کل 4 جولائی (2026) کو ’’دا نیوز انٹرنیشنل‘‘ نے اپنے ٹاپ نیوز سیکشن میں دو تصویروں اور دو خبروں کو اوپر نیچے جوڑ کر چھاپا۔ یہ بہت معنی خیز انداز ہے۔
میں نے اس کا سکرین شاٹ بنا لیا۔ پہلے آپ بھی اسے ملاحظہ کیجیے۔

خلاصہ:
اوپر کی تصویر میں جو لوگ نظر آ رہے ہیں اور جو لوگ نظر نہیں آ رہے مگر علی خامینائی کی تجہیز و تکفین کی رسومات میں شریک ہیں، پاکستان ان لوگوں کی ملکیت نہیں۔ یہ صرف یہاں پاکستان میں حاکم لگے ہوئے ہیں۔
نیچے کی تصویر میں بس کھائی میں گرنے کی وجہ سے جو 40 لوگ ہلاک ہو گئے، پاکستان ان لوگوں کی ملکیت ہے اور ان کروڑوں لوگوں کی بھی جو ابھی زندہ ہیں۔
تفصیل:
پہلی خبر کے الفاظ ہیں: وزیرِ اعظم، چیف آف ڈیفینس فورسز کی علی خامینائی کے جنازے میں شرکت، ایران میں ہفتہ بھر کی رسومات
دوسری خبر کے الفاظ ہیں: بلوچستان میں بس کھائی میں گرنے سے 40 افراد ہلاک
نیچے کی تصویر میں کھائی میں گری ہوئی بس دکھائی گئی ہے۔
اور اوپر کی تصویر میں جو شخصیات نظر آ رہی ہیں، آئیے ان کی شناخت پریڈ کر لیتے ہیں۔
سامنے شہباز شریف ہیں جو اس وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم لگے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کے بائیں جانب عاصم منیر ہیں جنھیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستانی افواج کا سربراہ مقرر کیا ہوا ہے۔ شہباز شریف کے پیچھے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ ہیں۔ مراد علی شاہ کے بائیں جانب بلاول بھٹو زرداری ہیں۔
خبر کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرداخلہ محسن نقوی (جو سیاست دان نہیں، مگر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انھیں وزیرِ داخلہ لگایا ہوا ہے!)، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سپیکر قومی اسیمبلی ایاز صادق اور چیئرمین سینٹ یوسف گیلانی سمیت اعلیٰ سطح کے اس وفد میں شامل تھے۔
غیرسیاست دانوں سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ مجھے اس وفد میں شامل سیاست دانوں سے سروکار ہے۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں، جن کی پارٹیوں کو یعنی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کو ووٹروں نے گذشتہ عام انتخابات میں ووٹ دیے تھے، اور دونوں پارٹیوں نے مل کر مرکز میں اتحادی حکومت بنائی تھی، اور بالترتیب پنجاب اور سندھ میں بھی۔
مسئلہ یہ درپیش ہے کہ پیچھے اپنے ملک میں کیا ہو رہا ہے، اس سے ان سیاست دانوں کا کوئی تعلق نہیں۔ ایران سے علی خامینائی کی تجہیز و تکفین کی رسومات میں شرکت کی دعوت آئی اور یہ لوگ منہہ اٹھا کر چل پڑے۔ دعوت صرف وزیرِ اعظم کے لیے آئی تھی، یا اور کتنے لوگوں کے لیے، یہ کچھ پتا نہیں۔ تو پھر اتنا بڑا وفد کیسے بن گیا۔ کیا ان سب کا جانا ضروری تھا؟ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ وزیرِ اعظم کی نمائندگی بھی کوئی اور کر سکتا تھا۔ اتنے سارے لوگوں کا جانا سراسر نامناسب تھا۔
سو ان سیاست دانوں سے یہ سوال کرنا عین واجب ہے کہ نیچے گری ہوئی بس میں سوار 40 افراد کی موت سے ان کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ جبکہ میرا جواب تو یہ ہو گا کہ ان 40 افراد کی ہلاکت سے کسی بھی سیاست دان کا قطعاً کوئی تعلق نہیں۔
اگر ان سیاست دانوں سے کوئی روبرو مکالمہ ہو سکے تو وہ کہیں گے یعنی مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو زرداری کہیں گے کہ یہ بس سندھ میں تو نہیں گری۔ مرکزی حکومت کے شہباز شریف اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاست دان بھی یہی جواب دیں گے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان سے ایران تو کوئی نہیں گیا۔
اور اگر میں اس مکالمے میں شامل ہوؤں تو ان سیاست دانوں سے پوچھوں گا کہ کیا اسلام آباد میں، سندھ میں، پنجاب میں (اور کے پی کے میں بھی) ایسے کوئی حادثات کبھی نہیں ہوئے۔ جبکہ پنجاب لاہور میں ابھی کاہنے کے علاقے میں ایک سکول کی چھت گرنے سے 14 بچے موت کے منہہ میں چلے گئے۔
یعنی سیاست دانوں کے کسی حیلے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی لوگ اصل ذمے دار ہیں۔ اور میں کچھ عرصے سے بار بار یہ کہہ اور لکھ رہا ہوں کہ جیسا بھی حادثہ ہوتا ہے اور اس میں لوگ زخمی ہوتے ہیں، ہلاک ہوتے ہیں، تو اس حادثے کی جو ایف آئی آر درج ہوتی ہے، اس میں متعلقہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیرِ اعلیٰ اور مرکز کی صورت میں وہاں کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیرِ اعظم کا نام ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔
اب اس تحریر کے اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ یعنی یہ کہ پاکستان کس کی ملکیت ہے۔ میرا سوچا سمجھا جواب یہ ہے کہ اوپر کی تصویر میں جو سیاست دان نظر آ رہے ہیں، اور جو دوسرے سیاست دان ایران جانے والے وفد میں شامل تھے، یہ سب کے سب، بلکہ پاکستان کی جتنی سیاسی پارٹیاں ہیں، جتنے سیاسی گروہ ہیں، پاکستان ان میں سے کسی کی بھی ملکیت نہیں۔ یہ لوگ یہاں صرف حکمرانی اور سیر سپاٹوں کے مزے لینے کے لیے موجود ہیں۔ اور اپنی دولت میں اضافے کے لیے موجود ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ پاکستان کی ریاستی اشرفیہ تو پاکستان کی قطعاً مالک نہیں۔ یعنی یہ صرف پاکستان پر حکومت کرنے والی اشرافیہ ہے۔ پاکستان کی ریاست کے وسائل پر زندہ رہنے والی اشرافیہ ہے۔ اس کے سوا، پاکستان کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ دو تصویریں اور یہ دو خبریں اسی چیز کا ثبوت ہیں۔
اس وقت بیچ اس معاملے کے میں پاکستان کی ریاستی اشرافیہ میں سے صرف سیاسی اشرافیہ کو شامل کروں گا، اور عدالتی اشرافیہ اور عسکری اشرافیہ کو اس سے علاحدہ رکھوں گا، کیونکہ گورنینس کا عسکری اشرافیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں، عیاں ہے کہ گورنینس صرف سیاسی اشرافیہ اور عدالتی اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی سیاسی اشرافیہ انتظامیہ بھی ہے اور مقننہ بھی۔ جبکہ یہ عدلیہ ہے جس نے آئین و قانون کے نفاذ کو یقینی بنانا اور انصاف مہیا کرنا ہے۔ لیکن عدلیہ پر بھی براہِ راست کوئی ذمے داری نہیں آتی۔ کیونکہ عدلیہ کا ادارہ پارلیمان کو جواب دہ ہے۔
کہنے سے مراد یہ ہے کہ نہ صرف اب اور اس لمحے بلکہ ہمیشہ سے سیاسی اشرافیہ اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی برتتی آ رہی ہے۔ یہ صرف ریاست کے وسائل پر پلنا اور سیر سپاٹے کرنا اور ریاست کی مدد سے پیسے بنانا جانتی ہے۔ ان سب سیاست دانوں اور خاص طور پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کے طرزِ عمل اور رویے پر غور کر لیجیے، ہر چیز سمجھ میں آ جائے گی کہ حکومت کی دلچسپی کس چیز میں ہے۔
یعنی حکومت جس مقصد سے بنتی ہے یا بنائی جاتی ہے، وہ ہے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی۔ شہریوں کو اگر جان و مال کا تحفظ میسر نہیں، اور انصاف عنقا ہے، تو کوئی بھی حکومت ہو کیسی بھی حکومت ہو اسے بنانے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کسی بھی حکومت کے قیام کا مقصد دہائیاں گزر گئیں فوت ہو چکا ہے۔ بلکہ اس کی لاش بھی گل سڑ چکی ہے۔ اس لاش کا کتبہ سیاسی اشرافیہ کے ماتھے پر نقش ہے۔
[5 جولائی 2026]