!اس حادثے اور ہلاکت کا مقدمہ شہباز شریف کے خلاف بھی درج ہونا چاہیے

بے بسی پاکستان کے شہریوں کا مقدر ہے۔

اور اس بے بسی کا کوئی حل نہیں۔ کہنے کو ذرائع ابلاغ میں اتنی ترقی ہو گئی ہے کہ ہر شہری صحافی بن گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بے چاری شہری صحافت کی اوقات خود کہے اور خود سنا کرے کوئی والی ہے۔

اور اصل صحافت، وہ تو زمانے گزرے جب سے اپنے مشن سے دستبردار ہوئی اور اشرافیہ اور ریاستی اشرافیہ کی قصہ گو اور کیمرہ مین بن چکی۔

اب تو کئی برس ہو گئے مجھے مایوس ہوئے بھی۔ کبھی کچھ سوچتا ہوں، کبھی کچھ۔ یوں لگتا ہے کہ ایک گنبدِ بے در میں مقید ہوں۔

یہ میری 14 اکتوبر 2020 کی ایک تحریر ہے۔ لیکن میں اس سے بھی پہلے سے اس مسئلے پر لکھ رہا ہوں اور بول رہا ہوں۔ جیسے کوئی پاگل ہو کیونکہ سننے والا کوئی نہیں۔

’’شہباز شریف کو یہ ایک سزا تو ضرور ملنی چاہیے!‘‘

https://pakpoliticaleconomy.com/shehbaz-sharif-must-be-punished/

اپنی اس تحریر کو مختلف لوگوں کو بھیج چکا ہوں۔ مگر بے سود۔

ایک وٹس ایپ گروپ تھا، اس میں بیوروکریٹ بھی شامل تھے، بڑے بڑے اخباروں میں چھپنے والے بھی، پالیسی ساز بھی اور ایسے ہی بہت سے لوگ۔ یہ تحریر ان کے سامنے بھی رکھی۔ مگر کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔

ایک صوبائی بیوروکریٹ نے جواب دیا کہ متعلقہ سیکریٹری کا قصور ہے، شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ کا کیا قصور۔

میں نے کہا سیکریٹری کو وزیرِ اعلیٰ نے رکھا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کو اصولاً لوگوں نے اپنا نمائندہ بنایا ہے، سیکریٹری کو نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ لوگوں کو جوابدہ ہے، سیکریٹری وزیرِ اعلیٰ کو۔ مگر یہ بس بحث تھی، اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔

اس تحریر میں میں نے لکھا تھا: ’’شہباز شریف پر جو مقدمات قائم ہوئے ہیں، ان سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ نہ ہی ان سے میری کوئی ذاتی مخاصمت ہے۔ ان سب باتوں سے جدا، انھوں نے جو ’’جرم‘‘ کیا ہے، وہ کوئی چھوٹا ’’جرم‘‘ نہیں۔

یہ بہت بڑا ’’جرم‘‘ ہے، جس نے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انھوں نے ترقی کے نام پر لاہور اور کچھ دوسرے شہروں میں جو تباہی پھیلائی ہے، وہ تو ایک خوفناک کہانی ہے۔

اصل تباہی جو انھوں نے پھیلائی اور جس نے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، اس کی طرف نہ میڈیا کی توجہ ہے، نہ تجزیہ کاروں کی، نہ کالم نگاروں کی، اور نہ ہی خود ان شہریوں کی، جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

لاہور میں جو سڑکیں تعمیر کی گئیں، وہاں فٹ پاتھ تباہ و برباد اور ختم کر دیے گئے۔

دوسرے شہروں میں جہاں جہاں شہباز شریف کی ’’نظرِ کرم‘‘ پڑی، غالباً وہاں بھی یہی حال ہو گا۔

یوں لگتا ہے ان کے اور ان کے منصوبہ سازوں کے ذہن میں انسان نہیں صرف گاڑیاں تھیں۔

یہی سبب ہے کہ نہ تو فٹ پاتھ رہے، اور نہ ہی لوگوں کے لیے سڑک پار کرنے کا کوئی انتظام۔

لاہور میں ایک دو جگہوں پر پہلے کبھی سڑک پار کرنے کے لیے کچھ اوورہیڈ پُل تعمیر ہو گئے تھے، بس وہ موجود ہیں۔ جیسے کہ گلبرگ میں اور جیل روڈ پر۔

وگرنہ پورے لاہور میں، اور دوسرے شہروں میں بھی، نہ تو زیبرا کراسنگ رہنے دیے گئے، اور نہ ہی سڑک پار کرنے کے لیے ٹریفک اشاروں کا کوئی انتظام۔

جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کا رش بہت زیادہ ہو چکا ہے، اور چلنے والی گاڑیوں کی رفتار بھی بہت زیادہ ہے۔

مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، جنھیں سڑک پار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ سب خاصی دیر تک سڑک خالی ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، اور سڑک خالی نہیں ہوتی۔ وہ تنگ آ کر چل پڑتے ہیں، اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ وہ اور کیا کر سکتے ہیں؟

میرے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں، ورنہ یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ اس وجہ سے حادثوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

یہ ہے شہباز شریف کا وہ ’’جرم‘‘ ہے، جس کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔‘‘

میرا یہ زخم آج بھی بھرا نہیں۔ بلکہ اُلٹا شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ سے وزیرِ اعظم بن گئے۔ اور تاحال وزیرِ اعظم ہیں۔

میرا زخم کیوں نہیں بھرا اس کا سبب اس طرح کی خبریں ہیں۔ یہ ایک خبر ملاحظہ کیجیے۔ یہ 8 جولائی (2026) کا ’’دا نیوز انٹرنیشنل‘‘ ہے۔ جیسے دو تین خبریں اکٹھی کر دی جاتی ہیں، یہاں بھی یہ نیچے درج کی گئی دو خبریں ہیں۔

اس کی سرخی کا اردو ترجمہ دیکھیے: تیزرفتار کار سے ٹکر کر آدمی ہلاک

تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ شالیمار کے علاقے میں ایک شخص کو سڑک پار کرتے ہوئے تیزرفتار کار نے ٹکر ماری اور وہ ہلاک ہو گیا۔ مذکورہ شخص اطلس خان تھا۔ سڑک پار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس سے ایک تیزرفتار کار ٹکرائی، وہ شدید زخمی ہوا۔ اسے قریبی ہسپتال لے جایا جا رہا تھا اور وہ زخموں کے سبب ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے قانونی کاروائی کے لیے لاش اپنے قبضے میں لے لی۔ تاہم، لواحقین نے نامعلوم ڈرائیور کے خلاف کسی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق وارثین کے انکار پر کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی نہیں کی جا رہی۔

دا نیوز نے اس خبر کے نیچے ایک تیسری خبر بھی درج کی ہے۔ اگرچہ اس میں حادثے کی تفصیل نہیں دی گئی۔ لیکن یہ حادثہ جو ڈاکٹرز ہاسپیٹل کے علاقے میں کینال روڈ پر ہوا اس میں بھی موٹر سائیکل کی ٹکر سے ایک 62 سالہ شخص ہو گیا۔

اپنی پرانی تحریر میں میں نے شہباز شریف کے لیے جو سزا تجویز کی تھی، وہ یہ تھی: ’’ مناسب ہے کہ اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں انھیں ایسی سزا دی جائے کہ ان کی زندگی بھی اسی طرح خطرے میں پڑے، جیسے انھوں نے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔

اور ان کے اس ’’جرم‘‘ کی سزا یہ ہو سکتی ہے کہ انھیں روزانہ لاہور اور دوسرے شہروں کی سڑکوں پر، جہاں کوئی فٹ پاتھ نہیں،  پیدل چلنے پر مجبور کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ چند کلومیٹر چلنے کے بعد انھیں سڑک پار کرنے کی سزا بھی دی جائے۔

یعنی انھیں صبح سات بجے لاہور اور دوسرے شہروں کی سڑکوں پر لا کر چھوڑ دیا جائے اور وہ سارا دن شام پانچ بجے تک سڑکوں کے کنارے چلیں اور ہر چند کلومیٹر کے بعد سڑک پار کیا کریں۔

تب انھیں احساس ہو گا کہ انھوں نے عام شہریوں کے ساتھ کیا ظلم کیا ہے۔

یہ سزا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جیسا ’’جرم‘‘ ویسی سزا ہونی چاہیے۔‘‘

اور یہ جو اوپر دو حادثات کی خبریں درج ہوئیں ان میں سے ایک میں تو یہ واضح ہے کہ ایک شخص سڑک پار کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا اور ہلاک ہو گیا۔ یعنی اگر سڑک پار کرنے کے لیے زیبرا کراسنگ ہوتے، اوور ہیڈ برج ہوتے، یا انڈر پاس ہوتے، تو یہ شخص یوں حادثے کا شکار نہ ہوتا۔ اور دوسرے بہت سے اشخاص بھی اس قسم کے حادثوں کے نتیجے میں نہ تو زخمی ہوتے نہ جان سے ہاتھ نہ دھوتے۔

اب کیونکہ اس جرم کی نوعیت بہت سنگین ہے، لہٰذا، ضروری ہے کہ اس قسم کے تمام حادثات کے جو مقدمے درج ہوتے ہیں، ان میں شہباز شریف کا نام بھی شامل کیا جائے۔ یعنی ایسے تمام حادثوں اور ہلاکتوں کے مقدمات شہباز شریف کے خلاف بھی درج ہونے چاہییں۔

[13 جولائی 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted