پہلے قابل ٹیکس آمدنی 8 لاکھ روپے سالانہ تھی۔
اس بجٹ میں 6 لاکھ روپے کر دی گئی۔
یعنی اگر کوئی فرد 50 ہزار روپے ماہانہ کما رہا ہے
تو اسے انکم ٹیکس دینا ہو گا۔
سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور کابینہ
اور پوری ریاستی اشرافیہ کا ہر فرد
50 ہزار روپے ماہانہ میں گزارا کر کے دکھائے گا!
ٹیکس کی بھوکی بے حس ریاستی اشرافیہ!