سیاست دان ووٹ کو عزت دلوانے سے قاصر ہیں
ـ نواز شریف (پاکستان مسلم لیگ ن) کا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مقدمہ، قضیہ یا نعرہ گمراہ کن تھا۔

ـ ویسے اب تو یہ نعرہ سیاسی افادیت بھی کھوتا نظر آ رہا ہے۔
ـ اگر اس نعرے کی معنوی ساخت پر غور کریں، تو معاملہ عیاں ہو جاتا ہے۔
ـ ووٹ کو عزت دو، یوں ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے کسی سے کوئی چیز، یعنی عزت مانگی جا رہی ہے۔
ـ کس سے؟
ـ اقتدار کی سیاست کے سیاق و سباق کو سامنے رکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ ووٹ کے لیے یہ عزت، قائمیہ (Establishment) سے مانگی جا رہی تھی۔
ـ اور اب یوں باور ہو رہا ہے کہ ووٹ کو تو عزت نہیں ملی، مگر جیسے ووٹ کے لیے عزت مانگنے والوں کو کچھ عزت بخش دی گئی ہے۔
ـ اس اقتداری سیاست سے قطع نظر، اگر آئین کے سیاق و سباق کو سامنے رکھیں، تو جو …
پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دور
یہ 2018ء کے عام انتخابات سے دو تین ماہ پہلے کی بات ہے۔

مجھے یاد ہے یہ میرے لیے انتہائی مایوسی اور بے بسی کا دور تھا۔ بے بسی کا دور اس لیے تھا کہ جیسے یونانی دیوی کیساندرا کا معاملہ ہے کہ وہ جو پیشین گوئیاں کرتی ہے، وہ سچ ہوتی ہیں، مگر کوئی ان پر یقین نہیں کرتا۔
بلکہ میری مایوسی اول روز سے موجود تھی۔
جب 30 اکتوبر 2011ء کو لاہور میں تحریکِ انصاف کا جلسہ ہوا، اس وقت سے مجھے احساس ہو گیا تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ یہ کوئی الہام جیسی چیز نہیں تھی۔ عمران خان کی شخصیت میں اور یوں تحریکِ انصاف میں جو رجحانات ابتدا سے موجود تھے، وہ بتا رہے تھے کہ پاکستان فسطائیت کی تاریکی میں ڈوبنے جا رہا ہے۔
اس معاملے پر میں نے نومبر 2011ء میں ایک مضمون بعنوان، ’’دوسرا عظیم دھوکہ‘‘ لکھنا شروع کیا (پاکستان کے …
نقصان برائے نقصان
ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ کوئی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے اپنے فائدے کے لیے۔ چلیں اس نے خود کوئی فائدہ تو اٹھایا۔
مگر ایک اور چیز ہوتی ہے کہ کوئی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے، مگر خود اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نقصان کیوں پہنچایا؟
یہی چیز ہے جو اب تک مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ مگر اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، تو اس میں ہونے والی بہت سی چیزوں میں نقصان پہنچانے والے کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا۔ وہ پاکستان کو بس نقصان پہنچانے کی خاطر نقصان پہنچا رہا ہے۔
اور پاکستان سے میری مراد پاکستان کے شہری ہیں۔ خاص طور پر عام شہری۔ نقصان انھیں پہنچ رہا ہے۔
اور یہ نقصان باہر سے نہیں، پاکستان کے اندر سے پہنچایا جا رہا ہے۔ اور نقصان پہنچانے والے وہ …
لوگوں کو الزام دینا، ذمے دار ٹھہرانا بالکل غلط ہے
کیا اس ملک کے لوگوں کے کوئی اصول ہیں، کوئی اقدار ہیں، جن پر وہ یقین رکھتے ہوں؟

مگر یہ سوال ہی غلط ہے؟
لوگ تو غیرمنظم ہوتے ہیں۔ ان کی طاقت بکھری ہوتی ہے، منتشر ہوتی ہے، وہ تو ایک کلرک کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔
جب وہ منظم ہو جاتے ہیں، جیسے کہ شہری تنظیموں کی صورت میں، سیاسی جماعتوں کی صورت میں، تو ان کی طاقت بھی منظم ہو جاتی ہے۔ اور وہ طاقت ور بن جاتے ہیں۔
پھر یہ کہ لوگ بیشتر عملیت پسند یا عمل پسند ہوتے ہیں۔ یعنی وہ، جیسے بھی حالات ہوں، بڑی تیزی سے ان میں زندہ رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ جو نہیں سیکھتے یا نہیں سیکھ پاتے، یا نہیں سیکھ سکتے، یا سیکھنا نہیں چاہتے، وہ ایک مفہوم میں ناکام زندگی گزارتے ہیں۔ یا خود کشی کر لیتے ہیں۔
ہاں، مگر کچھ لوگ ان حالات کو تبدیل کرنے کا بیٹرا …
نظریۂ ضرورت یا آئین کی بالادستی

کرپشن (بدعنوانی) کے خلاف سامنے آنے والے مختلف ردِ عمل
کرپشن بھی کئی دوسری چیزوں کی طرح قدیم سے موجود چلی آ رہی ہے۔
آج کی دنیا میں یہ جس طرح پھیلی ہوئی ہے، اس سے یہ باور ہوتا ہے، جیسے کہ اسے قبول کر لیا گیا ہو۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ اسے کبھی قبول نہیں کیا گیا۔

کہنے سے مراد یہ ہے کہ کرپشن نظام کا حصہ بن گئی، لازمی حصہ، اور اسے اس نظام کو چلانے والوں نے قبول بھی کر لیا۔
لیکن جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے، انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ وہ تو نظام اور کرپشن کو قبول کرنے والوں، یعنی کرپشن کے نظام کو چلانے والوں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اس نظام کے سامنے بے بس ہیں۔ جو اس نظام کو بدلنے کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس نام سے سیاست کا ڈول ڈالتے ہیں، وہ بھی اسی کرپشن کے نظام کا حصہ ہیں۔ تو لوگ مجبور و …
نسائیت کی تحریک ۔ ایک تجزیہ
۔ یہ تحریر پاکستان میں نسائیت کی تحریک کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ غلط، صحیح، سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

۔ نسائیت کی تحریک ملک میں گذشتہ 30۔ 35 برس سے موجود ہے۔
۔ یہ تحریک موجود ہے۔ ختم نہیں ہوئی۔ نہ بکھری۔ نہ منتشر ہوئی۔
۔ بلکہ مضبوط ہوئی ہے۔ مستحکم ہوئی ہے۔ پھیلی ہے۔
۔ اس کی ایک شکل بنی ہے۔ منظم شکل۔ یعنی یہ متعدد تنظیموں میں متشکل ہوئی ہے۔
۔ قبل ازیں یہ چند ایک تنظیموں کی صورت میں منظم تھی۔ جیسے کہ وومین ایکشن فورم۔
۔ جہاں تک مطالبات کا تعلق ہے، تو اس ضمن میں بھی یہ صاف اور واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ ملاحظہ کیجیے اس کے مطالبات کا چارٹر۔
۔ اس تحریک پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ غیرملکی فنڈز پر انحصار کرتی ہے۔ یہ کسی بھی تحریک کو جانچنے کا ایک گمراہ کن طریقہ ہے۔ …
خود پارسائیت ۔ پاکستانی فسطائیت کا جوہر
خود پارسائیت کا مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف میں پارسا اور ٹھیک ہوں، اور باقی سب گنہ گار اور غلط ہیں۔ یہ ایک نہایت تباہ کن رجحان ہے۔ اس کا بڑا شاخسانہ یہ ہے کہ دوسروں کی رائے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ لہٰذا، فسطائی، اپنے علاوہ دوسرے لوگوں سے رائے کی آزادی کا حق چھین لیتے ہیں۔

ویسے تو خودپارسائیت کا یہ فسطائی رجحان پاکستان میں شروع سے موجود تھا۔ مگر سیاست میں اس کا غلبہ تحریکِ انصاف سے خاص ہے۔
یہی رجحان ہے، جو عمران خان اور یوں تحریکِ انصاف میں ابتدا سے جاری و ساری تھا۔ اور اسی رجحان کی شناخت کے سبب میں نے 2012 ہی میں تحریکِ انصاف کی سیاسی حقیقت کو کھول کر بیان کر دیا تھا (دیکھیں میری کتاب: سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست، جولائی 2012)۔ یعنی یہ جماعت اگر کسی طرح اقتدار میں آ بھی گئی، تو کارکردگی نہیں دکھا …
ریاستی معیشت اور شہری معیشت ـ علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد
ریاستی معیشت اور شہری معیشت:
علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد

Published by Prime Institute, Islamabad
نواز شریف کو لوگوں سے معافی تو لازماً مانگنی چاہیے
نواز شریف آج جن طاقتوں کے خلاف کھڑے ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہ ماضی میں ان کے ساتھ ساز باز کرتے رہے ہیں۔ اور ان کے ساتھ ملوث بھی رہے ہیں۔

لیکن اس چیز سے درگزر کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ دنیا بھر میں سمجھا جاتا ہے، یہی طاقتیں پاکستان میں نہ صرف بیشتر حکومتیں بنانے اور ہٹانے کے پیچھے کارفرما ہوتی ہیں، بلکہ اِس یا اُس سیاسی جماعت کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے بھی برسرِ پیکار رہتی ہیں، تو ایسے میں کوئی سیاسی جماعت اگر اپنی بقا کے لیے پیچھے ہٹتی ہے، اور ان طاقتوں کے ساتھ مصالحت کرتی ہے، تو اس کے لیے اتنی گنجائش نکالنا مناسب ہو گا۔ لیکن اس سے زیادہ قطعاً نہیں۔
مثلاً غالباً ذوالفقارعلی بھٹو کو موقع نہیں ملا، ورنہ وہ بھی جلاوطن ہو سکتے تھے، اور اپنی جان بچا سکتے تھے۔
مثلاً نواز شریف جینرل مشرف کے …
شہباز شریف کو یہ ایک سزا تو ضرور ملنی چاہیے
شہباز شریف پر جو مقدمات قائم ہوئے ہیں، ان سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔
نہ ہی ان سے میری کوئی ذاتی مخاصمت ہے۔
ان سب باتوں سے جدا، انھوں نے جو ’’جرم‘‘ کیا ہے، وہ کوئی چھوٹا ’’جرم‘‘ نہیں۔

یہ بہت بڑا ’’جرم‘‘ ہے، جس نے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انھوں نے ترقی کے نام پر لاہور اور کچھ دوسرے شہروں میں جو تباہی پھیلائی ہے، وہ تو ایک خوفناک کہانی ہے۔
اصل تباہی جو انھوں نے پھیلائی اور جس نے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، اس کی طرف نہ میڈیا کی توجہ ہے، نہ تجزیہ کاروں کی، نہ کالم نگاروں کی، اور نہ ہی خود ان شہریوں کی، جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
لاہور میں جو سڑکیں تعمیر کی گئیں، وہاں فٹ پاتھ تباہ و برباد اور ختم کر دیے گئے۔
دوسرے شہروں میں جہاں جہاں شہباز شریف کی ’’نظرِ …
کیا عثمان بزدار کو ہٹانا اصل مسئلہ ہے؟
عثمان بزدار کو ہٹانا یا نہ ہٹانا کوئی مسئلہ نہیں۔ اکثر صحافی، تجزیہ کار اور حزبِ اختلاف کے سیاست دان اسی پر متوجہ ہیں۔ جبکہ جو اصل مسئلہ ہے، اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔
اصل مسئلہ ہے 2018 کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی دھاندلی۔ یہ معاملہ بھرپور توجہ چاہتا ہے۔ خاص طور پر حزبِ اختلاف کو اس معاملے پر سیاست کرنی چاہیے۔ اگر وہ اس معاملے پر توجہ نہیں دیتی، تو اس کا مطلب ہے وہ صرف اقتداری سیاست (پاور پالیٹکس) میں دلچسپی رکھتی ہے۔ جمہوری سیاست میں نہیں۔
اور جب تک سیاست دان جمہوری سیاست نہیں کریں گے، جمہوریت لوگوں کے لیے بے سود اور بے معنی رہے گی!…
مایوسی کی نیند
اپنی مایوسی کو اگر کسی چیز سے تشبیہ دینا چاہوں، تو ایک ایسی ترکیب اور ایک ایسی عمارت کا ڈھانچہ ذہن میں آتا ہے، جسے گنبدِ بے در کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسا گول کمرہ، جس میں کوئی دروازہ نہیں، کوئی کھڑکی نہیں، کوئی روشن دان نہیں۔ اور نہ ہی کوئی درز یا جھری کہ روشنی اندر دم مار سکے۔

آپ کہیں گے یہ تو گھٹن والا ماحول ہوا، مایوسی تو نہیں۔ ہاں، مگر بعض اوقات اور بعض صورتوں میں مایوسی بھی اسی شکل میں سامنے آ سکتی ہے اور آتی ہے۔
پاکستان میں سیاسی اعتبار سے جو مایوسی ہر سو چھائی ہوئی ہے، وہ اسی قسم کی مایوسی ہے۔
میں نے کہا، سیاسی اعتبار سے۔ یعنی سماجی اعتبار سے جیسی بھی مایوسی ہو، وہ اس قسم کی نہیں، جیسی کہ سیاسی مایوسی ہے۔
سماجی مایوسی کا تعلق خاصی حد تک اخلاقی بحران سے ہے۔
مگر سیاسی مایوسی گنبدِ …
آرکیڈیا ـ چوتھی وڈیو: کیا ایک غیرآئینی حکومت کو آئینی طریقے سے ختم کرنا ضروری ہے؟
چوتھی وڈیو: کیا ایک غیرآئینی حکومت کو آئینی طریقے سے ختم کرنا ضروری ہے؟
…
آرکیڈیا ـ تیسری وڈیو: سیاست اور تماش بینی
تیسری وڈیو: سیاست اور تماش بینی
…
سپریم کورٹ اور سنسنی خیزی
[نوٹ: یہ مضمون 9 دسمبر، 2019 کو لکھا گیا، اور 12 دسمبر 2019 کو نیا دور ڈاٹ ٹی وی میں شائع ہوا۔]
’’جاسوسی کے ذریعے کسی شہری کے وقار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ انٹیلی جینس حکام کس قانونی اختیار کے تحت ٹیلی فون ٹیپ کرتے ہیں۔‘‘

’’یہ انسانی وقار کا معاملہ ہے، آرٹیکل 14 کے تحت کسی شہری کے وقار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے۔‘‘
یہ سپریم کورٹ کے معزز ججوں کی آراء ہیں، جن کا اظہار انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مقدمے کی شنوائی کے دوران کیا۔ یہ آراء 4 دسمبر کے اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔
انھیں پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ اس معاملے میں عدالت کچھ نہ کچھ مثبت قدم ضرور اٹھائے گی۔ دیکھیں اس مقدمے کے اختتام پر کیا نتیجہ یا فیصلہ سامنے آتا ہے۔
لیکن ماضی اس بات کا گواہ …
آرکیڈیا ـ دوسری وڈیو: ذمے داری کا تعین
دوسری وڈیو: ذمے داری کا تعین
…
Arcadia – Dr Khalil’s Political Chatroom
Introductory video:
…
محترم رؤف کلاسرا ۔۔۔ آپ کا ہدف غلط ہے۔
یہ تحریر آپ کے 2 اپریل کے ولاگ کے جواب میں ہے۔
صرف دو باتیں آپ کے سامنے رکھنا مقصود ہے۔

مسابقتی (کمپیٹیشن) کمیشن نے مختلف کمپنیوں کو جرمانے کیے ہیں، جن کا ذکر آپ نے کسی قدر تفصیل سے کیا، اور انھوں نے عدالتوں سے سٹے آرڈر لے لیے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے ایک کمپنی کو سٹے آرڈر لیے ہوئے دس برس کا عرصہ گزر گیا، اور جرمانہ ادا نہیں ہوا۔ اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ عدالتیں جرمانوں کی عدم ادائیگی میں ان کمپنیوں کے ساتھ ملوث ہیں۔ ممکن ہے ہوں بھی۔ اور اگر مسابقتی کمیشن اور حکومتیں دونوں اب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں، تو یہ بھی جرمانے کی عدم ادائیگی میں ان کمپنیوں کے ساتھ ملوث ہیں۔ یعنی یہ ریاستی اشرافیہ کا ایک کھیل ہے۔ یہ سب آئین، قانون اور اداروں کے آئینی اور قانونی مینڈیٹ کی خلاف ورزی …
کورونا وائرس وبا: کیا ہونے جا رہا ہے؟
دو باتیں بہت صاف ہیں۔
پہلی بات تو یہ کہ کورونا سے کسی ایک فرد کی جان کو نہیں، بلکہ ہر فرد کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

دوسری بات یہ کہ انسان اور انسانی معاشرے کا مستقبل بعید عام حالات میں بھی غیریقینی ہوا کرتا ہے، کیونکہ ایک محفوظ معاشرہ تعمیر کرنے کے باوجود انسان جس دنیا میں زندہ ہے، اس میں کام کرنے والی لاتعداد قوتوں پر اس کا اختیار بےحد کمزور ہے۔ وہ ایک حد تک سیلاب، زلزلوں، اور دوسری آفات کا مقابلہ کر سکتا ہے، ابھی اس سے بڑھ کر نہیں۔ مگر جہاں تک ان دیکھی آفات کا تعلق ہے، جیسے کہ نظامِ شمسی سے کسی آفت کا ظہور، وغیرہ، تو اس کے بارے میں انسان کا علم قریب قریب نہ ہونے کے برابر ہے۔
وباؤں کا مقابلہ انسان پہلے بھی کرتا رہا ہے، اور آج تو زیادہ بہتر انداز میں کر سکتا ہے۔
یہ چیز …