Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

کلچر کی تشکیل: کھُلا کلچر بند کلچر

ابھی کوئی ہفتہ بھر گزرا کہ مجھے فیس بک پر وقاص احمد کا پیغام ملا جس کے ساتھ ایک لنِک لف تھا، اور عنوان کے ساتھ ایک تصویر اور کچھ انگریزی کی تحریر ظاہر تھی۔

فیس بک پر جو پیغام ملتے ہیں، ان میں دیے گئے لنِک میں صرف اس صورت میں کھولتا ہوں جب پیغام بھیجنے والے کے ساتھ خواہ فیس بک پر ہی بنی ہو کچھ نہ کچھ جان پہچان بن چکی ہو۔ کیونکہ بتایا یہ جاتا ہے کہ ہیکرز اسی نوع کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ میں احتیاط برتتا ہوں۔

میں نے وقاص صاحب کو ’شکریہ‘ کا جواب بھیج دیا۔ انھوں نے تاکیداً کہا کہ آپ اس تحریر کو ضرور پڑھیے اور تبصرہ بھی کیجیے۔

اب میں نے لنِک پر موجود تحریر کو پڑھا۔ یہ ایک صفحے پر محیط تھی۔ اس کا عنوان انگریزی میں تھا، لہٰذا، پہلے بھی جب ابھی میں نے لنِک کو کھولا نہیں تھا، میری نظروں نے اس عنوان کو پڑھنے کی ناکام سعی کی تھی۔

Amma Firemani

میں اسے امّا، یا ایما، فرے مانی، یا فری مانی پڑھتا رہا۔ سوچا غالباً کسی غیر زبان میں نام ہو گا۔

یہ تحریر پڑھ کر مجھ پر کھُلا کہ یہ تو اماں فائرمینی ہے۔

وقاص صاحب کی انگریزی تحریر کے ابتدائی حصے کا خلاصہ اردو الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔

پاکستان کے ابتدائی دنوں میں نئی فیکٹریوں میں بجلی دستیاب نہیں تھی۔ اسی لیے سٹیم بوائلر استعمال ہوتے تھے۔ انھیں بڑی بڑی کیتلیاں سمجھ لیجیے۔ ان میں پانی کو اُبالا جاتا تھا اور یوں پیدا ہونے والی بھاپ کو دباؤ کے تحت مشینوں کو چلانے کے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس نظام کو چلانے والا فائرمین تھا۔ وہ دہاڑتی بھٹی کے سامنے کھڑا ہوتا تھا۔ اس کا پسینہ بہے جاتا اور وہ زور لگا لگا کر لکڑی یا کوئلہ بھٹی میں جھونکے جاتا۔ اسے آگ اور پانی میں ایک توازن قائم رکھنا پڑتا تھا۔ یہ توازن بگڑا نہیں کہ ایک تباہ کن دھماکہ ہوا نہیں۔

یوں یہ فائرمین ہی تھا، جو پاکستان کی ابتدائی صنعت کے دل کی دھڑکن تھا۔

یہ فیکڑی کے ایک فائرمین کی بیوہ تھیں۔ اپنے خاوند کی طرف سے انھیں نہ صرف یہ نام بلکہ وہ بھٹی بھی ورثے میں ملی۔

ایک بھٹی کو چلانے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے، اماں نے دنیا کو بھی اسی دھڑلے سے چلایا۔ ان سے کوئی بھی کسی اونچ نیچ کا سوچ نہیں سکتا تھا، وہ کھال تک اُدھیڑ دیتی تھیں۔

ان کا اصل نام کیا ہے کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کا باقاعدہ اور محبت کا نام امّاں ’’فائرمینی‘‘ تھا۔

فائرمینی محض خطاب نہیں تھا۔ یہ عزت و تکریم کا نشان تھا۔ اماں وہ حکایتی ’’میٹری آرک‘‘ (جگت ماتا) تھیں، جس کی موجودگی رعب و دبدبے کی علامت تھی۔ تیز نگاہ، نپی تلی آواز، اور غیرمتذبذب دانائی کے ساتھ وہ ہر کسی کو سیدھا اور کمیونیٹی کو اکٹھا رکھتی تھیں۔

وقاص صاحب کی تحریر جاری ہے، اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو فیس بک پر اسے پورا پڑھ سکتے ہیں۔ بلکہ انھوں نے اپنے بچپن کے سترہ بے نام ہیرو ہیں جن کے بارے میں لکھا ہے۔

کلچر سے متعلق جس بات کی طرف میں یہاں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ وقاص صاحب اس تحریر سے چھلکی پڑتی ہے۔

یعنی یہ کہ کس طرح کلچر ہر چیز کو گھوٹ گھاٹ کر ایک ایسی نئی چیز بنا دیتا ہے، جو حیران کن بھی ہوتی ہے اور ایک نئی تشکیل بھی۔

یہاں یہ نئی تشکیل اماں فائرمینی کا کردار ہے۔ نہ صرف کردار بلکہ نام بھی۔

ہم سوچ سکتے ہیں کہ اماں کے خاوند جو فیکٹری میں فائرمین تھے ان (کی رحلت) کے بعد وہ عہدہ اور کام ان کی بیوہ یعنی اماں فائرمینی کو دے دیا گیا ہو گا۔ یہ دونوں واقعات اپنی اپنی تفصیل رکھتے ہوں گے۔

ہم یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ اماں کو یہ نام کیسے دیا گیا ہو گا۔ اماں کا نام ان کے لیے پہلے ہی معروف تھا یا بعد میں مروج ہوا ہو گا، جب وہ فائرمینی بن گئیں۔

ہم یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ اماں، فائرمین سے فائرمینی کیسے بنی ہوں گی۔ جیسا کہ جب فیکٹری نے یہ کام انھیں سونپ دیا تو وہ فائرمین تو کہلا نہیں سکتی تھیں، لہٰذا، عہدے میں جو تذکیر کارفرما تھی، اسے تانیث میں بدل کر فائرمینی بنا دیا گیا۔

ہم یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ اماں کا ڈیل ڈول ایسا ہو گا کہ لوگوں نے انھیں ’’اماں‘‘ بنا دیا اور ایک ’’میٹری آرک‘‘ بھی بنا دیا۔ وہ ایک عورت سے ایک جگت اماں بن گئیں۔

یہی وہ کارگزاری ہے، جسے میں کلچر کی کارگزاری سے موسوم کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کلچر ہے، جس نے انگریزی زبان کے تذکیر و تانیث کے قواعد کو بھاڑ میں جھونکا اور اماں کو فائرمین سے فائرمینی بنا دیا۔

مجھے اماں فائرمینی کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں، جتنا وقاص صاحب نے اپنی تحریر میں مذکور کر دیا ہے۔ ان کی بھی یہ بچپن کی یادیں ہیں۔

جو بات اہم ہے، وہ یہ دیکھنے والی ہے کہ کس طرح کلچر نے ایک کردار تشکیل دیا۔ ایک عام عورت میں سے ایک ایسا کردار جو زندگی سے بڑا ہے اور دوسروں پر کس طرح حاوی ہے، اور کس طرح دوسروں کے کردار کو متعین کر رہا ہے۔

یعنی یہ کلچر بھی ایک چاک کی طرح ہے، اور نو بہ نو برتن (سانچے) بناتا ہے۔

اصل میں یہ کلچر کی جو قوتِ محرکہ ہے، یہ ہر چیز کو گوندھ گاندھ کر نئی سے نئی شکلیں دیتی رہتی ہے۔ کسی فرد کو کوئی اور فرد، کوئی نام دے دیتا ہے۔ یہ نام کچھ اس کے کام یا حلیے یا کسی اور چیز سے لگا بھی کھاتا ہے۔ یا کسی اور سبب سے، جیسے کہ کسی سانحے یا واقعے یا خصوصیت سے اس فرد کو کوئی نام مل جاتا ہے۔ دوسرے افراد بھی اس کے اس نام کو قبول کر لیتے ہیں (خود وہ فرد اس نام کو قبول کرتا ہے یا نہیں، یہ ایک الگ معاملہ ہے!)، اور اسے اسی نام سے پکارنے اور جاننے لگتے ہیں۔ یوں یہ نام اس فرد پر چسپاں ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا تعین کرنے لگتا ہے۔ اور اس کے کردار کا بھی۔

بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی فرد کو اسی انداز پر کوئی نام دے دیا جاتا ہے، لیکن یا تو اس نام کو قبولیت نہیں ملتی۔ یا ملتی ہے تو مختصر عرصے کے لیے۔ اور یہ نام گردشِ ایام میں گم ہو جاتا ہے۔

میں نے پہلے بھی کلچر پر ایک مضمون لکھا ہے: کلچر کی چکی۔ وہاں بھی کلچر کی اسی قوت و طاقت کے آگے ہماری جو بے بسی ہوتی ہے، اس کا اظہار کیا گیا ہے۔

یعنی کلچر کی ایک بڑی جہت یہ ہے کہ یہ فرد کو بنے بنائے سانچوں اور تشکیلوں میں قید کرنا اور قید رکھنا چاہتا ہے۔

اس مفہوم میں کلچر جو بہت سی تشکیلیں بناتا ہے، وہ بندی خانوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اور کلچر یہ چاہتا ہے کہ ہر فرد ان میں سے کسی تشکیل میں سما جائے یا سماتا جائے۔

یعنی کلچر کے آگے فرد بے بس ہو جاتا ہے۔ اس کے سامنے دو بڑے راستے عیاں ہوتے ہیں۔ یا تو کلچر کے آگے ہتھیار ڈال دے، اور وہ کچھ بن جائے، جو کلچر اسے بنانا چاہتا ہے۔ کلچر کے دیے اس کردار کو اپنے اندر کے کردار یعنی اصل کردار پر حاوی کر لے، اور اسی میں اپنی خوشی اور اپنا مقام حاصل کرے۔ مختصر یہ کہ اپنی اُپج کو دفنا دے۔

(عیاں رہے کہ یہاں کلچر کی تہہ میں بشریات، سماجیات، نفسیات، معاشیات، وغیرہ، پورے کے پورے علوم کارفرما ہیں۔)

یا پھر کلچر سے بغاوت کرے۔ جیسا کہ اس شعر سے عیاں ہے:

جب تمہیں مجھ سے زیادہ ہے زمانے کا خیال

پھر مری یاد میں یوں اشک بہاتی کیوں ہو

تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دو

ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو

ساحرؔ لدھیانوی

تاہم، جہاں تک کلچر کی تشکیلوں کے خلاف بغاوت کا تعلق ہے، تو انفرادی سطح پر ایسی بغاوتیں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں۔ کلچر کی تشکیلیں بہت آہستہ رو عمل سے گزر کر بدلتی اور تبدیل ہوتی ہیں۔

کسی فرد کو کوئی نام دیا جانا اور اس کی زندگی اور کردار کو محدود کر دیا جانا تو کلچر کی محض ایک تشکیل ہے۔

اس ضمن میں ایک مخمصہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ کیا کوئی فرد کلچر کی دی ہوئی کسی تشکیل کو دل سے قبول کرتا ہے یا نہیں یہ کیسے معلوم کیا جائے۔ میرے خیال میں اس کا کوئی طریقہ نہیں۔ ہاں، اگر کوئی طریقہ ہو سکتا ہے تو اس کے بارے میں نفسیات دان بتا سکتے ہیں۔

لیکن میری رائے یہی ہے کہ اس معاملے میں کسی ایسے فرد کی خود اپنی رائے کو بھی قبول نہیں کیا جا سکتا جو یہ کہے کہ کلچر کی جس تشکیل سے اسے منسوب کیا گیا ہے، یا کلچر کی جس تشکیل کو اس پر ٹھونسا گیا ہے، وہ اسے دل و جان سے قبول کرتا ہے۔ جیسا کہ اماں فائرمینی کی مثال ہو سکتی ہے۔

ویسے یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ ہر وہ فرد جو کلچر کی کسی تشکیل کو دل سے قبول کرتا ہے یا بادلِ نخواستہ، ایسا ہر فرد کلچر کی اس تشکیل سے چھوٹے موٹے انحرافات کرتا رہتا ہے۔ اور بعض اوقات کوئی بڑا انحراف بھی کر بیٹھتا ہے۔

مجھے یہ بات تسلیم ہے کہ بعض صورتوں میں یہ بھی ہوتا ہے، بالکل ہوتا ہے کہ کسی فرد کو کلچر کی کسی تشکیل میں پناہ مل جاتی ہے۔ کیونکہ خود اس کے پاس اپنی سوچی اور سمجھی ہوئی اور اپنی پسند کی کوئی تشکیل نہیں ہوتی، لہٰذا، کوئی کلچر جو بھی تشکیل اس کے ساتھ جوڑتا ہے یا مسلط کر لیتا ہے، وہ اسی میں گوشہٴ عافیت ڈھونڈ لیتا ہے۔ جیسا کہ غیبی مدد ہوتی ہے۔

اس مفہوم میں کلچر کی تشکیلوں کا مقصد اصل میں لوگوں کی اکثریت سے بھی بڑی تعداد کے لیے زندگی آسان اور سہل بنانا ہوتا ہے۔ اور یہ حقیقت یہ بھی ہے کہ لوگوں کی اکثریت کلچر کی کسی بنی بنائی تشکیل کو قبول کر لیتی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے۔

لیکن میری فہم یہ کہتی ہے کہ کلچر یہ کام کسی دوسرے انداز میں بھی کر سکتا ہے۔ یعنی اگر ہم کلچر کو دو بڑے خانوں میں تقسیم کر لیں۔ ایک کلچر کو تسلط کا کلچر کہہ لیں اور دوسرے کلچر کو آزادی کا کلچر، تو یوں یہ قضیہ برآمد ہوتا ہے کہ کلچر کسی بھی قسم کی لگی بندھی تشکیلیں کو یوں پیش نہ کرے کہ بس یہی تشکیلیں ہیں، اور یہی تشکیلیں حرفِ آخر ہیں، اور یہ کہ انھی میں سے کسی کو قبول کرنا اور اپنانا ہو گا۔ ان سے ہٹ کر کسی اور تشکیل کو تخلیق کرنا اور اختیار کرنا انحراف اور بغاوت تصور ہو گا۔

یعنی اس طرح کی گنجائش پیدا کر کے ہر کلچر آزادی کا کلچر بھی بن سکتا ہے۔ جیسا کہ ہو سکتا ہے کہ آزادی کے کلچر کے تحت اماں فائرمینی، اماں فائرمینی نہ ہوتیں۔

(اب ہمارے سامنے اماں فائرمینی کا کردار ایک رومانوی کردار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’اماں فائرمینی‘‘ کی زندگی نہایت سخت محنت اور کام سے عبارت رہی ہو گی!)

اس قسم کے کلچر کو ایک کھُلا کلچر کہہ سکتے ہیں۔ یقیناً میرا اشارہ کارل پاپر کی ’’اوپن سوسائیٹی‘‘ اور ’’کلوزڈ سوسائیٹی‘‘ کی طرف ہے۔

حاصلِ کلام یہ کہ کلچر کے ضمن میں، میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ کلچر کو کھُلا کلچر ہونا چاہیے۔ یعنی ہر فرد کو آزاادی میسر ہو کہ وہ چاہے تو کسی بنی بنائی تشکیل کو اخیتار کر لے، یا اگر وہ چاہتا ہے تو کوئی نئی تشکیل تخلیق کر لے۔ اور یہ کہ کلچر اس پر کسی بھی تشکیل کو نہ ٹھونسے نہ مسلط کرے۔

یعنی ہر کلچر کو کھُلا کلچر ہونا چاہیے، بند کلچر نہیں۔

[16 جون 2026]

Waqas Ahmad

FB ID:

https://www.facebook.com/waqas.ahmed.9210256

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted