پاکستان میں اہل دانش کا طبقہ ذہنی اور فکری طور پر جیسے ایک نقطے پر مقیم ہے۔ اس نے خود کو چند تصورات کے حصار میں محفوظ بنایا ہوا ہے۔ اور کھُلے اور ناوابستہ ذہن کے ساتھ کسی معاملے کو جانچنے پرکھنے سے محترز ہے۔

مراد اس سے یہ ہے کہ اس طبقے کے ساتھ منطقی اور فلسفیانہ گفتگو کا امکان قریب قریب محال ہے۔ کیونکہ اس طبقے کی فکر کچھ مخصوص قضایا اور کچھ معروف تعصبات پر مبنی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ میں نے قضایا و تعصبات کی بات کی ہے، اقدار کی نہیں۔
آپ جو بھی معاملہ و مقدمہ اس طبقے کے سامنے رکھتے ہیں، یہ اس پر توجہ دینے کے بجائے آپ پر کوئی لیبل چسپاں کر دیتا ہے۔ اور یوں بات آگے نہیں بڑھتی اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ مثال کے طور پر جب آپ سامراج یعنی امریکہ یا پاکستان کی قائمیہ کے حامی ٹھہرے، تو پھر کہنے کو باقی کیا رہ جائے گا۔
اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے دانشور طبقے کے پاس گفتگو کا صرف ایک حربہ ہے، اور وہ بھی ایک منطقی مغالطہ ہے۔ یعنی دلیل کا جواب دینے کے بجائے دلیل دینے والے شخص کو ہدف بنا لینا۔
اس نوع کا ذہن اپنی ساخت میں قبائلی ہوتا ہے۔
ہا یوں کہہ لیجیے کہ اصلاً یہ ایک قبائلی ذہن ہوتا ہے۔ اور ایسا ذہن صرف اور صرف قبائلی وفا اور قبائلی دغا کی اصطلاحات ہی میں سوچ سکتا ہے اور سوچتا ہے۔ اور کسی معاملے کو اس کی خوبیوں اور خامیوں کے معیار پر نہیں جانچتا۔
اور میری دانست میں پاکستان میں فکری ارتقا نہ ہونے کا ایک بڑا سبب اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے۔
[17 مارچ، 2026]