احتساب اور جوابدہی، قانون کے اندر پیوست ہونے اور رہنے چاہییں!
نوٹ: یہ تحریر میری کتاب، ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو‘‘ کے بنیادی نظریے کو مجملاً بیان بھی کرتی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہے۔
ہر آئین کسی نہ کسی سیاسی فلسفے پر مبنی ہوتا ہے۔ یا ایک آئین مختلف نوع کے سیاسی فلسفوں سے اخذ کیے گئے قضایا پر استوار ہو سکتا ہے۔
اسی طرح یہ کہنا بھی اتنا ہی درست ہے کہ کسی ملک کی سیاست کا تعین اس ملک کا آئین کرتا ہے۔
لیکن یہ بات لکھتے ہوئے جب پاکستان کی سیاست کی طرف خیال جاتا ہے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ تو سراسر غلط ہے۔ کیونکہ پاکستان کی سیاست بنیادی طور پر آئین دشمن نہیں تو آئین مخالف ضرور ہے۔
اس بیچ مسئلہ یہ حائل ہے کہ اصول اپنی جگہ ہیں اور ٹھوس مثالیں اپنی جگہ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ٹھوس مثالوں کو اصول کی پیروی کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ اصول ٹھوس مثالوں کے پیچھے جوتے جائیں۔
خیر جس معاملے پر بات کرنی ہے اس پر متوجہ ہوتے ہیں۔
میں نے اپنی کتاب، ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول‘‘ میں ایک نئے عمرانی معاہدے اور اس نئے عمرانی معاہدے پر مبنی ایک نئے آئین سے متعلق تجاویز کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
یہاں میں چند اہم فلسفیانہ اصولوں کو بیان کرنا چاہوں گا جن پر پاکستان کے آئین کو استوار ہونا چاہیے۔
پہلا اصول یہ ہے کہ کسی بھی ریاست اور حکومت کا قیام اصل میں لوگوں کی رضا کا مرہونِ منت ہوتا ہے، جیسا کہ ایک تسلیم شدہ معاملہ ہے۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ کسی بھی ریاست اور حکومت کو لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے قائم کرتے ہیں۔ باالفاظِ دیگر یہ کہ کسی بھی ریاست اور حکومت کا قیام لوگ اپنی جان و مال کے تحفظ کی خاطر قبول کرتے ہیں۔ یا پھر وہ آزادانہ زندگی گزار سکتے ہیں یا کوئی اور نیا بندوبست کر سکتے ہیں۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ لوگ جو ٹیکس دیتے ہیں وہ معاوضہ ہوتا ہے ان خدمات کا جن کا اہتمام کوئی حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کی غرض سے کرتی ہے۔
چوتھا اصول یہ ہے کہ کوئی حکومت اپنی خواہش اور اپنی مرضی سے ٹیکس عائد نہیں کر سکتی۔ یعنی ہر حکومت کو اپنے اخراجات کا پورا حساب کتاب لوگوں کے سامنے رکھنا ہو گا اور پھر لوگوں کی رضا حاصل کرنی ہو گی کہ کونسا ٹیکس عائد کیا جائے اور یہ ٹیکس کس شرح سے عائد کیا جائے۔ لوگوں کی رضا جاننے کا طریقہ ریفرینڈم یعنی رائے شماری ہے۔
اس ضمن میں پرانا اصول، ’’نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں‘‘ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ میں نے اپنی کتاب میں یہ نیا اصول وضع کیا ہے: ’’لوگوں کی رضا کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں۔‘‘
پانچواں اصول یہ ہے کہ حکومت لوگوں سے ٹیکس لے رہی ہے اور لوگ یہ ٹیکس یعنی معاوضہ ادا کر رہے ہیں تو اس لیے تاکہ انھیں اپنی جان و مال کا تحفظ حاصل ہو اور حاصل رہے۔
اور اگر لوگوں کو ٹیکسوں کی ادائیگی یا معاوضے کی ادائیگی کے باوجود اپنی جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں، تو ان پر ٹیکس یعنی معاوضے کی ادائیگی فرض نہیں رہتی۔ یہ اس اصول کی پہلی صورت ہے۔ یعنی ریاست اور حکومت کے قیام کا اولین مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ وگرنہ کسی بھی حکومت کو کسی بھی قسم کا ٹیکس کیوں دیا جائے؟ یا کوئی بھی ریاست اور حکومت کوئی خدمت بجا لائے بغیر لوگوں سے کیسے اور کیونکر ٹیکس لے سکتی ہے؟ یا پھر اسے ’’بھتے‘‘ کا نام دیا جائے گا۔
اس پانچویں اصول کی دوسری صورت یہ ہے کہ کیونکہ کسی بھی ریاست اور حکومت کو جان و مال کے تحفظ سے متعلق خدمات ادا کرنے کے بدلے میں لوگ معاوضہ یا ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اور اگر وہ لوگوں کو جان و مال کا تحفظ مہیا نہیں کر رہی تو اسے لوگوں کی جان و مال کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرنا ہو گی۔
یہاں ایک خلطِ مبحث کا ازالہ ضروری ہے۔ پانچویں اصول سے باور کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کو پہنچنے والے نقصان کی جو تلافی کی جائے گی یا جو زرِتلافی ادا کیا جائے گا وہ انھی ٹیکسوں یا معاوضے میں سے ادا کیا جائے گا جو لوگوں نے ٹیکسوں یا معاوضے کی صورت میں ادا کیے ہیں، تو یہ اس اصول کی سراسر غلط تفہیم ہو گی۔ بلکہ ایسا کرنا اس اصول کی یکسر نفی ہو گا۔
اس کی مثال یہ ہے کہ جیسا کہ جب کسی سانحے یا حادثے، وغیرہ، میں لوگوں کی جان چلی جاتی ہے، یا انھیں جان و مال کا نقصان پہنچتا ہے تو حکومت لواحقین یا متاثرہ لوگوں کو معاوضہ ادا کرتی ہے۔ یقیناً یہ معاوضہ لوگوں کے ادا کیے گئے ٹیکس یا معاوضے میں سے ادا کیا جاتا ہے۔
ابھی تو حکومت کی طرف سے اس قسم کے معاوضے کی ادائیگی حکومت کے منتطمِ اعلیٰ یا کسی وزیر کی صوابدید پر مبنی ہے، لیکن اگر اس انداز میں معاوضے کی ادائیگی کو ایک اصول قرار دے دیا جائے اور یہ ایک قانونی صورت اختیار کر لے تو بالآخر یہ اصول لوگوں پر مزید ٹیکسوں کے بوجھ کی صورت میں منتج ہو گا۔
اسی لیے یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی قسم کے نقصان کی صورت میں حکومت کی طرف سے کی جانے والی تلافی یا ادا کیا جانے والا زرِتلافی اصل میں ہرجانہ ہے اس کی کوتاہی یا غفلت کا، یا مجرمانہ غفلت کا، یا پہلوتہی یا لاپروائی کا، یا پھر اس بے عملی کی جو بھی صورت ہو یہ اس کی سزا ہے۔ کیونکہ حکومت نے ٹیکس یعنی معاوضہ تو لے لیا لیکن اس کے بدلے اپنے فرض کی ادائیگی نہیں کی اور مشروطہ خدمت انجام نہیں دی۔
یہاں تلافی کے تصور کی کچھ توضیح ضروری ہے۔ تلافی بلاشبہ کسی کوتاہی یا خطا کے لیے سزا کی ایک صورت ہے۔ اور اسے اسی مفہوم کا حامل رکھنا ضروری ہے۔ یہ ایک سزا ہی ہے۔ اور اگر تلافی سزا ہی ہے، تو پھر کسی اور قسم کی سزا کی جگہ زرِتلافی کی سزا مناسب ہے۔
عیاں رہے ابھی میرے ذہن میں اس کی ایک یہ صورت عیاں ہے کہ اگر کسی متنظمِ اعلیٰ یا وزیر کو قید کی سزا دی جائے گی تو ایک نیا بحران جنم لے لے گا۔ ایک نئے منتظمِ اعلیٰ یا وزیر کا تقرر ضروری ہو جائے گا۔ اگرچہ کچھ حالات میں ایسا کیا جانا ضروری ٹھہر سکتا ہے۔ جیسا کہ اگر منتظمِ اعلیٰ یا وزیر کسی معاملے میں ملوث پائے جائیں، تو انھیں مروج و موجود قانون کے مطابق ہی سزا ملے گی۔
اب اگر تلافی سزا ہے تو پھر ضروری ہے کہ جب کسی منتظمِ اعلیٰ یا وزیر کو زرِ تلافی کا مستوجب ٹھہرایا جائے، تو وہ اس زرِتلافی کی ادئیگی اپنی تنخواہ اور مراعات میں سے کرے گا۔ یا پھر اپنی دوسری یعنی ذاتی یا خاندانی آمدنی میں سے۔ جیسی بھی صورت ہو۔ یعنی سزا کے لیے سزا ہونا اور سزا رہنا ضروری ہے۔
یہ پانچوں اصول ایک ایسے سیاسی فلسفے پر دلالت کرتے ہیں، جو ریاست و حکومت کے قیام اور پھر نہ صرف انھیں جوابدہ بنانے بلکہ انھیں اپنے بنیادی فرائض کے ضمن میں جوابدہ بنائے رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔
اب جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے کہ پاکستان کے آئین کو ان پانچوں اصولوں کے تحت کیسے اور کیونکر ڈھالا جانے، تو عیاں ہے کہ ایک صورت تو یہ ہے کہ آئین کو ازسرِنو لکھا جائے، جو پاکستان کی سیاست کی حرکیات کو دیکھتے ہوئے بذاتہٖ نہایت جان جوکھوں کا کام ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جہاں جہاں ضروری ہے آئین میں وہاں وہاں ان اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ترامیم کی جائیں، اور ان اصولوں کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کا لاینفک حصہ بنا دیا جائے۔
دریں صورت، پاکستان کا بنیادی قانون یعنی آئین، احتساب اور جوابدہی کے عنصر کو اپنے اندر سمو بھی لے گا اور جذب بھی کر لے گا، اور یوں نہایت اساسی معاملات کے ضمن میں کسی احتسابی ادارے کی ضرورت نہیں رہ جائے گی۔
اس تحریر کو ختم کرنے سے پہلے ایک ایسے معاملے پر توجہ دے لینا ضروری ہے جو مجوزہ پانچ اصولوں کے منشا پر ایک اعتراض کی صورت وارد ہو سکتا ہے۔
سرکاریات یا ریاست و حکومت کے معاملات کے ضمن میں نیک نیتی کے اصول کو مانا اور قبول کیا جاتا ہے۔ خود میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ سرکاری عہدیداروں کی ادائیگیِ فرض کے تحفظ کی خاطر یہ اصول ضروری ہے۔
یعنی یہ کہ سرکاری عہدوں پر موجود لوگ اپنے منصبی فرائض کی جو ادائیگی کرتے ہیں وہ نیک نیتی سے کرتے ہیں اور اسے اسی نظر دیکھا جانا چاہیے۔ مراد یہ کہ ان عہدوں پر موجود لوگ جو بھی کام کرتے ہیں، وہ خواہ کسی پالیسی کی تشکیل ہو یا کوئی عملی اقدام یا کوئی خریداری، وغیرہ، وہ لوگ ہر کام جو ان کے فرائض کے تحت آتا ہے، اسے نیک نیتی سے انجام دیتے ہیں۔ اور اس میں بدنیتی کو دخل نہیں ہوتا۔
لیکن عیاں ہے کہ سرکاری منصب داروں پر ہر طرح کی بدعنوانی اور عہدوں اور اختیارات کے غلط اور ناجائز استعمال پر مقدمے بھی قائم ہوتے ہیں اور انھیں سزا بھی ملتی ہے۔ یعنی یہ نیک نیتی کا اصول کوئی بے قید استثنیٰ عطا نہیں کر دیتا۔ کسی بھی سرکاری عہدیدار کے کسی مشکوک کام کو، گو کہ وہ اس اصول کی رو سے نیک نیتی ہی سے کیا گیا ہوتا ہے، اخلاقیات، قانون اور قواعد و ضوابط کی کسوٹی پر آنکا بھی جاتا ہے اور پھر اس پر حکم بھی لگایا جاتا ہے۔
اپنے عہدوں کے تقاضوں سے نیک نیتی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کی ایک مثال جب کبھی یاد آتی ہے، تو میں ہنس پڑتا ہوں۔ جینرل مشرف کے دور میں پاکستان ریلویز کے وزیر بھی ایک جینرل، جینرل جاوید اشرف قاضی تھے اور پاکستان ریلویز کے چیئرمین بھی ایک جینرل، جینرل سعید الظفر تھے۔ 2001-02 میں چین سے 69 ریلوے انجن اور 175 مسافر کوچز خریدی گئیں۔ باقی معاملات کو چھوڑیے، نیک نیتی کے مظاہرے پر توجہ دیجیے۔ بعد میں پتا چلا کہ ان انجنوں کی چوڑائی پاکستان میں ریلوے ٹریک کی چوڑائی سے کم ہے۔ 2006 میں قومی اسیمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دونوں جینرلوں کو اس بنیاد پر بری کر دیا کہ یہ سودا نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا تھا۔
سو جہاں پاکستانیوں کی اور پاکستانی ڈی این اے کی بات آ جائے، وہاں سارے اصول دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں یا ہر اصول کم پڑ جاتا ہے یا غلط قرار پاتا ہے۔
بہر حال، میرے خیال میں یہ اشد ضروری ہے کہ پاکستان کے آئین کی قلبِ ماہیت اوپر بیان کیے گئے پانچ اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے، یوں پاکستان میں گورنینس کے معاملات میں کچھ نہ کچھ بہتری آنے کی توقع اور امید کی جا سکتی ہے۔
ویسے آپ مجھ سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں گورنینس کا نام و نشان کس جگہ پایا جاتا ہے!
[7 جولائی، 2026]