Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

میری اوقات کی کہانی ایک فلسفی کی زبانی

ان سے باقاعدہ کلاس روم میں فلسفہ پڑھا۔ مسلم فلسفہ تھا۔ بہت پُرمغز لیکچر ہوتے تھے۔ پھر تعلق بھی بنا۔ بحث و مباحثہ بھی خوب ہوا۔ علمی و ادبی بھی اور فلسفیانہ بھی۔ میں ہی نہیں، دوسرے دوست بھی یہی کہتے تھے کہ فلسفے میں، یعنی شعبہٴ فلسفہ (پنجاب یونیورسٹی) میں تنہا وہی تھے، جو فلسفیانہ فہم کے حامل تھے۔

میں نے ہر دم ان کے سامنے سوالات کا ہجوم لگائے رکھا۔ ان کے ساتھ بحثیں کبھی نہ رُکیں۔ وہ میرے پی ایچ ڈی کے نگران بھی بنے۔ کتابیں اور مواد مہیا کرنے میں بہت مدد کی۔

ان کے ساتھ تعلق شتابی کے ساتھ بڑھا۔ جب اکٹھے کسی سے ملے، تو وہ میرا تعارف دوست کہہ کر کراتے۔ لیکن ایک فاصلہ تھا جو کبھی ختم نہیں ہو سکا۔ وہ استاد رہے تھے اور استاد تھے۔ اور میری طرف سے بھی احترام کا تعلق توسیع پاتا رہا۔ ہمیشہ انھیں تعظیم کے قابل سمجھا۔

[اس کے مقابل جنھیں میں اپنا استاد مانتا ہوں، اور جنھوں نے دوسروں کے ساتھ میرا تعارف کبھی دوست کے طور پر نہیں کروایا، صرف نام بتایا اور کام بتایا، وہ دوستوں سے بھی بڑھ کر دوست تھے۔ یعنی لخت پاشا عرف پاشی۔]

ہوا یوں کہ مجھے تو جیسے ایک جنون تھا۔ کسی سیاسی پارٹی کی طرف جھکاؤ بنتا ہی نہیں تھا، اور کونسے مسائل تھے جو جھیلے نہیں اور کونسی مشکلات تھیں جنھوں نے زندگی کو خراب نہیں کیا۔ مگر کوئی بھی سیاسی پارٹی ’’حل‘‘ نظر نہیں آتی تھی۔ تو کیا کرنا چاہیے۔ چپ کر کے بیٹھ جائیں، برداشت کریں۔ میرا تو یہ طریقہ ہی نہیں۔

یہی وہ تحریک تھی جس کے تحت میں نے ایک سیاسی پارٹی (سِول پاکستان پارٹی) کا ڈول ڈالنے کے بارے میں سوچا۔ اس کا آئین لکھنا شروع کیا۔ اس تحریر کے دوران ایک وکیل دوست کی مشورت بھی شاملِ حال رہی۔ مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا آئین لکھا جائے جو پارٹی کو ایک ادارے کی حیثیت سے تعمیر کرے۔

آخرِ کار ایک دن یہ بیل منڈھے چڑھ گئی۔ آئین تکمیل پا گیا۔ میں نے آئین کا پرنٹ نکالا، اور اسے لے کر انھی فلسفے کے استاد کے گھر پہنچا۔ پہلے اور باتیں ہوتی رہیں۔ چائے پی۔ پھر میں نے اپنے بیگ میں سے نکال کر یہ پرنٹ ان کے سامنے رکھا۔ ایک سپاٹ ذہن کے ساتھ۔

مگر کیا ہوا۔ وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ صفحوں کو الٹا پلٹا، کچھ نظر ڈالی۔ پھر اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بولنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک دو باتوں کا جواب دینے کی کوشش کی، مگر کچھ بھانپ کر چپ کر گیا۔

ایک آتش فشاں تھا جو پھٹ پڑا تھا۔ اور ایک لاوا تھا جو اُبل رہا تھا۔ انھیں غصہ بے حال کیے دے رہا تھا۔ وہ کبھی ایک طرف جاتے، کبھی دوسری طرف جاتے۔

ان کی ساری فضیحتی کا لبِ لباب یہ تین جملے تھے۔

’’تم ہو کون؟‘‘

’’تمہاری حیثیت کیا ہے؟‘‘

’’تمہیں جانتا کون ہے؟‘‘

یہ تین جملے انھوں نے بار بار ادا بھی کیے۔ قافیہ ردیف کی طرح۔ یہ تین جملے میرے ذہن پر بھی اور دل پر بھی نقش ہو گئے۔

میں خود حیران تھا کہ نہ مجھے اس وقت غصہ آیا، نہ میں کچھ بولا۔ جب ان کی گفتگو ختم ہوئی، تو میں نے ان سے اجازت چاہی۔

اس کے بعد ان سے فون پر بھی بات ہوتی رہی، اب یا تب ملاقات بھی ہوتی رہی۔

لیکن آہستہ آہستہ ان تین جملوں کی دھار نے تعلق کے دھاگے کو کاٹ دیا۔ ایک فیصلہ خود بخود ہو گیا۔

لیکن اگر کبھی کہیں ملاقات ہو گئی تو میں نے انھیں اپنا استاد ہی سمجھا، وہی تعظیم دی، جو ایک استاد کو دی جاتی ہے۔

میں آج بھی ان کا احسان مند ہوں۔ انھوں نے مجھے میری اوقات یاد دلائی۔ ہاں، بلکہ میں تو بے اوقات تھا، انھوں نے مجھے کچھ نہ کچھ اوقات کا حامل بنایا۔

عرفان نفسیات کے شعبے میں تھا۔ اتنا ہی نام یاد ہے اب۔ مجھے نہیں معلوم مگر عرفان کی شخصیت مجھے لبھاتی تھی۔ ہم فلسفے والوں کا نفسیات والوں کے ساتھ فطری تعلق بنتا تھا۔ ہم دوست ہوسٹل میں بھی عرفان کے کمرے میں جایا کرتے تھے۔ اس کے کمرے کے باہر لکھا ہوا تھا: فار فرام دی میڈ ڈِنگ کراؤڈ۔

انھی دنوں وہاں نفسیات سے چلتا چلتا ایک واقعہ ہم تک بھی پہنچا۔ نفسیات کی کسی لڑکی نے عرفان کو کہا، ’’یو آر نتھِنگ!‘‘ عرفان نے ترکی بہ ترکی جواب دیا: ’’نتھنگ اِز سم تھِنگ!‘‘

[اور یہ ابھی جنوری 2022 کی بات ہے۔ پاشی شدید بیمار تھے۔ میں انھیں ہسپتال دیکھنے گیا۔ وہ کہیں اپنے اندر کی دنیا میں گم تھے۔ ان کی واپسی ہو رہی تھی۔ کبھی میں ان کا ہاتھ پکڑتا۔ کبھی ماتھے پر ہاتھ رکھتا۔ وہ جب واپس آتے، آنکھیں کھولتے۔ انھوں نے آنکھیں کھولیں، میری طرف دیکھا، باوا جی، کیہہ حال اے۔ میں نے کہا، ٹھیک اے پاشی۔ پھر ایک چپ۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے پھر سر ہلایا، میری طرف دیکھا، باوا جی کیہہ ہو رہیا اے۔ میں نے کہا، پاشی سیاسی کم وی ہو رہیا اے۔ پاشی کی آواز جیسے جاگ گئی، وہ کہنے لگے، زبردست باوا جی۔]

[4 جولائی 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted