Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

بڑی عید کی نماز، پیش امام کا وعظ اور وعظ کا موضوع

آج ہم بھائیوں اور ہمارے بچوں نے بڑی عید کی نماز صبح صبح پانچ بج کر بیس منٹ پر اسی جگہ پڑھی جہاں بہت سالوں سے پڑھتے آ رہے ہیں۔ بہت حیران کن اور خوشگوار تجربہ رہا۔

گذشتہ برسوں میں یہاں یہی پیش امام پہلے اپنے وعظ میں سیاسی معاملات کو زیرِ بحث لاتے تھے اور لوگوں کا خون گرماتے تھے۔

ابھی جو چھوٹی عید گزری، اس پر بھی ان کا وعظ سماجی اور خاندانی معاملات تک محدود تھا۔ اس مرتبہ بڑی عید پر بھی ایسا ہی ہوا۔

پہلے عیدین پر بھی وہ دوسرے سیاسی معاملات پر جوش و جذبہ دکھانے کے ساتھ ساتھ ایک معاملے پر لازماً زور دیا کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ اگر آپ اپنے کسی عزیز سے ناراض ہیں تو آج کا دن ایسا ہے کہ جائیں اور اسے گلے لگائیں۔ کسی ہمسائے اور واقف سے کھنچے ہوئے ہیں تو یہ موقع ایسا ہے کہ اسے منا لیں۔

آج انھوں نے مختصر انداز میں تین چیزوں پر زور دیا۔

گھر کے سربراہ کی مشکلات کو بیان کیا، اور کہا کہ اپنے گھر کے سربراہ پر ناجائز اور غیرضروری دباؤ نہ ڈالیں، اسے تنگ نہ کریں، وہ مقدور بھر آپ کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے اتنا زیرِ بار نہ لائیں کہ وہ خودکشی پر مجبور ہو جائے۔

پھر انھوں نے کہا، کسی کو دفنایا جاتا ہے، تو مرحوم نے اگر کسی سے کوئی قرض لیا ہے تو اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، اور لوگ وہاں اگر کوئی قرض ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔ پیش امام نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ اگر وہ مجبوری میں ہے تو ہم اس شخص کی زندگی ہی میں یہ قرض معاف کر دیں۔

آخراً انھوں نے ایک نہایت اہم معاملے پر بات کی۔ انھوں نے کہ ہم گھر سے نکال کر کوڑا باہر گلی میں پھینک دیتے ہیں۔ کیا یہ ہماری ذمے داری نہیں کہ ایسا نہ کریں۔ کیونکہ جب تک حکومت کے اہل کار آئیں یہ کوڑا گلی میں پڑا رہتا ہے، یا اگر نہ آئیں تو وہیں گلی میں بکھرتا رہتا ہے۔ کیا گلی کو صاف رکھنا ہم سب کی انفرادی ذمے داری نہیں۔ جب تک ہم اپنی اس انفرادی زمے داری کا احساس نہیں کریں گے، ہم اپنی گلی اور اپنے ارد گرد کو صاف کیسے رکھ سکتے ہیں۔

اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ اہلِ مذہب کی سمت بدل رہی ہے، اور وہ افراد کی انفرادی، خاندانی، سماجی ذمے داری کے معاملات پر زور دینے کی طرف بھی آ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایسی کتنی مثالیں اور ہوں گی!

[27 مئی 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments