Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

پیمانے کس طرح وضع کیے جائیں؟ کچھ منہاجیاتی معاملات

وضاحت: یہاں ذیل میں جو گفتگو کی گئی ہے، وہ کُلی و نوعی اعتبار سے صرف اور صرف دنیاوی اقالیم سے تعلق رکھتی ہے۔

زیرِ بحث موضوع سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کو جانچنے کے لیے پیمانے کس طرح وضع ہونے چاہئیں؟

محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے

رند کا ساقی کا مے کا خم کا پیمانے کا نام

(فیضؔ)

میں نے سوچا اس تحریر کا آغاز فیضؔ کے شعر سے کروں، جس میں پیمانے کا لفظ استعمال ہوا ہے، اور کہوں کہ یہاں پیمانے سے یہ پیمانہ مراد نہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ پیمانہ بھی تو شراب کی پیمائش کے کام آتا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر شراب کا یہ پیمانہ فرد کی پیمائش کے کام آتا ہے۔ یعنی اس کے ظرف کی پیمائش۔

بلکہ میں اس بات کو بڑھانا چاہوں گا۔ یہ پیمانہ معاشروں اور ان کے ظرف کی پیمائش کے کام بھی آتا ہے۔ ریاستوں اور ان کے آئینی اور قانونی انتظام و انصرام کو جانچنے کے کام بھی آتا ہے۔

کچھ ریاستیں شراب، یا ایسی ہی کچھ دوسری چیزوں، جیسے کہ تحریر و تقریر کی آزادی سے خوف زدہ ہوتی ہیں، اور انھیں ممنوع قرار دے دیتی ہیں۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ، مثلاً معاشرے کے کسی حصے کے دباؤ یا سیاسی مصلحت کے تحت شراب نوشی یا تحریر و تقریر کی آزادی پر پابندی عائد کر دیتی ہیں۔ خواہ وہ خود بادہ نوشی ہے باد پیمائی پر یقین رکھتی ہوں۔ تاہم، ان کے اس اقدام سے ان ریاستوں اور معاشروں کے ظرف کا اندازہ ہو جانا چاہیے کہ وہ کتنا پانی میں ہیں۔

یہی پیمانہ ہے جس کی وضع سے متعلق یہاں کچھ اہم منہاجیاتی اصولوں پر بات کرنا مقصود ہے۔

لوگ چیزوں کو جانچنے کے لیے متعدد قسم کے پیمانے بناتے اور پھر ان کا اطلاق کر کے دیکھتے اور دوسروں کو بتاتے ہیں کہ یہ دیکھو یہ چیزیں غلط ہیں اور یہ چیزیں صحیح ہیں۔

بالعموم یہ پیمانے اگر ایک طرف شخصی، وقتی، عارضی اور مطلبی ہوتے ہیں، تو دوسری طرف ایک محدود مفہوم میں افرادی، فرقہ وار، جماعتی، سیاسی، عسکری، وغیرہ، بھی ہوتے ہیں۔ یعنی ان پیمانوں کو ان کی شخصی، وقتی، عارضی، مطلبی، افرادی، فرقہ وار، جماعتی، سیاسی، عسکری، وغیرہ، سطحوں سے اوپر اٹھا کر غیرشخصی، غیروقتی، غیرعارضی، غیرمطلبی، غیرافرادی، غیرفرقہ وار، غیرجماعتی، غیرسیاسی، غیرعسکری، وغیرہ، پیمانوں میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یعنی انھیں آفاقی پیمانوں میں ڈھالا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ ان کی تعمیر ہی میں ان کی خرابی کی صورت مضمر ہوتی ہے۔ یعنی یہ شخصی، وقتی، عارضی، مطلبی، افرادی، فرقہ وار، جماعتی، سیاسی، عسکری، وغیرہ، ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک اور نکتہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو جانچنا مقصود ہے، ان چیزوں ہی میں سے، اِس یا اُس، کسی ایک چیز کو اٹھا کر پیمانے کا مرتبہ نہیں دیا جا سکتا۔

پیمانے کا مرتبہ تو کسی بھی چیز کو دیا جا سکتا ہے۔ دیا جاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں تو قانون کے عالم ایک فردِ محض کو ’’آئین‘‘ کا درجہ دے رہے ہیں (عمران خانی گروہ کے ایک قائد بیرسٹر گوہر خان یہی کچھ فرماتے ہیں)!

چلیے اس کجی سے بچ کر میں اپنی بات کو مختلف انداز میں کہتا ہوں۔ جس چیز کو جانچا جانا ہے اس چیز کو خود پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ یعنی جانچی جانے والی چیزوں میں سے کسی چیز کو بھی پیمانے کا مقام نہیں دیا جانا چاہیے۔ قطعاً نہیں۔

گو کہ زبان و بیان میں بعض اوقات ایسے اظہارات سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ کسی تخلیق پارے کو، کسی شعر، نظم، افسانے، ناول، کسی تخلیق کار کو یا کسی نظریے کو، یا کسی نظریہ دان کو ایک پیمانہ کہہ یا لکھ دیا جاتا ہے۔ مگر عیاں ہے کہ یہ تحسین و تحیر کا ایک انداز ہے۔ اور اگر کہیں اس نوع کے کسی اظہار سے لغوی مراد لی گئی ہوتی ہے، تو وہ ایک بڑی گمرہی ہے۔ افرا تفری اور نفسا نفسی کا سامانِ عبرت ہے۔

بعینہٖ، واضح رہے کہ یہاں دنیوی اقلیم کی بات ہو رہی ہے، اور اس اقلیم میں کسی بھی فرد کو پیمانہ قرار دینے سے بڑا جرم انسانیت اور انسانی تہذیب کے خلاف ہو نہیں سکتا (عمران خانی گروہ اسی جرم کا مرتکب ہو رہا ہے!)۔ یہ نہ صرف کوتاہ اندیشی بلکہ بدترین جہالت ہے۔

اس معاملے میں میرا استدلال وہی ہے، جو اوپر بیان ہوا۔ یعنی جن چیزوں کو جانچنا ہے وہ پیمانہ نہیں بن سکتیں۔

کیونکہ یہ فعل چیزوں کے متعلقہ مقامات کو آپس میں خلط ملط کر دینے کے مترادف ہے۔ یوں انسان کی تخلیق کی ہوئی کُل دنیا تہہ و بالا ہو کر رہ جائے گی۔ پاکستان میں تو کافی کچھ ہو بھی چکی ہے۔

مگر واقعتاً کچھ لوگوں کی انا اتنی بڑی ہوتی ہے کہ خود ان کے وجود کے اندر سما نہیں پاتی۔ وہ ترازو کے ایک پلڑے میں خود کو رکھتے ہیں، اور دوسرے پلڑے میں ہر انسانی تحصیل کو اور دعویٰ کرتے ہیں کہ دوسرا پلڑا بے وقعت ہے۔ اس سے بھی بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اس فرد کے دعوے کی تصدیق میں دعوے داروں کا ایک ہجوم اپنے اپنے خمیدہ ترازو لے کر سڑکوں پر نکل آتا ہے۔

یقیناً ایسے لوگ ظرف سے عاری ہوتے ہیں اور اس مغالطے کی زندہ مثال بھی کہ وہ تو اس درجے پر فائز ہیں جہاں انھیں جانچا جانا ہے، ان کے ظرف کو جانچا جانا ہے، کسی پیمانے کی مدد سے۔ مگر یہ لوگ خود پیمانہ بننے کے زعم میں مبتلا ہر چیز کو نفی کرنے پر تُل جاتے ہیں۔

سو یہ بھی ایک پیمانہ ہوا کہ جس چیز کو جانچا جانا ہے یا جن چیزوں کو جانچا جانا ہے، وہ خود پیمانہ نہیں بن سکتیں (بنیں گی تو انتشار پھیلائیں گی)۔

فی الوقت پاکستان میں بالخصوص دنیائے سیاست میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اور دیکھ لیجیے انتشار کس انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔

نہ کامن سینس سلامت ہے، نہ عقل و استدلال۔

ایک اور پیمانہ بھی ہے، جو اسی قضیے کے اندر مضمر ہے۔ یعنی یہ کہ جس چیز کو یا جن چیزوں کو جانچا جانا ہے، انھیں جانچنے کے لیے جو پیمانہ منتخب کیا جائے گا، اسے ان چیزوں کے بیرون میں موجود ہونا چاہیے۔ تب ہی اسے یہ مقام مل سکتا ہے کہ اس کی مدد سے ان چیزوں کو جانچا جائے جن چیزوں کو جانچنے کے لیے اسے وضع کیا گیا ہے۔

ہاں، جہاں تک خود پیمانوں کی جانچ کا تعلق ہے، تو اس ضمن میں یہ اصول ایک مسلمہ اصول کا مرتبہ رکھتا ہے کہ جو پیمانہ وضع کیا گیا ہے، خود اس پیمانے کو بھی اسی پیمانے کی مدد سے پرکھا جائے گا۔

جیسا کہ یہ پیمانہ کہ کوئی بھی بیان تنقید سے مبریٰ نہیں۔ تو خود یہ پیمانہ بھی تنقید سے مبریٰ نہیں ہو سکتا۔

اوپر کی گفتگو سے ایک یہ پیمانہ بھی متشکل ہوتا ہے کہ چیزوں اور پیمانوں میں فرق و فاصلہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ چیزیں پیمانہ نہیں بن سکتیں، اور پیمانے چیزوں میں نہیں ڈھل سکتے۔

[22 مئی 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments