایک طویل سوچ کا نتیجہ ہیں، اور مختلف اوقات میں 1992 کے اواخر تک لکھے جاتے رہے۔

۔ میرا اصرار یہ ہے کہ شاعری کا مطالعہ اور اس کی توجیہہ و تفسیر ایک آزاد اور خودمختار (ایک مناسب اور معقول حد کے اندر رہتے ہوئے) ’علم‘ کے طور پر ہونا چاہیے۔ شاعری اب شاعری تک رہنے کی پوزیشن میں نہیں رہی، بلکہ اس بات کی متقاضی ہے اسے ’’شاعریات‘‘ یا ’’شعریات‘‘ (Poetics) کا درجہ دیا جائے۔

ارسطو نے لفظ ’Poetics‘ ہی استعمال کیا تھا، لیکن جو لفظ مروج اور مستعمل ہے، وہ ’Poetry‘ ہے۔ یہ دونوں چیزیں لفظ کی حد تک نہیں، بلکہ یہ مفہوم پر بھی حاوی ہیں، اسی لیے یہ بات قابلِ غور ہے۔

– موسیقی اور ریاضی میں ایک جاندار اور لازمی تعلق ہے۔ لیکن موسیقی اور شاعری کا تعلق اس تعلق سے زیادہ جاندار ہے اور اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ انتہائی باریکیوں اور پیچیدگیوں کا حامل ہے۔ لیکن یہ بات جب تک درست تھی جب تک کہ ’پابند‘ شاعری کی جاتی تھی (میں اپنے وژن کو قریباً اردو شاعری ہی تک رکھ کر نتائج اخذ کر رہا ہوں)۔ پابند شاعری سے میری مراد ہے قافیہ اور ردیف کی سخت پابندی میں کی جانے والی شاعری، جیسا کہ اردو کے اساتذہ شعرا کی شاعری ہے۔ اس کے بعد ایک پیش رفت ہوتی ہے۔ یہ پیش رفت ہے آزاد نظم اور نظمِ معریٰ کی طرف۔ شاعری کی یہ جست پابند شاعری (بالخصوص قافیے اور ردیف کی پابندی) سے آزادی کی طرف ایک اہم جست تھی، جو اپنے اندر انقلابی تبدیلیوں کے جراثیم رکھتی تھی۔ یہ پیش رفت اصل میں موسیقی سے شاعری کے تعلق کو کمزور کرنے کی طرف ایک قدم تھا۔ یہ اس معنی میں کہ قافیہ اور ردیف اور دوسری باریک فنی پابندیوں سے آزادی اختیار کی گئی (گو کہ دوسری باریک اور بوجھل فنی پابندیوں سے آزادی مختلف معنوں میں حاصل کی جاتی رہی ہے)۔ لہٰذا، موسیقی سے بھی فاصلہ بڑھا۔ اب آگے چل کر ایک انقلابی تبدیلی اور واقع ہوتی ہے، جو شاعری کو موسیقی کے ساتھ متعلق رکھنے والے تعلق سے بالکل آزاد کروا دیتی ہے۔ یہی وہ انقلابی تبدیلی ہے، جس نے شاعری کو ’’شعریات‘‘ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسے ایک آزاد اور خودمختار مقام عطا کیا ہے۔ یعنی یہ کہ اس کا مطالعہ اور توجیہہ و تفسیر ایک آزاد ’علم‘ کے طور پر ہو (اور یہ انسان کی تاریخِ ذات (Self-history) کو منکشف کرنے میں انتہائی مددگار ہو سکتی ہے۔ انسانی تاریخِ ذات کی پیچیدگیوں، اڑانوں، الجھنوں، وغیرہ، تک اس کی رسائی سب (علوم و فنون) سے بڑھ کر ہے (خاص کر فنونِ لطیفہ میں سے)۔ اس ضمن میں اس کا تجزیہ زیادہ بھرپور اور رہنمایانہ ہو سکتا ہے کہ اس کا مواد خارج میں اپنی ایک آزاد حیثیت رکھتا ہے، مثلاً کوئی بھی نظم۔ میرے اصرار اور نقطہٴ نظر کی حمایت میں یہ ’توجیہہ‘ بذاتِ خود ایک دلیل ہے۔

۔ اردو شاعری میں کیف و رنگِ زندگی کا سرچشمہ، یعنی جس چیز سے زندگی زندگی بنتی ہے یا اس میں کیف و رنگ پیدا ہوتا ہے، یعنی اس وقت کے اہلِ فکر کے خیال میں، عورت کا سراپا ہے۔

اس فلسفے میں عورت کا سراپا اور کائنات کی کنہ دونوں کو علاحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اور یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ کس کا انطباق کس پر کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے شعرا نے یعنی کلاسیکی شعرا نے دونوں کے مابین مماثلت اور مشابہت (ہے بھی یا نہیں، اور اگر ہے تو کیا ہے) کیسے اور کیونکر تلاش کی، اور کیوں کر پائی، اور کیوں۔

۔ شاعری کے بارے میں تمام مباحث، جو شاعری کی تعریف سے متعلق ہوتے ہیں، مجموعی طور پر شاعری کے ’موضوع‘ تک پہنچ کر رک جاتے ہیں۔ اور یہیں سے تعریفیں وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ شاعری کا موضوع (Subject-matter) کچھ بھی ہو سکتا ہے، جو چیز شاعری کو شاعری بناتی ہے، وہ اس کی ’Form‘ ہے۔ اس کا ’معروض‘ ہے۔ اور اسی سے ’تنقید‘ کو بحث کرنی چاہیے۔ موضوع نزاعیہ مسئلہ نہیں ہو سکتا۔
اور اگر کسی کو اس بات سے بھی اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کم از کم اردو شاعری کے ارتقا اور تاریخ سے بھی ناواقف ہے۔

اس ضمن میں نیاز فتح پوری کا نظریہٴ شاعری، جو صحتِ زبان پر زور دیتا ہے، اور رِلکے (Rilke) کی شاعری کی تعریف کہ یہ ’معنی و صوت‘ (Sense + Sound) ہے، اور حسان بن ثابت اور ان کے بیٹے کا واقعہ (ماخوز از شعرالعجم، جلد اول)، جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ’’تشبیہ‘‘ بنیادی جوہرِ شعر ہے، اہم ہیں۔

شاعری خالص تخلیق ہے۔ اور جو چیز شاعر کی ذات میں ہوتی ہے، وہی اس کے اسلوب (Style) میں ظہور پاتی ہے۔ اور یہی چیز اسلوب کو بناتی ہے۔

علاوہ ازیں، جو چیز شاعری کو شعریت عطا کرتی ہے، اور جو چیز ’موضوع‘ و ’معروض‘ کو ایک کل میں پرو دیتی ہے، وہ شاعر کی ذات میں ہوتی ہے۔ اس سے متعلق اور سوالات ابھی زیرِ غور ہیں۔ یہ اضافہ نظریہٴ سریت سے مطابقت رکھتا ہے۔

۔ یہ بھی یاد رہے کہ شاعری کسی موضوع کو شعر نہیں کرتی۔ اس موضوع کے موضوع کو شعر کرتی ہے۔ مثلاً اگر پانی کو شعر میں ڈھالنا ہے تو یہ مقطر پانی کو شعر میں ڈھالے گی۔ جبکہ اساتذہ کی کلاسیکی شاعری کے معتد بہ حصے کو چھوڑ کر اردو کی ساری شاعری محض موضوع کو شعر کرنے کے شغل سے عبارت ہے۔

یہاں میں اپنی اس بات کی توضیح کے لیے وارث علوی کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا: ’’دراصل ہمارے نقادوں کا معاشرتی عکاسی ، عصری آگہی اور روحِ عصر کا جو تصور رہا ہے وہ ادبی اور فلسفیانہ کم اور صحافتی اور سیاسی زیادہ ہے۔ یعنی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ معاشرہ کی وقتی اور فوری تبدیلیاں اگر ادب میں جھلکتی نہیں ہیں تو ادب میں عصری آگہی ہے ورنہ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس معنی میں نہ تو ڈانٹے اور شیکپیئر میں عصری آگہی ملے گی نہ غالب اور ایلیٹ میں۔ ڈانٹے کے طربیہٴ خداوندی میں عیسائیت کا وہ پھول کھل اٹھا ہے جسے پورا دورِ وسطیٰ صدیوں تک پروان چڑھاتا رہا تھا اور ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ میں وہ تجربہ ایک آتش فشاں کی طرح پھوٹ پڑا ہے جو نشاة الثانیہ سے مغرب کا معاشرہ ایک مادی، عقلی اور سیکولر تہذیب کی شکل میں پروان چڑھا رہا تھا۔ جس طرح دورِ وسطیٰ کو آپ طربیہٴ خداوندی کے بغیر نہیں سمجھ سکتے اس طرح دورِ جدید کو آپ ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ غالب کی شاعری بھی اگر مغلیہ تہذیب کا گلِ سرسبد ہے تو ان ہی معنوں میں ہے۔ غالب اس بات سے بے خبر نہیں تھے کہ دلی کو انگریزوں کے لشکر نے بھی لوٹا اور کالوں کے لشکر نے بھی۔ وہ اس کا ذکر اپنے خطوط میں کرتے ہیں۔ لیکن جس چیز کو وہ اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں وہ اس لشکر کی داستان ہے جس کی چھاؤنی میں ایک گنگا جمنی تہذیب اور زبان جنم لیتی ہے۔ غالب کے سامنے یہ سوال نہیں تھا کہ ان کے عہد کی کونسی نمائندہ حقیقت کو بیان کیا جائے۔ بلکہ یہ سوال تھا کہ ایک پورے عہد کی پوری حقیقت ۔ ایک چمن کی بہار و خزاں کی پوری داستاں کو کس طرح گل و بلبل کی علامتوں میں گرفتار کر لیں۔‘‘ (1)

۔ نثری نظم لکھنا ثروت حسین جانتے ہیں۔ اور ان کے بعد افضال سید کا نام آتا ہے۔

۔ نثری شاعری کی مخالفت میں ایک نہایت دلچسپ ’’دلیل‘‘ ملاحظہ کیجیے: ’’آزاد نظم کے ہوتے ہوئے ’’نثرِ لطیف‘‘ جسے نثری نظم بھی کہا جاتا ہے کا کوئی معقول جواز نہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ نثری نظم/نثرِ لطیف کہنے والے کل کو کہیں نثری غزل کا بھی آغاز نہ کر دیں۔ ان نثر پاروں میں ایک کا عنوان ’’ایک خط، ایک نظم‘‘ جبکہ ایک اور کا عنوان ’’ایک اداس نظم‘‘ ہے۔ جب یہ چیزیں نثر میں ہیں تو ان کے عنوانات میں ’’نظم‘‘ کا لفظ چہ معنی دارد!‘‘ (2)

بظاہر یہ دلیل بڑی معقول معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جو دلیل استعمال کی گئی ہے، اس کا جواب اسی دلیل کی مدد سے دیا جا سکتا ہے۔ یعنی پھر یہ کہ نثری شاعری کا کیا مطلب ہوا۔ لیکن اس معاملے میں جو چیز نظر انداز ہو جاتی ہے، وہ ہے ’شاعری‘ یا ’’نظم‘‘ کا تصور۔ یہاں صرف نثر اور نظم کی تفریق کو ذہن میں رکھا جا رہا ہے۔ یہ ایک رسمی تقسیم ہے۔ الفاظ کا جو مجموعہ وزن اور بحر میں ہے، وہ شاعری ہے، جو بے وزن اور بے بحر ہے، وہ نثر ہے۔ یہ نقطہٴ نظر رکھنے والے اس بات سے بھی انکار نہیں کرتے ہوں گے کہ نثر بھی اپنا ایک آہنگ رکھتی ہے۔ گوکہ یہ آہنگ وزن اور بحر کا نعم البدل نہیں۔ شاعری اس تقسیم سے علاحدہ ایک آزاد وجود اور تصور کی حامل ہے۔ یہ تصور وزن اور بحر کا مرہونِ منت نہیں۔ اس کا جوہر شعریت ہے۔ اسی طرح، نظم بھی ایک تصور ہے۔ ضروری نہیں کہ جو چیز وزن اور بحر میں ہو اسے ہی نظم کہا جائے گا۔

۔ شاعری کو سب سے پہلے شاعری ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ’’کچھ اور۔‘‘

۔ شاعری کے بیانات اگر شعریت سے مملو ہیں، تو وہ اقلیمِ شاعری میں حقیقی بیانات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ: تیرے لبوں کی لالی سحر میں۔ اس سے محض لبوں کی تعریف مطلوب نہیں، بلکہ جو کچھ لغوی طور پر کہا جا رہا ہے، وہی کہنا مقصود بھی ہے۔ یعنی یہ کہ سحر میں تیرے لبوں کی لالی موجود ہے۔

یہی سبب ہے کہ حقیقی دنیا یا دنیائے حقیقت سے متصادم ہونے کی وجہ سے شاعری پر تضاد بیانیت کا الزام لگایا جاتا ہے۔

کلاسیکی اساتذہ ’’شعریت سے مملو‘‘ ہونے کی ناگزیریت سے واقف تھے، بہ ایں سبب ان کا مطمحِ نظر محض ’شعریت‘ تھی، فکر یا موضوع نہیں۔

۔ پنجابی زبان میں غزل کی طرز پر اشعار لکھنا اور اسے غزل کہنا، یہ بات دل کو بھاتی نہیں۔ چلیں شاعری تو کچھ نہ کچھ ہو جاتی ہے۔ لیکن صنف کا ترجمہ عجیب سا کام ہے۔ لہٰذا، کچھ اس چیز کو نظر میں رکھتے ہوئے اور اس سے زیادہ، اگر میں سچ کہوں، تو پنجابی زبان میں لکھے ہوئے شعروں کو غزل کہنے میں مجھے خاصی ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ تو کیوں نہ اسے ’بیت پراگا‘ کہا جائے۔

اور چونکہ آپ وہ والی کلاسیکل ’’غزل‘‘ تو لکھ نہیں رہے، اور اگر آج پنجابی میں غزل لکھی جا رہی ہے تو اغلباً وہ جدید رنگ کی ہے۔ لہٰذا، اسے ’بیت پراگا‘ کہنے سے نہ صرف اس کے نئے پن کی نمائندگی ہوتی ہے، بلکہ مستقبل میں اس کے امکانات اور وسیع ہو جاتے ہیں۔ موضوع اور ’Form‘ دونوں لحاظ سے، جو بصورتِ دیگر اسے ’غزل‘ کہنے سے محدود بھی ہو سکتے ہیں۔

۔ شاعری کے سلسلے میں شاعر کی جینیاتی جبریت۔

۔ عجیب اتفاق کی بات ہے کہ پنجابی، بلوچی، سندھی اور پشتو کلاسیکی شاعری ’’صوفیانہ‘‘ شاعری ہے۔

۔ شاعر حقیقت کے فہم کی کس منزل پر ہے، اسے حقیقت کس روپ میں نظر آتی ہے، یا اس کے نزدیک حیات و کائنات کس چیز میں متشکل ہو رہے ہیں، یہ سب باتیں اس کی شاعری کی حقیقت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

۔ شعریت کے درجے۔ اعلیٰ شعریتی حربہ، وغیرہ۔

۔ شعریت کی توضیح “شعری ادا” کی حیثیت سے بھی کی جا سکتی ہے۔ یعنی جیسے حسینوں کا حسن، غمزہ و ادا سے دو چند ہو جاتا ہے۔ مراد یہ کہ شعریتی حربے کو شعریتی ادا کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ لیکن شعری ادا یا شعریتی ادا، اصلاً شعریتی حربے کا حصہ ہی گردانی جائے گی۔

۔ ژاں کوکتو کی بات غزل کے بارے میں زیادہ صحیح ہے کہ یہ تجربے سے نہیں، لفظ سے اپنا خیال اخذ کرتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو نظم کو تجربے سے ماخوذ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اعلیٰ شاعری (اب تک کی) لفظ سے ہی اپنا اخیال اخذ کرتی کہی جا سکتی ہے۔

۔ جدید اور معاصر نظم کو کہانی سے کیسے متمیز کیا جائے۔ کیونکہ نظم نے ’شعریت‘ کو چھوڑ کر ’کہانی‘ کو حربہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

۔ بڑا وژن رکھنے والا ضروری نہیں کہ بڑا شاعر بھی ہو۔ جیسے غالب اور اقبال۔ میر بڑا شاعر ہے، گو کہ اس کا وژن غالب اور اقبال کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔ غالب میں وژن بڑا ہے، شعریت کم ہو گئی ہے۔ اور میر میں شعریت زیادہ ہے، وژن محدود۔

۔ تخلیق اپنی تنقید کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یعنی اپنی درست تحسین کے بغیر۔ جدید شاعری (اور جدید فکشن یعنی مجموعی طور پر یہ کہ جدید ادب) اسی لیے نامکمل ہے۔

۔ پیاز کی پرتیں اتارتے جائیں، پھر شاعری کا پتا چلے گا کہ یہ کیا ہے۔

۔ کوئی مصنف، شاعر یا ادیب بڑا آدمی نہیں ہوتا، وہ مختلف آدمی ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ بڑا آدمی بڑا شاعر اور بڑا ادیب بھی ہو۔

۔ فلسفیانہ صداقت، عدم تناقض۔ شعریتی صداقت، تناقض۔

۔ میں نہ جمدی ماہی وے
توں کیکر ویاہی دا ڈھولا
پنجابی لوک گیت کی یہ دو سطریں سادگی اور شعریت کی انتہا اور کمال کی حامل ہیں۔ ان دونوں کا اس طرح کا ملاپ شاعری میں کم ہی نظر آتا ہے۔ ان دو سطروں کے بارے میں، غالب اگر زندہ ہوتے تو وہی کچھ کہتے جو انھوں نے مومن کے شعر کے بارے میں کہا تھا، تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔

۔ علم اور شعر و ادب میں انسان پسندی کی کوئی وقعت اور اہمیت نہیں۔ وقعت اور اہمیت ہے کام، فن اور خیالات کی۔

۔ شعریت، رزمیے سے نکل کر آزاد اور جداگانہ عنصری وجود رکھتی ہے۔ پنجابی ادب میں بولی اور اردو میں غزل میں شعر، شعریت کا اعلیٰ ترین مقام رکھتے ہیں۔

۔ مشرقی شاعری یا اردو شاعری کو مغربی شاعری کے معیار سے دیکھا اور پرکھا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ مغربی شاعری کو بھی مشرقی اور خاص طور پر اردو شاعری کے معیار سے دیکھا اور پرکھا جائے۔ اغلب ہے کہ یوں مغربی شاعری نہایت عجیب و غریب قرار پائے گی۔ یعنی شعریت کے اعلیٰ معیار کے اعتبار سے۔

جیسا کہ مشرقی شاعری، شاعری کے ارتکاز سے شعریت کو پیدا کرتی ہے؛ مغربی شاعری اس شعریت کے ارتکاز کو حاصل کیے بغیر شعریت کو منتشر کر دیتی ہے، پھیلا دیتی ہے۔ مشرقی شاعری کا اولین مقصد شعریت کے اعلیٰ سے اعلیٰ معیار کو حاصل کرنا ہے اور مغربی شاعری، شاعری کے پھیلاؤ یعنی موضوع کو مفصل کرنے سے ’شعریت‘ کو حاصل کرتی ہے۔ مشرقی شاعری موضوع کو مرتکز کرتی ہےاور مغربی غیرمرتکز۔ یعنی مشرقی شاعری موضوع کے جوہر کو شعر کرتی ہے اور مغربی شاعری اس کے اعراض کو۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی شاعری میں شعریت کا گراف اوپر اور مغربی شاعری میں شعریت کا گراف نیچے کی طرف مائل رہتا ہے۔

۔ نئی فکری سمت کیا ہے؟ اضافی چیز ہے۔ عہد، زبان، اور فکر کے استعمالات سے متعین ہوتی ہے۔ تاہم، یہ حقیقت اس بات کو مزید استحکام دیتی ہے کہ اصل چیز شعریتی حربہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک فکری (یا معنوی) داؤ پیچ۔

اس ’’فکری سمت‘‘ (یا شعریت) کو ’’شاعرانہ رویے‘‘ سے گڈ مڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔ شاعرانہ رویہ ایک داخلی چیز ہے۔ یہ شاعر میں یا قاری یا سامع میں موجود ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ یوں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ شعریتی حربہ یا شعریت، شاعرانہ رویے کا نتیجہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ لیکن یہ دونوں ایک نہیں ہو سکتے۔ شعریت، شعریتی حربے کا لازمی پھل تو ہے لیکن شاعرانہ رویے کا نہیں۔

۔ شعریتی حربہ محض لفظی و معنوی جہات میں محدود نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ انسان کی ذہنی و فکری کائنات سے باہر تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ جبکہ خود کائنات تو ویسے ہی بے معنویت کی ایک لامحدود توسیع میں وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ لہٰذا، یہ کہنا درست ہو گا کہ لفظی و معنوی دائرے سے باہر بھی شعریتی حربہ لاتعداد امکانات کا حامل ہوتا ہے۔

۔ شعریت، شاعری کا اوج ہے۔ یہ ایک مستقل قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یعنی جس شاعری میں موضوعی ہنگامی پن موجود ہوتا ہے، وہ وقت کے ساتھ معدوم ہوتی جاتی ہے۔

۔ شاعری کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا؛ ہاں، شعریت کا نظریہ ہوتا ہے۔

۔ یہ امر حیران کن ہے، گوکہ حقیقت پر مبنی ہے، یعنی اعلیٰ شاعری کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس کے موضوعات محدود رہے ہیں۔ مثلاً حسن، محبت اور اس کے متعلقات، دنیا کی بے ثباتی۔

اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اعلیٰ شاعری مستقل موضوعات سے سروکار رکھتی ہے۔

۔ گریز ایک نہایت اہم شعریتی حربہ ہے۔ یہ صرف شعریتی حربہ نہیں، نثری حربہ بھی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گریز کی روح بذاتہٖ شاعرانہ ہے۔ مثال دیکھیے:

مجھ سا مشتاقِ جمال ایک نہ پاؤ گے کہیں
گرچہ ڈھونڈو گے چراغِ رخِ زیبا لے کر
ذوق

یہاں تعریف رخِ زیبا کی مقصود ہے۔ یہ شعر کی ایک سطح ہے۔

۔ شعریت کا ایک خاصہ یہ ہے کہ ایک نظم یا ایک شعر کسی خارجی حوالے کے بغیر اپنی تکمیل آزادانہ طور پر کرتا ہے۔ یعنی یہ زمینی اور ماحولی حوالوں سے ماورا ہوتا ہے۔ اور خود اپنی ذات میں شعریت کا کا مظہر ہوتا ہے۔

۔ شعریت جیسے کہ عدم سے وجود کو تخلیق کرنے کے مترادف ہے۔ یعنی عدمِ مضمون سے مضمون پیدا کرنا ہے۔

۔ غزل یعنی شعروں کے اجتماع کو اسی لیے ایک خاص اور یکساں نام (غزل) دیا گیا کہ عنوان کی محتاجی کے بغیر شعریت کی اکائی بذاتہٖ قابلِ فہم اور عیاں ہو اور موثر بھی۔ اور اسے باہر سے کسی چیز کی مدد درکار نہ ہو۔ جبکہ نظم کو مختلف اور متغیر نام یا عنوان دیے بغیر کام نہیں چلتا۔ لیکن کسی نظم کو عنوان نہ دینا یا اسے ’بلا عنوان‘ کہنا یا صرف نظم کہنا، یہ چیزیں بھی ایک حربے کا مرتبہ رکھتی ہیں۔ یعنی ایک نظم کو عنوان نہ دینے سے ’شعریت انگیزی‘ کا کام لیا جاتا ہے۔

۔ شعریتی حربے کا رچاؤ

۔ شعریتی حربے کی تکنیک

۔ شعر میں معانی خود بھی حربہ بن جاتے ہیں

۔ اعلیٰ شعر، اعلیٰ حربہ

۔ غالب کی شاعری کیا ہے؟ غالب کی اردو شاعری کے دیوان کا باقاعدہ مطالعہ شروع کرتے وقت میں نے کوئی ایک یا زیادہ اور مخصوص نظریاتِ شعر ذہن میں نہیں رکھے تھے۔ کیونکہ ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں، یا یہ کہیے کہ میں نے پہلے سے یہ مفروضہ بنا لیا تھا کہ غالب کی شاعری خود نظریہٴ شعر وضع کرنے والی شاعری ہے، اسے کسی مخصوص نظریہٴ شعر کی کسوٹی پر پرکھنا زیادتی ہے۔

غالب کی شاعری ایسی ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ یہ شاعری اصل میں ’’نئی صورتِ حال‘‘ کو پیدا کرنے، نئی صورتِ حال کو تخلیق کرنے یا نئی صورتِ حال کے امکانات کو کھنگالنے کا نام ہے۔ مثلاً ایک صورتِ حال یہ ہے کہ ’محبوب نے اپنے عاشق کی طرف بے اعتنائی کا رویہ برتا‘۔۔۔ اب اس سے کتنی قسم کی نئی صورت ہائے احوال پیدا کی جا سکتی ہیں۔ یا یہ کہ ’انسان بالآخر فنا ہو جاتا ہے‘ ۔۔۔ اس سے کتنی نئی صورت ہائے احوال پیدا کی جا سکتی ہیں۔

اور غالب میں تو صرف یہ نہیں کہ پہلے سے دریافت شدہ یا گرفت شدہ صورتِ احوال کو نئے انداز میں بیان کر دیا گیا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر (اور یہ ہی غالب کی شاعری کا خاص وصف ہے) نہ صرف نئی اور نئی ترین صورتِ حال کو تخلیق کیا جاتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ ایسی کسی بھی صورتِ حال کے دور دراز امکان تک کو گرفت کر لیا جاتا ہے۔ انھی معنوں میں غالب کی شاعری کو میں شاعری کے ضمن میں ’’حرفِ آخر‘‘ کہنا چاہتا ہوں۔

بلکہ شاعری، شاعری ہے یا نہیں، فنی طور پر یہ کیسی ہے، نئی صورتِ حال حقیقتاً دریافت بھی ہوئی ہے یا نہیں، نئی صورتِ حال کے دور دراز امکانات بھی گرفت ہوئے ہیں یا نہیں، اور یہ کہ آلاتِ شاعری (تشبیہ، استعارہ، علامت، وغیرہ) کی جو مدد لی گئی ہے تو کیا ابلاغ بھی ہوا یا نہیں، یہ چیزیں بعد میں آتی ہیں۔ غالب کی شاعری ہمیں شاعری کا یہ معیار مہیا کرتی ہے۔

نئی صورتِ حال کئی طرح سے پیدا کی جا سکتی ہے۔ ایک ہی صورتِ حال میں سے کئی اور اخذ کی جا سکتی ہیں، یا دو یا دو سے زیادہ کو ملا کر ایک اور صورتِ حال پید کی جا سکتی ہے۔ یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک بالکل ہی نئی صورتِ حال تخلیق ہو جائے۔ کلاسیکی شاعری اور غالب کی شاعری کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بالعموم چند مخصوص یا محدود صورت ہائے احوال میں سے اخذ کی گئی شاعری ہے۔

اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ’صورتِ حال‘ کی تخلیق ’الفاظ و تراکیب‘ بلکہ ’الفاظ‘ ہی کی مدد سے کی جاتی ہے، تو کلاسیکی شاعری میں یہ الفاظ و تراکیب محدود تھیں۔ ژاں کوکتو کا یہ خیال صحیح ہے (خاص طور پر کلاسیکی شاعری کے بارے میں) کہ شاعری اپنا خیال تجربے سے نہیں بلکہ الفاظ سے حاصل کرتی ہے۔

اردو کلاسیکی شاعری میں یا یوں کہہ لیجیے کہ معاصر شاعری کو کسی حد تک چھوڑ کر مشرقی شاعری میں عمومی طور پر ’تجربے‘ کی بوقلمونی مفقود اور تجربہ محدود ہے۔ یہ ’تجربہ‘ دراصل شاعری در شاعری، یا شعر در شعر منتقل ہوتا آتا ہے۔ صرف تجربے کے ’ملفوظات‘ (لفظی لباس) تبدیل کیے جاتے ہیں۔ اس کا سرچشمہ براہِ راست زندگی نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس میں تازگی نایاب اور گہرائی وافر دستیاب ہوتی ہے۔

۔ جب میں نے ’دیوانِ غالب‘ کو باقاعدہ طور پر پڑھنا شروع کیا تو ذہن میں کچھ تصورات پہلے سے موجود تھے۔ جیسے کہ غالب بڑا شاعر ہے۔ غالب کی شاعری عظیم شاعری ہے۔ لیکن جہاں تک شاعری کی تعریف کا تعلق ہے، میں نے اپنے ذہن کو بالکل صاف، کُھلی اور ایک غیرجانبدارانہ حالت میں چھوڑ دیا تھا۔ میرا مطمحِ نظر یہ تھا کہ غالب کی شاعری سے شاعری کے بارے میں جانا جائے، شعر کی تعریف اخذ کی جائے اور شاعری کو پہنچاننا سیکھا جائے۔ یہ میری جانبداریاں تھیں اور رہیں۔

۔ غالب کی شاعری کے سلسلے میں کہ یہ مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ نئے جہانوں کی تخلیق ہے، نئی صورت ہائے احوال کی تخلیق ہے، کیونکہ کائنات یا جہان بھی ایک صورتِ حال ہے۔

۔ کچھ شعرا ’تجربات‘ کو اسی طرح قبول کر لیتے ہیں، جس طرح یہ ان تک ان سے پہلے کی شاعری کے ذریعے پہنچتے ہیں اور ان ہی کی ’جگالی‘ کرتے رہتے ہیں۔ یا یہ کہ پہلے ہی سے دریافت شدہ یا تخلیق شدہ صورتِ حال کو ہی اِدھر اُدھر کر کے بیان کرتے رہتے ہیں۔ کچھ ایسے شعرا ہوتے ہیں، جو نئی صورتِ حال دریافت کرتے ہیں یا تخلیق کرتے ہیں، پھر یہ کہ ان کی شاعری میں بیان کی گئی تمام صورتِ حال کی تعداد کو بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر نئی دریافتیں اور نئی تخلیقیں زیادہ ہیں تو شاعری بڑی شاعری ہو گی یا شاعر بڑا ہو گا۔ اور اس کے الٹ۔

لیکن سب سے بڑی عظمت شاعری یا شاعر میں تب پیدا ہوتی ہے، جب وہ پہلے کی دریافت شدہ اور تخلیق شدہ صورتِ حال جتنی بھی ہیں، ان پر شک و شبے کا اظہار کرتا ہے، وہ اصل میں ’تجربات‘ جو شاعری میں چلے آ رہے ہوتے ہیں، ان پر شک کرتا ہے اور نئے ’تجربات‘ کو نئی شاعری کی یعنی نئی صورتِ حال دریافت کرنے یا تخلیق کرنے کی بنیاد بناتا ہے۔ غالب نے ’تجربات‘ تو پرانے ہی لیے لیکن پرانی صورتِ احوال کو مشتبہ ٹھہرایا اور ان پر سوالیہ نظر ڈالی۔

آندرے ژید کی یہ تعمیم ترقی پسند شاعری پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ ترجمہ: عمدہ جذبات سے برا ادب وجود میں آتا ہے۔

۔ اور پھر یہ بھی کہ ان تجربات کو ’بیان‘ کیسے کیا گیا ہے۔ سٹائل۔

۔ اگر محض لغوی معنی کو سامنے رکھا جائے تو اردو کی کلاسیکی شاعری کا معتد بہ حصہ مور کا ناچ ہے۔

۔ غالب نے ایسے ایسے نئے جہان یا صورت ہائے احوال تخلیق کی ہیں کہ تخئیل دنگ رہ جاتا ہے۔ اسی لیے غالب کی شاعری کو ’حرفِ آخر‘ کہنا کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہو گا۔

۔ اور جب میں غالب کو ’’حرفِ آخر‘‘ کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب غالب کے بعد ایک بالکل نئے حرف کی ضرورت ہے۔

۔ جس طرح زندگی کی پہیلی میں انسان الجھ کر رہ جاتا ہے، یا پیچاں و غلطاں رہ جاتا ہے، تحیرزدہ رہ جاتا ہے، اسی طرح کی صورت ہائے حال (Situations) غالب نے تخلیق کی ہیں، اور لگتا یوں ہے کہ جیسے دریافت کی ہیں۔

بہ فیضِ بے دلی نومیدیِ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدہٴ مشکل پسند آیا

اسد کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے
کہ حسرت کش رہا عرضِ ستم ہائے جدائی کا

۔ یہ (یعنی شاعری) دراصل معنویت کو بے معنویت میں اور بے معنویت کو معنویت میں تحلیل کرنے کا فن ہے۔

۔ شاعری کا حوالہ شاعری ہی ہونا چاہیے۔ اسے ایک خودمکتفی (Self-sufficient) اور خود قائم (Self-sustaining)، مکمل کل کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ سماجی یا دوسرے حوالے، ٹھیک ہے اس کی تشریح و تعبیر میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن جب شاعری کے مقام کا تعین کرنا ہو، اسے پرکھنا ہو، اس کی قدر کا اندازہ لگانا ہو (Evaluate)، تب شاعری ہی شاعری کا حوالہ ہونا چاہیے۔ یہ فارمولا تنقیدی فارمولا تو ہو سکتا ہے یا ناقد کی رہنمائی تو کر سکتا ہے، لیکن شاعر کی نہیں۔ کیونکہ شاعر حوالوں کے بغیر ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن یہ معیار ناقد نہیں اپنا سکتا۔ شاعری کا معیار خارج میں نہیں، شاعری کا داخل میں ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے پرکھنے کا معیار شاعری ہی میں سے وضع و برآمد کیا جانا چاہیے۔

یعنی: مطلب کتاب کا نہیں باہر کتاب سے
آتش

۔ غالب کی عظمت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ غالب کی شاعری اپنے ماخذ سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے اور وہیں سے اپنی تحریک (Inspiration) حاصل کرتی ہے۔ یعنی نامعلوم (Unknown) سے۔ اور غالب کی شاعری میں اس کی تلاش کا جذبہ پوری طرح کارفرما ہے۔

غالب مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گلِ جیبِ قبائے گل

۔ شاعری کی بنیادی اکائی کیا ہے۔ مصرع۔ مصرع، بذاتِ خود کیا ہے۔ بحر مصرع بناتی ہے یا معنوی اکائی مصرع بناتی ہے۔

۔ بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں/شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا۔ جواب: ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ جس چیز کو ہمارے یہاں شعر یا نظم کی ’ہیئت‘ سمجھا جاتا ہے، وہ ہیئت نہیں، اس سلسلے میں ’عروض‘ اور بحروں نے بہت گمراہ کیا اور شاعری کا ’ناگزیر جزو‘ بنا بیٹھے۔ ’ہیئت‘ وہ ہوتی ہے، جو مواد اور صورت (Form and content) کے ناقابلِ علاحدہ ملاپ سے وجود میں آتی ہے۔

۔ کلاسیکی اردو شاعری نے برسہا برس ’’آنکھ سے لہو رو کر‘‘ اعلیٰ شاعری کے لیے ایک مستقل بالذات ’علامت خانہ‘ بنایا تھا، جدید شاعری نے بالعموم اسے رد کر دیا ہے، اور نیا علامت خانہ ابھی بنا نہیں۔

۔ اسے ایک حسرت آمیز امر ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ ہماری تنقید غریب اور بے مایہ رہی۔ یہ اپنا کوئی مقام نہیں بنا سکی۔ عیاں ہے کہ ہماری تنقید نے اعلیٰ شاعری کو تو تسلیم کیا، لیکن اسے رہنما نہیں بنایا۔ اور یوں یہ تنقید آنے والی شاعری کی رنمائی نہیں کر سکی۔ بلکہ یہ خود ایسی شاعری کی وکیلِ صفائی ہی نہیں، بلکہ اس مقدمے کا ایک فریق بن بیٹھی۔ یعنی وہ شاعری جس کی ابتدا حالی کے بعد ہوئی۔ یعنی ترقی پسند شاعری، اور پھر جدید اور ہم عصر شاعری۔

دکھا کے چہرہٴ روشن وہ کہتے ہیں سرِ شام
وہ آفتاب نہیں ہے جسے زوال ہوا
آتش

سالک کو یہی جادے سے آواز ہے آئی
پامال جو ہو راہ وہ منزل کی نکالے
آتش

بلند خاک نشینی نے قدر کی میری
عروج مجھ کو ہوا جب کہ پائمال ہوا
آتش

۔ اجنبی زمین پر اجنبی لوگوں کا ادب، اردو ادب۔ یعنی حملہ آوروں کا ادب۔ اس میں زندہ، جاندار اور موجود عنقا ہیں۔ جیسے فیضؔ کے بارے میں بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کی شاعری کہاں کی شاعری ہے۔ آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ اردو زبان کی شاعری تو ہے لیکن پنجاب، سندھ، بلوچستان یا پختونستان کی شاعری نہیں۔ یہ مجرد شاعری ہے، جیسے اکثر اردو شاعری مجرد ہے۔

۔ شاعری کے لیے تخئیلی (Imaginative) ہونا ضروری ہے، ان معنوں میں کہ کسی خیال کو مختلف انداز سے ملفوظ کیا جائے۔

۔ شعر زندگی کے عنوانات ہوتے ہیں۔ جیسے کسی کہانی یا کتاب کا اچھا نام ہمیں متاثر کرتا ہے، ویسے ہی شعر بھی۔

۔ بے جان چیز کو جان دار کے طور پر لینا۔ مدت کے بعد آئے تو روٹھی ہوئی سی تھی، تختی ہمارے نام کی در پر لگی ہوئی۔ شفیق سلیمی۔ شعریتی دلیل کی منطق

۔ فیض کی شاعری موجود سے متعلق نہیں۔ یہ ’ایک خاص موجود‘ سے نہیں ابھرتی۔ یہ مجرد اور ماورائی ہے۔ اس لحاظ سے منیر نیازی کی شاعری موجود کی شاعری ہے۔ یہ ایک خاص موجود سے ابھرتی ہے اور اس میں ’’پاکستان کے قومی المیے‘‘ کا تجربہ موجود ہے۔ مثلاً فیض کا تصورِ وطن مجرد ہے۔ آپ اسے کسی بھی وطن کے لیے درست قرار دے سکتے ہیں۔ ان کی شاعری اتنی زیادہ مجرد اور عمومی ہو گئی ہے کہ ٹھوس اور موجود سے بے تعلق ہے۔ پھر فیض کے تجربات زندہ تجربات نہیں (چند ایک کو چھوڑ کر، جو شاید زنداں نامہ میں ہیں۔ یہ اردو شاعری کے تجربات سے جو جہان بنا ہے فیض کی شاعری کی بنیاد اس جہاں پر ہے۔

۔ غالب کی شاعری کیا ہے۔ شاعری خوشبو کی طرح ہوتی ہے۔ تیز خوشبو خود بخود مسحور کر دیتی ہے۔ کچھ پھولوں کی خوشبو سونگھنے کے لیے ہمیں انھیں ناک کے قریب لانا پڑتا ہے۔ یعنی بہت قریب ہو کر دیکھنا پڑتا ہے۔

۔ اقبال کی ’’جوابِ شکوہ‘‘ اور ملٹن کی ’’فردوسِ بازیافتہ‘‘ (Paradise Regained) کفارہ ہی کہے جا سکتے ہیں۔ ان کے گناہ، یعنی ’’شکوہ‘‘ اور ’’فردوسِ گم گشتہ‘‘ (Paradise Lost) کا۔

دوسرا حصہ: شعریت سے متعلق انگریزی شذرات

– Poet’s genetic determination is his poetic determination.

– Not only change, but transformation into a higher plane, qualitatively. Such as inorganic matter into organic or botanic into zoological, and into human beings (brain), that is conscious human beings. Only those are emancipated from the ‘vicious circle’ of transformation (the birth circle) who manifest themselves, who embody themselves as artist, poet, scientist, that is, their outcome emerges in that form which may affect further transformation.

– Poetry is the highest form of un-systematic philosophy. Poetry is part of philosophy; but philosophy is not poetry.

– Poetry is pure creation and is the highest form of generalization.

تیسرا حصہ: اضافہ

اس مضمون کا جو ہیولا میں نے سوچا تھا اور اس کا جو ڈھانچہ تیار کیا تھا، نہ تو اب میرے پاس حوصلہ ہے اور نہ ہی وقت کہ اسے ان تقاضوں کے مطابق پایہٴ تکمیل تک پہنچاؤں۔ کوئی 34 برس بعد جب میں نے اپنے اس ادھورے مضمون کو پڑھا تو خود مجھے بھی تسلی ہوئی کہ یہ کافی حد تک مکمل ہے۔ یعنی جو اصل استدلال تھا وہ احاطہٴ تحریر میں آ چکا ہے۔ اور گو کہ یہ مضمون جن اضافوں کا متقاضی ہے، وہ ہونے چاہئیں، لیکن مجھے یہ بھی اطمینان ہے کہ ان میں سے کچھ باتیں شذرات کے تحت درج ہو گئی ہیں۔

لہٰذا،’اضافے‘ کے نام پر میں جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، وہ کچھ نکات کا بیان اور ان کی توضیح ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ کچھ نتائج کو قلم بند کر دینا بھی۔

۔ ادھورے مضمون میں جہاں حالیؔ کا ذکر آیا ہے، وہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا۔

یہ نہایت اہم معاملہ ہے کہ شاعری مقصود بالذات کیوں نہیں رہتی۔ اس کا موضوع کیوں اہم ہو جاتا ہے۔ جہاں تک حالی کا تعلق ہے تو ان کی اور دوسروں (مولانا محمد حسین آزادؔ) کی یہ تشخیص غلط تھی کہ کلاسیکی شاعری اپنے تمام امکانات سے کام لے چکی تھی۔ یہ تکرار بن کر رہ گئی تھی۔ باایں سبب اس کے خلاف جو اضطراب موجود تھا، وہ بالکل درست تھا۔ جیسا کہ یہ چیز خود حالی کی بے اطمینانی سے بھی ظاہر ہے۔

یعنی مرض تو موجود تھا، مگر اس کی تشخیص میں غلطی ہو گئی، یا کی گئی۔

جبکہ حقیقتاً معاملہ یہ تھا کہ رفتہ رفتہ اقبالؔ میں ایک نئی شاعری وجود میں آئی۔ اس کا موضوع کلاسیکی شاعری سے یکسر مختلف تھا۔

اب یہ جو مقصود بالذات شاعری کی بات ہے، تو اس کے ضمن میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر کسی فرد میں ’’کرب‘‘ (Angst) موجود ہے، تو اس کی شاعری خود بخود اصلی اور مقصود بالذات بن جائے گی۔ اس پر موضوع کا اتہام نہیں دھرا جا سکے گا۔ اقبال اس کی بہت بڑی مثال ہیں۔

ایک نکتہ یہاں یہ بھی وضاحت طلب ہے کہ خود شاعر کا مقصود کیا ہے، شعریت یا فکر و خیال۔ اور اس بات کو میں یوں کہنا چاہوں گا کہ اگر شاعر بڑا شاعر ہے تو یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے۔ یعنی وہ شاعر جیسا کہ کسی بھی نوع کے فکر و خیال کا داعی اور مبلغ ہے، اس کی شعری جبلت اس فکر و خیال کو شعریت میں ڈھال دے گی۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ پھر اقبال پر نظر ڈال لیجیے۔

عیاں رہے کہ شاعری کے لیے یا شعریت کی تخلیق کے لیے فکر و خیال اسی طرح ناگزیر ہیں، جس طرح ظرف کے لیے مٹی۔ باقی کام شاعر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اچھی یا بری مٹی سے کیا چیز تراشتا ہے۔

۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کلاسیکی شاعری ایک نمونے کی حیثیت سے اپنی جگہ ایستادہ ہے۔ ایک مثالیے کی مانند۔ اب اس نمونے اور مثالیے سے ہٹ کر جو تجربات کیے گئے، ان میں سے صرف ایک تجربہ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ یعنی اقبال۔ باقی تجربات ناکام ٹھہرے۔ فوری طور پر جو نام ذہن میں آتے ہیں، ان میں فیض، ناصر کاظمی، مجید امجد، احمد مشتاق شامل ہیں۔

۔ بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاعری غیرِ منطق ہے۔ یعنی شاعری غیر منطقی دلائل سے تعلق رکھتی ہے۔ جبکہ شعریتی حربے کے دائرہٴ امکان کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ شعریتی حربہ ہر چیز سے کام لے سکتا ہے، خواہ یہ منطقی ہو یا غیر منطقی۔

۔ ایک حقیقت ہمیں یہ بھی نظر میں رکھنا ہو گی کہ جس چیز کو ہم شعریت کا نام دیتے ہیں، وہ بنی بنائی وجود میں نہیں آ گئی۔ یعنی شعریت کا ارتقا ہوا۔ مثلاً بڑے بڑے رزمیوں کا موضوع بہت مختلف ہوتا تھا، جیسا کہ ایلیڈ اور اوڈیسی کا معاملہ ہے۔ یا رومانوی نظمیے، جیسا کہ لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، مرزا صاحباں، وغیرہ۔ یا فردوسِ گم گشتہ، فردوسِ بازیافتہ، شکوہ، جوابِ شکوہ، وغیرہ۔

یقیناً اتنی طویل نظموں میں شعریت یہاں وہاں اب یا تب اپنی جلوہ دکھا دیتی ہو گی، یا دکھا سکتی ہے، لیکن ایک جسم میں روح کی طرح جاری و ساری نہیں ہو سکتی۔ ہاں، یہ ممکن ہے کہ ایک پورا رزمیہ یا نظمیہ اپنی کلی حیثیت میں شعریت کا ہیولا بن جائے، یا شعریت کا اشارہ بن جائے، اور اس ضمن میں فوری طور پر جو نظم ذہن میں آتی ہے، وہ اقبال کی نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ ہے۔ گو کہ یہ کوئی طویل نظم نہیں، لیکن اسے ایک مثال کے طور پر سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کے متضاد کی مثال حالی کی ’’مسدس‘‘ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شعریتی حربے کا ارتقا ہوا۔ اور اگر ہم اسی خط پر سفر کرتے جائیں، تو یہ ارتقا ہمیں غزل اور پھر غزل کے ایک شعر تک لے آتا ہے۔ یعنی شعریت اپنے وجود کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے شعر تک آ پہنچی۔ یعنی جو چیز پہلے پہل طویل ترین نظموں میں جیسا کہ نمک طرح حل ہوئی پڑی تھی، وہ ارتکاز پاتی پاتی ایک شعر میں پہنچ کر اپنی تکمیل کرتی ہے۔ یا جیسا کہ ادھورے مضمون میں بھی مذکور ہوا کہ شعریتی حربہ شعر کے ایک مصرعے میں یا نظم کی ایک سطر میں بھی ظہور پا سکتا ہے، یا یہ کہ شعریتی حربے کی اکائی ایک مصرع یا ایک سطر بھی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جس میں شعریتی حربہ سمٹ سکتا ہو۔

مختصراً یہ کہ شعریت اپنے جوہر کی تلاش میں ایک ایسے مظہر تک آ پہنچی ہے، جہاں کسی نظم یا غزل کے شعر کا ایک مصرع یا کسی نظم کی ایک سطر اس کے مظہر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ شعریت کا ارتقا ہے۔

۔ ایک نکتہ اور جو یہاں میں تاکیداً بیان کرنا چاہوں گا، وہ یہ ہے کہ نثر کی طرح شاعری بھی زبان کے وجود، بقا اور استقرار کے لیے اسی طرح ناگزیر ہے، جس طرح نثر کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ یا بولی جانے والی زبان کو غیر معمولی طور پر اہم اور ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کا ایک ثبوت تو وہ لاتعداد الفاظ و تراکیب ہیں، جنھیں شاعری نے وضع و تخلیق کیا، اور جو بیشتر اور عمومی طور پر شاعری ہی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً رعنائی، درخشاں، وغیرہ۔ اس میں تخئیلاتی نثر کو بھی شامل رکھنا چاہیے۔

جہاں تک ناول، افسانہ، تنقید، وغیرہ، کا تعلق ہے، تو ان کی نثر اپنی جداگانہ شناخت رکھتی ہے۔ یہ متذکرہ الفاظ و تراکیب کو استعمال میں لاتی ہے، لا سکتی ہے۔ گو کہ علمی نثر اپنی ایک علاحدہ حیثیت رکھتی ہے، لیکن اسے ان سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا۔ اور مجموعی طور پر بولی جانے والی زبان کو بھی۔

اس سے یہ نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ مقبول اور کلاسیکی شاعری اصل میں زبان کو قائم و زندہ رکھنے میں وہی کردار ادا کرتی ہے، جو ان علوم و فنون کی نثر جو ہر نسل کی تحصیل کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

۔ اوپر جہاں یہ ذکر آیا ہے کہ شعریتی حربہ جتنا غیر زمینی ہو گا، وہ اتنا ہی آفاقی ہوتا جائے گا اور یوں انسانی بھی۔ یعنی اس کی تفہیم ہر ثقافت سے تعلق رکھنے والے فرد کے لیے آسان ہوتی جائے گی۔ اس سے مفہوم یہ مراد ہے کہ شعریتی حربہ جتنا اور جس قدر مقامی اور مقامیاتی تلازمات کے ساتھ بندھا ہو گا، اس کی تاثیر اتنا ہی مقامی اور مقامیاتی امکانات تک محدود رہے گی۔ اس سے یہ مراد قطعاً نہیں ہے کہ شعریتی حربہ جتنا مجرد اور غیرمرئی ہو گا، وہ اتنا ہی آفاقی اور توسیعاتی ہو گا۔

یہی سبب ہے کہ اوپر میرے ذاتی ’شذرات‘ میں فیض کے بارے میں یہ تحریر ہوا کہ ان کی شاعری کسی مخصوص زمینی تعلق سے ماورا معلوم ہوتی ہے۔ جیسے کہ اس کی جنم بھومی اور وطنِ مالوف کوئی نہیں۔ یعنی فیض کی شاعری زمینی تلازمات سے رس کشید نہیں کرتی بلکہ جیسا کہ ذکر ہوا کہ یہ اصل میں کلاسیکی اردو شاعری کو ’’خام مواد‘‘ کی حیثیت سے کام میں لاتی ہے، اور اپنی صورت ہائے احوال تخلیق کرتی ہے۔

ایک بات جسے میں بھی درست سمجھتا رہا ہوں، اس کی توضیح یہ ہے کہ کسی مقامی تجربے کو جس قدر مقامی اور مقامیاتی تلازمات و علامات سے معمور کر کے بیان کیا جائے گا، وہ اسی قدر آفاقی اور انسانی ہو گا۔ اسے ایک ایسے عمومی اصول کے طور پر تو قبول کیا جا سکتا ہے کہ چیزیں اسی انداز سے واقع ہوتی ہیں؛ ہاں، مگر اسے اس انداز میں استعمال کرنا کہ یہ چیزیں اسی طور وقوع پذیر ہوں گی اور ہوتی ہیں، یعنی اسے ایک بندش یا رہنما کی حیثیت کا حامل بنا دینا گمراہ کن ہو گا۔ یعنی اس میں محض مستثنیات کی بات نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسا واقع ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔

مزید برآں یہ کہ اس اصول میں یہ مفہوم بھی پوشیدہ ہے کہ شعریت، تجرید اور مجرد اظہارات سے وجود نہیں پاتی۔ یعنی یہ کہ اس کی جڑوں کے لیے کسی زمین اور اس زمین سے اُگنے والی ثقافت میں گڑا ہونا ضروری ہے۔ فیض کی شاعری کو اگر غیرزمینی کہا گیا تو اس سے یہی مفہوم مراد ہے۔

یہاں میں یہ وضاحت بھی کرتا چلوں تو مناسب رہے گا کہ اس سیاق و سباق میں شاعری کے دو وطن ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی اوپر ذکر آیا۔ یعنی ایک وہ وطن جہاں شاعر پیدا ہوتا ہے، اور دوسرے وہ وطن، جو شاعر کا وطنِ مالوف بنتا ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ٹھہری کہ اقبال کے معاملے میں ہم جنم بھومی کو بیچ میں نہیں لا سکتے، گو کہ اقبال کی ابتدائی شاعری اسی وطن کی مٹی میں سے پھوٹی۔ جبکہ ان کی بعد کی شاعری یا ’’بالغ شاعری‘‘ کی جڑیں وطنِ مالوف کی مٹی میں پیوست ہیں۔

۔ جیسا کہ نیچے انگریزی کے جو اقتباسات نقل کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک اقتباس، جو ڈبلیو بی سٹینفرڈ کی کتاب، ’’دشمنانِ شاعری‘‘ سے لیا گیا ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کچھ شعرا، جیسا کہ ایڈگر ایلن پو اور سِوِن برن چیزوں کو صوتیاتی شکل میں تبدیل کرنے پر انحصار کرتے ہیں، اور ڈن، کالرج اور پنڈر غالب انداز میں چیزوں کو تصویراتی یا صوَریاتی شکل میں ڈھالتے ہیں۔ جبکہ شیکپیئر، پوپ، ہومر، ایسکائیلس دونوں سے کام لیتے ہیں، گو کہ تصویریاتی تبدل کی طرف ان کا جھکاؤ ازحد عیاں ہے۔ بلکہ یہ تصویریاتی جھکاؤ بیشتر شاعری میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

یعنی تصاویر یا شبیہیں بنانا۔ اس کی مثال ناصر کاظمی ہیں۔

اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ان شعرا کے کلام میں شعریتی حربے کی حرکیات کا ایک بنیادی طرز اس انداز میں طے ہوتا ہے۔ یعنی کسی شاعر کے ہاں صوتیاتی گونج میں۔ جیسا کہ درج ذیل سطر کے پڑھنے سے اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس کی صوتیاتی گونج ہمیں سنائی دیتی ہے۔ ’’ہاڈ جلیں جوں لاکڑی، کیس جلیں جو گھاس۔‘‘

جبکہ کچھ شعرا میں ان کا شعریتی حربہ تصویریاتی یا صوریاتی تبدل سے تشکیل پاتا ہے۔ اور یہ طرز، اردو شاعری میں بھی قریب قریب ایک معمول کی طرح مروج ہے۔

اقبال کے شعریتی حربے کا غالب طرز اسی صوتیاتی تبدل سے متعین ہوتا ہے۔ یعنی اقبال کی شاعری میں ایک صوتی دبدبے کی دھمک موجود ہے۔ اور بعض اوقات یہ دھمک اس قدر بلند اور حاوی ہو جاتی ہے کہ الفاظ بے معنی ہو کر صرف دھمک پیدا کرنے کا کام کرتے لگتے ہیں۔ اس بات سے کون انکار کرے گا کہ اقبال کی شاعری میں الفاظ کا ایک اژدہام موجود ہے۔ ’’لفاظی‘‘ کے ریلے بہے چلے آتے ہیں۔

اقبال کے شعریتی حربے کا یہ طرز ان کی ابتدائی شاعری سے جڑ پکڑنے لگتا ہے۔ لفظ، الفاظ اور لفاظی کی بھیڑ اس قدر ہے کہ معنویت کی تلاش لاحاصل معلوم ہونے لگتی ہے۔

یقیناً جب صوتیاتی تبدل اور ایک آہنگ اور دھمک مقصود ہوں تو معنویت پیچھے رہ جاتی ہے۔ لیکن جہاں سے اقبال کا شعریتی حربہ بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے، وہاں سے یہ بندوبست بدل جاتا ہے۔ اب شعریتی حربہ اپنے معنویتی ارتکاز کو یوں کام میں لاتا ہے کہ لفاظی کی دھمک معنویتی ارتکاز پر بار بار ضرب لگاتی ہے۔ یعنی وہی کرب یا وجودیاتی بے چینی، اقبال کے ضمن میں جس کا اوپر ذکر آیا، یہ ضرب اصل میں اس معنویت کے کچوکوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

مراد یہ کہ مسلمانوں کی گم شدہ یا چھِنی ہوئی عظمتِ رفتہ سے متعلق کسک، ملال، قلق اقبال کا کُل اثاثہ بنے نظر آتے ہیں۔ یہی وہ معنویتی ارتکاز ہے، جو ان کی ’’بالغ نظر‘‘ شاعری اور ان کے شعریتی حربے کا جوہر ہے۔ اور ’’بالِ جبریل‘‘ کے دو شعر اس ’’کرب‘‘ کو یوں سمیٹے ہوئے ہیں جیسے کسی ’’زخمِ عزیز‘‘ کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ ان اشعار میں ایک دکھ بھری لذت بھی ہے اور ایک وجودی اضطراب بھی۔

دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دلِ ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

متاعِ دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزہٴ خوں ریز ہے ساقی

یا:
حرارت ہے بلا کی بادہٴ تہذیبِ حاضر میں
بھڑک اٹھا بھبھوکا بن کے مسلم کا تنِ خاکی

۔ اس تحریر میں ایک نکتہ اور جو پیش کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ شعریتی حربہ ایک نئی دریافت ہوتا ہے، اور ایک نئی فکری سمت کو سامنے لاتا ہے۔

نئی دریافت سے مراد یہ ہے کہ شعریتی حربہ ایک ایسی صورتِ حال کو گرفت کرتا ہے، جو ایک نئی دریافت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یعنی ایک ایسی حقیقت جو غالباً کئی لوگوں پر گزری تو ہو گی، لیکن کسی نے اسے شناخت نہیں کیا ہو گا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اسے اس طرح گرفت کر کے بیان نہیں کیا ہو گا۔ ان معنوں میں یہ ایک نئی دریافت کہلا سکتی ہے۔

جیسا کہ غالب کا یہ شعر: ہوں گرمیِ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج/میں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں۔

اور جہاں تک نئی فکری سمت کی بات ہے تو یہ اسی نئی دریافت کے معاملے کو بیان کرنے کا ایک مختلف انداز ہے۔ لیکن اسے اس صورت میں بیان کرنا ضروری ہے، کیونکہ شعریتی حربہ بعض اوقات کسی حقیقت کے ضمن میں ایک ایسی سمت کی طرف اشارہ کرنے سے عبارت ہوتا ہے، جو تاحال ایک نئی فکری سمت کی حیثیت سے دریافت نہیں ہوا ہوتا؛ قطع نظر اس سے کہ کسی نے اس نئی فکری سمت کا ادراک کیا یا نہیں، اسے شناخت کیا یا نہیں، اسے اس انداز میں بیان کیا یا نہیں۔ لیکن اس معاملے میں اہم چیز یہ ہے کہ یہ فکری سمت اصل میں حقیقتاً ایک نئی فکری سمت ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ یہ انسانی فکر کی کسی اقلیم میں ایک نئی فکری سمت سجھانے کا سبب بن جاتی ہے یا بن سکتی ہے۔

مراد یہ کہ یہ نئی فکری سمت انسانی فکر و علوم کی کسی شاخ میں ایک نئی سمت کی صورت میں متشکل ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے۔ بلکہ بعض صورتوں میں یہ نئی فکری سمت، سماجی اور مادی دنیا میں کسی نئی حقیقی یا مادی سمت میں بھی منتج ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے۔

یہی سبب ہے کہ میں نے ادھورے مضمون میں یہ استدلال بھی کیا ہے کہ شاعری کو نہ صرف فن بلکہ ایک علم کی حیثیت سے بھی پڑھا اور سمجھا جانا چاہیے۔

اس ضمن میں ایک یہ دلیل بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ کئی باتیں، صورتیں، احوال، جھلکے، وغیرہ، ایسے بھی ہوتے ہیں، جنھیں صرف اور صرف شاعری ہی گرفت میں لا سکتی ہے۔ اور جیسا کہ شاعری کا جوہر، شعریتی حربہ ہے، تو یہ شعریتی حربہ ہی ہے، جو اس نوع کے معاملات کو پکڑ سکتا اور اظہارِ بیان کی گرفت میں لا سکتا ہے۔

۔ جہاں تک شعریتی حربے کی نوعیت کا تعلق ہے، تو شعریتی حربے کو ایک داؤ پیچ کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس میں فکری داؤ پیچ بھی شامل ہے۔ مثلاً نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل۔

یاد رہے کہ اصلاً یہ داؤ پیچ نہیں۔ لیکن جیسا کہ بار بار ذکر ہوا کہ ہر چیز شعریتی حربے کا مواد بن سکتی ہے، تو اسی انداز میں ہر نوع کے داؤ پیچ بھی شعریتی حربے کا مواد بن سکتے ہیں، اور بنتے ہیں۔

۔ وزن، بحر، قافیہ، ردیف، وغیرہ، روایتی طور پر شعریتی حربے کی مقبولِ عام مثالیں ہیں۔ اور یوں موسیقیت کی بھی۔ غلطی یہ ہوئی کہ انھیں ہی شاعری کا ’’لازمہ‘‘ بنا بھی دیا گیا اور سمجھ بھی لیا گیا۔

۔ ایک قول رومن شاعر اووِڈ (Ovid) سے منسوب ہے۔ یعنی یہ کہ فن چُھپا ہے فن کو چُھپانے میں۔ تو بالکل یہی بات شعریتی حربے کے فن کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ یعنی جس شعر میں شعریتی حربہ خود عریاں نظر آ رہا ہو، وہ شعریتی حربہ نہیں۔ یا تو شعریتی حربے کی نقل ہے، اس کا چربہ ہے۔ یعنی کامیاب شعریتی حربہ وہ ہوتا ہے، جہاں شعریتی حربے کا حربہ یا اس کی حربیت ظاہر نہ ہونے پائے۔ یعنی شعریتی حربہ اتنا کامل ہو کہ قاری یا سامع اس کے سحر میں گرفتار ہو جائے، اسے یہ احساس ہی نہ کہ وہ کیا چیز ہے جس کا جادو اس پر چل گیا ہے۔

۔ جیسا کہ شذرات میں یہ بات محض ’عنوان‘ کی حیثیت سے نقل ہوئی: شعریتی حربے کا رچاؤ۔ تو اس سے یہی مفہوم مراد ہے کہ دھیان شعریتی حربے کی طرف جانے ہی نہ پائے۔ مزید یہ بھی کہ شعریتی حربے کا مغز و مواد اپنی مقامیت میں اس طرح پیوست ہو کہ جیسا کہ یہ کسی باغیچے میں ایک اجنبی پودا یا ایک اجنبی پھول بن کر سامنے نہ آئے۔ مگر یاد رہے کہ شعریتی حربہ اس چیز کو بھی ایک حربہ بنا سکتا ہے کہ مانوس چیزوں کے جمگھٹ میں ایک ایسی شے کو لا کر رکھ دے، جو سراسر اجنبی ہو۔

بہرحال شعریتی حربے کے رچاؤ کے دائرہٴ امکان کا یہ کوئی مکمل بیان نہیں۔

۔ یاد رہے کہ جس چیز کو ’شعر و شاعری‘ کی دنیا میں ’اعلیٰ شعر‘ کہا جاتا ہے، اسے اسی کامل شعریتی حربے کے تصور پر مبنی کہا جا سکتا ہے، جس کے بارے میں بہت کچھ مذکور ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں یہ اضافہ ضروری ہے کہ شعریتی حربے کا مغز و مواد جیسا کہ عیاں ہے کہ ہر چیز پر مبنی ہو سکتا ہے، تو اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی شعر میں معانی خود حربہ بن جائیں۔ اسے شعریتی حربے کی معراج سمجھنا چاہیے۔

۔ تاکیداً یہ ذکر کیا جا رہا ہے کہ شعریتی حربے کا مغز و مواد وہ چیز نہیں، جو شعریتی حربے کو تشکیل دیتی ہے، بلکہ یہ شعریتی حربے کی حربیت یا تکنیک یا طریق، وغیرہ، ہے، جس سے شعریتی حربہ متشکل ہوتا ہے اور شعریت جنم لیتی ہے۔

۔ ایک چیز اور جو شذرات میں نقل ہوئی، وہ ہے: شعریت کی منفی تعریف، یعنی شعریت کیا نہیں ہے۔ اس بیچ چند اشاروں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ جن شعریتی حربوں کو تکرار کے ساتھ استعمال میں لایا جاتا ہے، یا جو کثرتِ استعمال سے اپنا اثر کھو بیٹھے ہوتے ہیں، یا جو ابھی پک کر تیار نہیں ہوئے ہوتے ہیں، یا جن کا ابلاغ کمزور رہ جاتا ہے، یا جو مقامیت کے تقاضوں کو زندہ انداز میں کام میں نہیں لا پاتے، وغیرہم، ایسے شعریتی حربے شعریت کو جنم دینے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ یعنی شعریتی حربہ ناکامی سے دوچار ہو کر شعریت کی تخلیق نہیں کر پاتا۔ اور جو شاعری شعریت سے عاری رہے یا عاری ہو، وہ شاعری نہیں۔ کیونکہ اصل میں شعریت ہی ہے، جو شاعری کو شاعری بناتی ہے اور اسے ایک نئی سمت بھی عطا کرتی ہے۔

۔ شعریت کے نظریے سے متعلق ایک اہم نکتہ: اصل میں یہ شعریتی حربہ ہے، بنیادی طور پر لوگ جس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یعنی پہلی نظر میں، پہلی سماعت میں جو چیز ان پر اپنا اثر مرتسم کرتی ہے، وہ شعریتی حربہ ہوتا ہے۔ یہ بعد کی بات ہے کہ ان کی نظر کسی اور چیز کی طرف جائے، یا کوئی اور چیز انھیں پُرکشش معلوم ہو۔

یعنی جو چیز اول اول، پہلے ہی لمحے میں شاعری کا تعلق کسی سامع یا قاری کے ساتھ بناتی ہے، قائم کرتی ہے، وہ کچھ اور نہیں، شعریتی حربہ ہے۔ شعریتی حربے کا مغز و مواد کیا ہے، شعریتی حربے کی نوعیت کیا ہے، شعریتی حربے کے پیچھے کیا مفہوم و معانی پوشیدہ ہیں، وغیرہم، ان چیزوں کی طرف قاری یا سامع کی نظر بعد میں جاتی ہے۔

لیکن یہ چیز بھی نظر میں رہنی چاہیے کہ بعض اوقات شعریتی حربہ متعدد تہوں یا جہات کا حامل ہوتا ہے، اور قاری یا سامع کے ساتھ اس کا تعلق یکدم نہیں بنتا یا نہیں بن پاتا۔ اس کے لیے کچھ وقت یا ذہنی و فکری جتن درکار ہوتا ہے۔ جیسا کہ بسا اوقات غالب کی شاعری کا معاملہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میں کامل شعریتی حربہ اسے کہنا چاہوں گا جو اپنی کلیت میں اور اپنی کلیت کے ساتھ یکدم اپنے قاری یا سامع کے ساتھ مربوط ہو جائے۔ یعنی جس میں کچھ نادیدہ مرحلے حائل نہ رہیں۔

چوتھا حصہ: اردو اقتباسات

اس ذیل میں صرف اہم اقتباسات درج کیے جائیں گے، خواہ وہ طویل ہوں یا مختصر۔

’’صنائع و بدائع پر کلام کی بنیاد رکھنے سے اکثر معنے کا سررشتہ ہاتھ سے جاتا رہتا ہے اور کلام میں بالکل اثر باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ مخاطب کے دل میں یہ خیال گزرنا کہ شاعر نے شعر کی ترتیب میں تصنع کیا ہے اور الفاظ میں اپنی کاریگری ظاہر کرنی چاہی ہے بالکل شعر کی تاثیر کو زائل کر دیتا ہے۔ پس صنائع کی پابندی اور التزام سے تمام اصنافِ سخن میں عموماً اور غزل میں خصوصاً بچنا چاہیے۔ صنعتیں جیسا کہ علمِ بلاغت میں مفصل مذکور ہے دو قسم کی قرار دی گئی ہیں۔ ایک معنوی جیسے طباق، مشاکلہ، لسس، توریہ، حسن تعلیل، تجاہلِ عارفانہ، تعجب، وغیرہ۔ دوسری لفظی جیسے تجنیس، ردالعجز علی الصدور، منقوط، رقعا، خیفا، مقطع، موصل، ترصیع وغیرہ۔ پہلی قسم کی کل صنعتیں اور دوسری قسم کی خاص خاص صنائع عربی اور فارسی کے تمام نامور شعرا نے برتی ہیں۔ مگر کبھی ان کا التزام نہیں کیا۔ اور کلام کی بنیاد ان پر نہیں رکھی۔ ہاں اگر حسنِ اتفاق سے کبھی کوئی ایسا مناسب لفظ سوجھ گیا جس سے معنے مقصود میں خلل واقع نہ ہو اور بیان میں زیادہ حسن پیدا ہو جائے ایسے موقع کو بلاشبہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔‘‘ (1)

’’صنعتِ الفاظ نے ہماری شاعری بلکہ ہمارے تمام لٹریچر کو بے انتہا صدمہ پہنچایا ہے۔ جس کی تفصیل کے لیے ایک جدا کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح عجائبِ قدرت کی تعظیم ہوتے ہوئے آخرِ کار دنیا میں عجائب پرستی ہونے لگی اور خدا کا خیال جاتا رہا۔ اسی طرح ہمارے لٹریچر میں صنائع لفظی کی لے بڑھتے بڑھتے آخرِ کار مہمل الفاظ پرستی باقی رہ گئی اور معنے کا خیال بالکل جاتا رہا۔‘‘ (2)

’’اب یہ دیکھنا چاہیے کہ کلام میں اثر پیدا کرنے کے لیے موزونیت کے علاوہ اور کن کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ کلام دو عنصروں سے مرکب ہوتا ہے، ایک خیال اور دوسرے الفاظ۔ لہٰذا، کلام کے بااثر ہونے کے لیے کچھ خصوصیتیں خیال میں ہونی چاہیئں اور کچھ الفاظ اور ان کی بندش یعنی طرزِ ادا میں۔ ان خصوصیتوں کو شعر کی معنوی اور لفظی خوبیاں کہہ سکتے ہیں۔‘‘ (3)

مسعود حسن رضوی ادیب کے مطابق شعر کی معنوی خوبیاں یہ ہیں: اصلیت، سادگی، بلندی، باریکی، تڑپ۔ اور شعر کی لفظی خوبیاں: سادگی، اختصار، زور، مناسبِ الفاظ، جدت۔

’’۔۔۔ جب کلام فصیح و بلیغ نہ ہو تو صنائع لفظی و معنوی کی موجودگی صرف آورد ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ چیزیں بڑی جلدی ایک مضحک شکل اختیار کر لیتی ہیں۔‘‘ (4)

’’۔۔۔ فن کار ابلاغِ تام اور اظہارِ کلام کے سلسلے میں جس طرح چاہے گا زبان اور الفاظ کو استعمال کرے گا۔ یہ چیزیں اس کے لیے وسیلہ ہیں اور وہ محض وسیلہ کے سنوارنے اور نکھارنے کے لیے عیوبِ کلا کی پروا نہ کرے گا۔ مطلوب تو اظہارِ مفہوم ہے۔ ایک وارداتِ ذہنی یا تجربہٴ حسی یا جذباتی کی تعمیرِ نو ہی مقصود ہے۔ اس سلسلے میں عیوب کے بغیر بات بن جائے تو ٹھیک ہے۔ لیکن فن کار ابلاغ و اظہار کے مقابلے میں محض وسائل کو اتنی اہمیت نہ دے گا۔ تخلیقی فن کاروں نے (خصوصاً شعرا نے) اس عیب سے اتنی آنکھ مچولی کھیلی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ غالب، ذوق، اسیر، آتش، مجروح، ہر فن کار کے ہاں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ (5)

اگر یہاں مفہم سے مراد کوئی فکر ہے، تو شاعری کو سمجھنے کے لیے یہ ایک غلط سمت ہے۔ کیونکہ شاعری کا مطلوب تو محض شعریت ہے۔ کسی بھی قسم کی فکر مرتبہٴ ثانی کی حامل ہو سکتی ہے، اس سے بڑھ کر نہیں۔ اور اگر سید صاحب کی مراد یہی شعریت ہے، تو پھر شاعری کی تفہیم کے ضمن میں یہ ایک درست سمت ہے۔ خلیل

’’۔۔۔ علمِ شعری یعنی ’’بدیع‘‘ کی قدر ہی حسن ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کلام میں عناصرِ جمال کی نشان دہی کرے اور تخلیقِ حسن کے گُر سکھانے کی سعی کرے۔ (گُر سکھانا تو ناممکن ہے، کوشش کی جا سکتی ہے)۔‘‘ (6)

’’بدیع کی تعریف پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ علم اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ حسن پیکر میں بھی ہو سکتا ہے اور مطالب و معنی میں بھی، اس لیے صنائع دو قسم کے ہیں: لفظی و معنوی۔ یوں مغرب میں جمالیات کے سلسلے میں جو موشگافی ہوئی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اربابِ جمالیات اور نقادوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حسن اصلاً صورت سے، پیکر سے، شکل سے، لفظ سے تعلق رکھتا ہے اور ایک صفتِ مطلق ہے جس کے درجے نہیں ہیں۔ عظمت البتہ فن پارے کے معنی یا مطالب سے مربوط ہوتی ہے۔

بہر حال جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، راقم السطور کا موقف یہ ہے کہ عملِ تخلیق کے دوران میں فن کار انتخابِ الفاظ میں احتیاط سے کام لے اور یہ بات ملحوظِ خاطر رکھے کہ یوسف حسین خان کے قول کے مطابق الفاظ میں ایک جوہری قوت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی قوت کے امکانات کو ٹٹولنا اور اس سے کام لینا فن کار کے کمال کی دلیل ہے۔ غالب نے لفظوں کی پراسرار جوہری قوت کی طرف نہایت بلیغ انداز میں اشارے کیے ہیں۔ مثلاً: گنجینہٴ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے/جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے۔‘‘ (7)

’’مولانا روحی اپنے موقف کی تصریح کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ الفاظ درحقیقت وسائل اور ذرائع ہیں اور ان کے ذریعے انسان معانی کا اظہار و ابلاغ کر سکتا ہے۔ یہ بات قرینِ صواب معلوم ہوتی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ایسے صنائع کا استعمال اہلِ معنی کی نظر میں کوئی وقعت نہ رکھتا ہو جو کبھی اختلالِ بلاغت کا باعث ہو جائیں یا فسادِ معنی پر منتج ہوں۔ یعنی تجنیس، ترصیع اور تسجیع وغیرہ۔ معانی مقصود بالذات ہیں اور الفاظ مقصود بالعرض (ثانوی حیثیت سے) جو متکلم (یہاں متکلم سے مولانا کی مراد فن کار یا انشا پرداز یا فنونِ لطیفہ کا ماہر ہے) معانی کو لفظ کا تابع سمجھتا ہے اور لفظ کو معانی پر تفوق دیتا ہے، درحقیقت وہ حکمت اور صواب کی راہ سے انحراف کرتا ہے یوں کہہ لیجیے کہ ایسا شخص ایک چیچک رو کالی کلوٹی دلہن کو طرح طرح کے خوبصورت کپڑے پہناتا ہے اور اس کا سنگار کرنے کے بعد اہلِ نظر کے سامنے اسے پیش کرتا رہا۔‘‘ (8)

’’یہ بات کہ بدیع کا ایک حصہ کم از کم صوتیات سے تعلق رکھتا ہے اور لفظِ بے معنی کو بھی موضوعِ کلام بناتا ہے، یوں روشن ہو جاتی ہے کہ انداز کی صفاتِ جمالیاتی دو ہیں۔ یعنی ترنم اور نغمہ۔ ترنم یعنی Melody اور خوشنما آوازوں کی تکرار کا نام ہے۔ نغمہ یعنی تالیف کا پیچیدہ تر حسن وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حروفِ علت اور حروفِ صحیح اور اسی قسم کی دوسری چیزوں سے صحیح طرح سے کام لیا جائے۔ حروفِ علت اور حروفِ صحیح کے امتزاجِ فنی سے شعر میں ایسا نغمہ وجود میں آتا ہے کہ کلام پر ٹھمری کا گمان گزرتا ہے۔‘‘ (9)

’’شعر کی وہ تعریف جسے علم و فن والے بھی تعریف مانیں شعر کے وجود سے بہت بعد پیدا ہوئی۔ اس کا اولین معرف ذوقِ سلیم تھا اور وہی جانتا تھا کہ شعر کیا چیز ہے۔ اور اس بات کی ماہیت اور خصوصیت کیا ہے۔ مگر جب وہ ترقی کرتا ہوا چون و چرا کے درجہ پر پہنچا اور انکار و تسلیم، افہام و تفہیم یا کم از کم شعر کے حسن و قبح کے تعین کی نوبت آئی، تو اول اول وہ موزون و مقفےٰ کلام جو عکسِ جذبات ہونے کے ساتھ ساتھ حسنِ زبان و بیان کا مجسمہ ہوتا، شعر یا اچھا شعر کہلاتا۔ پھر اسی میں ایجادِ معانی اور اختراعِ خیالی کا اضافہ ہوا۔ جب زمانہ اور آگے بڑھا اور شعر نے مزید ترقی کی تو معنیٴ خیالی کی تفصیل کی نوبت آئی، اور شعر کی یہ تعریف قرار پائی کہ وہ کلامِ موزوں و مقفےٰ جو مقدماتِ موہوم پر شامل ہو اور ان کی ترتیب سے غیرواقعی نتائج پیدا کرے، مگر اس طرح کہ وہم کو حقیقت، حقیقت کو وہم کر دکھائے، شعر ہے۔ یہ تینوں تعریفیں شعر کی وہ تعریفیں ہیں، جو خود شعرا کے کلام سے ماخوذ ہیں۔ اور اہلِ تحقیق نے جابجا اپنی کتابوں میں لکھی ہیں۔ اور ان میں وزن و قافیہ ہمیشہ شعر کا جزوِ لاینفک یا کم از کم خاصہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ان دنوں بعض اہلِ علم محض خیال یا اختراعی معانی کو حقیقتِ شعر سے تعبیر کرتے ہیں، قافیہ کا کیا مذکور وزن کو بھی شعر سے خارج ٹھیراتے ہیں۔ خاصہ بھی نہیں مانتے۔ اسے شعر کی چوتھی تعریف سمجھنا چاہیے۔ پانچویں تعریف عروضیوں کی ہے جن کو حسنِ الفاظ اور حسنِ معانی سے بحث نہیں ہوتی، وزن سے سروکار ہوتا ہے اور بس۔ اکثر قافیہ کو بھی نظرانداز کر جاتے ہیں۔ ان کی اصطلاح میں شعر وہ کلام موزون ہے جو عرب کی متداول بحور میں ہو بلکہ ارادةّ کہا گیا ہو۔ اور چونکہ قدما نے اکثر اوزانِ عروضی کے ساتھ ساتھ ہی قافیہ سے بھی بحث کی ہے۔ عروضیوں کی اسی تعریف سے ایک عامیانہ تعریف شعر کی اور پیدا ہو گئی کہ شعر کلامِ موزون و مقفےٰ ہے۔‘‘ (10)

’’چوتھی تعریف ابھی نئی نئی اصطلاح اور ایک خاص طبقے تک محدود ہے۔ اگر آئندہ زمانہ شعر میں وزن و قافیہ کا التزام چھوڑ دے اور عام طور پر ناموزوں، غیرمقفےٰ رنگین خیالی نثر پر بھی شعر کا اطلاق ہونے لگے تو میرے نزدیک شعر کی اس تعریف میں بھی کوئی ہرج نہ ہو گا۔ لیکن ابھی مغرب بھی جس کی تقلید میں بعض بعض مشرقی اس تعریف کو اختیار کرتے جاتے ہیں، عموماً کلامِ غیرموزوں پر پوئڑی کا اطلاق نہیں کرتا۔ اس لیے ابھی وہ دن دور ہے اور شاید دور ہی رہے کہ کلامِ غیرموزون ہمارے ہاں شعر کہلائے اور جب تک کلامِ غیرموزون عام طور پر شعر نہ مان لیا جائے اس تعریف کو جس کا عالمِ شاعری میں ہمارے ہاں کوئی مصداق نہیں شعر کی تعریف کہنا (میرے نزدیک) نہ کوئی مفید تحقیق ہے، نہ کوئی دانشمندی کی بات۔ اگر بعض اہلِ مغرب کلامِ غیرموزون کو پوئٹری مانتے ہیں مانا کریں۔ اپنا اپنا شعر اور اپنی اپنی رائے ہے۔‘‘ (11)

’’شعر ایک لسانی خیالی اور ادبی صناعی کی چیز ہے۔‘‘ (12)

’’اس دلیل کا ماحصل یہی ہے کہ شاعری میں معانی پر الفاظ کو ترجیح ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب معانی عام ہیں، یا خیال موجود، تو شاعری غیر از صناعتِ لفظی نہیں، بے شک یہ مسلم ہے کہ مقصودِ کلام ہونے کے لحاظ سے معانی مقدم ہوتے ہیں۔ لیکن معانی کو ہر شخص اپنے کلام کے ذریعہ سے ادا کرتا ہے۔ اس میں کسی کی خصوصیت نہیں۔ مگر شاعر ان طریقہٴ ادا کو کمال صناعت کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔ اور جب یہ صنعت تمام تر لفظی ہے تو شاعری میں الفاظ کو معانی پر ترجیح ہونی ہی چاہیے۔‘‘ (13)

یہ سمت ہی غلط ہے۔ یعنی شاعری کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے۔ یعنی الفاظ و معانی کے پھیر میں پڑے رہنا۔ الفاظ و معانی تو ایک ہی چیز ہیں۔ الفاظ تو خود معانی اور معانی خود الفاظ ہیں۔ خلیل

’’ایک حکیم سے کسی نے کہا فلاں شاعر بڑا جھوٹ بولتا ہے۔ اس نے کہا شاعر سے خوش بیانی کی توقع رکھنی چاہیے نہ صداقت کی، صداقت انبیا کا خاصہ ہے نہ شعرا کا۔ بات نہایت معقول ہے لیکن پھر بھی جہاں حق و صداقت کا معاملہ آ جائے وہاں خوش بیانی کے ساتھ صداقت لازمی ہونی چاہیے۔ ورنہ شعر صداقت سے اور صداقت شعریت سے محروم رہ جائے گی اور زبان کی ادبیات ناقص ٹھہرے گی۔‘‘ (14)

’’اے ای ہاؤسمین (A.E. Housman) کے خیال میں شاعر اسی طرح شاعری پیدا کرتا ہے، جس طرح موتی کا کیڑا موتی پیدا کرتا ہے۔‘‘ (15)

’’ایڈگر ایلن پو (Edgar Allen Poe) اور جیمز ٹامسن (James Thomson) کے کلام میں ایک جواں مرگ حسین عورت روپ بدل بدل کر سامنے آتی ہے۔ دونوں کی مائیں جوانی میں مر گئی تھیں۔‘‘ (16)

’’بلیک (Blake) کے الفاظ میں شاعری کی قوت، اضداد کی جدلیانہ چپقلش سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (17)

’’امریکی نقاد کلینتھ بروکس (Cleanth Brooks) کی کتاب (The Well-Wrought Urn) میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ شعری کلام کی نثری تشریح ناممکن ہوتی ہے، کیونکہ جو کچھ ایک نظم کہتی ہے وہ صرف اسی کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (18)

’’ییٹس (Yeats) کا کہنا ہے کہ ہم اوروں سے جھگڑیں تو خطابت کرتے ہیں اور اپنے آپ سے جھگڑیں تو شاعری پیدا ہوتی ہے۔ اپنے آپ سے جھگڑنے کے میرے خیال میں دو معنی ہیں۔ اول روحانی شک، جس سے شاعری پیدا ہوتی ہے، دوسرے شاعر کی دو شخصیتوں کی باہمی مخالفت، یعنی ایک طرف تو اس کی شاعرانہ شخصیت اور دوسری طرف اس کی انسانی سیرت۔‘‘ (19)

’’اے ای ہاؤسمین کے مطابق اٹھارہویں صدی کے چار شاعر (بلیک، کاؤپر، سمارٹ، کولنز)، ۔۔۔ جن کے کلام میں اسے ایک خالص شاعرانہ لب و لہجہ محسوس ہوتا تھا۔۔۔ اس کی توجیہہ وہ یوں کرتا ہے کہ ان شاعروں میں ایک خاصیت قدرِ مشترک تھی: وہ سب کے سب دیوانے تھے۔‘‘ (20)

’’شاعرانہ تخئیل کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ پُراسرار رشتے جنھوں نے ہماری کائنات کے شیرازے کو مربوط کر رکھا ہے، وہ ان سے آگاہ ہوتا ہے اور تفاوت کی تہہ میں مشابہت اور تضاد کے پردے میں مطابقت کو محسوس کر سکتا ہے۔‘‘ (21)

’’واقعہ یہ ہے کہ ایک اچھی نظم نہ تو ایک جوہرِ خالص ہوتی ہے نہ ایک نثری موضوع کے اوپر ملمع کاری۔ وہ ان دو متضاد اشیا کا ایک امتزاج ہوتی ہے۔ اگر آپ شاعری کو ہر اس چیز سے جو اس کے لوازم میں نہیں معرا کرنے لگیں تو آپ کی وہی کیفیت ہو گی کہ جیسے کوئی شخص کسی زندہ جسم کی چیر پھاڑ اس غرض سے کرے کہ اس کے اصولِ حیات کو دریافت کرے۔ وہ تشریح الاعضا کے نقطہٴ نگاہ سے تو بہت سی تفصیلی معلومات حاصل کر لے گا، لیکن جہاں تک زندگی کا تعلق ہے وہ عنقا ہو چکی ہو گی۔‘‘ (22)

’’شاعر ہسپانوی مصور (Orbaneja) کی طرح ہوتے ہیں جس کا تذکرہ (Cervantes) کرتا ہے۔ یہ ایک جگہ کھڑا ایک تصویر بنا رہا تھا۔ کسی نے پوچھا، ’’کس چیز کی تصویر بنا رہے ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’جو چیز بھی بن جائے‘‘۔‘‘ (23)

’’ٹی ایس ایلیٹ کی رائے میں ہر نئی نظم ایک نیا اقدام، ایک نئی کوشش اور اس نظم کا ایک ناقص بدل ہوتی ہے جس کے لکھنے کے قابل آج تک کوئی شاعر پیدا نہیں ہوا۔‘‘ (24)

بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہر نئی نظم ایک نئی چیز تخلیق کرنے کی کامیاب یا ناکام کوشش ہوتی ہے۔ خلیل

’’علم جوئی اور عملی مقصد برآری کے اس ہنگامے میں جس کا نام زندگی ہے ہمیں استغراق کے صرف چند پرسکون لمحے نصیب ہوتے ہیں، جن کا حاصل شاعری کی تخلیق یا شاعری سے لذت اندوزی ہوتا ہے۔ شاعری ایک قسم کا فرار ہے، خوابِ زندگی کے بطون میں ایک خواب ہے، گندم کے کھیتوں میں اُگنے والا ایک خودرو پھول ہے۔‘‘ (25)

’’ییٹس کہتا ہے کہ ’’دانائی پہلے پہل تمثالوں میں باتیں کرتی ہے۔‘‘ ایچ ڈبلیو گیرڈ (H.W. Garrod) اس موضوع پر یوں رقم طراز ہے: ’’ایک زمانہ تھا کہ جب دنیا نئی نویلی تھی۔ اس وقت انسانی نطق، اضطراری طور پر شاعری تھا۔ جو شخص بھی بات کرتا تھا اس کے منہ سے خود بخود شاعری کے پھول جھڑتے تھے۔ چیزوں کے نام رکھنا بجائے خود ایک الہامی کام تھا اور استعارہ انسانوں کے جدت آفریں ہونٹوں سے حواس کے نچڑے ہوئے رس کی طرح ٹپکتا تھا۔‘‘ (26)

’’بلیک کا قول ہے کہ ’’اگر ادراک کا پردہ ہٹایا جا سکے تو انسان کو ہر چیز اپنے اصلی رنگ روپ میں دکھائی دے گی۔‘‘‘‘ (27)

لوئیس میک نیس (Louis MacNeice) کے مطابق ’’شاعر کو اکثر بالیقین معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے جب تک کہ وہ اسے سچ مچ کہہ نہ چکے۔ وہ تہذیب و تزکیہ کے ایک جدلیاتی عمل کے ذریعے اپنے مطلب تک رسائی پاتا ہے۔‘‘ (28)

’’کوئی چیز ایسی نہیں جو بذاتِ خود غیرشاعرانہ ہو۔‘‘ (29)

’’کارل یاسپر (Karl Jasper) دو طرح کے فن میں تمیز کرتا ہے۔ اول فن مابعدالطبیعاتی حقیقت کی ترجمانی کے لیے ایک فرہنگِ علامات کی صورت سے، دوم فن تکنیکی چابک دستی کے معنوں میں۔‘‘ (30)

ژنگ (Jung) کے مطابق ’’وہ چیز جو فن کی ماہیت کا جوہر ہے نفسیات کی اقلیم سے باہر ہے۔‘‘ (31)

’’پاسکل (Pascal) کا کہنا ہے کہ دل کے پاس ایسے ایسے دلائل ہوتے ہیں جو عقل کی سمجھ سے باہر ہوتے ہیں۔‘‘ (32)

’’شاعری کا مقصد کبھی جذبات کا پیدا کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ اشیا یا افکار کو تخئیلی طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس عمل میں ضمنی طور پر جذبہ بھی پیدا ہو جائے تو یہ ایک علاحدہ بات ہے۔‘‘ (33)

’’شاعری نہ محض عقل اور نہ محض تخئیل کی پیداوار ہے۔ وہ انسان کی تمام و کل شخصیت یعنی احساس، تخئیل، عقل، محبت، خواہش اور جبلت سے ظہور میں آتی ہے۔‘‘ (34)

’’۔۔ جو زبان ابلاغ کے لیے استعمال کی جائے اس کا کمال یہ ہے کہ وہ بہ آسانی تبدیل ہو کر کسی اور چیز کی صورت اختیار کرے۔ اس کے برخلاف شاعرانہ کلام اظہارِ مطلب کے بعد فوت نہیں ہو جاتا۔ وہ بار بار زندہ ہوتا ہے۔‘‘ (35)

’’شاعر کو یہ عجیب و غریب کام کرنا پڑتا ہے کہ ہمیں یہ محسوس کرائے کہ اس کے الفاظ کی اصوات اور مفاہیم میں بہت گہرا تعلق ہے۔ یہ عجیب و غریب کام ایک طرح کا جادو ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ کئی صدیوں تک شاعری سے جادو کا کام لیا گیا ہے۔ جو لوگ شاعری کو جادو کے طور پر استعمال کرتے تھے ان کے لیے ضروری تھا کہ الفاظ کی طلسمی تاثیر پر یقین رکھتے ہوں اور ان کے معانی سے زیادہ ان کی اصوات پر، کیونکہ جادو کے منتر جنتر عموماً مہمل اور بے معنی ہوتے ہیں۔‘‘ (36)

’’تمام فنون میں شاعری وہ فن ہے جو غیرمتعلق عناصر کی سب سے زیادہ تعداد کو مربوط کرتا ہے۔ مثلاً صوت، مفہوم، اصلی و فرضی واقعات، منطق، صرف و نحو اور ہیئت و مضمون۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ اسے یہ سب کچھ آئے دن کی زبان میں کرنا پڑتا ہے، جو بنیادی طور پر ایک عملی، پیہم بدلتی رہنے والی، آلودگیوں سے بھری ہوئی اور عامیانہ، سوقیانہ اور رذیل کاموں میں استعمال ہونے والی زبان ہے۔ شاعر کو اس پراگندہ و آلودہ مواد سے وہ خالص موسیقی پیدا کرنی پڑتی ہے جو شاعری کی جان ہے۔‘‘ (37)

’’۔۔۔ کوئی نظم اتنی شاندار، اتنی جاندار، اتنی بلند اور شاعری کے لقب کی مستحق نہیں ہو سکتی جتنی ایک ایسی نظم جو لکھنے کی لذت کی خاطر لکھی گئی ہو۔‘‘ (38)

’’شاعری وہ اجتماعی روح ہے جو سوال کرتی ہے، روتی ہے، امید کرتی ہے اور کبھی کبھی پردہٴ غیب میں چھپی ہوئی چیزوں کو بھی ظاہر کرتی ہے۔‘‘ (39)

’’ہینری بریمنڈ (Henri Bremond) ’خالص شاعری‘ کا سب سے بڑا مبلغ تھا۔ خالص شاعری اس کے نزدیک وہ شاعری ہے جس کا جوہر نہ واقعات ہوں، نہ جذبات، نہ افکار، نہ ایسی کوئی اور چیز جسے ہم نثر میں ڈھونڈتے ہیں، بلکہ ایک اور چیز جس کی وہ کوئی واضح تعریف نہیں کرتا۔‘‘ (40)

’’راپیں (Rapin) شاعری کی لازمی صفات کو یکے بعد دیگرے بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے: ’’شاعری میں چند ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جو بیان سے باہر ہیں اور جن کی کوئی توجیہہ یا توصیف نہیں کی جا سکتی؛ انھیں شاعری کے سربستہ راز کہنا چاہیے۔ ایسے کوئی الفاظ موجود نہیں جو ان لطافتوں اور دل پذیریوں کو بیان کر سکیں جو کسی واضح ادراک کے بغیر دل پر جادو سا اثر کرتی ہیں۔‘‘‘‘ (41)

’’۔۔۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ شاعری لسانی موسیقی ہے، پھر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر قسم کی لسانی موسیقی شاعری ہوتی ہے ۔۔۔ ایسے بہت سے غیرفانی اشعار ہیں جن میں صرف اتنی ہی موسیقی ہے جتنی عروض کے قواعد چاہتے ہیں۔‘‘ (42)

’’ایسا کوئی شاعرانہ کلام نہیں جس میں تھوڑی بہت لفظی موسیقی نہ ہو، اور لفظی موسیقی سننے والے کے کانوں تک پہنچتے ہی شاعری بن جاتی ہے۔ لیکن ہمیں اس پر فوراً یہ اضافہ کرنا چاہیے کہ ایک ایسی ادنیٰ چیز (ہوا کی لہروں کی چند تھرتھراہٹیں!) ہماری روح کے ایک ایسے گہرے تجربے کا اہم عنصر نہیں ہو سکتی۔‘‘ (43)

’’جہاں کہیں زبان ہو، جہاں کہیں الفاظ ہوں، وہاں شاعری بالقوہ موجود ہوتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا کافی نہیں اور میں اس پر یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں کہیں خاموشی ہو، ایک خاص قسم کی خاموشی، جہاں کہیں توجہ ہو، ایک خاص قسم کی توجہ؛ اور بالخصوص جہاں کہیں رابطہ ہو، یعنی اشیا، اشخاص اور افکار کا وہ مخفی رابطہ جو منطق سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہو، جو انتہائی درجہ معنی خیز ہوتا ہے، جسے مماثلت کہتےہیں اور جس سے علمِ بیان کے استعارے وضع ہوتے ہیں، وہاں شاعری موجود ہوتی ہے۔ زبان کا سارا تاروپود اور نتیجتاً فکر کا سارا تاروپود، استعاروں پر مشتمل ہے۔ شاعری ہر جگہ موجود ہے۔ وہ اگر کہیں موجود نہیں تو برے شاعروں کے کلام میں موجود نہیں۔‘‘ (44)

’’شاعر کا خواب ایک بہت بڑا اور بے شمار حلقوں والا جال ہے جو کامیابی کی امید کے بغیر ایک نامعلوم گنجینے کی خاطر گہرے پانیوں میں ڈالا جاتا ہے۔‘‘ (45)

’’شاعر کلام بھی نہیں کرتے اور خاموش بھی نہیں رہتے۔‘‘ (46)

’’جو شخص کلام کرتا ہے وہ الفاظ کے اس پار جاتا ہے۔ شاعر الفاظ کے اس پار رہتا ہے۔ اول الذکر کے لیے الفاظ گھریلو ہوتے ہیں، موخرالذکر کے لیے وہ اپنی اصلی حالتِ وحشت میں ہوتے ہیں۔ اول الذکر کے لیے وہ مفیدِ مطلب رسمی آلات ہیں جنھیں وہ آئے دن کی ضرورتوں کے مطابق استعمال کرتا ہے اور جب وہ اس کے کسی کام کے نہیں رہتے تو انھیں بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔ موخرالذکر کے لیے وہ قدرتی چیزیں ہیں جو درختوں اور پودوں کی طرح زمین پر اُگتی ہیں۔‘‘ (47)

’’مجنوں گورکھپوری صاحب نے ایک مرتبہ بہت اچھی بات کہی۔ ان سے کسی نے پوچھا جدید شاعری سمجھ میں نہیں آتی۔ انھوں نے کہا۔ جی نہیں۔ بالکل سمجھ میں آتی ہے۔ سمجھ میں یہ آتا ہے کہ اس میں سمجھنے کی کوئی بات نہیں۔‘‘ (48)

’’لغوی اعتبار سے ہیئت ایک ایسی خارجی شکل کا نام ہے جو کسی چیز کی انفرادیت کی حدود کو متعین کرتی ہے چنانچہ فنی اعتبار سے ہیئت اظہار کی خارجی صورت کا نام ہے۔‘‘ (49)

’’۔۔۔ شعر کی ہیئت ایک تو وہ معین اور واضح ہیئت ہے جس کا تعلق سراسر اس کی ظاہری صورت سے ہے اور اس سلسلے میں کوئی الجھن نہیں۔ لیکن دوسری طرف اس معینہ ہیئت کے اندر ہر فن پارہ اپنی ایک علاحدہ ہیئت بھی رکھتا ہے۔ یہ ہیئت ان تمام تاثرات کے مجموعے کا نام ہے جو لفظ اپنی مختلف سطحوں یعنی صوتی، معنوی اور تلازماتی سطح پر پیدا کرتا ہے۔ یہ ہیئت ایک وجودِ نامیہ کی طرح ارتقا کے مختلف مراحل پر تغیر پذیر ہونے کے باوجود ایک وحدت، ایک انفرادیت اور اپنی ایک علاحدہ زندگی رکھتی ہے۔ اس ہیئت کا دار و مدار محض فنی پابندیوں پر نہیں ہے ۔۔۔ ہر افسانہ یا ہر نظم ایک خاص خارجی ہیئت کی پابندی کے ساتھ داخلی طور پر اپنی انفرادی اور مجموعی ہیئت کی تشکیل کے لیے آزاد ہے۔‘‘ (50)

’’موسیقی آواز کی تنظیم ہے۔ اشعار کی در و بست (اوزان) موسیقی کی دین ہے۔ شاعر کے لیے موزوں فریم و ساز موسیقی ہی فراہم کرتی ہے۔ موسیقی کو جو تب و تاب اور تاثیر آلاتِ موسیقی سے ملتی ہے، اس سے کچھ زیادہ نہیں تو کم ہی نہیں، شاعری سے ملتی ہے۔ موسیقی موزوں اور مقررہ آواز ہے اور آواز کی زبان شاعری، موسیقی اور شاعری کا قران السعدین اور دونوں علاحدہ علاحدہ بھی انسان کے بخشے ہوئے ۔۔۔ کارنامے اور کرامات ہیں ۔۔۔‘‘ (51)

تین سفید ریش بوڑھوں کی پتھر کاٹنے (تراشنے ) والی حکایت۔ پہلا، پتھر کاٹ رہا ہوں۔ دوسرا، روزی کما رہا ہوں۔ تیسرا، تاج محل بنا رہا ہوں۔ (52)

’’۔۔۔ لسانی تشکیلات میں الفاظ اشیا کا درجہ اختیار کرتے ہیں۔ شیئت اختیار کرتے ہی الفاظ عمومی کنسیپشن کی بجائے تخصیصی معنویت کو پیدا کرتے ہیں۔ تخصیصی معنویت کا وجود پراسس، استخراج، شاعرانہ استدلال کی کڑیوں سے منسلک ہے۔ ۔۔۔ استعارہ اور استعاراتی بیان، مجرد بیان کے برعکس ٹھوس جسمیت پر انحصار کرتا ہے۔ استعارہ بیان کی شیئت سے ربط رکھتا ہے۔ ٹھوس صوری تلازموں، واقعات اور مواقع سے استعارہ کا خمیر اٹھتا ہے۔ چنانچہ جب ہم الفاظ کو شیئت کا درجہ دیتے ہیں تو زبان میں ٹھوس جسمیت کا اضافہ کرتے ہیں۔ زبان کی یہ ٹھوس جسمیت جس کا منبع الفاظ کی شیئت ہے، زبان کو استعارے کے اصلِ اصول سے پیوست کر دیتی ہے۔ ادب کی زبان تمام کی تمام استعاراتی ہو جاتی ہے۔ اب تک تو استعارہ زبان کا جزو تھا۔ جب الفاظ کی شیئت کے حوالے سے زبان کو جسمیت میسر آتی ہے تو وہ کہ کبھی جزو تھا، کل ہو جاتا ہے۔ زبان خود استعارہ بن جاتی ہے۔ زبان کی اس وسعت کو شعور اور کام میں لانا، لسانی تشکیلات کا سرچشمہ ہے۔‘‘ (53)

ملا عبدالقادر بدایونی ابوالفیض فیضی (ملک الشعرا) کے بارے میں ’’منتخب التواریخ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’پورے چالیس سال تک اس نے شعر کہے لیکن سب پھسپھسے اور بے ربط ۔ ہڈیوں کو ترتیب تو اس نے خوب دی لیکن سب گودے سے خالی۔ تمام اشعار پھیکے اور بے مزہ۔‘‘ (54)

’’ایک سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ شعر کی تعریف جب اس قدر نازک مسئلہ ہے تو اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ شاعری کی کتابوں سے اس باب کو سرے سے خارج ہی کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ ایک نہایت معقول جواب ولیم ہنری ہڈسن نے دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’شعر کی تعریف کی ضرورت اس وجہ سے لاحق ہوتی ہے کہ جب تک شعر کے عام اور بنیادی عناصر پر ہم اتفاق نہ کر لیں، شعر کی خوبی کا معیار مقرر کرنے میں کوئی اصول ہماری رہبری کے لیے موجود نہیں رہتا۔‘‘ ممکن ہے کہ شاعر کے لیے یہ ضابطے اور قوانین کچھ زیادہ مفید نہ ہوں، لیکن نقاد کے لیے یہ تعریفیں اصولِ رہنما کا کام دیتی ہیں اور شاعری اور شاعروں کا پایہ معین کرنے میں ان کے بغیر کام ہی نہیں چل سکتا۔ ان کی عدم موجودگی میں شعر کی تنقید بعض صورتوں میں ممکن ہے کہ نہایت افراط و تفریط اور ابتری و انتشار کی حد تک پہنچ جائے۔‘‘ (55)

الطاف حسین حالیؔ کے بارے میں کلیم الدین احمد کے الفاظ: ’’خیالات ماخوذ، واقفیت محدود، نظر سطحی، فہم و ادراک معمولی، غور و فکر ناکافی، تمیز ادنیٰ، دماغی شخصیت اوسط، یہ تھی حالیؔ کی کائنات۔‘‘ (56)

میرے خیال میں کلیم الدین احمد کے جواب میں وارث علوی کی پوری کتاب، ’’حالی، مقدمہ اور ہم‘‘ موجود ہے، اور اس سے بہتر جواب غالباً ممکن نہیں۔ خلیل

’’نثری نظم لکھنا میری نظر میں ازبس مشکل کام ہے۔ نثری نظم میں کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔ یہ نظم ہے یا نہیں ہے۔ جبکہ پابند نظم یا نظمِ آزاد میں کلامِ منظوم بھی نظم ہے چاہے اس میں شعریت ہو یا نہ ہو۔ جیسے حالیؔ اور آزادؔ کی جدید شاعری کو نظم کہا جاتا ہے اگرچہ ان میں اگر کوئی شے نہیں ہے تو وہ شعریت ہے۔‘‘ (57)

عبد العزیز خالد سے مکالمہ: تنویر ظہور
’’س: نثری نظم آپ کے خیال میں اردو ادب کی کوئی خدمت کر سکتی ہے؟
ج: یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر اس کو بجائے نثری نظم شعرِ منثور کیوں نہیں کہتے؟‘‘ (58)

’’۔۔ تیز ردھم اور کچھ نہیں کرتا سب سے پہلے شاعری کو کھا جاتا ہے۔ یہ شاعری میں سے سب ے پہلے میلوڈی کو ختم کرتا ہے۔ اب اتنی تیز دھن میں تو یہی لکھ سکتا ہوں: اک میرا مکھڑا پیارا، پاگل زمانہ سارا، اس میں ’’پیار بھرے دو شرمیلے نین‘‘ نہیں چل سکتے ۔۔۔‘‘ (59)

کیا بھارت میں تیز ردھم پر اچھے گانے نہیں لکھے گئے۔ بات ہے زور قلم اور شعریتی اپج کی۔ مثالیں ملاحظہ کیجیے۔ آہیں نہ بھریں شکوے نہ کیے کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا/اس پر بھی محبت چھپ نہ سکی جب تیرا کسی نے نام لیا (شاعر نخشب جارچوی)۔ دھک دھک کرنے لگا/مورا جیارا ڈرنے لگا/سیاں بئیاں موڑ نہ/کچی کلیاں توڑ نہ (شاعر سمیر انجان)۔ خلیل

’جدید اردو غزل کے نمائندہ شاعر شہزاد احم سے ایک مکالمہ‘ از عمران نقوی
’’آپ جدید اردو غزل کی روایت میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ غزل کے مخالفین اس صنفِ سخن کے دائرہٴ اظہار کو اب بھی محدود قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کیا سوچتے ہیں؟

دائرہٴ اظہار لامحدود کسی بھی چیز کا نہیں ہوتا۔ آج کل میں جدید طبیعات پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں وہاں بھی کہیں نہ کہیں حد ضرور آ جاتی ہے۔ غزل کے معاملے میں لوگوں کو غلط فہمیاں زیادہ ہیں۔ غزل انھی معنوں معنوں میں محدود ہے جن معنوں میں شطرنج۔ ان چونسٹھ خانوں میں مخالف مہروں کی جو دو قطاریں موجود ہوتی ہیں ان کے امکانات لامحدود ہوتے ہیں۔ غزل کے دو مصرعوں میں آپ کوئی بھی بات کہہ سکتے ہیں اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ لیکن غزل لکھنے کے لیے ایک پس منظر کی ضرورت ہوتی ہے ایک پورا فکری نظام ہونا چاہیے جس کے حوالے سے غزل کا شعر لکھا اور سمجھا جا سکے۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ فکری نظام کے بغیر غزل لکھی ہی نہیں جا سکتی۔ ممکن نہیں کہ دو مصرعوں میں کوئی بات کہہ دی جائے مگر اس کا کوئی بہت بڑا حوالہ موجود نہ ہو۔‘‘ (60)

چوتھا حصہ: انگریزی اقتباسات

“The primary aim of poets is verisimilitude, not verity. Poetry is a world of ‘make believe’, not a world of factuality.” (1)

“I watched the words come and drink at my mind.” Louis MacNeice (2)

“Stephen Spender has testified that inspiration sometimes came to him as ‘something still vague, a dim cloud of an idea which I feel must be condensed into a shower of words.’” (3)

‘…the most glorious poetry that has ever been communicated to the world is probably a feeble shadow of the original conception of the poet.’ Shelley (4)

“Swinburne and Poe are very much audializers. Donne, Coleridge, and Pinder are predominantly visualizers. Shakespeare, Pope, Homer and Aeschylus are master of both media, though visualization is generally stronger in their work, as in all intellectual literature.” (5)

“… T. S. Eliot’s challenging remark that the conceptual meaning of poetry is like the piece of meat that burglar throws to the watchdog to keep it occupied while he goes about his proper business.” (6)

Horace: ‘If you wish me to weep at your poems, you must first weep yourself.’ (7)

According to A. E. Housman, poetry is like recreation, natural like turpentine in the fir or morbid like the pearl in the oyster. (8)

“… in true art there is always the double rhythm of creating and destroying.” Edgar Allan Poe (9)

“You are a bit of a policeman in poetry.” Edward Marsh in a letter, 19 November 1913 (10)

“‘You must beware of thinking too much about style,’ said my kindly adviser, ‘or you will become like those fastidious people who polish and polish until there is nothing left.’ (Logan Pearsall Smith, Preface to All Trivia, 1953)” (11)

“We read his (Sherwood Anderson, 1876-1941) stories best when we read them as poetry, with all the lyricism, balance and repetition, emphasis upon sound, imagery, and nuances that we associate with poetry. Anderson has well demonstrated that the short story can aspire to a kind of excellence formerly associated with the poem.” (12)

“It is better to shoot off word-rockets purposelessly into emptiness than to allow dust to gather in the same place. The former is the effect of living language, the latter that of dead language. We often prefer the latter. We are half alive, half dead.” (13)

“Every artist dreams of ‘speaking of his soul without words, …” (14)

“One recalls dangerous similarities between the occasional poem and the poem written straight from the soul.” (15)

– “With fine sentiments, bad literature is made.” (16)

پانچواں حصہ: منتخب اردو شاعری

بہت شروع سے میرا یہ معمول رہا کہ جو شعر اچھا معلوم ہوا اسے ایک بیاض میں لکھ لیا۔ کوئی دیوان پڑھا اس میں جو شعر اچھے لگے، انھیں بھی لکھ لیا۔ یوں تین بیاضیں اکٹھی ہو گئیں۔ ذیل میں نقل کیے جانے والے مصرعے، شعر اور نظمیں انھی تین بیاضوں میں سے منتخب کیے گئے ہیں۔ جیسے جیسے آپ اس انتخاب کو پڑھیے گا، آ پ کو مضمون کے مختلف مقامات یاد آتے جائیں گے۔

ہزار صدیوں کے نافے نچوڑنے کے بعد
مرے شہود کا لمحہ وجود میں آیا
اختر عثمان

ہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مستِ ناز
ذوقِ خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا
میر

موند رکھنا چشم کا ہستی میں عینِ دید ہے
کچھ نہیں آتا نظر جب آنکھ کھولے ہے حباب
میر

تم جسے چاہو چڑھا لو سر پر
ورنہ یوں دوش پہ کاکل ٹھہرے
علی سردار جعفری

میں خار خار ہوں میری بہار لیتا جا
چھپا کے برگ میں اے گلعذار لیتا جا
واجد علی شاہ اختر

گل ہائے رنگا رنگ سے ہے رونقِ چمن
اے ذوقؔ اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

مثلِ آئینہ ہے اس رشکِ قمر کا پہلو
صاف اِدھر سے نظر آتا ہے اُدھر کا پہلو
میر خلیق

لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
نسیم

سوکھ جائے گی اپنی کشتِ امید
نہ کرے گی جو آبیاری آنکھ
میر

میر آؤ گے آپ میں بھی کبھی
سخت مشتاق ہیں تمہارے ہم

ہو گا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میر
کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

حباب آسا محیطِ ہستی میں جو ہے مٹنے کو بن رہا ہے
اختر شیرانی

آسرا اک شمع کا تھا وہ بھی آخر جل بجھی
اب تو کوئی بھی انیسِ شام تنہائی نہیں
صفی

آسماں کی سیر کرتا ہوں میں ساقی کے سبب
کیف

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
ذوق

کس کی منزل کسے کہاں لے جائے
راہ کا ساتھ بھی بہت ہے میاں
فراق گورکھپوری

اشک امڈے ہجر میں جب آہ کی
برق چمکی اور بادل گھر گیا
قدر

پتوں کے ٹوٹنے کی صدا گھٹ کے رہ گئی
جنگل میں دور دور ہوا کا پتا نہ تھا

دارالقضا کہاں رہی مے خانہ بن گیا
ہیں مست جمع محکمہٴ احتساب میں
نواب محمد ضیا الدین احمد درخشاں

نہیں دیتی دکھائی صورتِ زیست
غضب صورت ہوں آیا دیکھ کر آج
ممنون

شب میں کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دُکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں

میسر ہمیں خوابِ راحت کہاں
ذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئی
داغ

جن کی رفتار کے پامال ہیں ہم
وہی آنکھوں میں پھرا کرتے ہیں
ناسخ

بہت آنکھیں ہیں فرشِ راہ چلنا دیکھ کر ظالم
کفِ نازک میں کانٹا چبھ نہ جائے کوئی مژگاں کا
داغ

جب سے سنا ہے آپ کا آوازہٴ جمال
جس دل کو دیکھیے وہ مہیائے عشق ہے
حسرت

گر نہ ٹھکرائے وہ تو پھر اے داغ
کون خوابِ عدم سے اٹھتا ہے

جب کہہ کے ریاضؔ اس نے پکارا سرِ محفل
بن بن کے کئی آدمی اس نام کے اٹھے
ریاض خیرآبادی

بالوں کا وہ پیچ و تاب سر پر
شب کو لیے آفتاب سر پر

تصنع سے بری ہے حسنِ ذاتی
قبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے

ہوسِ لقمہٴ تر کھا گئی لہجے کا جلال
افتخار عارف

سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
افتخار عارف

خوش ہیں دیوانگیِ میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ

ٹک دیکھ لیا دل شاد کیا
خوش وقت ہوئے اور چل نکلے

سن کر فسانہٴ غمِ دل اس نے یہ کہا
ہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے

سائے نے کیا گھیر کے سب کو زبر و زیر
اندھیر ہے، اندھیر ہے، اندھیر ہے، اندھیر
مرزا دبیر

جس دم کمال نرم روی کا دکھاتے ہیں
جھولے میں طفل کے یہ ہوا کو سلاتے ہیں
مرزا دبیر

یوں ہونٹوں پہ تصویرِ سخن وقتِ بیاں ہے
یاقوت سے جیسے رگِ یاقوت عیاں ہے
مرزا دبیر

وہ نظم کے جنون کا رن آج پڑے گا
مصرع تو کہاں ذہن کسی کا نہ لڑے گا
مرزا دبیر

اک بوند تلاطم میں سمندر سے نہ کم تھی
جو کشتیٴ ہستی تھی وہ غرقابِ عدم تھی
مرزا دبیر

لرمنتوف اور دوستوئیفسکی، بودلئیر اور استاں دال
ایک سے ایک وبال
گوتم بدھ اور افلاطون
محض جنون
نانک دیو اور بلھے شاہ
سیدھی راہ
زاہد ڈار ۔ واپسی

مجھے عشق اس پاس یوں لے گیا
کوئی جیسے لاوے گنہ گار کو
میر

رات محفل میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
میر

آئے گنہ گارانِ محبت
نادم نادم نازاں نازاں
فراق گورکھپوری

مقام خانہٴ آفاق وہ ہے
کہ جو آیا ہے وہ کچھ کھو گیا ہے
میر

نہ میں دیوانہ ہوں اصغرؔ نہ مجھو کو ذوقِ عریانی
کوئی کھینچے لیے جاتا ہے خود جیب و گریباں کو

ایک دم ہو روشنی تو کیا نظر آئے ملالؔ
کیا سمجھ پاؤں جو سب کچھ ناگہاں معلوم ہو

میں ساتھ لیے پھرتا ہوں سامانِ ہلاکت
رگ رگ میں مری زہرِ وفا دوڑ رہا ہے
عرش صدیقی

اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں
اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ
شکیبؔ جلالی

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
میر

نامرادانہ زیست کرتا تھا
میر کا طور یاد ہے ہم کو

دور بیٹھا غبارِ میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

وصل اس کا خدا نصیب کرے
میر جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ

شہر میں تفریح کی کوئی جگہ ملتی نہیں
ایک میلہ بھی لگا تو شہر کے باہر لگا
شجاع خاور

لٹا ہے قافلہ جس موڑ پر اب
وہیں پر میں ٹھہر جانے لگا تھا
کمار پاشی

قریہ و شہر و بازار میں
صرف نقطوں لکیروں کی آبادیاں
ساجدہ زیدی

میں شاید انفس و آفاق کے سرِ نہاں میں خود بھی شامل ہوں
ساجدہ زیدی

وہ ایک شخص جو میرے سفر پہ نکلا ہے
متین اس سے کہو راہ سے پلٹ جائے
راشد متین

شاعری ذات میں انار کلی
خود کو دیوار میں چنا دیکھو
حمید اختر

اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں پہلے درد تھا
میر

کچھ دیر ہوئی اشک نہیں آنکھوں سے گرتے
شاید تہہِ مژگاں کوئی لختِ جگر آیا
شاہ قدرت اللہ قدرت

زمینِ کوئے جاناں رنج دے گی آسماں ہو کر
خواجہ محمد وزیر

زمیں سے دب گئے جو دبتے آسماں سے نہ تھے
آتش

بہت سعی کیجے تو مر رہیے میر
بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے

دیوانگی ہو، عقل ہو، امید ہو کہ یاس
اپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آ گیا
جگر مراد آبادی

اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
جگر مراد آبادی

شاخِ گل جھوم کے گلزار میں سیدھی جو ہوئی
پھر گیا آنکھ میں نشہ تری انگڑائی کا
میر سادات حسین خاں آغا جمعہ شرف

آنسو رواں ہیں زلفِ سیاہ کے خیال میں
موتی پرو رہا ہوں ترے بال بال میں
سید آغا حسن امانت

ملا جب وہ کھلا تب یہ معمہ
کیا کرتے تھے اپنی جستجو ہم
منشی امیر احمد مینائی

قریب ہو تو قیامت نہ ہو تو رات ہی رات
وہ آفتاب نہیں آفتاب جیسا ہے
احمد فراز

بازگشتِ شورِ غرقابی سہی
کوئی تو آواز ساحل سے اٹھی
تابش دہلوی

جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
مگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتا
فراق گورکھپوری

ہر ارادے میں نظر آتی ہے اک صورتِ یاس
اکبر الہٰ آبادی

عالمِ ہستی کو تھا مدِ نظر کتمانِ راز
ایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا
اکبر الہٰ آبادی

ہم کہ عریاں بہت ہیں
تماشا نہ بن
اپنی ضد چھوڑ دے
میں تجھے اوڑھ لوں
تو مجھے اوڑھ لے
شاہین مفتی ۔ مفاہمت

نہ کوئی مونسِ دل تھا نہ کوئی دشمنِ جاں
پہلے پہلے تو طبیعت مری گھبرائی بہت
احمد فراز

کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا
حالی

جانور، آدمی، فرشتہ، خدا
آدمی کی ہیں سینکڑوں قسمیں
حالی

بیٹھے رہو ایسی بھی مصور سے حیا کیا
کاہے کو کھنچے جاتے ہو تصویر سے پہلے
قمر جلالوی

مرکز سے دائرے کا وہی فاصلہ رہا
سر پر تھا آسمان گئے جس دیار میں
قمر جلالوی

نہ اذاں دیتا نہ ہشیار برہمن ہوتا
در تو اس شیخ نے کھلوائے ہیں بت خانوں کے
قمر جلالوی

زلف اکھیاں پہ آن لٹکے ہیں
دام بادام دو دو اٹکے ہیں
میر حیدر الدین کامل

ہم تو آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھے
تم نے دیکھا بتاؤ کیسا تھا
احمد لطیف

کچھ کہا گر کسو نے شفقت سے
رو دیا ان نے ایک حسرت سے
میر

نہیں اس سرا بیچ رہتا کوئی

ہم خرابے کے مسافر ہیں ہمارے دل میں
آرزوئے در و دیوار کہاں سے آئی
راج نرائن راز

اس کا تو ایک لفظ بھی مجھ کو نہیں ہے یاد
کل رات ایک شعر کہا تھا جو خواب میں

بھرا ہے درد مندی کا دھواں اس کے دماغ اندر
آنند رام مخلص

آتا ہے صبح اٹھ کر تیری برابری کو
کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشیدِ خاوری کو
سراج الدین علی خاں آرزو

دلدار کی گلی میں مکرر گئے ہیں ہم
ہو آئے ہیں ابھی و پھر آ کر گئے ہیں ہم
آبرو

ٹیسو کے نہیں پھول دہکتے ہیں کوئلے
آئی جنوں میں آگ برہ کی لگا بسنت
آبرو

کوئی نہیں ہے اب ایسا جہان میں غالب
کہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ

بارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی نہ بن
اقبال

جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے
ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں
میر حسن

وجود و عدم دونوں گھر پاس نکلے
نہ یہ دور نکلا، نہ وہ دور نکلا
داغ

میں کل نالہ ایسا کیا اک چمن میں
کہ شعلہ سا برگِ درختاں سے گزرا
مصحفی

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
غالب

آستینوں میں شمع روشن ہے
گوری گوری کلائیاں توبہ

مجھے یہ خوف ہے تیری نشیلی آنکھوں سے
کہ مار دیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے
جلیل لکھنوی

قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو
دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں
حفیظ جالندھری

جگنو اڑ اڑ کے چلے جاتے ہیں صحرا کی طرف
گورِ مجنوں پہ کہیں آج چراغاں ہو گا

نہیں ٹپکتے ہیں پیہم یہ خون کے قطرے
ہمارے حال پہ روتا ہے تیرا خنجر بھی
شاداں بلگرامی

گلوں کی جلوہ گری مہر و مہ کی بوالعجبی
تمام شعبدہ ہائے طلسمِ بے سببی
اصغر گونڈوی

سنتا ہوں بڑے غور سے افسانہٴ ہستی
کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرزِ ادا ہے
اصغر گونڈوی

راز کی جستجو میں مرتا ہوں
اور میں خود ہوں ایک پردہٴ راز
اصغر گونڈوی

ہائے اس شوخ کا ہم شکلِ تمنا ہونا
اصغر گونڈوی

یہ مناظر کچھ نہیں ہیں جب نظر ہے مستعار
اپنی آنکھوں سے کسی دن بزمِ امکاں دیکھتے
اصغر گونڈوی

دل کا آنا ہے کام سے جانا
جائے گا کام سے تو آئے گا
اصغر گونڈوی

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
فانی بدایونی

مرا وجود ہے میری نگاہِ خود نشناس
وہ راز ہوں کہ نہ ہوتا جو رازداں ہوتا
فانی بدایونی

نہ آ قریب کے پروردہٴ فنا ہوں میں
فانی بدایونی

محشر میں جبر و دست سے طالب ہوں داد کے
آیا ہوں اختیار کی تہمت لیے ہوئے
فانی بدایونی

وہ ہے مختار سزا دے کہ جزا دے فانی
دو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہ گار ہیں ہم

فانی ترے عمل ہمہ تن جبر ہی سہی
سانچے میں اختیار کے ڈھالے ہوئے تو ہیں

وہی ہوتی ہے بات کہنے کی
لب تک آ کے جو بات رہ جائے
ناشاد

جو لذت آشنائے مرگ ہوتا خضر تو ہرگز
نہ پیتا آبِ حیواں ڈوب مرتا آبِ حیواں میں
ذوق

اہلِ صورت کا ہے دریا اہلِ معنی کا سراب
نظیر

گنتیاں بھولیں گی جب روزِ شمار آوے گا
ظفر

ساقی نہ کھلا بھید کہ اوندھا ہے فلک کیوں
مدت سے ہے اوندھا ہوا بس جام کسی کا
ظفر

دریا ہوں اک مقام پہ رہتا نہیں ہوں میں
اک خط مستقیم پہ بہتا نہیں ہوں میں
جوش

رفتہ رفتہ عشق مانوسِ جہاں ہونے لگا
فراق

تیرے معیارِ معیشت سے خطر ہے زاہد
خلد میں بھی نہ تری مے کہیں ٹھرا نکلے

ہیں مشتِ خاک لیکن جو کچھ ہیں میر ہم ہیں
مقدور سے زیادہ مقدور ہے ہمارا

جو چیز نظر آئی تصویر نظر آئی
میر

فرقتِ یار میں بدلی کا مزا کچھ نہ ملا
اپنی نظروں میں تو روتی تھی برستی کیا تھی
اکبر

اور کوئی دم کی ہے یاں دم شماری رہ گئی
ظفر

جتنے جگائے فتنے خوابیدہٴ حرص نے
سب آ کے میرے کنجِ قناعت میں سو گئے
ظفر

ایک دیوار گر پڑی دل پر
ایک دیوار کھنچ گئی گھر میں

رنگ لایا ہے دوپٹہ ترا میلا ہو کر
نواب سید محمد خان رند

عدم احتراماً رہے ہم اسیر
نہ حلقہ تھا کوئی نہ زنجیر تھی

خدا سر دے تو سودا دے تری زلفِ پریشاں کا

گلِ مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے
آتش

اگلے مکتوبوں میں کچھ اس سے کتابت ہو تو ہو
ذوق

خورشید وار دیکھتے ہیں سب کو ایک آنکھ
ذوق

قیس سا پھر نہ اٹھا کوئی بنی عامر میں
فخر ہوتا ہے گھرانے کا فقط ایک ہی شخص
حالی

چلتے پھرتے ہوئے مُردوں سے ملاقاتیں ہیں
زندگی کشف و کرامات نظر آتی ہے
حفیظ جالندھری

علاجِ زخم ہے آزادِ احسانِ رفو رہنا

لعل قیمت کو پہنچتا ہے بدخشاں چھوڑ کر

مرتبہ کم حرصِ رفعت سے ہمارا ہو گیا
آفتاب ایسا ہوا اونچا کہ تارا ہو گیا
ناسخ

نفرت سے جو کوئی پیش آیا
کج اپنی کلاہ ہم نے کر لی
مصحفی

جائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیا
شبلی نعمانی

اب بھی گر پڑ کے ضعف سے نالے
ساتواں آسمان لیتے ہیں

انگور میں تھی یہ مے پانی کی چند بوندیں
جس دن سے کھچ گئی ہے تلوار ہو گئی ہے

بادل سے چلے آتے ہیں مضموں مرے آگے

مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالب

کشتیِ کاغذ پہ کیا کیا نامہ بر لے جائے گا

کاش اسی وقت مجھ کو موت آ جائے
آگ میں پھول کس سے دیکھا جائے
جوش

وحشت میں کوئی بات بنانی نہیں آتی
جوش

مست بھونرا گونجتا پھرتا ہے کوہ و دشت میں
روح پھرتی ہے کسی وحشی کی گھبرائی ہوئی
جوش

یہ بھی اک دن خواب ہو جائے گا وہ بھی خواب تھا
جوش

اپنے نافے سے مضطرب ہے غزال
جوش

سانچے میں آدمی کے گلابی ڈھلی ہوئی
جوش

دنیا کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کا کام
پہروں بیٹھے باتیں کرنا دنیا کی
جوش

گٹھڑی کالی رین کی، سونٹی سے لٹکائے
اپنی دھن میں دھیان نگر گئے کیا کیا لوگ
مجید امجد

عجب منزل پہ لائی ہے محبت
گماں ہوتا ہے لامحدود ہیں ہم
عدم

بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی

کتابوں میں یہ کیسے حاشیے ہیں
کتابیں چپ ہیں اور یہ بولتے ہیں
اختر ہوشیارپوری

آئینہ در آئینہ در آئینہ در آئینہ
خود کو خود ہی سے چھپا کر تو کدھر لے جائے گا
شیدا (مشرقی پنجاب کے سکھ شاعر (پیدائش 1989))

خود کو کہتا ہے آسماں پیما
کتنی اوچھی کمند رکھتا ہے
ش ک نظام

جب بھی اڑنے کا جنوں پیدا ہوا
پھول تب تب بن گئے ہیں تتلیاں

سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
اس کی ہر بات اک مقام سے ہے

یاں فکرِ مشیت ہے تو واں دغدغہٴ حشر
آسودگی حرفیست نہ یاں ہے نہ وہاں ہے
سودا

لو جا رہا ہوں قیدِ عناصر کو توڑ کر
پہلا ثبوت ہے یہ مرے اختیار کا
عدم

روایت اپنی جگہ پھر بھی وضع دار رہی
نئے شعور کی رو نکتہ چین کتنی تھی
فضا ابن فیضی

کتنے مان سے کہتا ہے تم میری ہو
سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخن تک
حمیدہ شاہین

خط ان کا بہت خوب، عبارت بہت اچھی
اللہ کرے حسنِ رقم اور زیادہ
داغ

کسی حسیں کے مقدر کی یادگار ہے یہ
جنوں کا چاک گریباں سیا سیا نہ سیا
ولی

یوں ہی آنکھوں میں آ گئے آنسو
جائیے آپ کوئی بات نہیں
سلام مچھلی شہری

یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے

آگے کسو کے کیا کریں دستِ طمع دراز
وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے
میر

بنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گر
ہنرور اپنے بھی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں
ذوق

فلک کے گنبدِ بے در سے ہم نے
نکل جاتے مگر رستہ نہ پایا
ذوق

گر سیہ بخت ہی ہونا تھا نصیبوں میں مرے
زلف ہوتا ترے رخسار پہ یا تل ہوتا
ذوق

اے جنوں! ہم پا برہنہ، گرم پتھر زیرِ پا
دوپہر ہے، سایہ بھی بیٹھا ہے چھپ کر زیرِ پا
ذوق

کچھ رازِ نہاں دل کا عیاں ہو نہیں سکتا
گونگے کا سا ہے خواب بیان ہو نہیں سکتا
ذوق

دلِ شوریدہ سر نے خاک اڑا کر
بیاباں رکھ لیا سر پر اٹھا کر
ذوق

اے ذوق میں تو بیٹھ گیا دل کو تھام کر
اس ناز سے کھڑے تھے وہ رکھ کر کمر پر ہاتھ

کبھی افسوس ہے آتا کبھی رونا آتا
دلِ بیمار کے ہیں دو ہی عیادت والے
ذوق

میری فنا ہے مشعلہٴ محفلِ بقا
پروانہ ہوں میں پرتوِ شمع قدیم کا
شیفتہ

مجھ سے وہ صلح کو اس شان سے آئے گویا
جنگ کے واسطے دارا سے سکندر آیا
شیفتہ

کون کہتا ہے کہ ظلمت میں کم آتا ہے نظر
جو نہ دیکھا تھا سو ہم نے شبِ ہجراں دیکھا
شیفتہ

کس پری زاد کا ہوں دیوانہ
غش میں ہوں اپنے انتخاب کو دیکھ
شیفتہ

صبح رخسار اس کے نیلے تھے
شب جو گزرا خیال بوسے کا
انشا

صحرائے لق و دق میں سلگتا ہوں آپ ہی
وہ آگ ہوں گیا ہو جسے کاروان چھوڑ
انشا

جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
مومن

کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیں
مجھے فکرِ جواب نے مارا
مومن

اے بادِ صبا میری کروٹ تو بدل جانا
مومن

میں نہ کہتا تھا مصور کہ وہ ہے شعلہ عذار
دیکھ تو صفحہٴ قرطاس پہ تصویر نہ کھینچ
مومن

سنگِ در سے ترے نکالی آگ
ہم نے دشمن کا گھر جلانے کو
مومن

میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی
ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا
میر

دکھ میں ہر کو سب بھجیں ہیں سکھ میں بھجے نہ کوئے

جان دے گال جو گوری وہ فرنگن دیکھے
کمپنی قتل ہو مژگاں کی جو پلٹن دیکھے
وزیر

عروسِ فکر ان روزوں لدی رہتی ہے زیور میں
آتش

خاک کا سا ڈھیر سرِ رہ ہوں
قافلہٴ عمر سفر کر گیا
قائم

آزاد ہیں قیود سے افتادگانِ خاک
اڑتا پھرا شجر سے جو برگِ خزاں گرا
آتش

نیند ناراض ہو گئی ہم سے
ہم نے جس رات تم کو یاد کیا

پانچواں حصہ: منتخب پنجابی شاعری

سونے دی اِٹ ماہیا
رب تینوں قلم دتی اینے ظلم نہ لکھ ماہیا

زلفاں دے ول کھل گئے
ترے نال دل لا کے اسیں ہنسنے دا ول بھل گئے

اگ لائی آ سیکن دے
رب تینوں حسن دِتا سانوں رج کے ویکھن دے

ہتھ چھاپ جوانی دی
اک تیرا رنگ سوہنا دوجی لٹک جوانی دی

چھوٹیاں راتاں نیں
عمراں مک جانیاں، نہیں مکنیاں باتاں نیں

دندا بھج گیا آری دا
نماں نماں سک سرمہ مڈھ بج گیا یاری دا

کنکے دا دانہ اے
کالا شیاہ ماہیا اسیں قلعی کرانا اے

سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی
کیکر آکھاں چھڈ وے اڑیا
شاہ حسین

ملیا یار ہوئی رشنائی
شاہ حسین

دکھاں سولاں کیتا ایکا، نہ کوئی سوہرا نہ کوئی پیکا
شاہ حسین

کہے حسین فقیر سائیں دا، بھلے اساں تو ڈھور

راہاں دے وچ اوکھی ہو سیں، اتنا بھار اٹھایو کیوں
شاہ حسین

سبھے پانی ہاریاں، رنگا رنگ گھڑے
شاہ حسین

جگ میں جیون تھوڑا، کون کرے جنجال
شاہ حسین

اک پل سجن جدا نہ تھیوے، بیٹھا اندر ملّ
شاہ حسین

بھلا ہویا گڑ مکھیاں کھادا، اسیں بھن بھنا تو چھٹیاسے
شاہ حسین

بلھے شاہ نالوں چلھا چنگا، جس تے طعام پکائی دا

پتاں نوں لے گئیاں نوہاں، دھیاں نوں لے گئے ہور
بڈھا بڈھی ایویں بیٹھے جیویں سنھ لا گئے چور
جلھن جٹ

ہن کیکر مل ساں جائے کے، مینوں طاقت نہیں رفتار دی
خواجہ فرد فقیر

قاضی ساڈا مر گیا، سُنی پئی مسیت
پیلو ۔ مرزا صاحباں

کجھ نہ بجُھے کجھ نہ سجُھے، دنیا گجُھی بھائے
بابا فرید

اساں بیریاں تو بیر پچھاتا
نی بھابو تیری گلھ ورگا
بولی

اوتھے ککراں نوں لگدے موتی
جتھوں میرا ویر لنگھدا
بولی

بھابو جھولدی سونے وچ آوے
ویر مرا پٹ دا لچھا
بولی

پُھل نیویاں رُکھاں نوں لگدے
شملے دا مان نہ کریں
بولی

پیریں بوٹ جُلاباں چٹیاں
کسے میرا ویر نہیں ڈٹھا
بولی

پرے ہو جا کپاہ دیے پُھٹیے
پہلوں سانوں لنگھ جان دے
بولی

جٹی ہٹی تے شرابن ہوئی
سپ رنگی چھینٹ ویکھ کے
بولی

جٹا چک لے واہ گورو کر کے
باہمنی گلاس ورگی
بولی

حسن کواری دا
جیوں دن چڑھدے دی لالی
بولی

چن گوریاں رناں دے پٹ ویکھے
سورج تپ کر دا
بولی

ربا لگ نہ کسے نوں جاوے
گڑ نالوں عشق مٹھا
بولی

رُکھاں دے گیت سن کے
مرے دل وچ چانن ہویا
بولی

کیہ ہو گیا جوانیے تینوں
پکھی وانگوں ڈولدی پھریں
بولی

گوری گلھ دا بنے خربوزہ
ڈنڈیاں دی ویل بن جائے
بولی

توں شیشہ وے میں آرسی
ویکھیے وار و وار
بولی

چھٹا حصہ: حواشی و تعلیقات

پہلا حصہ: ادھورا مضمون

1۔ “If Ireland has produced no great poet, it is not that her poetic impulse has run dry, but because her critics have failed her, for every community is a solidarity all depending upon each, and each upon all.” W.B. Yeats (Quoted in Vinod Sena’s W. B. Yeats: The Poet as Critic, MacMillan, London, 1986. P.1

2۔ شاعری اور تنقید ایک دوسرے کا دم چھلا کیونکر بن جاتی ہیں اور یہ ’’تقویتِ باہمی‘‘ کس طرح عمل میں آتی ہے، اس کے لیے ہم عصر شعرا اور نقادوں کی ’’ادبی سیاست‘‘ سے واقفیت کافی ہے، اور ثبوت کے لیے پچھلے چالیس پچاس سالوں میں شائع ہونے والے شاعری کے مجموعوں کے ’مقدمے‘ اور ’تعارف‘ اور ادبی جرائد میں شعرا پر درج ہونے والے مضامین دیکھے جا سکتے ہیں۔

آج کی اردو شاعری ایسی ہی صورتِ حال میں مبتلا ہے۔

3۔ ملاحظہ کیجیے: ترقی پسند ادب، سردار جعفری، بالخصوص ص: 168، 192، وغیرہ۔ ان کے مطابق ’’انحطاطی شاعری‘‘ کی ایک مثال ن م راشد کی شاعری (’ماورا‘) ہے۔

4۔ اس ’بحران‘ میں بشمول اور ’الزامات‘ کے، سماجی و علمی پسماندگی کا ذمے دار بھی شاعری کو ہی ٹھہرایا گیا۔ مرزا محمد ہادی رسوا (1931-1858/1857) کے ناول ’’شریف زادہ‘‘ سے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
’’نوکری پر بھی ایشیائی شاعری کا زہریلا اثر ان کے لزوم کاہلی، بے پروائی، بد دماغی کو لیے ہوئے پہنچے۔ بھلا ایسوں سے کیا نوکری ہوتی۔ ڈیڑھ دو برس کے بعد موقوف کر دیے گئے۔‘‘ ص: 109

’’مذاق دونوں کا ملتا ہوا۔ شعر و شاعری سے ان کو بھی نفرت انھیں بھی۔ سمجھتے دونوں تھے، مگر واقعیت میں اس قدر غرق تھے کہ مضامینِ خیالی ان کو ہیچ و پوچ معلوم ہوتے تھے۔‘‘ ص: 109

’’ایک مرتبہ کا ذکر ہے، ۔۔۔ فصیح الملک نواب مرزا صاحب داغ دہلوی کا تیسرا دیوان بڑے ذوق و شوق سے خرید کر لائے۔ سید صاحب اس وقت موجود تھے۔ خدا جانے کیا جی میں آیا، دیوان اٹھا کے دیکھنا شروع کیا۔ اتفاق سے پنسل ہاتھ میں تھی۔ اشعار نظری کرنا شروع کر دیے۔ صفحے کے صفحے کاٹ دیے اور بعض اشعار پر کچھ حاشیے بھی چڑھائے۔ بس یہی مذاق بعینیہٖ مرزا عابد حسین صاحب کا بھی تھا۔ میکانکس میں دونوں کو اعلیٰ درجے کی قابلیت تھی۔ سیکڑوں کلوں کی تجویزیں روزآنہ ہوا کرتی تھیں۔ نقشے بنا کرتے تھے بلکہ اگر مقدور ہوا تو اس کے نمونے بھی بنوائے گئے ورنہ آرزوئیں دلوں میں رہ گئیں۔‘‘ ص ص: 110-109
(ملاحظہ کیجیے، شریف زادہ، اردو اکیڈمی سندھ، کراچی، س۔ن)

مولوی نذیر احمد (1912-1836) اس بحران کا گہر احساس رکھتے تھے: ’’۔۔۔ انگریزی عمل داری نے ہماری دولت، ثروت، رسم و رواج، لباس، وضع، طور طریقہ، تجارت، مذہب، علم، ہنر، عزت، شرافت سب چیزوں پر تو پانی پھیرا ہی تھا، ایک زبان تھی اب اس کا بھی یہ حال ہے کہ ۔۔۔ انگریزوں نے عجز و ناواقفیت کی وجہ سے اکھڑی اکھڑی، غلط، نامربوط اردو بولنی شروع کی، ۔۔۔‘‘ ملاحظہ کیجیے: ابن الوقت، مصنفہ: شمس العلما ڈاکٹر حافظ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی، مرتبہ: سید سبطِ حسن، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبع دوم، فروری 1972، ص: 8

اور حالیؔ کے الفاظ میں: رو ترقی کی چلی آتی ہے موجیں مارتی/اگلے وقتوں کے نشاں کرتی ہوئی زیر و زبر/دستکاری کو مٹاتی، صنعتوں کو روندتی/علم و حکمت کی پرانی بستیاں کرتی کھنڈر

5۔ ’’ہمارے ملک میں فی زماننا شاعری کے لیے صرف ایک شرط یعنی موزوں طبع ہونا درکار ہے۔ جو شخص چند سیدھی سادی متعارف بحروں میں کلام موزوں کر سکتا ہے گویا اس کے شاعر بننے کے لیے کوئی حالتِ منتظرہ باقی نہیں رہتی۔ معمولی مضامین، معمولی تشبیہوں اور استعاروں کا کسی قدر ذخیرہ اس کے لیے موجود ہی ہے جس کو متعدد صدیوں سے لوگ دہراتے چلے آتے ہیں اور اتفاق سے وہ موزوں طبع بھی ہے۔ اب اس کے لیے اور کیا چاہیے۔‘‘ مقدمہٴ شعر و شاعری، خواجہ الطاف حسین حالیؔ، کتب خانہٴ علم و ادب، کراچی، س۔ن، ص: 36

6۔ مشرق و مغرب کے فلسفوں کے تقابلی مطالعے میں بھی اس امر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ مشرقی تصورِ حقیقت غیرمتعین اور مغربی تصورِ حقیقت متعین ہے۔

7۔ ’’حکمت کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے وہ (جمال الدین افغانی ۔ 1897-1838) کہتے ہیں کہ علم و حکمت عالمِ اجسام کے موجودات سے بحث کرتا ہے، اور ان کے لازم و ملزوم کے اسباب و علل کا پتہ چلاتا ہے۔ لیکن علما کا حال یہ ہے کہ اپنے اطراف سے بالکل بے خبر پرانی کتابوں کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں۔ وہ ’’صدری‘‘ اور ’شمسِ بازغہ‘‘ پڑھ کر اپنے کو فخریہ حکیم لکھتے ہیں۔ مگر کبھی جدید سائنسی ایجادات جیسے ٹیلی گراف، ریل گاڑی وغیرہ کے اسباب کا کھوج نہیں لگاتے۔

عجیب تر بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے سامنے ایک لیمپ رکھ کر اول شب سے شمسِ بازغہ کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن ایک دفعہ بھی غور نہیں کرتے کہ لیمپ کی چمنی نکال دی جائے تو وہ دھواں زیادہ دیتا ہے اور اس پر رکھ دی جائے تو دھواں بالکل نہیں دیتا۔‘‘ افغانی کی بنائی ہوئی یہ تصویر بڑی معانی خیز ہے۔ تصویر ایک عالم کی ہے جس کے سامنے دو چیزیں ہیں۔ ایک شمسِ بازغہ اور دوسری لیمپ، جس کی روشنی میں وہ یہ کتاب پڑھ رہا ہے۔ عالم کی توجہ ان دونوں میں سے ایک شے یعنی کتاب پر مرکوز ہے جو علامت ہے قدیم، ازکارِ رفتہ علم کی۔ اور دوسری شے کی حقیقت اس کی نظروں سے اوجھل ہے جو علامت ہے عصرِ جدید کی۔‘‘ (جمال الدین افغانی اور علما، از انور معظم، مشمولہ: فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید، مرتبین: ضیا الحسن فاروقی، مشیر الحق، مکتبہٴ رحمانیہ، لاہور، س۔ن، ص: 400)

8۔ وارث علوی جیسے نقاد بھی اسی نقطہٴ نظر کو درست گردانتے ہیں: ’’نقاد منطق کے چمٹے سے شعر کو ایک مری ہوئی چھپکلی کی طرح پکڑتا ہے اور اپنے گٹھل اوزاروں سے اس کے ایک ایک عضو کو چیرتا پھاڑتا ہے تاکہ اس قوتِ حیات کا پتا لگائے جو شعر کی رگوں میں دوڑ رہی تھی۔ شعر کی یہ قوتِ حیات طلسمات کا یہ آخری نقش نقاد کے ہاتھ کبھی نہیں آتا۔ کوئی تنقید کبھی یہ نہیں بتا سکتی کہ ایک خوبصورت نظم خوب صورت کیوں ہے۔ ایک خوبصورت نظم کی تعریف میں دوسری خوبصورت نظم ہی کہی جا سکتی ہے، تنقید نہیں۔‘‘ تیسرے درجے کا مسافر (منتخب تنقیدی مضامین)، نگارشات، لاہور، سنِ اشاعت: 1986، ص: 80

یہ انتہا پسند اور غیرمعروضی رویہ ہے۔ اسے اسراریت پسندی، یا مطلق اسرار پسندی کہنا چاہیے۔ اس نقطہٴ نظر کا مقصود، مضمرانہ طور پر یہی ہو سکتا ہے کہ ’ایک خوبصورت نظم خوب صورت کیوں ہے‘ کے طلسم کو کھولا ہی نہ جائے۔ کھولنے کی طرف پیش رفت بھی نہ کی جائے۔ ہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مست ناز/ذوقِ خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا (میرؔ)۔ اور یوں بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویہ اور یہ نظریہ اس جھجک اور ہچکچاہٹ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے کہ خوبصورت نظم کی خوبصورتی کا ’کیوں‘ جان کر کہیں اس کی خوبصورتی ختم نہ ہو جائے۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ کائنات کے بھید اور اسرار کی خوبصورتی اسے اسرارِ مطلق سمجھنے میں نہیں، بلکہ اس اسرار کو جستہ جستہ آگے بڑھ بڑھ کر کھولنے میں ہے۔ اسی طرح خوبصورت نظم کی خوبصورتی اس نظم کی خوبصورتی کے طلسم کو کھولنے میں ہے۔ یہ کھولنے سے ماند نہیں پڑے گی، بلکہ دو چند یا دہ چند ہی ہو گی۔ ہاں، کھوج اور جستجو کے عناصر بھی شامل ہوں تو خوبصورت نظم کی خوبصورتی نظم سے نکل کر عامل کا حصہ بھی بنے گی اور عامل سے نکل کر نظم کی خوبصورتی کو مزید تقویت پہنچائے گی۔

یہ رائے کہ ’ایک خوبصورت نظم کی تعریف میں دوسری خوبصورت نظم ہی لکھی جا سکتی ہے‘، ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایک خوبصورت نظم ایک اور خوبصورت (یا غیرخوبصورت) نظم لکھنے کا محرک تو بن سکتی ہے، لیکن ایک نظم، دوسری نظم کی ’’تعریف‘‘ کبھی نہیں ہو سکتی۔ بصورتِ دیگر یا پھر یہ ایک خوبصورت نظم نہیں ہو گی۔ صرف اور صرف تنقید، بلکہ معروضی تنقید ہی یہ بتا سکتی ہے کہ ایک خوبصورت نظم خوبصورت کیوں ہے۔ یا محتاط طور پر اس بات کو یوں کہنا چاہیے کہ کسی بھی انتہائی نقطہٴ نظر کو اپنائے بغیر (یعنی یہ کہ کسی نظم کی خوبصورتی کو جانا ہی نہیں جا سکتا، یا یہ کہ کسی نظم کی خوبصورتی کو مکمل طور پر جانا جا سکتا ہے) ایک نظم کی خوبصورتی کے طلسم کو کھولتے اور کھولتے چلے جانے پر کمربستہ رہنا چاہیے۔

ایک خوبصورت نظم کی خوبصورتی کے طلسم یا ’کیوں‘ کو ایک اسرارِ مطلق قرار دینے کے خلاف ایک اور دلیل بھی لائی جا سکتی ہے۔ شاعر وہیں پیدا ہوتا ہے، جہاں شاعری ہوتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں شاعری نہ ہو، شاعر پیدا نہیں ہو سکتا۔ درست کہ شاعر میں ’شاعری کا ملکہ‘ ودیعتی بھی ہوتا ہے، لیکن شاعری کی خارجی عدم موجودگی میں یہ ودیعتی ملکہ بھی ’قعرِ گمنامی‘ میں ہی پڑا رہتا ہے۔ اس سے یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ اعلیٰ اور خوبصورت شاعری محض ودیعتی نہیں، بلکہ اکتسابی بھی ہوتی ہے۔

دنیا کے بڑے بڑے رزمیے شعریت کے شاہکار نہیں، ’ادب‘ کے شاہکار ہیں۔ ان میں شاعری، داستان، تاریخ، وغیرہ، بہت سی چیزوں کا امتزاج ملتا ہے۔ اور ان کا بنیادی مقصد شعریت کی تخلیق نہیں، بلکہ کچھ اور ہے۔ جہاں تک شاعری کے کردار کا تعلق ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں شاعری کو محض استعمال میں لایا گیا ہے۔ مسدسِ مد و جزرِ اسلام (حالیؔ)، شاہنامہٴ اسلام (حفیظؔ جالندھری)، قلم کا قرض (شوکتؔ واسطی)، برگِ خزاں اوراقِ ناخواندہ (سلومی، عبدالعزیز خالد) جیسی تخلیقات کا مقصدِ اولیٰ شعریت نہیں۔ کہیں غائت پند و موعظت ہے، کہیں ماضی کی شان و شوکت کا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، وغیرہ۔ شاعری کی حیثیت ان میں ایک ذریعے کے واسطے اور وسیلے کی ہے۔ ہاں، یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ان میں یہاں وہاں شعریت کی جھلکیاں نظر آ جاتی ہیں۔ لیکن مجموعی لحاظ سے متذکرہٴ صدر بات ہی صادق آتی ہے۔

9۔ شاعری جزویست از پیغمبری

10۔ ’’کلاسیکی تنقید‘‘ (معروضی تجزیے کے حوالے سے) اس سے مستثنیٰ ہے۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ جہاں تک استاد و شاگرد کے رشتے کا تعلق ہے، یہ عروضی و لسانی (اور فنی) اصلاح تک محدود تھا۔ (’’بے استادا‘‘ اغلباً اسی دور سے یادگار ایک مہنا ہے۔)

مزید یہ کہ شاعری کے فن کو کھول کر ایک قابلِ تعلیم اور قابلِ انتقال ’’مہارت‘‘ نہ بنانا ہمارے غیرمعروضی رویے ہی کا ایک مظہر ہے۔ تسلیم کہ شعریت ایک ’’پراسرار‘‘ شے یا عمل ہے، لیکن اس کا ثبوت تب ہی مہیا ہوتا ہے جب اس ’’پراسراریت‘‘ کو کھولا جائے۔ اگرچہ اسے مکمل طور پر کھولا نہیں جا سکتا، تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کھولنے کی کوشش ہی نہ کی جائے۔ اسے نہ کھولنا ہی غیرمعروضی رویہ ہے۔

مغرب میں معروضی رویے ہی کی بنا پر نہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کا وجود میں آنا اور پھلنا پھولنا ممکن ہو سکا۔ بلکہ فنونِ لطیفہ اور شعر و ادب کی نمود و افزائش بھی عمل میں آئی، اور انھیں قابلِ تعلیم اور قابلِ انتقال ’’فن‘‘ یا ’’مہارت‘‘ بنانے کی طرف مسلسل کوششوں کو جاری رکھا جا سکا۔ ایک مثال ملاحظہ کیجیے:

“Today there are more than 250 American universities with creative-writing programs, and all of these have a poetry component, which means that they not only train aspiring poets but hire men and women who have published poetry to teach them. Many of these men and women go from being students in one writing program to being teachers in another – without, you might say, their feet, metrical or anatomical, having touched the floor. Many colleges and universities that do not have formal writing programs nonetheless hire poets to teach a creative-writing course or two; and the course in writing poetry has also become a staple of the community – college and adult – education menu.” See Joseph Epstein’s Who Killed Poetry, in Dialogue (Washington, U.S.A.), Number 89.3/90, P. 44

11۔ اور حالیؔ یوں رقم طراز ہیں: ’’ایک اور محقق نے شعر کی تعریف اس طرح کی ہے کہ’’جو خیال ایک غیرمعمولی اور نرالے طور پر لفظوں کے ذریعہ سے اس لیے ادا کیا جائے کہ سامع کا دل اس کو سن کر خوش یا متاثر ہو، وہ شعر ہے خواہ نظم میں ہو یا نثر میں۔‘‘ مقدمہٴ شعر و شاعری، ص: 40

مسعود حسن رضوی ادیب لکھتے ہیں: ’’علمِ عروض کی اصطلاح میں کلامِ موزوں کو شعر کہتے ہیں اور منطق کی اصطلاح میں شعر اس کلام کا نام ہے جو انقباض و انبساط نفس کا باعث ہو، یا یوں کہیے کہ وہ کلام جس میں اثر ہو۔۔۔

ان تعریفوں سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی کلامِ موزوں ہو، مگر بے اثر ہو تو وہ عروض کے اعتبار سے شعر ہو گا مگر منطق اسے شعر نہ کہے گی، اسی طرح، اگر کسی کلام میں اثر ہو مگر وہ موزوں نہ ہو تو منطق کی رو سے وہ شعر ہو گا مگر عروض اسے شعر نہ سمجھے گا۔ اس لیے کامل شعر اسے سمجھنا چاہیے جو عروضیوں کے نزدیک بھی شعر ہو اور منطقیوں کے نزدیک بھی، یعنی جس پر عروضی اور منطقی دونوں تعریفیں صادق آئیں۔ اس لیے کامل شعر کی تعریف یا شعر کی کامل تعریف یہ ہو گی۔ ’’موزوں اور بااثر کلام کو شعر کہتے ہیں‘‘۔‘‘ ملاحظہ کیجے: ’’شعر کی معنوی اور لفظی خوبیاں‘‘، مشمولہ: ادبی مطالعے، مرتبہ: مولوی خواجہ حمید الدین صاحب شاہدؔ ایم اے، اعجاز مشین پریس، چھتہ بازار، حیدرآباد، س۔ن، ص: 41

مثلاً مولانا محمد حسین آزاد لکھتے ہیں: ’’کتابوں میں اکثر شعر کے معنی کلامِ موزوں و مقفیٰ لکھے ہیں لیکن درحقیقت چاہیے کہ وہ کلام موثر بھی ہو، ایسا کہ مضمون اوس کا سننے والے کے دل پر اثر کرے۔ اگر کوئی کلام منظوم تو ہو لیکن اثر سے خالی ہو تو وہ ایک ایسا کھانا ہے جس میں کوئی مزا نہیں۔ نہ کھٹا نہ میٹھا۔‘‘ ملاحظہ کیجیے: دربابِ نظم اور کلامِ موزوں، مشمولہ: مقالاتِ مولانا محمد حسین آزاد، جلد اول (علمی، ادبی اور تحقیقی مضامین)، مرتبہ: آغا محمد باقر، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبعِ اول: فروری 1966، ص: 195

مزید ملاحظہ کیجیے: ’’اے گلشنِ فصاحت کے باغبانو! فصاحت اسے نہیں کہتے کہ مبالغے اور بلند پروازی کے بازوؤں سے اڑے، قافیوں کے پروں سے فرفر کرتے گئے۔ لفاظی اور شوکتِ الفاظ کے زور سے آسمان پر چڑھتے گئے۔ اور استعاروں کی تہہ میں ڈؐوب کر غائب ہو گئے۔ فصاحت کے معنی ہیں کہ خوشی یا غم، کسی شے پر رغبت یا اس سے نفرت، کسی شے سے خوف یا خطر یا کسی شے پر قہر یا غضب، غرض جو خیال ہمارے دل میں ہو، اس کے بیان سے وہی اثر، وہی جذبہ، وہی جوش سننے والوں کے دلوں پر چھا جائے، جو اصل کے مشاہدے سے ہوتا ہے۔‘‘ ملاحظہ کیجیے: نظم میں انقلاب، مشمولہ: مقالاتِ مولانا محمد حسین آزاد،
ص ص: 449-448

ایک ترقی پسند نقاد کا فتویٰ سنیے: ’’۔۔۔ آج بھی آرٹ کے لیے سحرکاری سب سے زیادہ ضروری شرط ہے جس کے لیے آج کل تاثیر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جس آرٹ اور ادب میں تاثیر نہیں وہ دو کوڑی کا ہے۔ تاثیر کے معنی یہ ہیں کہ سننے یا پڑھنے والے کے سینے میں فن کار کا دل دھڑکنے لگے، جو نئی آرزؤں، تمناؤں اور خوابوں سے معمورہے۔‘‘ ترقی پسند ادب، سردار جعفری، انجمنِ ترقیِ اردو، ہند، علی گڑھ، بار دوم، 1957، ص ص: 47-46

جملہٴ معترضہ: ’’ترقی پسند ادب‘‘ سے زیادہ یہ کتاب سعادت حسن منٹو کے رد و مخالفت میں ہے۔ مصنف رہ رہ کر ان پر حملہ کرتے ہیں۔ ہر چند صفحات کے بعد ان کا استرداد ضروری ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے انھیں منٹو سے کوئی ’’ذاتی پرخاش‘‘ قسم کی کوئی چیز ہو گئی ہو گی۔

12۔ ’’۔۔۔ اقبال نے بڑے پتے کی بات کہی ہے (مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو/کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی)۔ موضوع کو خارج کر کے ادب کو حسین نہیں بنایا جا سکتا۔ ادب کا حسن بڑی حد تک اپنے موضوع کا مرہونِ منت ہے۔ اس لیے مفہوم کو حسین ہونا چاہیے۔ اپنے عہد کے جرمن شاعر اعظم گوئٹے نے بھی نوجوان شاعروں کو اس غلطی سے بچانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ محض فن پر عبور حاصل کر لینا کافی نہیں ہے۔

حسین موضوع کا کیا مطلب ہے؟ موضوع ہر طرح کا ہوتا ہے۔ پھر یہ حسین موضوع کی قید کیوں؟ میری مراد حسین موضوع سے وہ موضوع ہے جس کے ذریعے سے انسانوں کی زندگی کو خوبصورت بنایا جا سکے۔ جس کا کوئی سماجی مقصد ہو۔ اسے میں موضوع کی معنویت کہوں گا۔ معنویت حسین نہیں ہو گی تو موضوع حسین نہیں ہو گا اور موضوع حسین نہیں ہو گا تو ادب حسین نہیں ہو سکتا ۔۔۔‘‘ مقدمہ شعر و شاعری ص ص: 82-81

’’اس کے معنی یہ ہیں کہ موضوع کی سماجی اہمیت ہونی چاہیے یعنی ایسا موضوع جو انسانوں کی زندگی، ماحول، ٹکراؤ، تضاد، جہد و جہد، جنبش اور حرکت کا ترجمان ہو۔ جس کے ذریعے سے سماج اور تاریخ کے عوامل اور روابط نمایاں ہو سکیں۔ یعنی موضوع حقیقی اور سچا ہونا چاہیے۔ اس لیے ترقی پسند مصنفین خود موضوع اختراع کرنے کے بجائے زندگی اور سماج سے موضوع انتخاب کرتے ہیں اور ان موضوعات کو ہاتھ لگاتے ہیں جو آج کی دنیا میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘‘ ص: 83، مقدمہ شعر و شاعری

وائے موضوع! ہائے ترقی پسند ادب کی پسماندگی!

ان معروضات کے ساتھ ساتھ/کے باوجود جناب سردار جعفری یہ بھی کہہ گزرتے ہیں: ’’لیکن موضوع کا انتخاب بجائے خود کافی نہیں ہے، اس کو پیش کرنے کا طریقہ بھی اہم ہے۔‘‘ ص: 89

13۔ متذکرہ بحران جتنا گہرا ہوتا جاتا تھا، اقدار کے ساز و سامان پر سے توجہ اتنی ہی ہٹتی جاتی تھی۔ بالآخر یہ ہوا کہ سانس کی ڈور کو بھی بحران سے نکلنے کا ذریعہ اختیار کرلیا گیا۔ شاعری کے فن کی تو بات ہی کیا، شاعری بے چاری اس کی زد میں خوب آئی۔

14۔ ’’اندازِ نگارش کی ان صفات سے بحث کرنے سے پہلے، جن کا تعلق بیش تر مغربی ادب سے ہے، ایک بات عرض کر دینا ضروری ہے، وہ یہ کہ ہم بہ امتدادِ زمانہ اپنے قدیم انتقادی نظریات سے ناآشنا ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ اور پرانی ادبی روایت سے اپنا رشتہ اس طرح سے منقطع کرنے پر تلے بیٹھے ہیں گویا آج کل سے پہلے شعر اور نظم کا وجود ہی نہ تھا۔ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ ہر عہد میں، ایک خاص مدت کے بعد، جو ادبی تحریک اس عہد کی مسلمہ اور فعال تحریک ہوتی ہے، جامد ہوتی جاتی ہے اور اس لیے نئے انداز سے سوچنے والے شعرا مسلمہ تحریک کے بعض پہلوؤں کے خلاف بغاوت کر کے شعر کی ایک نئی سمت دریافت کرتے ہیں۔ وہ قدیم شعر کو خارج از بحث نہیں قرار دیتے، نہ پرانی ادبی تحریک کے ورثے سے بے خبر رہتے ہیں، بلکہ وہ اپنے ماضی کے ورثے سے پورا فائدہ اٹھا کر نئے سانچے، پیمانے اور فکر کے پیکر ڈھالتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہی بغاوت کا پہلو پرانی تحریک کا جزو ہو جاتا ہے۔ زمانہ جس بغاوت کو صحت مند خیال کرتا ہے اسے قبول کرتا ہے اور ادبی تحریک اسے جذب کر لیتی ہے ورنہ نئے تجربات کے محض تاریخ میں نام رہ جاتے ہیں۔ ہم لوگ جو آج اپنے پرانے انتقادی پیمانوں سے بالکل ناآشنا ہوتے چلے جا رہے ہیں تو اس کا نتیجہ کلیم احمد اور عبداللطیف صاحب کی افراط و تفریط میں ملاحظہ فرما لیجیے۔‘‘ (ص ص: 306-305، البدائع از عابد)

15۔ مولانا محمد حسین آذاد اپنے معرکتہ الآرا لیکچر ’’نظم میں انقلاب‘‘ میں کلاسیکی شاعری کو ہدفِ تنقید بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے کمال اور مقام کا بھی کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں: ’’اے میرے اہلِ وطن! مجھے بڑا افسوس اس بات کا ہے کہ عبارت کا زور، مضمون کا جوش و خروش اور لطائف و صنائع کے سامان، تمہارے بزرگ اس قدر دے گئے ہیں کہ تمہاری زبان کسی سے کم نہیں۔ کمی فقط اتنی ہے کہ وہ چند بے موقع احاطوں میں گھر کر محبوس ہو گئے ہیں۔ وہ کیا؟ وہ مضامینِ عاشقانہ ہیں جس میں کچھ وصل کا لطف، بہت سے مسرت و ارمان، اس سے زیادہ ہجر کا رونا، شراب، ساقی، بہار، خزاں، فلک کی شکایت اور اقبال مندی کی خوشامد ہے۔ یہ مطالب بھی بالکل خیالی معلوم ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ایسے پیچیدہ اور دور دور کے استعاروں میں ہوتے ہیں کہ عقل کام نہیں کرتی۔ وہ اسے خیال بندی اور نازک خیالی کہتے ہیں اور فخر کی موچھوں پر تاؤ دیتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ان محدود دائروں سے ذرا بھی نکلنا چاہیں تو قدم نہیں اٹھا سکتے۔ یعنی اگر کوئی واقعی سرگزشت یا علمی مطلب یا اخلاقی مضمون نظم کرنا چاہیں تو اس کے بیان میں بے مزہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ ص ص: 451-450

’’پھر بھی ہم یہ دیکھتے ہیں، ہمارے بزرگ ردیف و قافیہ کے ساتھ ایسی دلپسند بحریں اور نازک خیالیوں کے سامان ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں کہ اگر ہم ہمت کریں تو کسی سے پیچھے نہ رہیں۔‘‘ ص: 451

’’میرے اہلِ وطن! آؤ۔ آؤ۔ برائے خدا اپنے ملک کی زبان پر رحم کرو۔ اٹھو، اٹھو! وطن اور اہلِ وطن کی قدیمی ناموری کو بربادی سے بچاؤ۔ تمہاری شاعری جو چند محدود احاطوں میں بلکہ چند زنجیروں میں مقید ہو رہی ہے، اس کو آزاد کرانے میں کوشش کرو، نہیں تو ایک زمانہ تمہاری اولاد ایسا پائے گی کہ ان کی زبان شاعری کے نشان سے بے نشان ہو گی اور اس فخرِ آبائی اور بزرگوں کی کمائی سے محروم ہونا بڑے افسوس کا مقام ہے۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ سرِ دست یہ کام کچھ مشکل ہے۔ کیونکہ ان محدود احاطوں میں جو کچھ موجود ہے وہ ڈیڑھ سو برس سے آج تک بڑے بڑے سحربیان فصیحوں نے شام کو صبح اور صبح کو شام کر کے پیدا کیا ہے۔ دلوں کے خون اور دماغوں کے روغن پسینے کر کے بہائے ہیں، جب یہ دل پسند خیالات، شستہ الفاظ، پاکیزہ ترکیبیں، خوشنما تراشیں، مضمون کی گرمیاں، انداز کی شوخیاں پیدا ہوئی ہیں کہ سننے والوں کے کانوں میں رس ڈالتی ہیں۔ اگر کوئی موزوں طبع چاہے کہ تمام چیزیں جو آنکھوں کے سامنے ہیں ان میں سے جس کو چاہے لے لے اور ان پر شاعری خرچ کر کے وہی لطفِ کلام پیدا کرے جو آج نہایت مشکل بات ہے۔ تمام عالم کی تعریفیں اور ہمارے شکریے ان مزاروں پر پھول برساتے ہیں، جن کے سونے والوں نے انھیں چھوٹے چھوٹے احاطوں میں وہ کچھ کیا کہ سالہا سال چاہیں تو ویسے لوگ پیدا ہوں، ویسی کوشش کریں اور ویسے ہی لطیف اور خوش آئند انداز عموماً زبان میں پیدا ہوں۔

تو بھی ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوشش کریں گے تو ہم بھی کچھ نہ کچھ کر رکھیں گے۔ کیونکہ دلی دم بھر میں گلزار نہیں ہو گئی تھی۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ مضامین جو اب تک ان احاطوں کو آباد کر رہے ہیں، وہ خود اس قیامت کے مضمون ہیں جن میں شیطانِ ملعون نے اپنے سارے مزے کوٹ کوٹ کر بھر دیے ہیں۔ اگر کسی شاعر کی زبان میں قدرتی لذت کم ہو تو بھی مضامینِ مذکورہ اپنی گرمی میں رنجک کی طرح شعر کو لے اڑتے ہیں۔ البتہ عام مضامین میں ایسی چمک دمک پیدا کرنے کے لیے ایک قدرتی قوتِ زبان و بیان اور اصلی فصاحت اعلیٰ درجے کی چاہیے۔ تب ہر ایک مضمون گو ویسا ہی گرمائے، جس سے سننے والوں کا دل پھڑک کر لوٹ جائے۔‘‘ ص، ص: 453, 451

مولانا آزاد کے اس لیکچر میں بین السطور دو بہت اہم باتیں موجود ہیں: پہلی تو یہ کہ شاعری کی ایک تعریف، اور دوسری یہ کہ (یوں ظاہر ہوتا ہے جیسے کہ) وہ شاعری سے زایدہ اردو زبان کی ترقی و تحفظ کے خواہاں تھے۔ ’’ میرے اہلِ وطن! آؤ۔ آؤ۔ برائے خدا اپنے ملک کی زبان پر رحم کرو۔ اٹھو، اٹھو! وطن اور اہلِ وطن کی قدیمی ناموری کو بربادی سے بچاؤ۔ تمہاری شاعری جو چند محدود احاطوں میں بلکہ چند زنجیروں میں مقید ہو رہی ہے، اس کو آزاد کرانے میں کوشش کرو، نہیں تو ایک زمانہ تمہاری اولاد ایسا پائے گی کہ ان کی زبان شاعری کے نشان سے بے نشان ہو گی ۔۔۔‘‘ ص: 451

جہاں تک شاعری کی تعریف کا تعلق ہے، مولانا آزاد اسے نثر سے محض ’خوبصورتیِ بیان‘ کی بنا پر ممتاز کرتے ہیں: ’’پس ہمیں اس سے زیادہ کیا افسوس ہو گا کہ ہم اپنے زوروں کو بے اصل اور معدوم باتوں میں ضائع کرتے ہیں اور جواہر کے خزانے کام کی جگہ نہیں لگا سکتے، بے جگہ لٹاتے ہیں۔ کیسی حسرت آتی ہے، جب میں زبانِ انگریزی میں دیکھتا ہوں کہ ہر قسم کے مطالب و مضامین کو نثر سے زیادہ خوبصورتی کے ساتھ نظم کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ کلام میں جان ڈالتے ہیں اور دونوں کی جان پر احسان کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں کیا! سن کر ترسیں، اپنے تئیں دیکھ کر شرمائیں، کاش ہم جو ٹوٹی ہوئی نثر میں لکھتے ہیں، اتنی ہی قدرت نظم پر بھی ہو جائے جس کے اعلیٰ درجے کے نمونے انگریزی میں موجود ہیں۔‘‘ ص: 451

لہٰذا یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی اور حالیؔ کی اکثر نظموں کی شاعری اس تعریف و معیار کے مطابق ’’تخلیق‘‘ کی گئی ہے۔

16۔ کلاسیکی شاعری کے رد و استرداد میں ’’انجمنِ پنجاب‘‘ (قیام 1865) نے جدید شاعری کی ترویج کے لیے طرحی مشاعروں کی بجائے ’’موضوعاتی مشاعرے‘‘ شروع کیے۔ مصرعِ طرح کی موضوعِ طرح دیا جاتا تھا۔ چند موضوعات یہ ہیں؛ برسات، امید، حُبِ وطن، امن، انصاف، قناعت، تہذیب، اخلاق، وغیرہ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: انجمنِ پنجاب: تاریخ و خدمات، ڈاکٹر صفیہ بانو، کفایت اکیڈمی، کراچی، طبع اول: 1978۔

اس مبحث کی ایک یہ جہت بھی سامنے رہنی چاہیے: ’’غالب سمیت جہاں قدما نے ان (’قافیہ، ردیف، مطلع اور مقطع کی‘) پابندیوں پر اعتراض کیا ہے، وہاں بعض جدید ناقدین، جن میں نئی نظم کے علمبرداران بھی شامل ہیں انھوں نے بھی اسے غزل کی تنگ دامانی ہی قرار دیا ہے اور خیال کی روانی میں ایک بے جا رکاوٹ۔۔۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزل گو قافیے کی بیساکھیوں کے بغیر ایک مصرعہ بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ ناصر کاظمی نے اس اعتراض کا جواب اس طرح دیا تھا۔

کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصر
یہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو

قافیہ کے خلاف تعصبات اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ قافیہ رکاوٹ بننے کی بجائے مضمون سجھاتا ہے، اور بات چونکہ دو مصرعوں ہی میں مکمل کرنا ہوتی ہے، اس لیے قافیے کی مدد سے سوجھنے والا مضمون یا خیال اس ایجاز و اختصار کا بھی حامل ہوتا ہے، غزل کا شعر بجائے خود جس کا مقتضی ہوتا ہے۔۔۔‘‘ ملاحظہ کیجیے ظفر اقبال، پارٹی پالیٹکس، ’’محبت گم شدہ میری‘‘، روزنامہ پاکستان لاہور، 8 نومبر 1995۔

17۔ تاؤ مت کا کہنا ہے کہ علم اضافے پر اضافہ کرتے جانا ہے، اور تفریق کرتے جانا تاؤ اصول ہے۔

“Learning consists in adding to one’s stock day by day, the principle of Tao consists in subtracting.”

اسی طرح شاعر و ادیب کا کام ذخیرہٴ ادب میں اضافہ کرتے رہنا اور نقاد کا کام اس میں تفریق کرتے رہنا ہے۔ ہاں، یہ تفریق معروضی اصولوں کی روشنی میں ہی منصفانہ ہو سکتی ہے۔

18۔ سید عابد علی عابد لکھتے ہیں: ’’۔۔۔ نقادوں میں سے متقدمین اس بات سے آگاہ نظر نہیں آتے کہ مفردات الفاظ یا کلمات محض اصوات ہیں اور بہ نفس خود بالکل معصوم۔ نہ ثقیل نہ غیرثقیل، نہ فصیح نہ غیرفصیح۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ انشا پرداز نے کسی کلمے کو لغوی معنی کے مطابق استعمال کیا ہے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کلمات کی اہمیت، ان کی ترکیب اور ان کا جمالیاتی پہلو ان کے محلِ استعمال سے واضح ہوتا ہے اور اصطلاحاً ان کی ’’نشست‘‘ سے پیدا ہوتا ہے۔ کلمہ کا ثقیل یا غیرثقیل ہونا، غریب یا نادر ہونا بالکل اضافی باتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ ناخواندہ اشخاص کے لیے بیش تر الفاظ ثقیل اور غریب ہوں گے اور علما کے لیے اکثر الفاظ مانوس، ۔۔۔‘‘ ص ص: 112-111 البدیع (محسناتِ شعری کا انتقادی جائزہ)، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبع اول، مارچ 1985

’’اب رہا الفاظ کا اپنی ذات میں ثقیل یا غیرثقیل ہونا تو پہلے یہ اصولِ موضوعہ تسلیم ہونا چاہیے کہ الفاظ ہمیشہ معانی سے مربوط اور مشروط ہوتے ہیں۔ پیچ دار، دقیق اور نادر تصورات یقیناً پیچ دار، دقیق اور نادر الفاظ و تراکیب کا تقاضا کرتے ہیں اور انشا پرداز مجبور ہو گا کہ موزوں ترین الفاظ کا استعمال کرے۔ ہر چند بہ ظاہر وہ ثقیل معلوم ہوتے ہوں۔‘‘ ص: 116

19۔ سر سید لکھتےہیں: ’’لٹریچر ایک ایسا علم ہے جو ہرایک کی زبان کے ساتھ مخصوص ہے مگر اس زمانہ میں اس میں بھی طریقِ بیان اور طرزِ ادائے مضموں نے ایسی ترقی کی ہے کہ ہم اپنی قدیم طرزِ تحریر اور طریقِ ادائے مضموں کے چھوڑنے اور اس جدید طرز کے اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لفاظی اور ہجر و وصال کی شاعری، مبالغہ اور اَن نیچرل مدح سرائی، صنائع و بدائع جو ایک زمانہ میں حسنِ تحریر سمجھے جاتے تھے اب حد سے زیادہ معیوب ہیں۔‘‘ (موجودہ تعلیم، (27 دسمبر، 1894)، مقالاتِ سر سید، حصہ دواز دہم، تقریری مقالات، مرتبہ: مولانا محمد اسماعیل پانی پتی، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبعِ اول: اگست 1963، ص: 251)

حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم مغرب کو فکری طور پر سر نہیں کر لیتے، ہم اس سے مرعوب و مغلوب رہیں گے۔ یہ کام کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے لوازمات پر علاحدہ سے ایک بحث درکار ہے۔ تاہم، اتنا ضرور ہے کہ جتنا مغرب نے مشرق پر لکھا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہم مغرب پر لکھ لیں، تب کہیں جا کر یہ کام ابتدا پکڑتا ہے۔

20۔ مولانا محمد حسین آزاد نے بھی ’ذوقِ شعری‘ کے اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے: ’’دنیا میں بعضے لوگ ایسے ہیں کہ جب شعر سنتے ہیں تو دل بے قرار اور طبیعت بے اختیار ہو جاتی ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ان کا دل مثلِ آئینہ صاف اور طبیعت آبِ زلال کی مانند اثرپذیر ہے۔ اور بعضے ایسے ہیں کہ اونکے سامنے اگر طلسماتِ معانی کے دریا کو شیشہ میں (بند) کر کے رکھ دو تو بھی اونھیں خبر نہ ہو۔ سبب اس کا کدورتِ دل ہے کہ نور معنی و مضمون کا اوس میں اثر نہیں کر (سکتا)۔‘‘ ملاحظہ کیجیے: دربابِ نظم و کلامِ موزوں، ۔۔۔ ص: 201

21۔ ہماری شاعری کی تنقید میں امریکی عملیت پسندی (Pragmatism) کی روح کارفرما دیکھی جا سکتی ہے۔ نتائج سے اسباب اخذ کرنا اور پھر انھیں پرکھنا ایک رجعتی اور داخلی اور یک طرفہ عمل ہونے کے ساتھ ساتھ مسئلے کی گمراہ کن تشکیل کا باعث بھی بنا ہے۔ جبکہ اسباب کو نتائج کی جکڑبندی سے علاحدہ کر کے آزاد حیثیت میں پرکھنا ضروری ہے۔ یوں ان کی اور ان کے علم کی معروضیت برقرار رہ سکتی ہے۔

22۔ صوتِ ترتیبی کا غلبہ بھی معنی ہونے کے باوجود انھیں مہمل کر دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ توجہ معنی کے بجائے موسیقی میں گم ہو جاتی ہے۔ ریلوے ٹرین کی ٹھکا ٹھک کھڑکی سے نظر آنے والے مناظر تک کو دھندلا، ذہن کو مضمحل اور ذہنی صلاحیت کو موہوم کر دیتی ہے۔

شاعری (یعنی گیتوں، وغیرہ) میں مہمل الفاظ و تراکیب اور مصرعوں کی موجودگی اور تکرار محض مہمل ہی نہیں رہتی۔ بے معنی تکراری مصرعے صوتی تلازمے ہونے کے ساتھ ساتھ ’خالی ظرف‘ بھی ہوتے ہیں، جن میں موقع محل معنی کا پانی بھرتے ہیں۔ جیسے توتک توتک توتیاں ہے جمالو، یاری ہو گئی یار سے لک ٹنوں ٹنوں، وغیرہ۔

“The poet operates with the complex value of words – that is, by composing sound and sense – very much as algebra operates with complex numbers.” Paul Valery, Aesthetics (The Collected Works of Paul Valery, edited by Jackson Mathews, Vol: 13, translated by Ralph Manheim, with an Introduction by Herbert Read, Routledge & Kegan Paul, London, 1964, PP. 68-69)

23۔ See Paul Valery’s Remarks on Poetry, in Symposium: An Anthology, edited and translated by F. G. West, Methuen, London, 1980, especially PP. 51-54

یہاں ضروری اور متعلقہ سطور نقل کی جاتی ہیں:

“Here is the quotation. It is an excerpt from a letter from Racan to Chapelain, in which Racan tells us that Malherbe likened prose to walking and to dancing, …

“Walking, like prose, always has a precise object. It is an act directed toward some object which we amin to reach…

“Dancing is … without doubt a system of acts which are, at the same time, ends in themselves. Dancing goes nowhere … As different as dance is from utilitarian movement, this essential though infinitely simple observation should be noted: that it uses the same limbs, the same organs, bones, muscles and nerves as walking itself.” PP. 51-52

24۔ مشرقی موسیقی کی اساس ’’نغمگی‘‘ (Melody) پر ہے، اور اردو شاعری میں مستعمل اوزان اور بحریں اس نغمگی سے بدرجہٴ اتم مملو ہیں۔ مغربی موسیقی کی اساس ہم آہنگی (Harmony) پر ہے۔ مغربی شاعری کے اوزان اور بحریں اپنی موسیقی سے کس حد تک متعلق ہیں، راقم اس ضمن میں کچھ کہنے کا اہل نہیں، تاہم، اتنا ضرور ہے کہ انگریزی شاعری کے محدود مطالعے میں روانی اور نغمگی کی کمیابی (اور نایابی) کا شدید احساس ہوتا ہے۔

25۔ مثال کے طور پر ’روزنامہ جنگ‘ میں مجیب الرحمٰن شامی کا کالم ’جلسہٴ عام‘ دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی نثر میں نہایت متاثر کن ردھم موجود ہے (جس کی عام وجہ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں۔)، جو کبھی کبھی اور کہیں کہیں جرمن شاعر برٹالٹ بریخت کی شاعری (اردو تراجم) سے لگا کھانے لگتا ہے۔

26۔ اچھی اور اعلیٰ پائے کی نثر میں بھی روانی اور بہاؤ پایا جاتا ہے، جو ’’نغمگی‘‘ کی حدوں کو چھونے کا اہل بھی ہو جاتا ہے۔ اعلیٰ نثری شاعری بھی اس مقام تک پہنچنے کے جتن میں ہے۔ اور ابھی تو اس کی ابتدا ہے۔ ابھی تو کوئی سنگِ میل بھی قائم نہیں ہوا۔

27۔ اس ضمن میں مسعود حسن رضوی ادیب کی آگاہی قابلِ غور ہے: ’’۔۔۔ شعر کی مطنقی اور عروضی تعریفوں کا انداز خود بتاتا ہے کہ منطق نے نفسِ شعر سے بحث کی ہے اور عروض نے صورتِ شعر سے، لہٰذا، جو کلام شعر کی منطقی تعریف پر ٹھیک اترے مگر عروضی تعریف کے مطابق نہ ہو، اس پر شعر کا اطلاق اس کلام سے زیادہ صحیح ہے جو شعر کی عروضی تعریف پر ٹھیک اترے، مگر منطقی تعریف کے مطابق نہ ہو، یعنی موزوں اور بے اثر کلام کے مقابلے میں ناموزوں اور بااثر کلام کو شعر کہنا زیادہ صحیح ہے مگر کامل شعر وہی ہے جس میں موزونیت بھی ہو اور اثر بھی،‘‘ ص: 42

یہاں ان کی ایک دلیل نہایت اہم ہے: ’’موزونیت بھی کلام میں اثر پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے شعر کی تعریف صرف اتنی ہی کافی تھی کہ بااثر کلام کو شعر کہتے ہیں اور موزونیت کا ذکر ان چیزوں کے سلسلے میں کیا جا سکتا تھا جن پر شعر کے اثر کا انحصار ہے۔۔۔‘‘ ص: 42

لیکن ایک عمومی اور متفقہ رائے کے مقابلے میں وہ اپنی دلیل کو خود ہی رد کر دیتے ہیں: ’’۔۔۔ مگر چونکہ موزونیت شعر کی ایک نہایت نمایاں خصوصیت ہے یہاں تک کہ اہلِ عروض شعر کے لیے صرف اسی صفت کو کافی سمجھتے ہیں اور ایسے ہر کلام کو جس میں موزونیت ہو شعر کہتے ہیں، اس لیے یہی مناسب معلوم ہوا کہ شعر کے لیے موزونیت لازم کر دی جائے، اور شعر کی تعریف میں اس کا ذکر صراحتاً کر دیا جائے۔‘‘ ص: 43
شعر کی معنوی اور لفظی خوبیاں، از مسعود حسن رضوی، مشمولہ: ادبی مطالعے، مرتبہ: مولوی خواجہ حمیدالدین صاحب شاہد ام اے، اعجاز مشین پریس، چھتہ بازار، حیدر آباد، س۔ن

28۔ یہاں ایک ممکنہ غلط فہمی کا ازالہ کر دینا مناسب ہے کہ مکمل اتفاق اور اکثریتی اتفاق کی جمہوریت، معروضیت اور صداقت کا پیمانہ نہیں بن سکتی۔ اضافی معروضیت اور اس کے ثمرات و نتائج کو قبول کرتے ہوئے شاعری کی ماہیت تک پہنچنے کے لیے مسلسل جستجو میں رہنا ہی تنقیدِ شعر کے متنہا و منصب کے شایانِ شان ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیچے کی گئی توضیح (ملاحظہ کیجیے حوالہ 30) میں کارل پاپر کی معروضیت کی تعریف کو اضافی معروضیت کا ایک حصہ قرار دیا گیا ہے۔ کارل پاپر کی معروضیت یعنی بین الموضوعیت مختلف موضوعیتوں کے اتفاق و اتحاد ہی سے وجود میں آتی ہے۔

29۔ مثال کے طور پر: جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا/تنگ احوال ہے اس یوسفِ زندانی کا (میرؔ)۔ آیا شعریت پیدا کرنے کے لیے یہ خاص فکر (خاص طرح) بیان ہوئی ہے یا یہ فکر ایک (خاص طرح سے) بیان کرنے میں/سے شعریت پیدا ہوئی۔ اگر اہم اول الذکر درست ٹھہرائیں تو فکر اور اگر ثانی الذکر کو تسلیم کریں تو شعریت ثانوی حیثیت کی حامل قرار پاتی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مواد و مضمون کے بغیر شعریت پیدا کی جا سکتی ہے۔ یقیناً نہیں۔ لیکن کیا تنہا مواد و مضمون شعر کہلا سکتا ہے۔ قطعاً نہیں۔

30۔ معروضیت: کی اہم ترین تعریف کارل پاپر نے وضع کی ہے: یعنی یہ کہ معروضیت بین الموضوعیت سے ابھرتی ہے۔ موجودہ تحریر میں جہاں کہیں معروضیت کی بات کی گئی ہے، اس سے اضافی معروضیت اور معروضیت بحیثیت بین الموضوعیت دونوں مراد ہیں۔ لیکن اضافی معروضیت کے تصور کو اولیت دی گئی ہے۔ معروضیت بحیثیت بین الموضوعیت کو اضافی معروضیت کے ایک اہم تکملے کے طور پر اضافی معروضیت کا حصہ ہی سمجھا گیا ہے۔

31۔ شاعری سمیت باقی اشیا سے متعلق یہ سوال کہ ’’کیا چیز کیا ہے؟‘‘ کی تجزیاتی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے:

Martin Heidegger, “What is Philosophy?”

32۔ حربہ:
فیروزاللغات اردو جامع: (ع۔ ا۔ مذ) (1) آلہٴ جنگ۔ جنگی ہتھیار۔ (2) چوبدستی۔ تازیانہ۔ حربہ کرنا۔ (ا۔ محاورہ) وار کرنا۔ حملہ کرنا۔
فرہنگِ آصفیہ: ع۔ اسمِ مذکر (1) لڑائی کا ہتھیار (2) حملہ۔ چڑھائی۔ دھاوا۔ (3) جست۔ جھپٹا۔ حربہ کرنا۔ ا۔ فعلِ متعدی۔ حملہ کرنا۔ مارنے کا ارادہ کرنا۔ چوٹ کرنا۔

عیاں رہے کہ یہاں اس مضمون میں لفظ ’حربہ‘ کو ان معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، جن معنوں میں انگریزی کا لفظ ڈیوائس (Device) استعمال ہوتا ہے۔ اور لفظ ڈیوائس نہایت وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ مثال کے لیے آپ کوئی بھی اچھی انگریزی لغت ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ پوری اصطلاح کا انگریزی نعم البدل پوئیٹیکل ڈیوائس (Poetical Device) ہے۔

مزید یہ کہ یہاں لفظ حربہ سے بنیادی طور پر ایک آزاد اور غیرجانبدارانہ مفہوم مراد لیا گیا ہے۔ یعنی ایسا کوئی انداز، طریق، چال، تکنیک، منطق، غیرمنطق، اُلٹ پھیر، وغیرہ، وغیرہ، جس کی مدد سے ایک خاص مفہوم تشیکل دیا جا سکے۔

33۔ یہ شعریتی حربہ ہی تھا جس کی کچھ صورتوں کو کلاسیکی تنقید میں ’صنائع و بدائع‘ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اور جس چیز کو (آج) ’شاعرانہ دلیل‘ یا ’شاعرانہ جست‘ کہا جاتا ہے وہ بھی شعریتی حربے سے ہی تعلق رکھتی ہے۔

34۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعریتی حربے کا کمزور ہونا یا نہ ہونا اس کی مستوریت پر منحصر ہے۔ کم مستوریت اور زائد از حد مستوریت شعریتی حربے کو نحیف و نزار بھی کر سکتی ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک جادوگر اپنے کرتب دکھاتا ہے۔ اس کا مکمل عمل جادو کہلاتا ہے، لیکن اگر اس کے عمل میں کوئی جھول یا خامی رہ جائے تو اس کا ’کرتب‘ بیکار اور بے نقاب ہو جاتا ہے۔ یا اگر وہ خود اپنے کرتب کو کھول کر دکھا دے تو یہ جادو نہیں رہے گا۔

شاعری میں بھی کچھ اسی طرح ہوتا ہے۔ اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ شعر کی وضاحت یا تشریح یا تجزیہ یا اس کو کھولنا شعر کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اسے اس کی وحدت اور سالمیت کے ساتھ جذب الفہم کیا جا سکتا ہے۔

محمد ہادی حسین کے مطابق امریکی نقاد کلینتھ بروکس (Cleanth Brooks) نے اپنی کتاب (The Well-Wrought Urn) میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ شعری کلام کی نثری تشریح ناممکن ہوتی ہے، کیونکہ جو کچھ ایک نظم کہتی ہے وہ صرف اسی کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: مغربی شعریات (جدید انگریزی اور فرانسیسی شعریات کے چند شاہکار)، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1968، ص: 188

35۔ See Sherwood Anderson’s Two Loves, in Great Short Stories of the World, edited by Whit and Hallie Burnett, Corgi Books, London, 1967, PP:20-21

36۔ شعرالعجم، حصہ اول، عشرت پبلشنگ ہاؤس، لاہور، بار اول، اکتوبر 1966، ص: 8
شاعری کی ماہیت کی بحث میں موزونیت کے مقام کے بارے میں یہاں ایک واضح اشارہ موجود ہے۔ مراد یہ کہ موزونیت شعر کی ماہیت کا عنصر نہیں۔

37۔ تاہم، اقتباسِ ثانی میں صاف طور پر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ’شعریتی حربہ‘ اگرچہ موجود ہے، لیکن شعریت کا حصول اس کا مقصود نہیں۔ بلکہ اس کا مقصود ابلاغ ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں ’’تشبیہ‘‘ دینے کا عمل، یعنی شعریتی حربے کو حربہ کہنا بجا نہیں۔ کیونکہ بچے (یا شاعر) نے بھِڑ کے نام (یا حقیقت) سے لاعلم ہونے کی وجہ سے بھِڑ (یا حقیقت) کو ’مخطط چادر میں لپٹا ہوا‘ (یا شعریتی حربے کی زبان میں) بیان کیا۔ اس کا بیان حقیقت پر مبنی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس مثال کو بنیاد بنا کر شاعری کے بارے میں چند نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ اول، جیسے یہ کہ شعر (یا شعریت یا شعریتی حربہ) لاعلمی کا پردہ ہے۔ جیسے یہ کہ شاعر کے لیے علوم سے واقفیت ضروری نہیں۔ (شاعری کی تاریخ میں بارہا اس دعوے کی تکرار ہوتی رہی ہے۔ بلکہ آج بھی اس کے دعوے دار موجود ہیں۔ جیسے یہ کہ شاعری اپنی سرشت میں علم دشمن ہے۔ جیسے یہ کہ علم (اور اس کے نتئاج و ثمرات) کی بہتات شاعری (یعنی شعریت) کا انحطاط ہے۔ دوم، جیسے یہ کہ شاعری انسان کی ابتدائی معصومیت کا مظہر ہے۔ جیسے یہ کہ شاعری انسان کی ’’ذاتِ اصل‘‘ کے اظہار کا نام ہے۔ جیسے یہ کہ شاعری ایک پراسرار اور خود رو چشمے کا ابال ہے۔ جیسے یہ کہ شاعری لاشعور یا تحت الشعور سے لفظوں (اور اوزان و بحور) میں براہِ راست نمود پاتی ہے۔

یہاں ان نتائج کو شاعری کا استرداد نہیں بلکہ اس بات کو سامنے لانا مقصود ہے کہ معروضی نقطہٴ نظر کی عدم موجودگی اور اس کی ماہیت سے لاعلمی کے باعث شاعری کے بارے میں کیسے کیسے شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں اوپر جن کا انکار کیا گیا، شعریت کا مغز و مواد بن سکتی ہیں۔

38۔ یکساں اور گھسے پٹے شعریتی حربوں کا بار بار استعمال انھیں پھسپھسا اور بے جان بنا دیتا ہے۔ اس طرح شعریت مفقود ہونے لگتی ہے۔ کلاسیکی اور جدید و معاصر اردو شاعری میں کمزور شعرا کی شاعری اس کا ثبوت ہے۔ یہاں ہمیں شعریتی حربے کا ڈھانچہ ہی دستیاب ہوتا ہے، گوشت پوست اور زندگی غائب۔

تاہم، یہ شاعر کی شعری اپج اور میلان پر ہے کہ وہ اپنی شاعری میں مستعمل شعریتی حربے کام میں لاتا ہے یا نئے اور نامعلوم۔ یوں اگر شعریتی حربے کو ہی پیمانہ مان لیا جائے تو شاعری کی بڑائی اور عظمت نئے شعریتی حربوں کی کیفیت اور کمیت کو مدِ نظر رکھ کر بھی فیصل ہو سکتی ہے۔

مزید ملاحظہ کیجیے: ’’شعری ہیئت کی تشکیل میں ان پانچ عناصر کے باہمی اجتماع کے باوجود یہ کہنا بھی لازم ہے کہ تخلیقی عمل ایک ناقابلِ تقسیم اکائی ہے جس میں خیال و احساس و جذبہ سے لے کر اظہار و بیان تک یا مواد سے ہیئت تک کے حدود متعین نہیں کیے جا سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ تخلیقی عمل کے اولین مرحلے سے لے کر تخلیقی عمل کے آخری مرحلے تک تمام فکری و ذہنی و جذباتی و حسیاتی صورتیں اور تمام تر اظہاری وسائل بیک وقت کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ شاعری ان تمام پہلوؤں کے ایک دوسرے میں تحلیل ہو کر ایک نئے پیکر میں ڈھل جانے کا نام ہے۔‘‘ ڈاکٹر نوازش علی، شعری ہیئت اور اس کے عناصرِ ترکیبی، مشمولہ سہ ماہی ادبیات اسلام آباد، جلد 7، شمارہ 27، 28، 29، 30، گرما، خزاں، بہار، سرما، 1994۔

39۔ وزیر آغا، ص ص: 14-13,، نظمِ جدید کی کروٹیں

40۔ استخراجی استنتاج یا قیاس پر ایسی ہی تنقید کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ جو بات مقدمات میں پوشیدہ ہوتی ہے، اسے ہی نتیجے میں کھول کر بیان کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح ذخیرہٴ علم میں کوئی نیا اضافہ نہیں ہوتا۔ مثلاً تمام انسان شاعر ہیں؛ تمام شاعر نقاد ہیں؛ لہٰذا، تمام انسان نقاد ہیں۔

41۔ بعض اوقات یہ ایسے حیران کن اور دورازکار روابط کا پتا دیتی ہے، جو سائنسی شعبوں میں نئی دریافتوں کے سلسلے میں محرکانہ کردار ادا کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ اور تخلیقِ کائنات کے اسرار کی شعریت کے خود سانئس دان گواہ ہیں۔

پھر یہ بھی کہ اگر شعریت ایک نئے پارہٴ علم کا درجہ رکھتی ہے تو اس کے پیداگیر یعنی شعریتی حربے کو بھی دوسرے علمیاتی طریق ہائے کار جیسا کہ استخراجی، استقرائی، سائنسی طریق، وغیرہ، کے ساتھ جگہ دی جانی چاہیے۔

42۔ ملاحظہ کیجیے: مسئلہٴ علم اور نئی مابعدالطبیعیات: کچھ وضاحتیں، از ڈاکٹر خلیل احم، یہ مضمون مصنف کی ذاتی ویب سائیٹ پر اسی عنوان سے دستیاب ہے۔

https://PakPoliticalEconomy.Com

43۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ، چند نئے اور پرانے شاعر، ص: 40، اردو مرکز، لاہور، طبع اول، 1965

44۔ ملاحظہ کیجیے، جدید عرب شاعری، از انور زاہدی، سہ ماہی ادبیات، اسلام آباد، (جولائی تا دسمبر 1988، شمارہ: 5، 6)، ص: 88

مذکورہ مضمون نہایت کمزور ہے۔ مجھ ایسا عربی سے نابلد بھی مضمون نگار کی عربی سے براہِ راست ناواقفیت پر شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ مضمون کے ماخذ اغلباً عربی نہیں۔

45۔ See William Blake’s poem, Cradle Song

46۔ وزیر آغا لکھتے ہیں: ’’ورڈزورتھ نے شاعری کو (Spontaneous overflow of powerful feelings) کہا تھا۔ بعد ازاں اس کا یہ خیال اتنا مقبول ہوا کہ روپ بدل بدل کر ایک عرصہٴ دراز تک سامنے آتا رہا۔ بالخصوص جان سٹوارٹ مِل تنقید کے اس سلسلے کا ایک اہم علم بردار ثابت ہوا۔ مِل نے ایک بات تو یہ کہی کہ شاعری میں پلاٹ یا کہانی کی آمیزش ایک غلط بات ہے۔ کیونکہ یہ آمیزش محسوسات کے اظہار کے بجائے محض واقعات یا اشیا کے بیان پر منتج ہوتی ہے۔‘‘ تنقید اور جدید اردو، انجمنِ ترقیِ اردو، پاکستان، کراچی، اشاعتِ اول، 1989

47۔ ملاحظہ کیجیے حوالہ 8

48۔ جیسے جدید اور معاصر اردو افسانے نے شاعری کو استعمال کیا ہے، اس طرح، شعریت تو پیدا ہوئی، لیکن (نقادوں کی متفہ رائے بھی یہی ہے کہ) کہانی کو بھی گزند پہنچا۔ اور پھر یہ بھی کہ کہانی پر ’’نظم‘‘ ہونے کا بہتان بھی لگا۔

49۔ اگر یہ محض ایک زبانی یا لسانی حربہ ہے تو اس صورت میں ہمیں ’شعریتی حربہ‘ کی جگہ ’لسانی حربہ‘ کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے تھی۔ لیکن جیسا کہ یہ بات ’محتاط طور پر‘ کہی گئی ہے اور کسی حتمی بیان سے پرہیز کیا گیا ہے، یہاں فی الحال اتنا اشارہ کافی ہو گا کہ راقم کی رائے میں شعریتی حربہ محض لسانی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شعریت کو ایک نئی فکری سمت سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ مزید برآں، چونکہ زبان کے اور بہت سے استعمالات بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کہ طنز و مزاح میں، سائنسوں میں، (وغیرہ) زبان کا خاص استعمال، اس لیے بھی شاعری میں موجود لسانی حربے کو ’’شعریتی حربے‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پھر یہ بھی کہ جہاں جہاں شعریت پیدا کرنے کے لیے کوئی حربہ استعمال کیا جائے گا، وہاں وہاں اسے ’’شعریتی حربے‘‘ سے موسوم و ممتاز کرنا مناسب رہے گا۔

50۔ جن چیزوں کو شاعری کی خوبیاں کہا جاتا ہے، جیسے کہ سادگی، سلاست، زورِ بیان، اختصار، وغیرہ وغیرہ۔ یہ نثر کی خوبیاں بھی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نثر سے شاعری کو جو چیز علاحدہ کرتی ہے، وہ صرف شعریت ہے۔ اب یہ ایک جدا بات ہے کہ شعریت کو نثر میں بھی کام میں لے آیا جائے۔

’’۔۔۔ جب کلام فصیح و بلیغ نہ ہو تو صنائع لفظی و معنوی کی موجودگی صرف آورد ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ چیزیں بڑی جلدی میں ایک مضحک شکل اختیار کر سکتی ہیں۔‘‘ (البدیع (محسناتِ شعری کا انتقادی جائزہ)، سید عابد علی عابد، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبعِ اول، مارچ 1985، ص: 110

پرانی اصطلاحات میں یہ ملتی جلتی بات ہے۔

مزید: ’’برِ عظیم پاکستان و ہند (سید صاحب نے اسی طرح لکھا ہے۔ خلیل) کی وہ فارسی کتابیں جن میں علمِ بدیع کا ذکر موجود ہے، تعداد میں تو شاید بہت ہوں لیکن استناد و اشتہاد کے اعتبار سے شمس الدین فقیر کی ’’حدایق البلاغت‘‘ اور مولانا اصغر علی روحی کی ’’دبیر عجم‘‘ ایسی دو تالیفات ہیں جو سینکڑوں دوسری تالیفات پر بھاری ہیں۔ صاحبِ حدایق البلاغت یہ تصریح لکھتے ہیں کہ معنی کو لفظ پر تقدم حاصل ہے۔ اس لیے بدائع معنوی کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ صاحبِ دبیر نے بڑی مزے کی باتیں لکھی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بلیغ انشا پردازوں کی نظر ہمیشہ اظہارِ معنیِ دلکش پر رہی ہے اور انھوں نے صنائع کو اگر استعمال کیا بھی ہے تو انھیں پر تصنع عمل سمجھا ہے (لطف کی بات یہ ہے کہ صنعت، تصنع اور صنائع سب کا مادہ ایک ہی ہے یعنی ص ن ع)۔ وہ لکھتے ہیں کہ اہلِ عجم میں سے متوسطین پہلے صنائع و بدائع لفظی و معنوی کی طرف مائل ہوئے۔ یہاں تک کہ ایک عجیب و غریب صورت پیدا ہو گئی۔ یعنی یہ کہ صنائع و بدائع لفظی و معنوی کے ذکر کرنے ہی کو کلام منثور و منظوم میں کمالاتِ فن ِ شعر و انشا میں شمار کیا جانے لگا۔‘‘ (ص ص: 134-133، البدیع)

51۔ نثر اور نظم کے مقاصد بھی ان میں تمیز و تفریق پیدا کرتے ہیں۔ نظم یا شاعری کا مقصود شعریت ہے اور نثر کا مقصود کسی خاص فکر یا خیال کا اظہار اور ابلاغ۔ ہاں، شعریت کے اظہار و ابلاغ کے لیے خاص تربیت اور ذوق درکار ہوتا ہے۔ لیکن شعبہ جاتی اور پیشہ ورانہ نثر کے سلسلے میں بھی خاص تربیت ضروری ہوتی ہے۔

52۔ کلاڈ لیوی سٹراس (Claude Levi-Strauss) کے مطابق قدیم انسان کو ہم، خیال و فکر سے تہی سمجھتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس اگرچہ ’’زبان‘‘ نہیں تھی، تاہم، وہ خیال و فکر سے عاری نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کسی بھی قسم کی ’’زبان‘‘ کے باوجود بھی خیال و فکر ممکن ہے۔ لیکن اس بات سے منکر نہیں ہوا جا سکتا کہ خیال و فکر کے اظہار کے لیے کسی نہ کسی قسم کی زبان ناگزیر ہے۔

ملاحظہ کیجیے کلاڈ لیوی سٹراس کا مختصر کتابچہ: ’’فسانہ اور معانی‘‘ (Myth and Meaning – 1978)۔

مزید یہ کہ ’زبان‘ ذریعہ بھی ہے اور خود مقصد بھی۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب بچہ بے معنی زبان بولتا ہے، یا جب ہم تنہائی میں گنگناتے ہیں، یا خود مشورت (Auto-suggestion) کا عمل، (وغیرہ)، تو ہمارا مقصود کسی فکر و خیال کا اظہار برائے ابلاغ نہیں، بلکہ توانائی کے اخراج کی صورت میں محض معنوی یا بے معنوی زبانیاتی اظہار ہی ہمارا مقصود ہوتا ہے۔ یا ایسے اعمال سے غرض تطہیرِ جذبات بھی ہوتی ہے۔

53۔ ژاں کوکتو کے نزدیک ایک شاعر اپنے خیالات کو جمع کرنے اور انھیں متن میں ترجمہ کرنے کی خاطر باہر حقیقی زندگی میں نہیں دیکھتا۔ بلکہ اس کی شاعری کلیتاً خود زبان کے خام مواد سے پیدا ہوتی ہے۔ الفاظ خیالات، احساسات، اور حقائق کو جنم دیتے ہیں، یعنی بجائے اس کے کہ خیالات، احساسات، اور حقائق شاعری کو جنم دیں۔

ملاحظہ کیجیے: ’’سویرا‘‘ شمارہ 27 میں شاعری پر فرانسوی شاعر اور مصنف، ژاں کوکتو (Jean Cocteau, 1963-1889) کی ایک تقریر کا اردو ترجمہ ’’شاعری اور غیرمرئیت۔‘‘

54۔ اسی لیے شاعری میں صرفی و نحوی انحرافات بھی جائز گردانے گئے ہیں۔

عربی ادبی نظریے میں کچھ خاص حالات کے تحت اصولِ انتخاب و ترجیح سے رجوع لایا جاتا ہے۔ یہ اصول فلسفہٴ ضرورت سے اخذ ہوتا ہے۔

“The literal meaning of darurah is necessity or difficulty, but technically, it is defined as “a usage permitted in verse, to the exclusion of prose, employed by the poet whether under constraint or not.”

Al-Khalil b. Ahmad (170/786) states that same dspensations from the formal rules of the language are available to poets who could use them from time to time by virtue of their position as umara al-kalam (master of the language). He argues: “Poets are the master of language who could manipulate it as they wished. Permitted to them is that which is not permitted to others, like expressing an idea (either) clearly or vaguely, straining an expression and making it complex, elongating a short noun ‘maqsur’ and abbreviating a long noun ‘mamdud,’ using various dialects [in a single discourse], … they should be taken as authorities and are not to be argued against…” P. 30

تاہم ، شاعر کی اس آزادی پر پابندیاں بھی عائد ہیں۔

“In his (al-Mubarrad’s) view, any exceptional usage so employed should be within the bread framework of the living idioms. Moreover, it should not be at the expense of the established grammatical rules, nor lead to the production of stray usages that would not fit into any formal paradigm. The elasticity of the durarah concept, argues al-Mubarrad, can not be justifiably extended to accommodate incorrect usages which undermine the fundamental rules of grammar.” P. 32

See Amidu Sanni’s article, The Exception that Proves Many Rules: On Poetic Licenses in Arabic Literary Theory; in Hamdard Islamicus (A Quarterly Journal of Bait al-Hikmat, Karachi), Vol: XV, Summer 1992, No. 2)

55۔ اس سلسلے میں یہ ضمنی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا شعریت مصرعوں میں ’’جائز تعقید‘‘ لائے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سلاست کو بھی شعر کی ایک انتہائی اہم خوبی قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تعقید کے مسئلے سے ایک بالعکس نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ ’’جائز یا ناجائز تعقید‘‘ وزن اور بحر کے تقاضوں کے مطابق ہی آتی ہے یا لائی جاتی ہے۔ سلاست، وزن اور بحر سے مجروح نہ ہو تو اسے شعر کی ایک نایاب خوبی سمجھا جاتا ہے، لہٰذا، اگر سلاست ہی شعر کا حسن ہے تو اسے وزن اور بحر کی غیرموجودگی میں بھی حسن ہی رہنا چاہیے۔

56۔ میرؔ کی شاعری میں جو انفرادیت ہے، اور جس چیز کو سراہا جاتا ہے، وہ یہی حربیت ہے۔ یہاں زبان کو حربہ نہیں بنایا جاتا۔

57۔ سید عابد علی عابد لکھتےہیں: ’’صاحب ’المعجم‘ (شمس قیس رازی) نے محسناتِ شعر کا ذکر ایک صنعت سے کیا ہے جوتمام صنائع معنوی و لفظی اور تزئین و آرائش کا خلاصہ ہے۔ اس صنعت کی تعریف شنیدنی ہے۔ عصرِ حاضر کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہے اور گویا کوزے میں دریا بند کرنے کی مثال ہے۔ وہ لکھتے ہیں: (ص: 303) ’’تفویف (’یہ عربی کلمہ ہے اور اس کے معنی ہیں: ’’نگاریں کردن جامہ را‘‘ یعنی پوشاک کو رنگِ دلبری و دل آویزی عطا کرنا، خوبصورت رنگ دینا۔‘ فٹ نوٹ از سید عابد علی عابد ص: 304): یہ ہے کہ شعرکی بنا وزنِ مقبول، لفظِ شیریں، عبارتِ متین، توافقِ درست، تراکیبِ سہل اور معانیٴ لطیف پر رکھی جائے تاکہ اس کا مفہوم با آسانی متعین ہو سکے، اور اس کے معنی کے استخراج و ادراک میں خواہ مخواہ ذہن پر بوجھ نہ ڈالنا پڑے۔ شعر کو استعاراتِ بعید، مجازاتِ غیرمعروف، تشبیہاتِ کاذب اور تجنیساتِ متکرر سے معرا ہونا چاہیے۔ ہر شعر لفظ و معنی میں قائم بالذات ہو۔ اس کے سمجھنے کے لیے دوسرے اشعار پڑھنے کی ضرورت نہ ہو (اصولِ معانی اور ترتیبِ کلام تو بہرحال ملحوظ رہیں گے)۔ قوافی اور الفاظ اپنی جگہ مستحکم اور درست ہوں۔ تمام مقیدہ (غزل کو بھی شاملِ تصور کیجیے، مرتب، یعنی سید عابد علی عابد، خ۔ا) یک طرز و یک شیوہ نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ عبارت کہیں پست ہو کہیں بلند۔ معانی انتشار سے محفوظ رہیں۔ الفاظ کے تلازمے اور ان کے باہمی رابطے مدِ نظر رہیں (نظم کے لیے بھی ان معیارات کو درست تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ خلیل)۔۔۔ ‘‘

’’غور فرمائیے گا تو معلوم ہو گا کہ جس نسبت سے اساتذہ کی غزلیں اس کسوٹی پر پرکھے جانے کے بعد، ذوقِ سلیم کے معیار پر پوری اترتی ہیں، اسی نسبت سے ان کی عظمت معین ہوتی ہے۔

’’غالب کی بہت سی غزلوں کے اکثر اشعار اس کسوٹی پر کسے جائیں تو کھرا سونا نکلیں گے۔ یہی اقبال کا حال ہے۔ میر سے لے کر مصحفی تک یہ محک یا کسوٹی واقعاً شعرا کے پیشِ نظر رہتی ہے۔ پھر ایسے عوامل و محرکات پیش آتے ہیں کہ زوالِ دولت مغلیہ کے ساتھ اگرچہ بہ ظاہر اودھ میں شان و شوکت کا سایہ نظر آتا ہے لیکن دراصل معاشرہ فساد کا شکار ہو چکا ہے، اور ظاہر ہے کہ شاعر بھی معاشرے کا ایک جزو ہے، اور اس کے کوائف سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ جب شعر کو محض لفظی شعبدہ گری بنا لیا گیا تو معنوی خوبی بالکل جاتی رہی۔ صرف کہیں کہیں طرزِ ادا کی جدت نظر آتی ہے۔ لیکن مضمون کے بلند رتبہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی قریباً بے کار ہو جاتی ہے۔‘‘ البدیع ص ص: 305-303

مجموعی طور پر یہ تمام شرائط و معیارات بھی شعریتی حربے کے ضمن میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اور خود ’’تفویف‘‘ کی توضیع کو شعریت کی نظری تشکیل کی طرف ایک واضح قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

58۔ جیسے کہ حسی شاعری، وغیرہ۔ حسی شاعری اپنی ثقافت اور ماحول کے ساتھ نامیاتی طور پر جڑی ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ آفاقی اور مستقل کے درجے تک نہیں پہنچ پاتی۔ تاہم، اگر حسی شاعری کی تکمیل میں شعریت کا عنصر بدرجہٴ اتم موجود ہے، تو یہ آفاقی اور مستقل کی حدوں سے قریب تر ہو جاتی ہے۔

59۔ کسی تخلیق کار کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ دنیا کے ادبی و ثقافتی ورثے کو پڑھے اور سمجھے تب ہی وہ اپنی زبان میں ادب پارہ یا شہ پارہ تخلیق کر سکے گا۔ لیکن یہ بات بھی ثبوت کی محتاج نہیں کہ اپنے ہی ثقافتی ورثے کو پڑھے، سمجھے اور فہمِ کلی کا حصہ بنائے بغیر کوئی بھی فنکار شہ پارہ تو کیا، فن پارہ بھی تخلیق کر سکتا ہے۔ ہاں، اگر وہ دنیا کے تمام لوگوں کے ادبی و ثقافتی ورثے کو پڑھے، سمجھے اور فہمِ کلی کا حصہ بنائے، تو نہ صرف اس کی فہم کو وسعت و رعنائی ملے گی، بلکہ اس کے فن میں پختگی اور تخلیق میں ہمہ گیریت اور آفاقیت بھی پیدا ہو گی۔ لیکن طلب گار اسے کامیابی کا گُر نہ سمجھ لیں۔ انھیں سخت مایوسی ہو گی! ملاحظہ کیجیے مصنف کا مضمون، ’’مترجمین‘‘ جو ’’مترجمین: استشراق ہے تو استغراب کیوں نہیں؟‘‘ کے عنوان کے تحت مصنف کی ذاتی ویب سائیٹ پر دسیتاب ہے۔

https://PakPoliticalEconomy.Com

60۔ See magazine section of The Pakistan Times, Lahore, January 8, 1988

61۔ ’’س: نثری نظم کے شعرا کے بارے میں کچھ ناقدین کہتے ہیں یہ شاعری سے فرار ہے۔ لیکن آپ کی نثری نظموں میں ایسی صورتِ حال نہیں۔
ج: وہ ایک سطح پر ٹھیک بات کر رہے ہوتے ہیں۔ نثری نظم لکھنے والوں کی اکثریت ہی ایسی ہے۔ انھوں نے راتوں رات کتابیں بھر دی ہیں۔ لیکن کچھ ایسے شاعر ہیں۔۔۔
س: مثلاً کون؟
ج: نام مجھ سے مت پوچھا کرو، مثلاً قمر جمیل کی کتاب، ’’چہار خواب‘‘ آئی ہے۔ اصل میں ہئیت ثانوی شے ہے۔ معاملہ خیال کا ہے جو غزل، نثری نظم، قطعے میں بیان ہو جائے۔ اس کا داخلی آہنگ، ظاہری اوزان کو بھلا دے گا۔ کیونکہ اس میں حکمت اور جمال کی بات ہو گی جیسے ایک عورت جو خوبصورت نہیں، لیکن اس کا ذہن خوبصورت ہے کہ حسن ظاہری شرائط بھلا دے گی۔ تمہیں وہ یاد رہے گا۔‘‘ (ص: 117، منیر نیازی سے انٹرویو، گفت و شنید، حسن رضوی، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 1990

یہ ایک بہت معتبر شہادت ہے۔

62۔ شعر کی معنوی اور لفظی خوبیاں، مسعود حسن رضوی ادیب، مشمولہ: ادبی مطالعے، مرتبہ: مولوی خواجہ حمید الدین صاحب شاہد ام اے، اعجاز مشین پریس، چھتہ بازار، حیدرآبا، س۔ن، ص: 42

63۔ ص ص: 43-42

64۔ ص: 306، سید عابد علی عابد، ایضاً، ادبی مطالعے

65۔ ص: 367، البدائع، سید عابد علی عابد

66۔ یہاں ’فکری‘ سے مراد تفکر یا تفلسف نہیں۔ اس کے متبادل اور متصل معنی انگریزی کے ریفلیکشن (Reflection) میں مل سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اسے ایک جامع اصطلاح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یوں کہ محسوسات بھی ایک فکری سطح پر ہی تصور کیے جا سکتے ہیں۔

دوسرا حصہ: شعریت سے متعلق اردو شذرات

(1) وارث علوی، خندہ ہائے بیجا، ص ص: 49-50

(2) ضمیر اظہر، ماہنامہ اوراق لاہور، ص: 451

چوتھا حصہ: اردو اقتباسات

(1) الطاف حسین حالی، مقدمہٴ شعر و شاعری، ص ص: 172-171

(2) الطاف حسین حالی، مقدمہٴ شعر و شاعری، ص: 175

(3) مسعود حسن رضوی ادیب، شعر کی معنوی اور لفظی خوبیاں، مشمولہ: ادبی مطالعے، ص: 43

(4) سید عابد علی عابد، البدائع، ص: 110

(5) سید عابد علی عابد، البدائع، ص ص: 118-117

(6) سید عابد علی عابد، البدائع، ص: 130

(7) سید عابد علی عابد، البدائع، ص ص: 132-131

(8) سید عابد علی عابد، البدائع، ص ص: 135-134

(9) سید عابد علی عابد، البدائع، ص: 127

(10) شمس العلما مولانا عبد الرحمٰن، مراة الشعر، ص ص: 10-11

(11) شمس العلما مولانا عبد الرحمٰن، مراة الشعر، ص ص: 14-13

(12) شمس العلما مولانا عبد الرحمٰن، مراة الشعر، ص: 3

(13) شمس العلما مولانا عبد الرحمٰن، مراة الشعر، ص: 105

(14) شمس العلما مولانا عبد الرحمٰن، مراة الشعر،ص ص: 243-242

(15) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات (جدید انگریزی اور فرانسیسی شعریات کے چند شاہکار)، ص: 124

(16) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 125

(17) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 127

(18) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 188

(19) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 203

(20) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 206

(21) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 209

(22) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص ص: 218-217

(23) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 229

(24) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص ص: 242-241

(25) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 232

(26) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص ص: 236-235

(27) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 237

(28) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 242

(29) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 244

(30) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 256

(31) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 259

(32) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 283

(33) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 316

(34) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 346

(35) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 375

(36) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 376

(37) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 378

(38) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 378

(39) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 382

(40) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 393

(41) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 393

(42) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 396

(43) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 397

(44) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 407

(45) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 410

(46) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 417

(47) محمد ہادی حسین، مغربی شعریات، ص: 418

(48) سلیم احمد، نئی شاعری نامقبول شاعری، ص: 46

(49) ریاض احمد، ہیئت کا مسئلہ، مشمولہ: تنقیدی مسائل، از ریاض احمد، ص: 148

(50) ریاض احمد، ہیئت کا مسئلہ، مشمولہ: تنقیدی مسائل، از ریاض احمد، ص: 152

(51) رشید احمد صدیقی، عزیزانِ علی گڑھ، ص: 41

(52) افتخار جالب، نئی شاعری، ص: 91

(53) افتخار جالب، نئی شاعری، ص: 272

(54) دربارِ ملی، ص: 268

(55) عبدالقادر سروری، جدید اردو شاعری، ص: 25

(56) محمد عبدالقیوم حسرت نعمانی، اردو میں تنقید کا ارتقا، مشمولہ: اردو میں تنقید نگاری، مرتبہ: سردار مسیح گل

(57) انٹرویو ڈاکٹر تبسم کاشمیری، روزنامہ خبریں، اسلام آباد

(58) جمعہ میگزین، روزنامہ جنگ لاہور، 4 دسمبر، 1992

(59) انٹرویو خواجہ پرویز، روزنامہ جنگ لاہور 8 جنوری 1993

(60) روزنامہ نوائے وقت لاہور، 10 دسمبر 1992، ادبی صفحہ

چوتھا حصہ: انگریزی اقتباسات

(1) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 20

(2) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 98

(3) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 138

(4) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 146

(5) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 146

(6) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 146

(7) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 151

(8) W. B. Stanford, The Enemies of Poetry, P. 160

(9) D. H. Lawrence, Selected Literary Criticism, P. 80

(10) D. H. Lawrence, Selected Literary Criticism, P. 80

(11) Quoted in David L. Hirst, Comedy of Manners, P. 1

(12) Donald S. Heines, Times Four: The Short Story in Depth, P. 320

(13) Andrei Bely, The Magic of Words, in Symbolism: An Anthology, P. 133

(14) Aleksander Blok, On the Present State of Russian Symbolism, in Symbolism: An Anthology, P. 145

(15) Hugo Von Hofmannsthal, Poetry and Life in Symbolism, in Symbolism: An Anthology, P. 64

(16) Andre Gide, Quoted in Martin Heidegger’s What is Philosophy?

ساتواں حصہ: کتابیات

کتابیات: کتب، رسائل و اخبارات

سید احتشام حسین، مرتبہ، تنقیدی نظریات (اصول اور فنِ تنقید کے متعلق مضامین کا مجموعہ)، ادارہٴ فروغِ اردو، لکھنئو، بار سوم 1962

استاذ احمد حسن زیات، تاریخِ ادبِ عربی، ترجمہ: عبد الرحمٰن طاہر سورتی، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ت ن

سر سید احمد خان، مقالاتِ سر سید، حصہ دواز دہم، تقریری مقالات، مرتبہ: مولانا محمد اسماعیل پانی پتی، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبعِ اول: اگست 1963

افتخار جالب، نئی شاعری (ایک تنقیدی مطالعہ)، مرتبہ: افتخار جالب، نئی مطبوعات، لاہور، ت ن

ڈاکٹر ایس ایم اکرام، ڈاکٹر وحید قریشی، منتخبہ و مرتبہ، دربارِ ملی (اردو ترجمہ)، قومی زندگی کی کہانی، معاصرین کی زبانی، ترجمہ و تعلیقات و حواشی: خواجہ عبدالحمید یزدانی، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، جون 1966

خواجہ الطاف حسین حالیؔ، مقدمہٴ شعر و شاعری، کتب خانہٴ علم و ادب، کراچی، س۔ن

حسن رضوی، گفت و شنید، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 1990

مولوی خواجہ حمیدالدین صاحب شاہد ام اے، مرتبہ، ادبی مطالعے، اعجاز مشین پریس، چھتہ بازار، حیدرآباد، س۔ن

ڈاکٹر خلیل احمد، مترجمین: استشراق ہے تو استغراب کیوں نہیں؟ (https://PakPoliticalEconomy.com)

ڈاکٹر خلیل احمد، مسئلہٴ علم اور نئی مابعد الطبیعیات: چند وضاحتیں (https://PakPoliticalEconomy.com)

رشید احمد صدیقی، عزیزانِ علی گڑھ، مرتبین: ڈاکٹر فصیح احمد صدیقی، لطیف الزماں خاں، بیکن بکس، ملتان، اشاعتِ اول، 1990

ریاض احمد، تنقیدی مضامین، اردو بک سٹال بیرون لوہاری گیٹ، لاہور، بار اول، 1961

سردار جعفری، ترقی پسند ادب، انجمنِ ترقیِ اردو، ہند، علی گڑھ، بار دوم، 1957

سردار مسیح گل، مرتبہ، اردو میں تنقید نگاری، ماڈرن پبلی کیشنز، لاہور، پہلا ایڈیشن، 1964

سلیم احمد، نئی شاعری نامقبول شاعری، نفیس اکیڈمی، کراچی، طبع: اگست 1989

مولانا شبلی نعمانی، شعرالعجم، حصہ اول، عشرت پبلشنگ ہاؤس، لاہور، بار اول، اکتوبر 1966

ڈاکٹر صفیہ بانو، انجمنِ پنجاب: تاریخ و خدمات، کفایت اکیڈمی، کراچی، طبع اول: 1978

ضیا الحسن فاروقی، مشیر الحق، مرتبین، فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید، مکتبہٴ رحمانیہ، لاہور، س۔ن

طہٰ حسین، تنقیداتِ طہٰ حسین، مشہور شعرائے دورِ جاہلی، از عبد الصمد صارم الازہری، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، بار اول، 1961

سید عابد علی عابد، البدیع (محسناتِ شعری کا انتقادی جائزہ)، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبع اول، مارچ 1985

ڈاکٹر سید عبد اللہ، چند نئے اور پرانے شاعر، اردو مرکز، لاہور، طبع اول، 1965

شمس العلما مولانا عبدالرحمٰن، مراة الشعر، کتاب خانہ نورس کبیر سٹریٹ، اردو بازار، لاہور، 1950

عبدالقادر سروری، جدید اردو شاعری، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، اشاعت ششم، 1967

مولانا محمد حسین آزاد، مقالاتِ مولانا محمد حسین آزاد، جلد اول (علمی، ادبی اور تحقیقی مضامین)، مرتبہ: آغا محمد باقر، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبعِ اول: فروری 1966

محمد ہادی حسین، مغربی شعریات (جدید انگریزی اور فرانسیسی شعریات کے چند شاہکار)، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1968

سید مسعود حسن رضوی ادیب، آئینہٴ سخن فہمی، کتاب نگر، لکھنئو، 1959

شمس العلما ڈاکٹر حافظ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی، ابن الوقت، مرتبہ: سید سبطِ حسن، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، طبع دوم، فروری 1972

وارث علوی، خندہ ہائے بیجا، مکتبہٴ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، پہلی بار، نومبر 1987
وارث علوی، تیسرے درجے کا مسافر (منتخب تنقیدی مضامین)، نگارشات، لاہور، سنِ اشاعت: 1986

وزیر آغا، نظمِ جدید کی کروٹیں، ادارہٴ ادبی دنیا، لاہور، ت ن
وزیر آغا، تنقید اور جدید اردو، انجمنِ ترقیِ اردو، پاکستان، کراچی، اشاعتِ اول، 1989

مرزا ہادی رسوا، شریف زادہ، اردو اکیڈمی سندھ، کراچی، س۔ن

رسائل و اخبارات:

سہ ماہی ادبیات اسلام آباد، جلد 7، شمارہ 27، 28، 29، 30، گرما، خزاں، بہار، سرما، 1994
سہ ماہی ادبیات اسلام آباد، (جولائی تا دسمبر 1988، شمارہ: 5، 6

ماہنامہ اوراق لاہور، خاص نمبر، اگست ستمبر 1995

روزنامہ پاکستان لاہور، 8 نومبر 1995

روزنامہ جنگ لاہور، جمعہ میگزین، 4 دسمبر 1992
روزنامہ جنگ لاہور، جمعہ میگزین، 8 جنوری، 1993

روزنامہ خبریں، اسلام آباد، 10 مارچ 1993

سویرا شمارہ 27

روزنامہ نوائے وقت لاہور، 10 دسمبر 1992، ادبی صفحہ

Bibliography: Books

Beal, Anthony (ed.), D. H. Lawrence: Selected Literary Criticism, Heinemann, London, 1978

Burnett, Whit and Hallie (Ed.) Great Short Stories of the World, Corgi Books, London, 1967

Heidegger, Martin, What is philosophy?

Heines, Donald S. (Ed.), Times Four: The Short Story in Depth, Prentice Hall Inc., New Jersey, 1968

Hirst, David L., Comedy of Manners, Methuen & Co. Ltd., London, 1979

Mathews, Jackson (Ed.), Paul Valery, Aesthetics (The Collected Works of Paul Valery, Vol: 13), Routledge & Kegan Paul, London, 1964

Sena, Vinod, W.B. Yeats: The Poet as Critic, MacMillan, London, 1986

Stanford, W. B., The Enemies of Poetry, Routledge & Kegan Paul, London, 1980

Thoreau, Henry David, The Wisdom of Thoreau, Philosophical Library, New York, 1967

West, T. G. (Ed.,Trans.), Symbolism: An Anthology, Methuen, London, 1980

Bibliography: Magazines and Newspapers

Dialogue (Washington, U.S.A.), Number 89.3/90
Hamdard Islamicus (A Quarterly Journal of Bait al-Hikmat, Karachi), Vol: XV, Summer 1992, No. 2
The Pakistan Times, Lahore, January 8, 1988

Completed on: 5 November, 2026

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted