بر تر شعور یا کم تر شعور: لوگ اچھے یا برے کیوں بنتے ہیں؟

ہر فرد اچھا یا برا فرد بننے کا فیصلہ خود کرتا ہے اور خود اچھا یا برا بنتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آیا یہ شعور ہے جو کسی فرد کو بناتا ہے، یا یہ ایک فرد ہے جو اپنے شعور کو بناتا ہے؟

جیسا کہ عمومی مشاہدہ ہے جب ایک بچہ شعور کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس سے یہ مفہوم مراد لیا جاتا ہے کہ وہ خود کو ایک علاحدہ فرد سمجھنے لگا ہے اور چیزوں کی اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔

یہاں یقیناً اس نفسیاتی بحث سے سروکار نہیں کہ بچہ کس عمر میں شعور کا حامل بن جاتا ہے۔

خیر، ایک جست لگاتے ہیں، اور اس فرد کو جا لیتے ہیں، جسے عاقل و بالغ کہا جاتا ہے۔ یعنی جو عقل کا حامل ہو چکا ہے اور جو اپنے اعمال و افعال اور ان کے نتائج کا خود ذمے دار ہے۔ قانون کی نظر میں بھی۔

ان افراد کا معاملہ علاحدہ رکھ دیتے ہیں، جن میں پیدائشی طور کوئی ذہنی کمی موجود تھی یا کسی حادثے کے نتیجے میں کوئی ذہنی معذوری پیدا ہو گئی۔ اب ہم اس فرد سے بحث کر سکتے ہیں، جو شعور کا حامل ہو چکا ہے، یعنی نہ صرف شعور کا حامل بن چکا ہے بلکہ شعورِذات کے ساتھ ساتھ اچھے برے میں تمیز و تفریق کا اہل بھی ہو چکا ہے۔

آگے چلنے سے پیشتر دو مسلمات کو اپنے سامنے رکھ لینا ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک ہوش مند فرد جو کچھ سوچ رہا ہوتا ہے وہ اس سے آگاہ بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ جو کچھ کر رہا ہوتا ہے اس سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ فرد شعورِ ذات کا حامل ہوتا ہے۔

یہ دونوں مسلمات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اگر ایک فرد کسی دوسرے فرد کو کچھ غلط کہہ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے اس غلط قول سے آگاہ بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح، اگر ایک فرد کسی دوسرے فرد کے ساتھ کچھ غلط کر رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے اس غلط فعل سے آگاہ بھی ہوتا ہے۔

بعینیہٖ، اگر ایک فرد کسی دوسرے فرد کو کچھ صحیح کہہ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے اس صحیح قول سے آگاہ بھی ہوتا ہے۔ اور اگر ایک فرد کسی دوسرے فرد کے ساتھ کچھ صحیح کر رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے اس صحیح فعل سے آگاہ بھی ہوتا ہے۔

یعنی ایک فرد کے ضمن میں شعور کے حامل ہونے کا مطلب اس فرد کے ضمن میں شعورِ ذات کا حامل ہونا بھی ہے۔ یعنی اس فرد کے شخص سے یا اس فرد کی ذات سے جو کچھ سرزد ہو رہا ہوتا ہے، خواہ یہ کسی نوع کی سوچ یا گفتگو ہے یا کسی نوع کے فعل یا اس فعل کے ارتکاب کا اظہار ہے، وہ ان تمام چیزوں کے ضمن میں خود آگاہی اور خود شعوری کے ساتھ ساتھ اپنے قول و فعل کے نتائج کی صورت میں خود پر آنے والی ذمے داری کے احساس کا حامل بھی ہوتا ہے۔

یوں ہم ایک عمومی قضیہ وضع کر سکتے ہیں: یعنی ہر فرد اپنے قول و فعل کے نتائج کا ذمے دار ہوتا ہے۔

ان تمہیدی کلمات کے بعد اب ہم ایک نہایت اہم اور بنیادی قسم کے سماجی سوال کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ایک فرد جس کے ساتھ کوئی دوسرا فرد یا دوسرے افراد تو اچھے انداز سے پیش آتے ہیں، لیکن وہ فرد اس دوسرے فرد یا ان دوسرے افراد کے ساتھ اچھے انداز سے پیش نہیں آتا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

معاشرے میں ہر فرد اس مشکل صورتِ حال سے ضرور دوچار ہوتا ہے۔ اور خاص طور پر ایسے معاشروں میں جن کے بارے میں یہ تصور عام ہو جاتا ہے کہ وہ ایک بحران سے گزر رہے ہیں، یا ایک بحران میں گھِرے ہوئے ہیں۔ یہ بحران سماجی و معاشی بھی ہو سکتا ہے اور اخلاقی بھی۔

یعنی اس قسم کے معاشروں میں ایسی مثالیں بہت ہی کم ملتی ہیں کہ ایک فرد کسی دوسرے فرد کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آئے، اور وہ دوسرا فرد بھی اس سے ’’جواباً‘‘ اسی اچھے انداز میں پیش آئے۔

یہاں جواباً کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے، کیونکہ اس سے یہاں یہ دکھانا مقصود ہے کہ دوسرے فرد کا اچھا انداز یا اچھا برتاؤ جواب کے طور پر اچھا تھا۔ یعنی اس دوسرے فرد کا اچھا انداز اس لیے اچھا نہیں تھا کیونکہ یہ اس کا عام چلن ہے کہ وہ ہر کسی کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آتا ہے۔

اگر یہاں یہ فرض کر لیا جائے کہ کسی معاشرے میں افراد کی اکثریت کا طرزِ عمل اچھے برتاؤ سے عبارت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر اس معاشرے میں معاشی بحران ہے تو ہو، وہاں ابھی سماجی و اخلاقی بحران کی جڑیں گہری نہیں ہوئی ہیں۔ اور چونکہ پاکستان ایک ایسا معاشرہ نہیں، لہٰذا، اس کے ضمن میں کسی فرد کے اچھے جوابی طرزِ عمل کو اچھے جوابی طرزِ عمل کی حیثیت سے دیکھنا ہی مناسب ہے۔

تاہم، ہمیں جو سوال درپیش ہے اور جس کا جواب ہم جاننا چاہتے ہیں، وہ یہ الجھن ہے جس سے ہم سب دوچار ہوتے ہیں۔ بلکہ پاکستان میں ہم اکثر ہی نہیں، نہایت کثرت کے ساتھ اس الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ کوئی فرد جواب میں بھی کسی دوسرے فرد کے ساتھ اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا۔

بلکہ اچھا متعدد صورتوں میں اچھا برتاؤ کرنے والے کو سادہ لوح سمجھا جاتا ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جن لوگوں کے کام کی نوعیت اچھے برتاؤ کی متقاضی ہوتی ہے، یعنی جیسا کہ نجی ادارے اور کاروبار اور ساتھ ہی ساتھ سرکاری ادارے اور ریاستی مشینری سے متعلق افراد، تو ان افراد کے معاملے میں تو ان کا طرزِ عمل نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں ہر چیز سر کے بل کھڑی ہوئی ہے۔ سرکاری مشینری کو تو چھوڑیے، وہ جیسی بھی ہے، نجی ادارے اور کاروبار بھی بدتمیزی اور بداطواری کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔

اس تفصیل میں جائے بغیر کہ ایک فرد کسی دوسرے فرد کے ساتھ جواب میں یا عمومی طور پر کسی بھی تعامل اور باہمی معاملے کے ضمن میں اچھے انداز سے پیش کیوں نہیں آتا، اس کی کیا کیا وجوہات ہو سکتی ہیں، اور یہ مانتے ہوئے کہ بلاشبہ اس کی بہت سے وجوہات ہوں گی، اور یہ بھی کہ مثالی انسانی طرزِ عمل کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے، اور یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ مجموعی طور پر ہر فرد کو ہر دوسرے فرد کے ساتھ اچھے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، یہاں میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ ہمیں کسی بھی فرد کے ضمن میں ان وجوہات کی توجیہات میں جانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایک مثالی طرزِ عمل اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ بہرصورت اور بہرحال ہر فرد کو ہر دوسرے فرد کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان متذکرہ وجوہات سے قطع نظر کرتے ہوئے، یہ تعمیم سامنے رکھی جا سکتی ہے کہ ایک ایسا فرد جو کسی دوسرے فرد کے ساتھ خواہ یہ جواب میں ہو یا جواب میں نہ ہو یعنی اس فرد کے ضمن میں بالعموم ایسا ہی ہو کہ وہ دوسرے فرد یا دوسرے افراد کے ساتھ اچھے طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کرتا، تو مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کیوں کرتا ہے۔

ایک مرتبہ پھر بجائے اس کے کہ اس فرد کے ضمن میں ہر غلط طرزِ عمل کی ہر مثال کی وجوہات میں جایا جائے اور اس کی توجیہات کی پیچیدگیوں میں الجھا جائے، معاملے کو سلجھانے کا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر اس فرد کے ایسے طرزِ عمل کی عمومی توجیہہ کرنے کی سعی کریں۔ یہاں یہ گنجائش پیدا کرنے میں کوئی ہرج نہیں کہ کسی ایک موقعے پر اس فرد کے برے طرزِ عمل کی ایسی کوئی توجیہہ کی جا سکتی ہو جو اس فرد کو کچھ رعایت کا مستحق قرار دے دے، مگر یہ محض ایک گنجائش ہے، جو کسی حقیقی اور عملی صورت میں کچھ موزونیت اور معنویت رکھ سکتی ہو گی۔

تو سوال یہ ہے کہ یہ زیرِ بحث فرد برے طرزِ عمل کا حامل کیوں بن گیا۔

اس ضمن میں، یہاں میں ایک نظریہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ برتر اور کم تر شعور کا نظریہ۔ میں اس نظریے کو اخلاقیات کے ساتھ بھی منسلک کرنا چاہوں گا، مگر پہلے خود اس نظریے کو بیان کر لینا ضروری ہے۔

(مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اس نظریے کو پہلے بھی اپنی کسی تحریر میں وضع اور بیان کیا ہے، فی الحال میرا ذہن جس کی نشان دہی نہیں کر پا رہا۔ ممکن ہے کہ وہاں میں نے کچھ دوسری اصطلاحات استعمال کی ہوں، جیسا کہ اعلیٰ شعور اور ادنیٰ شعور۔)

ایک ایسا فرد جس کا عمومی طرزِ عمل دوسرے افراد کے ساتھ برے انداز میں پیش آنے سے عبارت ہے، اس فرد کے ضمن میں، یہ نظریہ بتاتا ہے کہ یہ فرد اصل میں کم تر شعور کا حامل ہے۔ اور اس نظریے کا یہ بیان اس نظریے کے دوسرے مظہر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ برتر شعور کا حامل فرد کسی امتیاز کو خاطر میں لائے بغیر ہر فرد کے ساتھ اچھے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔

یعنی کم تر شعور کا حامل فرد نہ صرف جواب میں بلکہ بالعموم ہر فرد کے ساتھ برے انداز میں پیش آتا ہے، کیونکہ یہ اس کا عام چلن یا عادتِ ثانیہ بن چکی ہوتی ہے۔

ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ ایک عورت اپنے شوہر کو بتاتی ہے کہ ’’مرد مارنی‘‘ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ اور پھر جب وہ خود ایک مرد مارنی عورت بن جاتی ہے، تو کیا اسے کسی قسم کی کوئی گنجائش دی جانی چاہیے کہ اس نے اپنے لیے مرد مارنی عورت بننے کا انتخاب کیوں کیا، اور اِس یا اُس وجہ سے کیا اور یہ کہ اس کے پاس اس کا جواز تھا، لہٰذا، اس کے اس عمل سے درگزر کیا جائے۔ بالکل نہیں۔ یہ اس عورت کا سوچا سمجھا فیصلہ تھا اور وہ جانتی تھی کہ ایک مرد مارنی عورت کیا ہوتی ہے، اور جب وہ خود کو ایک مرد مارنی عورت میں ڈھال لیتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے خود ارادی طور پر جانتے بوجھتے مرد مارنی عورت بننے کا فیصلہ کیا۔ یعنی کم تر شعور اختیار کرنے کا انتخاب کیا۔

اسی طرح ابھی چند ماہ قبل پوٹھوہار کے علاقے سے ایک خبر آئی تھی۔ ایک بھائی نے اپنی بہن کو جائیداد ہتھیانے کی خاطر کئی برس ایک بند کمرے میں قید رکھا، یہاں تک کہ وہ بالکل لاغر اور نحیف و نزار ہو گئی۔ وہ تو کسی نہ کسی طرح پولیس کو مخبری ہوئی تو یہ سارا قصہ اخباروں میں شائع ہوا۔ اب یہ مرد جو ایک بہن کا بھائی تھا، اس نے جو فیصلہ کیا وہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ بلکہ ٹھنڈے دماغ کے ساتھ پورا منصوبہ بنایا گیا اور اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ صاف بات ہے کہ اس شخص نے اپنے لیے کم تر شعور اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو بقائمیِ ہوش و حواس کیا۔

یہاں جس چیز کو موقع پرستی کا نام دیا جاتا ہے، اس کی تعریف کو بھی کھول کر بیان کرتے چلتے ہیں۔ موقع پرست فرد وہ ہوتا ہے، جو موقع و محل کی رعایت سے خود کو کم تر یا برتر شعور کا حامل فرد بنا کر پیش کرتا ہے۔ یعنی جہاں جس شعور سے کام چلے، اس شعور سے کام چلا لیتا ہے۔ یعنی برتر شعور کے ساتھ اس کی اصولی وابستگی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ پہلے ہی کم تر شعور کو اپنا چکا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ایک ایسا فرد جو ضرورت کے تحت برتر شعور کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ بھی اصل میں کم تر شعور کا حامل فرد ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ برتر شعور کو ایک انسانی تقاضا اور نیکی نہیں سمجھتا۔

جبکہ، اس کے مقابلے میں برتر شعور کا حامل فرد جواب میں اور زیادہ بڑھ کر، اور عمومی طور پر (یعنی اصولی طور پر) بھی ہر فرد کے ساتھ اچھے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے، کیونکہ یہ اس کا سوچا سمجھا طرزِ عمل ہے اور اس کا عام چلن بھی اور عادتِ ثانیہ بھی۔

یہاں ایک اور معاملہ خاموشی سے بیچ میں در آیا ہے۔ یعنی یہ کہ کم تر شعور اور برتر شعور کے حامل دونوں افراد کی تربیت میں بالترتیب ان کے ماحول کا دخل ہے۔ ان کے ماحول نے انھیں جیسا بنایا وہ ویسے بن گئے۔ اس میں ان کا کیا قصور۔

یہ ایک معروف تنازعہ ہے، جو نفسیات، معاشریات، وغیرہ، میں ان کے ابتدائی دور سے برپا ہے۔ میں اس بحث یعنی ’’نیچر۔ نرچر‘‘ (Nature-Nurture) یا ’’وراثت ۔ ماحول‘‘ تنازعے سے قطع نظر کچھ مختلف معاملہ سامنے لانا چاہتا ہوں۔ یعنی یہ مانتے ہوئے کہ ماحول کا اثر اپنی جگہ مسلم ہے اور یہ کہ بعض اوقات ماحول کا جبر اس حد تک ناقابلِ برادشت اور شدید ہو جاتا ہے کہ افراد یا تو اس کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں، یا پھر اس ماحول سے فرار یا خودکشی یا اس ماحول سے ٹکرا کر موت کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔

لیکن جیسا کہ مسلمات کے ضمن میں اوپر مذکور ہوا، شعور کا حامل ہر فرد اپنی فکر اور اپنے عمل دونوں سے آگاہی رکھتا ہے، اسی لیے اسے اپنے قول و فعل کا ذمے دار قرار دیا جاتا ہے، تو ایسے میں وہ جس چیز کو بھی قبول کرتا ہے، یا جس چیز کو بھی اپناتا ہے، تو یہ اس کا سوچا سمجھا فیصلہ ہوتا ہے، خواہ اسے انتخاب کی آزادی حاصل ہے یا اسے یہ فیصلہ بالجبر کرنا پڑ رہا ہے۔

(جیسا کہ اوپر بھی کہا گیا کہ یہاں ایک نارمل فرد کی بات ہو رہی ہے، وگرنہ نفسیات کی رو سے تو فرد کے تحت الشعور یا / اور اجتماعی لاشعور کی نامعلوم دنیائیں فرد کے ضمن میں آگاہیِ ذات یا شعورِ ذات کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔)

یہاں جو مخمصہ در پیش ہے وہ یہ ہے کہ اگر ماحول افراد کو یا یوں کہہ لیجیے کہ افراد کی اکثریت بلکہ افراد کی ایک بہت بڑی اکثریت کو بناتا اور بگاڑتا ہے، تو پھر تو کسی بھی معاشرے میں بہتری کی طرف کبھی کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے تھی۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔ معاشرے بہتری کی طر ف بھی گئے اور بدتری کی طرف بھی۔

تو پھر ایسی کیا چیز ہے، جو کسی بدتری کے شکار معاشرے کو بہتری کی طرف لاتی ہے؟ یا اس کے معکوس۔

اصل میں یہ ’چیز‘ وہ چند افراد ہوتے ہیں، جو باقی افراد کی بڑی اکثریت سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ شعور کے حامل ہونے کی بدولت اپنے لیے چیزوں کا انتخاب خود سوچ سمجھ کر کرتے ہیں، سوچ سمجھ کر فیصلے کرتے ہیں، اور یوں یہ یہی لوگ ہوتے ہیں، جو معاشرے کو بہتری کی طرف لے جانے والی راہ یا راہیں تراشتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کے لیے ایک مثال اور جیسا کہ کہا جاتا ہے، ’’مشعلِ راہ‘‘ بنتے ہیں۔

جہاں تک معاشرے کی بڑی اکثریت یا ننانوے فیصد اکثریت کا معاملہ ہے، تو یہ بھی شعور کے حامل ہوتے ہیں، یہ بھی اچھے برے کی تمیز رکھتے ہیں، یہ بھی سوچ سمجھ کر انتخاب کرنے اور فیصلے کرنے کے اہل ہوتے ہیں، لیکن وہ بوجوہ ایسا نہیں کرتے۔ یہ ’’بوجوہ‘‘ وہی وجوہات ہیں، جن کا اوپر ذکر ہوا، اور جنھیں ہم نے علاحدہ رکھ دیا تھا۔ انھیں اب بھی علاحدہ رکھنا ہی بہتر ہے۔

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
الطاف حسین حالیؔ

ان دونوں قسم کے افراد کے درمیان کیا فرق ہے؟ افراد کی ایک مختصر تعداد اچھائی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیوں کرتی ہے، اور ایک بڑی تعداد اچھائی کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیوں نہیں کرتی؟

یہ معاملہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر بہت خامہ فرسائی کی جا سکتی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس ’’خیال آرائی‘‘ کے پیچھے کچھ ٹھوس حقائق بھی ہونے چاہییں۔ یعنی تجربی تحقیق، کچھ جائزے، لوگوں کی حقیقی آرا، وغیرہ، بھی دستیاب ہونا چاہییں۔

گو کہ مجھے اس بات کا احساس بھی ہے کہ یہ ’’خیال آرائی‘‘ محض خیالی گھوڑے دوڑانے کی بات نہیں۔ ہم سب ہر طرح کے لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، اور ہر وقت ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کے طرزِ عمل کو بھی دیکھتے ہیں۔ ان کی آرا بھی سنتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کے پیچھے موجود منطق سے بھی کچھ نہ کچھ واقف ہوتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں اچھی بری کچھ نہ کچھ رائے بھی رکھتے ہیں۔

لیکن اگر ہم ذرا باریک بین ہیں، اور ان مشاہدات کو کسی دھاگے میں پرو سکنے کا جتن کر سکتے ہیں، تو ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے طرزِ عمل کو اصول پسندی اور اخلاقی اقدار کے تحت ڈھالنا کیوں پسند کرتے ہیں؛ جبکہ ان کے برعکس اکثر لوگ ایسا کرنے سے محترز و مجتنب کیوں رہتے ہیں۔

یہاں اگرچہ جس قدر تفصیلات بھی بیان کر دی جائیں وہ کم ہوں گی اور تشنگی باقی رہ جائے گی، سو اس نامختتم بحث کو سمیٹنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا تناظراتی خاکہ سامنے رکھ دیا جائے، جس میں بیشتر افراد کے اچھے یا برے طرزِ عمل اور پھر ان کی طرف سے ایک یا دوسرے طرزِ عمل کے انتخاب کی توجیہہ کے ساتھ اختلاف کا امکان کم سے کم رہ جانے کی امید کی جا سکتی ہو۔

یہ تناظراتی خاکہ بھی اصل میں ایک نظریے کی صورت رکھتا ہے۔

کچھ برس پہلے تک میں ایک بڑے وٹس ایپ گروپ کا حصہ تھا، جسے میں نے ایک ’’عمران خانی‘‘ دانشور کے متکبرانہ رویے کی بِنا پر خود ہی خیرباد کہہ دیا (بلکہ اس گروپ میں ایسے نخوت پیشہ دانشوروں کا ایک ہجوم موجود تھا)۔ اس گروپ میں پاکستان کے چیدہ چیدہ دانشور، معیشت دان، ٹیکنو کریٹس، بیوروکریٹس اور مختلف شعبہ ہائے کاروبار و زندگی سے متعلق شخصیات شامل تھیں۔ بسا اوقات نہایت پُر مغز مباحث اور تبادلہ ہائے خیالات واقع ہوتے تھے۔

یہ 2021 کی بات ہے۔ ایک بحث کی اثنا میں، میں نے چند سطور دلیل کے طور پر لکھیں۔ پہلے یہ سطور ملاحظہ کیجیے:

“Here is what I mean. People (including me) do act independently, but at the same time they respond to the circumstances whatever they are like…

Isn’t it the case that the majority of the people respond to the circumstances whatever they are…they are born to live and not to die…and thus they are generally always ready to compromise and adjust with any type of circumstances. It’s actually something wrong with the intellectuals and visionaries that they look down upon them from their high pedestal and denigrate them.

It’s the same attitude that finds fault with the people…that’s easier. But that doesn’t help…why should the people follow such an intellectual/intellectuals.

It’s the system that needs to be addressed…and generally speaking people would respond to a system rewarding the good people positively.

Or who may / can lead them to reform the system and that’s entirely a different matter and mostly depends on the complexities of the politics that has mired them in a bad system, that is, a system that rewards only the bad.”

مناسب ہو گا کہ میں اپنے اس نقطہٴ نظر کو اردو میں بھی بیان کر دوں، کیونکہ یہ تحریر اردو میں ہے۔ یاد رہے کہ اس قسم کے گروپوں میں یہ ایک جاری مکالمہ ہوتا ہے، سو اس میں وقتی طور پر اوقاف، وغیرہ، نظر انداز ہو جاتے ہیں:

’’یہ ہے میرا مطلب۔ لوگ (مجھ سمیت) آزادنہ حیثیت سے عمل کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ حالات جیسے بھی ہوں وہ جواباً ان حالات کے مطابق بھی عمل کرتے ہیں۔۔۔

آیا یہ معاملہ اسی طرح نہیں کہ حالات خواہ جیسے بھی ہوں لوگوں کی اکثریت جواب میں ان کے مطابق عمل کرتی ہے۔۔۔ وہ زندہ رہنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں، مرنے کے لیے نہیں۔۔۔ اور یوں وہ بالعموم، حالات کسی بھی قسم کے ہوں، سمجھوتے کے لیے اور ان کے ساتھ مطابقت اختیار کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اصل میں یہ دانشوروں اور کسی وژن کے دعوے داروں کے ساتھ کچھ خرابی ہے کہ وہ اپنے بلند و بالا منبر سے ان پر تحقیر کی نظر ڈالتے ہیں اور انھیں رگیدتے ہیں۔

یہ وہی رویہ ہے جسے لوگوں میں ہی خرابی نظر آتی ہے۔۔۔ یہ آسان کام ہے۔ لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔ لوگ اس طرح کے دانشوروں کی پیروی کیوں کریں۔

یہ نظام ہے جس پر متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور عمومی طور پر لوگ اس نظام کے جواب میں عمل کریں گے جو اچھے لوگوں کو مثبت انداز میں صلہ دینے والا ہو گا۔

یا کوئی ایسا فرد جو نظام کی اصلاح میں ان کی رہنمائی کر سکنے کے قابل ہو اور یہ ایک بالکل ہی مختلف معاملہ ہے اور اس کا بیشتر انحصار سیاست کی پیچیدگیوں پر ہے جس نے انھیں ایک برے نظام میں پھنسا رکھا ہے، یعنی ایک ایسا نظام جو برے لوگوں کو صلہ دینے والا ہے۔‘‘

اس موقعے پر میں اپنے اس نقطہٴ نظر کے حق میں ایک سند پیش کرنا چاہوں گا۔ اسی وٹس ایپ گروپ میں ڈاکٹر طارق رحمان نے میری اس رائے پر صاد کیا۔ یہاں میں ان کے اصل الفاظ درج کرتا ہوں:

“How very correct, Accurate and in consonance with the latest research on neuroscience, politics and anthropology. Thank you. Tariq Rahman”

’’کیسی درست بات۔ صحیح اور نیوروسائنس، سیاست اور بشریات کی تازہ ترین تحقیقات کے ساتھ ہم آہنگ۔ شکریہ۔ طارق رحمان۔‘‘

میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں، جیسا اور جتنا ڈاکٹر طارق رحمان کا ہے۔ ان کا کام لسانیات اور اس سے منسلک بیشتر علوم سے تعلق رکھتا ہے۔ (اگر آپ ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو اس تحریر کے آخر میں ان کی علمی تحصیلات کا مختصر تذکرہ دیکھ لیجیے۔)

ہاں، جہاں تک میرے نقطہٴ نظر کی بات ہے، تو اس کی اساس میرا روزمرہ کا مشاہدہ ہے، ان لوگوں کا مشاہدہ جن سے بھی میرا سابقہ پڑتا ہے یا تعلق بنتا ہے۔ اور جنھیں میں دیکھتا ہوں اور جن کے بارے میں میں سنتا اور پڑھتا ہوں۔ اور اس کے علاوہ عمومی مطالعہ اور پھر کچھ نہ کچھ مطالعہ نفسیات کا بھی۔ مگر اس ضمن میں میں اپنے مشاہدے کو اولیت دوں گا، جیسا کہ اوپر بھی ذکر ہوا۔

تو یہ ہے وہ تناظراتی خاکہ۔ باقی معاملات میں دخل دیے بغیر میں یہاں اپنے اسی نظریے پر توقف کرتا ہوں جو اوپر مذکور ہوا۔ یعنی یہ کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت اچھائی پر مبنی طرزِ عمل کو اپنانے سے گریزاں کیوں ہوتی ہے اور کم تر شعور کا انتخاب کیوں کرتی ہے۔ یہ تناظر اس سبب کی تفہیم کے لیے ایک زرخیز قطعہٴ زمین مہیا کرتا ہے۔

یعنی یہ کہ لوگ پیدا ہوتے ہیں زندہ رہنے کے لیے۔ وہ مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوتے۔ ہرگز نہیں۔

(اور کیا یہ ایک قابلِ تحسین سوچ، فکر، فہم، فلسفہ، یا رویہ نہیں کہ زندگی جو ایک بار ملی ہے، اسے جیا جائے، بجائے اس کے اسے کسی بھی مقصد کے لیے قربان کر دیا جائے۔ میں اس بات کو نہایت قابلِ تحسین سمجھتا ہوں، اور یہ بات بہت برسوں سے میرے پیشِ نظر ہے۔)

اور بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ جیسا بھی نظام ہو، یا جس نظام میں بھی لوگ پیدا ہو جائیں، وہ نظام جتنا بھی برا کیوں نہ ہو، اس نظام میں جنم لینے والے لوگوں کی غالب اکثریت بہرحال جینا چاہے گی اور جینا چاہتی ہے۔

ہاں، کچھ لوگ جینے کی اس مشکل سعی میں ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہوتے ہیں، جو خود موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔

اور ہر برے نظام میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو اس نظام کے خلاف کام کرنے اور کھڑے ہونے کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جو کسی معاشرے کے نظام میں تبدیلی اور اسے بہتری کی طرف لانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس تگ و دو میں وہ اپنی جان بھی کھو سکتے ہیں۔ لیکن جب ایک قدم اٹھا لیا جاتا ہے تو بعض اوقات اس سے واپسی ان کے لیے قابلِ قبول نہیں رہتی۔

لیکن میں یہاں اس ’’عوامی‘‘ پندِ سود مند کو تاکیداً بیان کرنا اور آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا کہ زندگی ایک ایسی نایاب چیز ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں، اور جسے کسی بھی مقصد کے لیے کھونے کا تصور سراسر غیرانسانی ہے۔ اور زندگی کے ساتھ دشمنی کا مظہر بھی۔ اس ضمن میں یہ جو ایک حیلہ تراشا جاتا ہے کہ ایک بہتر زندگی کے لیے اس زندگی کو قربان کریں، تو یہ پرلے درجے کی گمرہی ہے۔ یہی چیزیں تھیں جن کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک مختصر مضمون ’’زندگی سے محبت کی تاریخ‘‘ لکھا تھا۔

اس معاملے پر میں نے سقراط کی زہرنوشی اور موت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایک طویل مضمون اور بھی لکھا ہے، جس میں یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موت کو قبول کرنے کا سقراط کا فیصلہ ایک بہتر فیصلہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ مجھے اس ضمن میں سر کارل پاپر کی ایک بات بھی یاد آتی ہے: ’اپنے نظریات کو تنقید کا نشانہ بنا کر ہم خود مرنے کے بجائے اپنے نظریات کو مرنے دے سکتے ہیں۔‘

فرض کیجیے کوئی دانشور یا کسی تصوریے کا دعوے دار کوئی ’’لیڈر‘‘ لوگوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے مقصد کی تکمیل یا اس کے تصوریے کے حصول کی خاطر جان قربان کریں، تو ایسے ’’لیدڑ‘‘ کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنی جان تج دینے کا مطالبہ کرنے کے بجائے، وہ یہ فیصلہ خود اپنے لیے کرے۔ اخلاقی طور پر بھی اسے کسی دوسرے فرد سے جان دینے کا تقاضا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اسے خود اپنے لیے یہ فیصلہ کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا یہ حق خود اس کے شخص تک محدود ہے۔ یعنی اس کے اس حق کو دوسرے افراد تک توسیع دینا غیرانسانی ہے۔ یعنی کسی دوسرے فرد کو کسی بھی انداز میں زندگی کو تج دینے کی تعلیم و ترغیب دینا خود زندگی اور انسانیت دونوں کےساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔

یہ ابھی چند برس پہلے کی بات ہے کہ ایک خودساختہ (’’عساکر ساختہ‘‘) ’’لیڈر‘‘ عمران خان اپنی لائیو وڈیو سٹریمنگ میں لوگوں سے یہ مطالبہ کیا کرتا تھا: ’حقیقی آزادی کے لیے، مر جاؤ، جاؤ مر جاؤ!‘ جبکہ پولیس کی گرفتاری کے خوف سے اس نے خود کو اپنے گھر میں قلعہ بند کیا ہوا تھا اور اس کی حفاظت کے لیے اس کے گھر کے ارد گرد عمران خانی جماعت کے کارکنوں کی باقاعدہ ڈیوٹی لگا کرتی تھی اور چاروں پہر مختلف کارکنوں کا پہرہ لگتا تھا۔

حاصلِ کلام یہ کہ اگر لوگ ایک اچھے یا قدرے اچھے نظام میں پیدا ہوتے ہیں، تو لوگوں کی بہت بڑی اکثریت اس نظام کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجیح دیتی ہے۔ جبکہ اس نوع کے نظام میں بھی کچھ نہ کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں، جو اپنے لیے اس نظام میں مزید بہتری لانے کے کام کا انتخاب کرتے ہیں۔

ہاں، ایک یہ چیز بھی قابلِ غور ہے کہ کسی معاشرے میں نظام قدرے برا ہو، یا بہت ہی برا ہو، جیسا کہ پاکستان کی صورت میں ہے، یا نظام قدرے اچھا ہو یا خاصا اچھا ہو، ہر طرح کے نظام میں ایسے دانشور اور مثالی تصوریوں یا یوٹوپیاؤں کے حامل افراد ضرور پائے جاتے ہیں، جو اپنے کسی متصورہ نظام کے مطابق اس معاشرے کے نظام کو ڈھالنا چاہتے ہیں۔ نہ صرف نظام کو بلکہ معاشرے کو بھی اور لوگوں کو بھی۔ یقیناً اس غرض سے وہ صحیح یا غلط جواز اور حیلے بھی تراش لیتے ہیں۔

ایک نہایت اہم مظہر اور ہے، جس کا ذکر ضروری ہے۔ خاص طور پر ایسے لوگ جو باشعور اور ہوش مند ہونے کے دعوے دار ہوتے ہیں، اور عقل و دانش کے حامل بھی کہلاتے ہیں، اگر اس طرح کے افراد اپنے لیے کم تر شعور کا انتخاب اور فیصلہ کرتے ہیں، یا موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو یہ کسی معاشرے کے لیے غیرمعمولی طور پر وحشت ناک بات ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کا بنیادی تعلق اور بنیادی کام عقل و دانش کے ساتھ منسلک ہے، جب وہ اخلاقی اور سماجی قدروں کو پامال کرتے ہوئے کم تر شعور کو اپناتے ہیں، تو ان کا یہ فعل اخلاقیات کے ساتھ ساتھ آئین و قانون کی جڑیں بھی کاٹ دیتا ہے۔ ایسے افراد کا یہ عمل ایک ایسی نظیر اور مثال قائم کرنے کے مترادف ہے، جس کی تلافی بھی اور معافی بھی قریب قریب ناممکن ہے۔

خیر ہم اپنے قضیے کی طرف واپس آتے ہیں۔

اوپر کی بحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اصل میں یہ خود ہر فرد کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے لیے کس شعور کا انتخاب کرتا ہے۔ کم تر شعور کا، یا برتر شعور کا۔

یعنی بہت کم ایسا ہوتا ہو گا کہ کوئی فرد اپنے لیے کم تر یا برتر شعور کا انتخاب کرنے کا اہل نہ رہے۔ اس کی جو بھی وجوہ ہوں، انھیں درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ محض حیلہ طرازی ہے۔

عیاں رہے کہ یہ ایک بہت بڑا اور نازک نکتہ ہے۔ ایک فرد اپنے شعور کو کم تر سطح پر رکھنا چاہتا ہے اور یوں خود کو بھی یا اپنے شعور کو ایک برترسطح پر متمکن کرنا چاہتا ہے اور یوں خود کو بھی، یہ نہ صرف اس کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک انسانی انتخاب ہوتا ہے۔ اور انسانی انتخاب ہونے کی بدولت ہی یہ اخلاقی انتخاب بنتا ہے۔

یعنی انسانیت کی بقا اور استقرار کا دار و مدار اس بات پر ہو گا کہ ایک فرد اپنے لیے کس شعور کو چنتا ہے۔ کم تر یا برتر۔ اسی انفرادی فیصلے سے کسی معاشرے کا اخلاقی مقدر بھی طے ہوتا ہے۔

لیکن جیسا کہ متذکرہ بحث میں نظام کی بحث بھی در آئی ہے، اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ریاست شہریوں کا مقدر ہوتی ہے، گو کہ اس مقدر کو بدلا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، ضروری ہے کہ کم تر اور برتر شعور کے معاملے کو نظام کے پس منظر میں بھی رکھ کر دیکھ لیا جائے۔

مجھے اعتراف ہے کہ ایک برے نظام یا بہت ہی برے نظام (یعنی پاکستان کے نظام) میں لوگوں کے لیے برتر شعور کا انتخاب کرنا بہت مشکل اور بعض اوقات قریب قریب ناممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک برے نظام کے تحت کسی معاشرے میں صورتِ حالات جتنی بھی خراب کیوں نہ ہو، لوگوں کو اخلاقی ذمے داری سے استثنا عطا نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی اخلاقی ذمے داری ہمہ وقت عائد رہتی ہے۔

لیکن چونکہ نظام کی منطق اور تقاضے لوگوں کے لیے اچھے طرزِ عمل یا برتر شعور کے انتخاب کو نہایت مشکل بنا دیتے ہیں، لہٰذا، ان حالات میں ہر فرد سے یہ تقاضا نہیں کیا جا سکتا یا نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ مادی و معاشی اور سماجی نقصان اٹھائے اور برتر شعور کا مظاہرہ کرے۔ وہ اب یا تب یا جہاں کہیں بھی اسے گنجائش ملتی ہے اور وہ اس مہلت میں برتر شعور سے معمور برتاؤ کا مظاہرہ کر سکتا اور کرتا ہے، تو یہ بھی غنیمت ہے۔ اور اگر کوئی فرد خاصے زیادہ معاملات میں یا بیشتر مثالوں میں کم تر شعور کو اپنائے رکھتا ہے، تو اسے اخلاقی مفہوم میں برا تو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس پر یہ قدغن نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ برتر شعور کو اپنائے اور اس کا مظاہرہ بھی کرے۔

لیکن اہلِ دانش کو کسی بھی صورت میں یہ چھوٹ نہیں دی جا سکتی!

عیاں رہے کہ ایسے افراد میں برتر شعور کی شمع ہمیشہ جلتی رہتی ہے۔ اور ایسے افراد خود ہی وہ موم ہوتے ہیں، جو اس شمع کو جلائے رکھتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہے کہ اگر نظام حد سے بڑھ کر برا ہو جاتا ہے، اور ایسے لوگ، جنھیں کسی موقعے پر مجبوراً کم تر شعور کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، تو اگر ان لوگوں کے لیے کم تر شعور کا مظاہرہ کرنے کے حالات میں تیزرفتاری کے ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے، تو ایک ایسے مرحلے کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا کہ جب اصلاً برتر شعور کے حامل لوگوں کے لیے بھی کم تر شعور کے حامل لوگوں میں منتقل ہو جانا ایک تکلیف دہ عمل نہیں رہ جاتا۔

یاد رہے پاکستان اسی مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔

بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ہوتا ہے کہ اگر برا نظام کئی نسلوں تک قائم رہے اور بہتری کی کسی امید اور گنجائش کے بغیر یونہی چلتا رہے، تو آنے والی نسلیں اس برے نظام کو موجود نظام یا ایک ’فطری نظام‘ کے طور پر قبول کر لیتی ہیں۔ یعنی یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ نظام ایسے ہی ہوتا ہے اور ایسے ہی چلتا ہے۔ پاکستان میں یہ ’’قیامت‘‘ بھی برپا ہو چکی ہے۔ یعنی پاکستان میں ایک برا نظام کئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کی کامیاب تکمیل کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ یہاں اس ضمن میں وہی انسانی فہم و تفہیم کام کر رہے ہیں کہ انسان جینے کے لیے پیدا ہوتے ہیں، مرنے کے لیے نہیں۔ اور وہ ہرحال اور ہر صورت میں زندہ رہتے ہیں۔ باایں سبب، ان سے ماورائے حالات تقاضا مناسب نہیں۔ بلکہ اس کے بجائے نظام کی نوعیت اور جبریت پر متوجہ ہونا اصل ذمے داری بن جاتی ہے۔

چند برس قبل میں نے اپنی ایک فیس بُک پوسٹ میں لکھا تھا: ’لوگ اصلاً اچھے ہوتے ہیں۔ برا نظام انھیں برا بنا دیتا ہے۔ اچھا نظام انھیں اچھا بنا دے گا۔‘

واضح رہے کہ اس پوسٹ میں عموم ایک مسلمہ امر ہے۔ یعنی لوگ اصلاً اچھے ہوتے ہیں سے مراد یہی ہے کہ لوگوں کی بڑی اکثریت اچھائی کی حامل ہوتی ہے، اور بہت ہی کم تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے، جو برے طرزِ عمل کو اپناتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ایک برا نظام لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو مجبوراً برا طرزِ عمل اختیار کرنے پر مائل کرتا ہے، وہ اصلاً برے طرزِ عمل کے حامل افراد نہیں ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ اگر ایک اچھا نظام قائم ہے یا اچھے میں بدل کر قائم ہو جاتا ہے، تو لوگوں کی اکثریت اپنے طرزِ عمل کو اچھا بنا لیتی ہے۔

پاکستان میں چند ایک مواقع پر ایسے تاریخ ساز لمحات آئے ہیں، جب لوگوں کی بڑی اکثریت یہ امید لگا کر خود کو بدلنے کی تیار تھی کہ نظام بدلنے اور بہتر ہونے والا ہے۔ مگر سیاست دانوں نے ان لمحات کو باقاعدہ سوچ سمجھ کر ضائع کیا، اور ایک ایسے نظام کو مستحکم کیا، جس میں لوگوں کو مجبوراً کم تر شعور کے ساتھ زندہ رہنے کا حیلہ کرنا پڑتا ہے، گو کہ ان اصلاً اچھے لوگوں کا برتر شعور ایک مینارہٴ نور کی طرح اپنی جگہ ایستادہ رہتا ہے۔

آخر میں اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے، جس سے اس تحریر کی ابتدا کی گئی تھی: یعنی یہ سوال کہ آیا یہ شعور ہے جو کسی فرد کو بناتا ہے، یا یہ ایک فرد ہے جو اپنے شعور کو بناتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ شعور ہے، جو فرد کو بناتا ہے۔ یعنی تاآنکہ ایک فرد شعورِ ذات کا حامل ہو، اس وقت تک یہ شعور ہے جو اسے بناتا ہے۔ اور جب فرد باشعور بن جاتا ہے، تو پھر کلی طور پر یہ خود فرد ہے، جو اپنے شعور کو بناتا ہے۔ یا بگاڑتا ہے۔ یعنی اب یہ باشعور ہے جو اپنے لیے خود برتر یا کم تر شعور کا انتخاب کرتا ہے، جو اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔

حاصلِ بحث یہ کہ ہر فرد پورے طور پر آزاد ہے۔ اپنے لیے برتر شعور یا کم تر شعور کا انتخاب خود اس کے اپنے اختیار میں ہے۔ یعنی یہ ہر فرد خود وہ فرد ہی ہے، جو اپنے لیے اچھا یا برا بننے کا فیصلہ کرتا ہے۔

[28 اگست 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted