یورپی نشاة ثانیہ 14ویں صدی سے 17ویں صدی پر محیط ہے۔ اٹلی اس کا مرکز رہا اور انسان پسندی بنیادی قدر۔
یورپی روشن خیالی کا پھیلاؤ 17ویں صدی کے اواخر سے 18ویں صدی تک ہے۔ اس کی پہچان منطق، عقلیت اور تجربیت رہی۔
یہ دو بڑے ڈگ بھرنے کے بعد پھر کہیں یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہوتا ہے، اواخر 18ویں صدی سے 19ویں صدی تک۔ اس کا گڑھ برطانیہ بنا۔
یہ وہ تام جھام تھا، جسے لے کر مختلف یورپی طاقتوں نے دنیا کو تاراج کرنے کی ٹھانی۔
میری توجہ یہاں صرف برصغیر پر ہے اور وہ بھی خاص ہندوستان پر۔
پہلے پرتگالی ہندوستان پہنچے۔ 1498 میں۔
جبکہ ولندیزیوں کا ورود 1605 میں ہوتا ہے۔
برطانوی پہنچتے ہیں 1608 میں۔
ڈینش 1620 میں وارد ہوتے ہیں۔
فرانسویوں کی آمد ہوتی ہے 1668 میں۔
تاہم، صرف برطانوی یہاں قدم جمانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
ولیم ہاکنز 1608 میں سورت میں لنگر انداز ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارت 1612 سے شروع ہوئی۔ اس کے بڑے مراکز مدراس (1639)، بمبئی (1668)، اور کلکتہ (1690) بنے۔
برطانوی اپنی ہندوستانی مہم کی ابتدا کپڑے کے تاجر کی حیثیت سے کرتے ہیں۔ بالآخر پورے ہندوستان پر قابض ہو جاتے ہیں۔ 1857 کی بغاوت کے بعد ہندوستان براہِ راست تاجِ برطانیہ کے تحت آ جاتا ہے۔ اور برطانوی 1947 تک ہندوستان پر حکومت کرتے ہیں۔
مجھے یہاں مختلف یورپی طاقتوں کے مابین کسی قسم کا موازنہ نہیں کرنا۔ جیسا کہ یہ کہ کون ترقی کی کس منزل پر تھا، اور ہندوستان میں اپنی حکومت کیوں قائم نہیں کر سکا۔ وغیرہ۔
میں صرف ایک نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جو بھی اور جیسے بھی اسباب رہے ہوں، ہندوستان میں برطانوی آئے اور ’گھر والے بن بیٹھے۔‘ وہ تجارت کی غرض سے آئے تھے۔ تجارت بھی کی، اپنا قبضہ بھی قائم کیا۔ پھر حکومت بھی کی۔
تاہم، نتائج کے اعتبار سے ہندوستن میں برطانویوں کا ورود ایک انقلابی مظہر کی حیثیت رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ جو زادِ راہ لیے ہوئے تھے، اس میں فکر و عمل کا ایک جہان بندھا ہوا تھا۔
فکر سے مراد ہے فلسفہ اور علوم و فنون۔
عمل سے مراد ہے سائنس اور ٹیکنالوجی۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ یہ برطانیہ ہی تھا جہاں بیشتر صنعتی انقلاب ثمر آور ہوا، جس کی تہہ میں یورپی نشاة ثانیہ اور روشن خیالی کے انقلابات کارفرما تھے۔
دنیا میں باقی ملکوں اور خطوں کی جو فتوحات یورپی طاقتوں کے ہاتھوں عمل میں آئیں، ہندوستان کی برطانوی فتح ان سے یکسر مختلف تھی۔ بلکہ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ دنیا کی برطانوی فتوحات دنیا کی باقی یورپی فتوحات کی نسبت غیرمعمولی طور پر مختلف ثابت ہوئیں۔
یعنی دنیا کی برطانوی فتح دنیا کی دوسری فتوحات جیسے کہ ہسپانوی، فرانسوی کی نسبت ماہیتاً مختلف تھی۔
ہسپانویوں اور فرانسویوں کا زور عظیم مملکتوں کے قیام پر تھا۔ یہ دونوں جہاں جاتے، دولت ہتھیاتے اور اپنی مطلق شہنشہاہی اور مذہبی طاقت استوار کرتے۔ مثلاً ہسپانویوں کی نظر محض سونے اور چاندی کے حصول پر ہوتی۔
کہنے سے مراد یہ کہ ان دونوں طاقتوں کی مہمیں یک طرفہ تاراج سے عبارت تھیں۔ جبکہ برطانیہ کی مہمیں اس یک طرفہ تاراج سے یکسر مختلف تھیں۔
جیسا کہ برطانویوں نے ہندوستان میں آ کر یہاں کے لوگوں کے ساتھ دو طرفہ تعلق بنایا اور یہ یہی دو طرفہ تعلق تھا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کے لوگوں کے حصے میں بہت کچھ آیا۔ اس تعلق میں ہندوستان کے لوگوں نے جو گنوایا وہ اتنا قابلِ قدر نہیں، جس قدر قیمتی وہ سرمایہ ہے، جو انھیں برطانویوں سے ملا۔ بلکہ بالخصوص وہ کچھ جسے وہ خود اپنے طور پر برطانیوں سے سیکھ سکے۔
یہ فتح اس اعتبار سے مختلف تھی، کیونکہ برطانیہ نہ صرف علوم و فنون میں آگے تھا اور برتر بھی تھا بلکہ اس نے روشن خیالی کی بنیادی اقدار کو جذب کیا ہوا تھا۔ اس کی پشت پر قانون کا ڈھانچہ موجود تھا، جو حقوقِ ملکیت کی ضمانت دیتا تھا، اور یہ آزاد تجارت کا داعی تھا۔ اس نے مالیاتی ادارے تشکیل دے لیے ہوئے تھے، جیسا کہ بینک آف انگلینڈ۔ یوں ایک ایسا کلچر وجود میں آ چکا تھا، جو موثر اور بارآور بھی تھا اور کارپوریٹ نظم کا حامل بھی۔
اس پر مستزاد یہ کہ برطانیہ ٹیکنالوجی کی برتری کا حامل بھی تھا۔ سٹیم شِپ اور ریلوے اس کی مثالیں ہیں۔ یہ عسکری ساز و سامان (بندوق، توپ خانہ) کے لحاظ سے بھی برتر تھا۔
باقی یورپی طاقتوں اور برطانیہ کے مابین یہی وہ فرق ہے، جو ہندوستان کے اعتبار سے اور ہندوستان کے لیے سب سے بڑا عامل ہے، جس نے ہندوستان میں رہنے والوں کی قلبِ ماہیت کر ڈالی۔
مختصر یہ کہ ہندوستانی یعنی ہندو اور مسلمان برطانویوں کی آمد اور رخصت کے بعد وہ نہ رہے، جو وہ پہلے ہوتے تھے۔
میں سمجھتا ہوں گو کہ یہ سودا با امرِ مجبوری ہوا، مگر یہ سودا گھاٹے کا سودا نہیں بنا۔ ہم لوگ فائدے ہی فائدے میں رہے، اس سودے میں۔
[12 جون 2026]