Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

بابت ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ: سیاسی دنیا ایک بہاؤ میں ہے

انسانی دنیا ہمیشہ سے ایک دنیا رہی ہے۔ یعنی وحدت پر مبنی دنیا۔

مختلف ریاستوں اور ممالک کے مابین سیاسی و جغرافیائی تقسیم کوئی ناقابلِ تبدیل تقسیم نہیں تھی، نہ ہے۔ یہ سیاسی تقسیم تھی، اور ہے۔

مگر سیاسی فلاسفہ نے اس سیاسی تقسیم کو سیاسی فلسفے کے جامد تصورات میں متشکل کر دیا تھا۔

ان تصورات میں سے نہایت گمراہ کن تصور اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) کا تصور ہے۔

یہاں میں اس تصور کے ایک بڑے نتیجے کو سامنے لانا چاہتا ہوں۔

ہر قسم کی حکومتوں نے اس تصور کو اپنی اپنی جغرافیائی حدوں کے اندر اپنی طاقت کو دوام بخشنے کی خاطر استعمال کیا۔ یعنی اپنے شہریوں پر ناجائز حکمرانی قائم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

انسانی دنیا کی موجودہ صورتِ حال میں یہ بات عیاں ہے اور اسے سمجھنا آسان بھی ہے کہ سیاسی فلسفے کے کئی تصورات بہاؤ میں ہیں۔ بالخصوص اقتدارِ اعلیٰ کا تصور۔

یہ بات بھی توجہ چاہتی ہے کہ ایک نئی قسم کی عالمگیریت (Globalization) وجود پا رہی ہے۔

اقتدارِ اعلیٰ کا تصور مطلق تصور نہیں۔ یہ ایک اضافی تصور ہے۔ یعنی حدود و قیود کا پابند ہے۔ یہ مختلف طرح کے حالات میں مختلف شکلیں اختیار کر سکتا ہے۔

جیسا کہ انسانی دنیا ایک دوسرے پر انحصار کی دنیا ہے۔ کوئی ملک یا علاقہ یا قوم خود کفیل یا خود مکتفی نہیں۔ ایک یہی چیز اقتدارِ اعلیٰ کے مطلق تصور کو تبدیل کر دیتی ہے۔

ایک معاملہ اور جو بحث چاہتا ہے، وہ یہ ہے:

آیا افغانستان کی قریب قریب نصف آبادی یعنی عورتوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ بشمول ان لوگوں کے جو طالبان کے تصورِ مذہب سے اتفاق نہیں رکھتے۔

اسی طرح، آیا ایران کے لوگوں کو بھی وہاں کی حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

یا، یوکرین کے لوگوں کو روس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

یہ تمام سوالات مباحثہ چاہتے ہیں، جو دلائل اور شواہد پر مبنی ہو۔

مگر جو چیز اہم ہے، وہ ہے اقتدارِ اعلیٰ کے تصور کو مطلق سمجھنے کا معاملہ۔

اس معاملے کے ساتھ سیاسی فلسفے میں ایک معاملہ یہ بھی جڑا ہوا ہے:

کسی حکومت کے خلاف بغاوت کن حالات میں جائز ہوتی ہے اور جائز ہو سکتی ہے۔

میرے خیال میں اس میں ایک اور معاملے کا اضافہ ضروری ہے:

کن حالات میں کسی ملک میں کسی دوسرے ملک کی مداخلت جائز ہوتی ہے اور جائز ہو سکتی ہے۔

آپ بھی ان معاملات پر سوچیے اور اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments