Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

ریاست کو نئے سرے سے آئین کے مطابق ڈھالنا ہو گا

نوٹ: یہ تحریر 13 دسمبر 2019 کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔

https://urdu.nayadaur.tv/26108/

لاہور میں دل کے ہسپتال پر وکلا کا دھاوا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہو گا۔

تو پھر خرابی کہاں ہے؟

سوال تو یہ ہے کہ خرابی کہاں نہیں؟

بس ایک آئین ہے، جس سے امید باندھی جا سکتی ہے۔ مگر آئین تو محض ایک اخلاقی دستاویز ہے۔ اس پر عمل تو ہوتا نہیں۔

طاقت ور گروہ اس پر عمل نہیں ہونے دیتے۔ ریاستی اشرافیہ، اور اس کے مختلف طبقات، جیسے کہ سیاسی اشرافیہ، فوجی اشرافیہ، کاروباری اشرافیہ، وغیرہ، اس پر عمل نہیں ہونے دیتے۔ اشرافیہ کے طبقات نے ریاست اور اس کے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہ آئین اور قانون کو اپنی ضرورت اور فائدے کے مطابق ڈھالتے اور توڑمروڑ لیتے ہیں۔

یعنی جیسا کہ عیاں ہے کہ ریاست لوگوں کے لیے ہوتی ہے، لوگ ریاست کے لیے نہیں۔ مگر …

آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم قانون کی روح سے متصادم ہے

نوٹ: یہ تحریر 5 جنوری کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔

https://urdu.nayadaur.tv/27722/

فوجی آمروں نے آئین کے ساتھ جو سلوک کیا، اس پر تعجب نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب آئین کو معطل کر کے مارشل لا نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب شخصی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ اور جب شخصی حکومت قائم ہو گئی، تو آئین وہ چھکڑا بن جاتا ہے، جسے آمریت کے گدھے کے پیچھے باندھ دیا جاتا ہے۔

لیکن جب سیاست دان، خواہ یہ اصلی ہوں، یا جعلی، یا نام نہاد، یا کرائے کے، آئین کی درگت بناتے ہیں، تو تعجب ہی نہیں، ان کی عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ اور بہت کچھ جو بھی کیا جا سکتا ہے، وہ ضرور کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ فوجی آمر تو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، حکومت پر قبضہ کرتا ہے۔ جبکہ سیاست دان آئینی طریقِ کار کے مطابق منعقدہ …

کیا بایاں بازو بدل رہا ہے؟

نوٹ: یہ تحریر 2 دسمبر کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔

https://urdu.nayadaur.tv/25285

اس نومبر میں الحمرا لاہور میں معنقد ہونے والا ’’فیض میلہ‘‘ ’’فیض‘‘ سے زیادہ میلہ ٹھیلہ تھا۔ مراد یہ کہ ایک ڈھیلے ڈھالے بائیں بازو کا میلہ تھا۔

جیسا کہ ملک میں تفریح ایک نایاب شے بن گئی ہے، یہ موقع اس کمی کو بھی پورا کر رہا تھا۔ مختلف ہال کمروں میں جو سیشن ہو رہے تھے، وہ اپنی جگہ۔ سب سے بڑھ کر ہجوم، ہال نمبر 2 کے سامنے تھا۔ پتا چلا فلم سٹار، ماہرہ خان آ رہی ہیں۔

مختلف ہال کمروں میں کیا گفتگو ہو رہی تھی، معلوم نہیں۔ جو لوگ جنھیں سننا چاہتے تھے، انھیں سننے آئے تھے۔ خود میرا اور دوستوں کا تاثر یہ تھا کہ کسی کے پاس کوئی نئی بات نہیں۔ باربار وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے، جو پہلے بھی باربار کہا جا چکا ہے۔ پھر یہ کہ بولنے والے …

توسیع کی سیاست

سیاسی طاقت کے ریاستی ایوانوں میں کیا سازشیں ہوتی ہیں۔ ہم بےچارے عام شہریوں کو کیا پتا۔ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی چینل جو خبر دیتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کیا ہو رہا ہے، کیا ہونے جا رہا ہے۔

ایک بات صاف ہے کہ ریاست، حکومت جس بات کا انکار کرتی ہیں، وہ ہو کر رہتی ہے۔ جس نے سی او اے ایس کو توسیع دی، اور جس نے توسیع لی، ان سمیت متعدد لوگوں نے انکار کیا تھا کہ توسیع نہیں دی جائے گی، توسیع نہیں لی جائے گی۔ مگر توسیع دے دی گئی ہے، توسیع لے لی گئی ہے۔

یہی سبب ہے کہ ریاست اور حکومت کی کسی بات پر اعتبار کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

ساری سیاست ایک طرف اور یہ حقیقت ایک طرف کہ ریاست، حکومت اور عام شہریوں کے درمیان ایک بڑا خلا حائل ہو چکا ہے۔

یعنی ریاست اور …

Increasing prices of petroleum products: what should be done?

Historically, the governments in Pakistan use utility companies (gas and electricity) and petroleum products (since they are the backbone of modern survival) as gold mines to extract as much revenue as they want to raise.

So under the circumstances, what should be the policy recommendations? And what should we be demanding?

Policy recommendations:

Citizens’ demands:

  1. Prices of the petroleum products be deregulated, i.e. government should not determine the prices of the petroleum products; it’s for the market to determine these prices.
  2. All the taxes, surcharges, etc, levied on petroleum products and gas and electricity also be withdrawn.
  3. Electricity and gas companies be privatized.
  4. Relevant regulatory bodies (NEPRA [National Electric Power Regulatory Authority]; OGRA [Oil and Gas Regulatory Authority]) and Competition Commission be mandated to oversee the oil and utility companies are not colluding, not cartelizing, and not committing unfair business practices.

زری پالیسی: مختصر نوٹ

A Short Note on Monetary Policy

زری پالیسی: مختصر نوٹ

(1) یہ اختیار ریاست/حکومت نے ہتھیا لیا ہوا ہے کہ شہری، ادارے اور کاروبار ایک دوسرے کو جو پیسہ قرض دیں گے، اس کی شرحِ سود کیا ہو گی۔ یا حکومت ریاستی اور کاروباری بینکوں سے جو قرض لے گی، اس کی شرحِ سود کیا ہو گی۔ جبکہ فطرتاً یہ اختیار، قرض دینے اور قرض لینے والے کا ہے کہ وہ کیا معاہدہ طے کرتے ہیں۔ حکومت کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ دونوں فریق معاہدے پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔

(2) یہ اختیار ریاست/حکومت نے اپنی دسترس میں کر لیا ہوا ہے کہ وہ زر کی رسد کو گھٹائے یا بڑھائے۔ اس طرح حکومت اصل میں پیسے کی قیمت مقرر کرتی ہے۔ یعنی زر کی رسد بڑھا کر زر کی قیمت کم کر دے گی۔ یا زر کی رسد گھٹا کر پیسے کی قیمت بڑھا دے …

اگر انتخابات منصفانہ نہیں، تو آپ اسیمبلیوں میں کیوں بیٹھے؟

سیاسی قضیے: 29  دسمبر، 2018

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب تحریکِ انصاف ’’دھاندلی دھاندلی‘‘ کھیل رہی تھی، یا اس کے پردے میں کچھ اور۔ اسی پس منظر میں آصف علی زرداری کا ایک بیان پڑھنے کو ملا۔ انھوں نے فرمایا: ’’ہمارا مینڈیٹ تو ہر دفعہ چوری ہوتا ہے۔‘‘

وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے: آیا یہ کہ ان کی جماعت کے ساتھ ہر انتخاب میں دھاندلی ہوتی ہے۔ یا یہ کہ ہر انتخابی مینڈیٹ، ہمیشہ کے لیے ان کی جماعت کے نام لکھ دیا گیا ہے، اور یہ ان کی جماعت کو ہی ملنا چاہیے۔ اور اگر ان کی جماعت کو نہیں ملتا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جماعت کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں، کم و بیش، اسی اندازِ فکر کی حامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اندازِ فکر فسطائی رجحان کا غماز بھی ہے۔

ہاں، ایک …

پاکستانی فسطائیت کے خد و خال Fascism in Pakistan

سیاسی قضیے: [29 نومبر، 2018]

تمہید:

ہر معاشرے میں مختلف النوع منفی رجحانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، جیسے کہ خودپسندی، عقل دشمنی، وغیرہ، (تاآنکہ فکری اور سماجی روشن خیالی ان میں سے کچھ رجحانات کا قلمع قمع نہ کر دے!)۔ سبب اس کا افراد کے مابین لاتعداد قسم کے اختلافات ہیں۔ ہاں، ان رجحانات کو جب کبھی خارج میں سازگار ماحول میسر آ جاتا ہے، تو یہ پنپنا اور ’’پھلنا پھولنا‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔

جیسا کہ فی زمانہ یورپ میں انتہاپسند دائیں بازو نے سر اٹھایا ہوا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں داخلیت پسندی کو فروغ ملا ہے۔ اور پاکستان میں عمران خان کی شکل میں فسطائیت نے ظہور پایا ہے۔

یہاں صرف  فسطائیت (فاش ازم) کا رجحان پیشِ نظر ہے۔

کسی بھی معاشرے میں جو رجحانات پنپتے اور پھلتے پھولتے ہیں، وہ وہاں کی خاص مقامی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی سبب …

بے چارگی کی زندگی

سیاسی قضیے [ 29اکتوبر، 2018]

[نوٹ: یہ تحریر اگست 2007 میں انگریزی میں لکھے گئے، ایک پرانے مضمون میں بیان کیے گئے اور چند ایک حالیہ واقعات و تجربات پر مبنی ہے۔ اپریل 2013 روزنامہ ’’مشرق‘‘ پشاور میں شائع ہوئی۔ مگر افسوس کہ یہ آج بھی اسی طرح ’’تازہ‘‘ ہے۔ یعنی گذشتہ چودہ پندرہ برسوں میں کچھ نہیں بدلا۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔]

کچھ سال کی بات ہے ، مجھے لاہور میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی بُک شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ مجھے کچھ کتابیں، اور بالخصوص آئینِ پاکستا ن کے سرکاری اردو ترجمے کی تلاش تھی۔ وہاں جو صاحب انچارج تھے، صرف وہی موجود تھے۔ یہاں کتابوں کی دکان پر رش کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ مجھ سے بہت اچھی طرح ملے، جو کتابیں مجھے درکار تھیں، وہ دکھانے کے ساتھ ساتھ اور کتابیں بھی دکھائیں۔ میری دلچسپیوں کے بارے میں پوچھتے …

سیاست کی سماجی جڑیں

سیاسی قضیے: [25 ستمبر، 2018]

ترقی یافتہ ملکوں کی سیاست، بالعموم، درپیش معاملات پر مرتکزکیوں ہوتی ہے؟ جیسے کہ ٹیکس کے معاملات؛ لوگوں کی زندگیوں پر حکومت کا کنٹرول؛ وغیرہ۔

ترقی پذیر و پسماندہ ملکوں کی سیاست، بالعموم، درپیش معاملات کے بجائے غیرضروری اور فروعی معاملات پر مرتکز کیوں ہوتی ہے؟ جیسے کہ جیالا، لیگیا، انصافیا، وغیرہ، ہونا؛ شخصیت پسندی؛ وغیرہ۔

اس ضمن میں، میں اس رائے پر پہنچا ہوں کہ ترقی پذیر و پسماندہ ممالک کی سیاست کا تعین  زیادہ تر ان کی سماجیات سے ہوتا ہے۔ یعنی سماجیات سے متعلق معاملات، سیاسیات سے متعلق معاملات کو نہ صرف متاثر کرتے ہیں، بلکہ بڑی حد تک ان کا تعین بھی کرتے ہیں۔

جیسے کہ ایک معاشرے کی سماجی زندگی اگر ابھی افراد کے مابین، ناپسندیدگی، امتیاز، بغض، کینہ، جلن، حسد، رقابت، کراہت، نفرت، دشمنی، انتقام، غصے، ’’شریکا‘‘، اشتعال، ظلم، سادیت، مساکیت، وغیرہ، سے عبارت ہے، تو یہ چیزیں سیاست …

چودھری شجاعت حسین کا سیاسی سچ

[سیاسی قضیے: [21 اگست، 2018

!سچ تو یہ ہے
چودھری شجاعت حسین
فیروز سنز لمیٹڈ، لاہور
بار اول مارچ 2018
بار دوم اپریل 2018

توجہ: سیاست و معیشت سے متعلق کتب تبصرے کے لیے اس پتے پر بھیجیے: ڈاکٹر خلیل احمد، پوسٹ باکس نمبر: 933 جی پی او، لاہور۔ 54000

سچ بولنے کے کئی انداز ہو سکتے ہیں۔ پورا سچ نہ کہا جائے۔ یا صرف اپنا سچ بیان کر دیا جائے۔

جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہے، تو ان کا سچ اکثر اوقات سیاسی ہوتا ہے۔ یعنی رات گئی، بات گئی۔ یعنی یہ سچ کسی مواد کا حامل نہیں ہوتا، بس بول دیا جاتا ہے۔ یہ علاحدہ بات ہے کہ سیاسی سچ جس موقعے پر بولا جاتا ہے، اس وقت جو سیاست دان یہ سچ بولتا ہے، اسے فائدہ ضرور دے جاتا ہے۔

جیسے کہ ’’پینتیس (35) پنکچر‘‘ والا (عمران خان کا) سچ ایک سیاسی بیان ثابت ہوا۔ اور …

اب مسلمان آزاد ہیں، اب معلوم ہو جائے گا کہ سیاست، معاشرت، حکومت، قانون، تجارت میں مسلمان اہل ہیں یا نااہل۔

:عنوان

اب مسلمان آزاد ہیں، اب معلوم ہو جائے گا کہ سیاست، معاشرت، حکومت، قانون، تجارت میں مسلمان اہل ہیں یا نااہل۔

:نوٹ

میرے پاس ’ماہنامہ رسالہ روحانی عالم ریاست رام پور یوپی‘ کے کچھ شمارے محفوظ ہیں۔ میرے نانا مرزا اکبر بیگ اس کے خریدار تھے، جیسا کہ صفحہ بارہ پر پتا درج ہے: ’جناب مرزا اکبربیگ صاحب پکے کوارٹر نمبر۹ لین نمبر۶۸۲ متصل بڑے میاں کا درس لاہور۔ پوسٹ مغلپورہ‘

اس ماہنامے کے ’محررخصوصی‘ الحاج مولانا مرزا محمود علی صاحب شفق ہیں، اور ’اڈیٹر‘ مرزا واجد علی۔

جیسا کہ اس رسالے کے نام سے عیاں ہے، یہ روحانی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، مگر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ روحانی معاملات بعد میں آتے ہیں، اور پہلے ہی صفحے پر ’’سیاسی اور ملکی خبریں‘‘ کے تحت قارئین کو امورِ عامہ سے واقفیت مہیا کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں ایسے معاملات بھی درج ہیں، جو سماجی …

اتحادی سیاست – خرابی کہاں‌ ہے

سیاسی قضیے: 7 اگست، 2018

اصول یہ ہے کہ حکومت شفاف طریقے سے چلنی چاہیے۔

اصول یہ بھی ہے کہ حکومت شفاف طریقے سے بننی چاہیے۔

پارلیمانی نظام میں انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل کے لیے بالعموم جیتنے والی سیاسی جماعتوں اور دوسرے گروہوں کے ساتھ اتحاد بنانا اور آزاد ارکان کا کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا یا ان کی حمایت کرنا، معمول کی بات ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو اتنی تعداد میں نشستیں دستیاب ہو جائیں کہ حکومت بنانے کے لیے اسے کسی دوسرے فریق کی ضرورت نہ پڑے۔

یہی کچھ اب تحریکِ انصاف بھی کر رہی ہے، اور دوسری جماعتیں بھی اپنی سی کوشش میں لگی ہیں۔ خود اس عمل میں کچھ برائی یا خرابی نہیں۔ یہ اچنبھا ضرور ہے کہ خود تحریکِ انصاف اس عمل کو برا قرار دیتی رہی ہے، اور جب خود اسے یہ عمل کرنا پڑا …

!میں‌ خود سے شرمندہ ہوں

سیاسی قضیے: یکم جولائی، 2018

میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا، جو سراسر بے مایہ تھا۔

تربیت، دیانت داری کے چلن پر ہوئی۔ کسی کو برا نہیں کہنا۔ کسی کو دھوکہ نہیں دینا۔ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا۔

یہ اخلاقی باتیں اچھی بھی لگیں۔ کوشش کی زندگی ان کے مطابق گزاروں۔

وہ دنیا ایک عجیب دنیا تھی، بھَری پُری۔ دلچسپیاں ہی دلچسپیاں، اطمینان ہی اطمینان۔ کوئی محرومی نہیں۔

پھر شعور نے آنکھ کھولی۔ اپنی چھوٹی سی دنیا سے باہر نکلا۔ بہت کچھ دیکھا اور سمجھا۔

پہلا فکری سانچہ، جس کی تعلیم ان دنوں میسر تھی اور جو مجھے بھی منتقل ہوئی، اس کی صورت گری ’’سوشلزم‘‘ سے ہوئی تھی۔

اب محرومیوں نے ہر طرف سے گھیر لیا۔ ہر محرومی، استحصال کا نتیجہ تھی۔

مگر میں رکنے والا نہیں تھا۔ سوشلسٹ سے آگے بڑھ کر، مارکس پسند بن گیا۔

پھر تعلیم ختم ہوتے ہوتے، یہ سب کچھ ہوَا ہو گیا، …

نیا پاکستان ۔ ایک اور عظیم دھوکہ

سیاسی قضیے: 27 جولائی، 2018

نوٹ: یہ تحریر 26 دسمبر، 2011 کو لکھی گئی تھی۔ بعدازاں، اسی کی توضیح و تعبیر ایک کتاب، ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ و خم کا فلسفیانہ محاکمہ‘‘ بن گئی، اور جولائی 2012 میں شائع ہوئی۔ اس تحریر کا محرک، 30 اکتوبر، 2011 کو لاہور میں منعقد ہونے والا جلسہ تھا، جہاں سے تحریکِ انصاف کے عروج کا آغاز ہوا۔

تحریکِ انصاف کے مظہر کے بارے میں میری رائے آج بھی وہی ہے، جو اس وقت تھی۔

واضح رہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت سے میری کوئی دشمنی نہیں؛ اور دوستی بھی نہیں۔ میرا کام ان کا بے لاگ مطالعہ ہے؛ اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ مطالعہ ان رجحانات کی نشان دہی پر مبنی ہوتا ہے، جن کا اظہار وہ سیاسی جماعت کرتی ہے۔ بعض اوقات کسی جماعت کے رجحانات بہت جلد تشکیل پا لیتے، اور منظرِعام پر …

نواز شریف کیا کرنا چاہتے ہیں، انھیں صاف صاف بتانا ہو گا

سیاسی قضیے:17  جولائی، 2018

نواز شریف 1999 کے مارشل لا کے بعد جس مقام پر پہنچے تھے، آج ایک مرتبہ پھر مارشل لا کے بغیر اسی مقام پر پہنچ چکے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ لوگ سزا سے بچنے کے لیے پاکستان سے بھاگ جاتے ہیں، اور نواز شریف خود بھی ایسا کر چکے ہیں، مگر اس مرتبہ وہ سزا بھگتانے کے لیے پاکستان آئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ کچھ عزائم رکھتے ہیں۔

ان سے متعلق ایک اور بات کہی جا رہی ہے کہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں، لہٰذا، وہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی۔ مگر میرے تحفظات، مجھے ان باتوں پر یقین نہیں کرنے دیتے۔ میرا موقف یہ ہے کہ نواز شریف کو کھل کر بتانا چاہیے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، اور کیسے کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں اپنا ایجینڈا واضح طور پر …

ڈان‘‘ اور سیاست دان اور عام لوگ’’

[سیاسی قضیے: [5 جولائی، 2018

ویسے تو انگریزی اخبار، ’’ڈان‘‘ اشتراکیت اور اشتراکیوں کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، جو اپنے مقصد حصول کے لیے طاقت اور تشدد کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں۔ مگر لیاری میں ووٹروں نے پیپلز پارٹی کے ’’کراؤن پرنس‘‘، بلاول بھٹو زرداری کا جس طرح استقبال کیا، ’’ڈان‘‘ کو یہ انداز اچھا نہیں لگا۔ ’’ڈان‘‘ نے اس پر جو اداریہ لکھا، اس کا عنوان ہی معنی خیز ہے: سیاست دانوں کو شرم دلانا [3 جولائی، 2018]۔

اداریہ پڑھ کر اس عنوان کا مطلب یہ بنتا ہے کہ لیاری کے ووٹروں کا سیاست دانوں کو اس انداز میں شرم دلانا درست نہیں۔ ’’ڈان‘‘ کی رائے یہ ہے کہ ووٹروں کو سیاست دانوں کی نااہلی پر اپنا ردِعمل ووٹ کی صورت میں ظاہر کرنا چاہیے۔

ڈان کے مطابق یہ رجحان تکلیف دہ ہے۔ ناخوش ووٹروں نے متعدد انتخابی امیدواروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، اور یوں ممتاز …

پاکستان مسلم لیگ (ن) کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہو گا

سیاسی قضیے: یکم جولائی، 2018

پاکستان مسلم لیگ ن کیا کرنا چاہ رہی ہے، غالبا اسے بھی خبر نہیں۔ یہ کس سمت میں جانا چاہ رہی ہے، کچھ واضح نہیں۔

ہاں، اتنا تو صاف ہے کہ یہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اسے یہ گمان ہے کہ یہ انتخابات جیت جائے گی، کم از کم پنجاب میں سو سے زیادہ نشستیں حاصل کر لے گی۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک دائرے کے اندر رہ کر لڑے گی، اس سے باہر نکل کرنہیں۔

لیکن جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں، یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی جا رہی ہے کہ ن لیگ کو پنجاب میں اکثریتی جماعت نہیں بننے دیا جائے گا۔ اگر ایک جانب، ن لیگ کے راستے میں ہر قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف، پاکستان تحریکِ انصاف کے راستے کی ہر …