کیا انتخابات کا بائیکاٹ موثر ہو سکتا ہے؟
سیاسی قضیے: ہفتہ 25 مئی، 2018
دو چیزوں سے توجہ ہٹانا، نہایت مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ بلکہ، میرے خیال میں، مہلک ثابت ہو گا۔
پہلی چیز، آئین کی بالادستی ہے، اور دوسری چیز، یہ سوال کہ انتخابات موثر ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔
ماضی میں، جب جب آئین موجود تھا، آئین کی بالادستی ایک خواب ہی رہی۔ اور ایسے میں جو انتخابات منعقد ہوئے، وہ آئین کی بالادستی کے قیام کے ضمن میں قطعی غیر موثر ثابت ہوئے۔
گذشتہ کئی ایک انتخابات میں، میں نے ووٹ ڈالا، اگرچہ کوئی بہت بڑی امیدوں کے ساتھ نہیں۔ صرف ان انتخابت میں ووٹ نہیں ڈال سکا، جب ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے مجھے انتخابات کروانے کے ضمن میں فریضہ سونپا گیا۔
مگر اب جو انتخابات ہونے والے ہیں، ان سے میں بالکل مایوس ہوں۔ بلکہ کوئی سال بھر سے میں اپنے دوستوں اور ملنے والوں سے ایک سوال پوچھتا رہا ہوں: …
سیاست اور میثاقِ وفاداری
سیاسی قضیے: 21 مئی،2018
کوئی بھی ہوش مند اور ذی عقل شخص اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ ایک ہی کشتی میں سوار افراد کی شکست و فتح جدا جدا ہو گی۔ کیونکہ اگر کشتی ڈوبتی ہے، تو غالب امکان یہی ہے کہ کشتی میں سوار ہر فرد ڈوب جائے گا۔
مگر سیاست دان ایک ایسی مخلوق ہو سکتے ہیں، جو ایسا سوچ بھی سکتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ وہ ایسے نشئی (’’جہاز‘‘) ہیں، جو اپنے نشے کی خاطر اپنے ساتھی نشئی کو بھی قتل کر دیتے ہیں!
سیاست دان کسی بھی ملک کے ہوں، ان میں سے بیشتر ایسا ہی سوچتے اور ایسا ہی کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارا پالا پاکستانی سیاست دانوں سے ہے، لہٰذا، یہاں انھی کا رونا رویا جائے گا۔
کسی ملک کی سیاسی حدود، اس کی تشکیل کرتی ہیں۔ بلکہ اصل میں یہ آئین ہوتا ہے، جن میں ان …
آئین کی بالادستی یا منظم انتشار
سیاسی قضیے: 17 مئی، 2018
آئین کی اہمیت کو سمجھنا ہو تو ایک ایسے معاشرے کو تصور میں لانا چاہیے، جہاں آئین سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ یا ایک ایسے معاشرے کو متصور کرنا چاہیے، جہاں آئین موجود تو ہو، مگر اس پر عمل درآمد صرف نام کے لیے ہو۔ یعنی اس پر عمل درآمد نہ ہوتا ہو۔
بالخصوص جب اورنگ زیب کی حکومت ختم ہوئی، اس وقت کا برصغیر، ایک ایسا ہی ایسا معاشرہ تھا، جہاں آئین سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ آئین تو اس سے قبل بھی موجود نہیں تھا، مگر ایک مضبوط اور دانا حاکم مضبوط حکومت قائم کر لیتا تھا۔ یوں اس کا سکہ چلنے لگتا تھا اور امن و امان قائم رہتا تھا۔ اصل میں یہ طاقت کا آئین ہوتا تھا۔
اورنگ زیب کے بعد، حکومت خود انتشار کا شکار ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ طاقت ور گروہوں …
مسٹر محمد علی جناح پر جس شخص نے حملہ کیا تھا اسے پانچ سال کی قید عدالت سے ہوئی۔
‘‘عنوان: ’’مسٹر محمد علی جناح پر جس شخص نے حملہ کیا تھا اسے پانچ سال کی قید عدالت سے ہوئی۔
:نوٹ
میرے پاس ’ماہنامہ رسالہ روحانی عالم ریاست رام پور یوپی‘ کے کچھ شمارے محفوظ ہیں۔ میرے نانا مرزا اکبر بیگ اس کے خریدار تھے، جیسا کہ
صفحہ بارہ پر پتا درج ہے: جناب مرزا اکبربیگ صاحب پکے کوارٹر نمبر۹ لین نمبر۶۸۲ متصل بڑے میاں کا درس لاہور۔ پوسٹ مغلپورہ
اس ماہنامے کے ’محررخصوصی‘ الحاج مولانا مرزا محمود علی صاحب شفق ہیں، اور ’اڈیٹر‘ مرزا واجد علی۔
جیسا کہ اس رسالے کے نام سے عیاں ہے، یہ روحانی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، مگر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ روحانی معاملات بعد میں آتے ہیں، اور پہلے ہی صفحے پر ’’سیاسی اور ملکی خبریں‘‘ کے تحت قارئین کو امورِ عامہ سے واقفیت مہیا کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں ایسے معاملات بھی درج ہیں، جو سماجی و تاریخی …
انتخابات یا لاٹری
سیاسی قضیے: 3 مئی، 2018
کتنے برس کبھی اِس سیاسی جماعت، کبھی اُس سیاسی جماعت کے ساتھ لگے رہنے کے بعد، اب یہ بات سمجھ آئی ہے کہ یہاں ہونے والے انتخابات تو لاٹری کی طرح ہیں۔
یہ بات ایک علاحدہ معاملہ ہے کہ کونسے انتخابات شفاف اور منصفانہ تھے یا نہیں تھے۔
پہلے پہل میں پیپلز پارٹی کا حامی رہا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کا فسطائی چہرہ سامنے آنے پر یہ ساتھ ختم ہو گیا۔ اور 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھاندلی اور فسطائی ہتھکنڈوں کے استعمال کے بعد پی این اے (پاکستان نیشنل الائینس) کی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیا۔
بیچ میں خاصے عرصے تک کوئی سیاسی وابستگی نہیں رہی۔ بلکہ اصل وابستگی بائیں بازو کے فلسفے کے ساتھ تھی۔
مگر پیپلز پارٹی کی مخالفت سر پر سوار تھی۔ دھوکہ بہت بڑا تھا، جسے میں عام لوگوں کے ساتھ …
انفرادی انقلاب سے اجتماعی و ریاستی انقلاب تک
سیاسی قضیے: 25 اپریل، 2018
اس بات کا احساس و ادراک تو خاصے عرصے سے تھا۔ مگر یہ بات ابھی کچھ برس قبل ایک نظریے کی صورت اختیار کر پائی ہے۔
اس کی پہلی نمایاں مثال جو مجھے یاد آتی ہے، وہ اس وقت سے تعلق رکھتی ہے، جب میں ایم اے کر رہا تھا۔
فلسفے کے ایک فارغ التحصیل صاحب اکثر شعبۂ فلسفہ میں تشریف لایا کرتے تھے۔ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ وہ آتے اور کچھ اساتذہ اور کچھ طلبہ سے ملتے ملاتے، گپ شپ لگاتے اور چلے جاتے۔
ایک دن سعید اقبال واہلہ نے بتایا کہ وہ مسرور خاں آئے تھے آج۔ ملے تو مجھے کہنے لگے: عبداللہ علیم، میں سول جج بن گیا ہوں۔
واہلے نے کہا: میں عبداللہ علیم نہیں، سعید اقبال ہوں۔
مگر مسرور خاں بولے: تم جو کوئی بھی ہو، میں سول جج بن …
دا سنگہ آزادی دہ ـ آزادی یہ کیسی ہے
’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ کے نام
[لاہور میں جلسے کے موقعے پر]
دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، محفوظ نہیں کوئی
آزادی یہ کیسی ہے، آزاد نہیں کوئی
دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، اپنے ہی بنے آقا
آئین نہیں کوئی، سرکار نہیں کوئی
دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، قانون نہیں کوئی
آزادی یہ کیسی ہے، انصاف نہیں کوئی
دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، شنوائی نہیں کوئی
سننے کو گلہ ہرگز، تیار نہیں کوئی
دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، تذلیل مقدر ہے
ہم بھی ہیں وطن دوست، غدار نہیں کوئی…
ووٹ کو عزت دو ۔ ۔ ۔ یا ووٹر کو عزت دو
سیاسی قضیے: 19اپریل، 2018
فرض کیجیے نواز شریف آج وزیرِ اعظم ہوتے، تو اس سے عام شہری کو بھلا کیا فرق پڑ جاتا۔
اور کیا اس صورت میں مسلم لیگ ن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ زبان پر لاتی۔ قطعاً نہیں۔ سب کچھ حسبِ معمول چل رہا ہوتا اور راوی چین ہی چین لکھتا۔
کیونکہ نواز شریف اب وزیرِ اعظم نہیں، لہٰذا، یہ بیانیہ چلایا جا رہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔ اس سے صاف مراد یہ ہے کہ جسے ووٹ ملیں، اسے حکومت کرنے دو۔ وہ جیسے چاہے، اسے ویسے حکومت کرنے دو۔
سوال یہ ہے کہ اب تک پاکستان میں اتنی حکومتیں بنیں بگڑیں، مگر کیا کسی حکومت نے ’’ووٹر کو عزت دو‘‘ کی طرف توجہ دی۔
کسی نے بھی نہیں۔
یہ تو اب چونکہ خود نواز شریف پر افتاد آن پڑی ہے، سو انھیں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا معاملہ یاد آ گیا ہے۔
ویسے …
اشرافیہ کی سیاست اور ’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ کی سیاست
سیاسی قضیے: 15اپریل، 2018
اشرافیہ کی سیاست، بخشنے، عطا کرنے، دینے اور دان کرنے سے عبارت ہے۔
جیسے روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا نعرہ۔
یا پھر بلا تعطل بجلی کی فراہمی۔ یا جیسے کہ سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، وغیرہ۔
اور ایسی ہی دوسری چیزیں، جو وقت اور موقعے کی مناسبت سے اشرافی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا حصہ بنتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اور ان کے سربراہ یہ چیزیں لوگوں کو اپنے پیسے سے مہیا کرتے ہیں۔
اس کا صاف جواب ہے: قطعاً نہیں۔
خواہ یہ روٹی، کپڑا اور مکان ہو، یا بجلی، یا کوئی اور چیز۔ یہ تمام چیزیں لوگوں کو قیمتاً مہیا کی جاتی ہیں۔ اور نجی کاروباروں کی نسبت کہیں زیادہ مہنگی قیمت پر۔ اگر کوئی چیز کبھی ’’مفت‘‘ کہہ کر مہیا کی جاتی ہے، تو اس کی قیمت بھی لوگوں سے ٹیکس کی صورت میں وصول کی جا رہی ہوتی ہے۔…
آرائشی سیاست اور اس کے پرستار
سیاسی قضیے: 7 اپریل، 2018
آرائشی سیاست اتنی نقصان دہ نہیں، جتنا نقصان دہ آرائشی سیاست کے پرستار ہیں۔
سبب اس کا یہ ہے کہ یہ آرائشی سیاست کے پرستار ہی ہیں، جو اسے زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس کا تجربہ مجھے کچھ ہفتے قبل ہوا۔
جب سینیٹ کے انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کیے جا رہے تھے، تو پیپلز پارٹی نے کرشنا کماری کوہلی کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا۔ اس پر ایک نعرہِ مستانہ بلند ہوا، اور تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسنے شروع ہو گئے کہ پیپلز پارٹی نے کیا کمال کر دیا: ایک اقلیتی فرد اور پھر وہ بھی عورت کو سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا۔
چونکہ میں ٹویٹر پر کچھ سرگرم رہتا ہوں، وہاں تو جیسے ’’عید‘‘ کا سماں تھا۔ میں نے دخل در معقولات کیا اور لکھا کہ بھئی یہ آرائشی سیاست ہے، جو محض نمائش کے لیے ہے، اس …
میرا ووٹ کسی مظلوم و مجبور کے لیے نہیں
سیاسی قضیے: پیر 31 مارچ، 2018
جب میں نے گورنمینٹ کالج، لاہور، سال اول میں داخلہ لیا، تو سٹوڈینٹس یونین کے پہلے انتخاب میں ہی ایک حیران کن چیز دیکھنے کو ملی۔ ایک طرف راوینز فرنٹ تھا، دوسری طرف انجمنِ طلبۂ اسلام، اور تیسری طرف اسلامی جمیعتِ طلبہ۔ انتخاب سے ایک دن قبل، انجمنِ طلبۂ اسلام کے امیدوار کالج میں نمودار ہوئے، تو زخموں اور پٹیوں سے لدے پھندے۔ ہم سب پریشان اور متجسس تھے، ایسا ظلم کس نے کیا۔ الزام ایک طلبہ تنظیم پر لگایا جا رہا تھا۔ آپ قیاس کر سکتے ہیں کس پر۔
بعد ازاں، کھُلا کہ یہ ’’میک اپ‘‘ انتخاب جیتنے کا ایک حربہ تھا۔
تو کیا ایسا ہوتا ہے کہ لوگ، زخمی امیدوار کو مظلوم و مجبور سمجھ کر ووٹ بھی دے دیتے ہیں۔ میں آج بھی اس سوال سے دوچار ہوں۔
ہاں، ایسے لوگوں کو بھیک تو دی جاتی ہے، اور ان کی مدد …
اگر ملک کے معاملات آئین کے مطابق نہیں چلا سکتے، تو آئین کو تحلیل کر دیں
سیاسی قضیے: اتوار 11 مارچ، 2018
ایک جانور بھی کسی جگہ رہتا ہے تو اسے اس جگہ سے کچھ نہ کچھ لگاؤ ہو جاتا ہے۔ مگر یہ پاکستان کیسا ملک ہے، اس کے اشرافی طبقات کو ستر برس بعد بھی اس ملک، اس کی زمین، اس کے لوگوں سے ذرا بھی تعلق نہیں۔ ملک کی سیاست اور معیشت پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مالِ غنیمت کو لوٹنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اور یہی وہ سبب ہے کہ ہر ادارہ سیاسی ریشہ دوانیوں سے گہنایا ہوا ہے۔
زیادہ دور نہیں جاتے۔ صرف گذشتہ دو حکومتوں کو پیشِ نظر رکھ لیں، یعنی پیپلز پارٹی اور حالیہ مسلم لیگ ن کی حکومت۔ ابھی اس قضیے کو رہنے دیتے ہیں کہ انھوں نے کیا کیا اور ان کی کارکردگی کیسی رہی۔ ابھی صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا کچھ کیا جاتا رہا۔ غالباً انھیں ایک …
سیاست کے سینے میں آئین کیوں نہیں دھڑکتا؟
سیاسی قضیے: منگل 6 مارچ، 2018
چند برس قبل، میں نے پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں کی مختلف دستاویزات دوبارہ دیکھنی شروع کیں، جن میں ان کی طرف سے شائع ہونے والے تجزیات، رپورٹیں، سالانہ جائزے، وغیرہ، شامل تھے۔ یہ چیزیں میرے پاس پہلے سے دستیاب تھیں، کیونکہ میں خود بائیں بازو سے وابستہ رہا تھا۔
ان دستاویزات کے مطالعے کے دوران، جس چیز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، وہ ’’آئین‘‘ کے ذکر کا مفقود ہونا تھا۔ ان میں قریب قریب تمام دستاویزات 1973 کے بعد سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کے پس منظر میں ’’آئین‘‘ کہیں موجود نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، پاکستان سوشلسٹ پارٹی، یا مزدور کسان پارٹی کی دستاویزات۔
کیا یہ حیران کن امر نہیں!
سوال یہ ہے کہ کیا آئین کو سامنے رکھے بغیر، کوئی سیاسی گفتگو بامعنی ہو سکتی ہے، خواہ آئین کو تبدیل کرنے کی بات ہی کیوں نہ ہو …
Today’s tweet – Pakistan’s economy
Pakistan’s economy is a rigged lottery.

…
Quaid’s 11 August (1947) Address Be made Substantive Part of the Constitution
Since long, a controversy has been raging as to what kind of state Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah wanted Pakistan to be: a religious state or a secular state. Fortunately, that controversy precludes certain extremes, for instance, it is generally understood and admitted that Quaid never wanted Pakistan to be a theocratic or a socialist state. That amounts to saying that the controversy focuses mainly on whether it was an “Islamic” state or a “secular” state that Quaid may have envisioned.

That controversy has its roots in what Quaid himself said, that is, the speeches and addresses he delivered on various occasions. Both of the camps quote and cite inconsistent statements and argue for their case. That’s what makes the controversy complicate manifold.
Apart from such dishonesties with the help of which concocted statements are attributed to Quaid; or out of the context meanings are drawn from his statements; or this …
لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوانا کوئی پنجاب حکومت سے سیکھے
آج (4 اکتوبر،2017ئ، کو) ”ڈان“ میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی ہے۔ سرخی یہ ہے: غیرمصدقہ نمبر پلیٹوں پر یلغار (”کریک ڈاؤن“) شروع۔ تفصیل اس خبر کی یہ ہے کہ چیف ٹریفک آفیسر نے منگل کو وارڈنز کو غیر مصدقہ نمبر پلیٹوں کی حامل موٹر بائیکوں اور دوسری گاڑیوں پر یلغار میں شدت لانے کی ہدایت کی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق اس یلغار میں شد ت لانا اس لیے ضروری ہے، کیونکہ غیرمصدقہ نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
اس خبر نے مہمیز کا کام کیا۔ میں اس معاملے پر گذشتہ ہفتے بھر سے لکھنا چاہ رہا تھا۔ ہوا یوں کہ غالباً پچھلے برس یا ا س سے پچھلے برس جب ان نمبر پلیٹوں کی تشہیر شروع ہوئی، اور چند اخبارات میں دھڑا دھڑ اشتہار چھپنے لگے، تو میں نے یہی سوچا اور سمجھا کہ یہ بھی ان اخباروں کو نوازنے کا طریقہ ہے؛ …
Article 184 – interpreting it paradoxically
As far as the interpretation of the article 184 is concerned, common-sense understanding is altogether different. It has three clauses that form the whole of this article. Its title is: The Original Jurisdiction of Supreme Court.
The first clause states: (1) The Supreme Court shall, to the exclusion of every other court, have original jurisdiction in any dispute between any two or more governments.
The second clause states: (2) In the exercise of the jurisdiction conferred on it by clause (1), the Supreme Court shall pronounce declaratory judgments only.
The third and the last clause states: (3) Without prejudice to Article 199, the Supreme Court shall, if it considers that a question of public importance with reference to the enforcement of any of the Fundamental Rights conferred by Chapter 1 of Part II is involved, have the power to make an order of the nature mentioned in the said Article.…
Book stressing need for new social contract launched
Dawn October 28, 2017
ISLAMABAD: State emerges from society so it has no right to make the society hostage and start supporting non-state actors who are a threat to the society. As even political parties do not follow the Constitution, there is a need to have a new social contract to run the country.
Read the story: https://www.dawn.com/news/1366767/book-stressing-need-for-new-social-contract-launched…
عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: تقریبِ رونمائی، 27 اکتوبر (2017)، اسلام آباد
عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول
تقریبِ رونمائی، 27 اکتوبر (2017)، اسلام آباد
…
میری نئی کتاب: ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول‘‘ شائع ہو گئی
بالآخر ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو : انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول‘‘ شائع ہو گئی۔
تحقیق و تحریر میں چار برس سے زیادہ کا عرصہ لگا، اور قریباً چھ ماہ اشاعت کے مراحل طے کرنے میں۔
صفحات: 800
قیمت: جلد اول و جلد دوم 1500 روپئے
ملنے کا پتا: میری گولڈ بُکس، لاہور
WWW.Facebook.com/MarigoldBooks



…