محمد حسن عسکری اور روایت کا نزاع

افلاطون عزیز ہے، صداقت عزیز تر۔ ارسطو

ابتدائیہ:

اس مضمون پر کام جب میں کلر سیداں میں تھا تو وہاں شروع کیا تھا۔ یہ دسمبر 1990 کی بات ہے۔ اور وہیں اس کے مختلف حصوں کی ایک ترتیب اپریل 1991 میں تیار بھی کی تھی، جس کے مطابق اسے مکمل کرنا تھا۔ اس کے بعد ایک بہت بڑے عرصے تک زندگی کے بکھیڑے اور الجھاؤ سلجھاؤ اور لکھنے لکھانے کی دوسری مصروفیات آڑے آتی رہیں۔ کبھی کبھی دھیان اس طرف گیا بھی، مگر اس پر متوجہ نہیں ہو سکا۔

ابھی جب 2025 اکتوبر میں پرائم انسٹیٹوٹ اسلام آباد کی طرف سے سر سید احمد خان پبلک لیکچر کی دعوت ملی تو یہ لیکچر لکھتے ہوئے محمد حسن عسکری کا ذکر بھی در آیا۔ بلکہ اس سے قبل بھی اپنی کتاب، ’’دانشور اشرافیہ‘‘ پر کام کرتے ہوئے بھی عسکری صاحب کا تذکرہ کرنا پڑا۔

یعنی بارہا اس مضمون کی یاد آئی، لیکن کام دوبارہ شروع نہیں ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ لے دے کے ہمارے پاس ایک محمد حسن عسکری ہی باقی بچتے ہیں، جنھیں مفکر کہا جا سکتا ہے اور کہنا چاہیے۔ یعنی اکلوتے مفکر۔ اور آدھے مفکر بھی۔ برِ صغیر سے متعلق فکر و دانش کا کوئی قصہ یا کوئی داستان چھیڑ لیجیے، وہ عسکری صاحب کے بغیر مکمل نہیں ہو سکے گی۔

اور ابھی 17 جولائی (2026) کو اکیڈمی آف لیٹرز اسلام آباد کے تحت چھٹا توسیعی خطبہ بعنوان ’’دانشِ عصرِ حاضر اور ہمارے تخلیقی رویے‘‘ کا آن لائن انعقاد ہوا۔ مقرر ڈاکٹر امجد طفیل تھے اور صدارت ڈاکٹر تحسین فراقی نے فرمائی۔ گو میں وہ لائیو لیکچر تو نہیں سن سکا، مگر بعد میں فیس بک پر میں نے اسے شروع سے آخر تک پورا سنا۔

اس میں تو ذکر اذکار عسکری صاحب ہی کا تھا۔ یعنی معنوی لحاظ سے۔ یوں مجھے ایک بار پھر تحریک ملی کہ جیسے بھی ہو اس کام کو نبیڑوں۔ جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں چاہے دو لفظوں میں کہوں، بس اس کام کو ختم کروں۔

پھر میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اپنے جو کام ادھورے پڑے ہیں، اور جو میرے نزدیک اہم ہیں، جن کے ذریعے میں کچھ نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں، انھیں جیسے تیسے پورا کروں۔ ویسے بھی زندگی محدود ہے۔

لہٰذا، میں نے اپنا وہ لفافہ نکالا، جس میں یہ ادھورا مضمون اور اس سے متعلق کچھ شذرات، وغیرہ، محفوظ تھے۔ یہ ہاتھ سے لکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت ابھی کمپیوٹر کہاں تھا یا میرے پاس کہاں تھا۔

تو آج 19 جولائی (2026) کو میں نے اس ادھورے مضمون کو اپنے کمپیوٹر میں لکھا۔ سوچا کہ ایک مرتبہ یہ کمپیوٹر میں اُتار لوں، پھر اسے مکمل کروں گا۔

یہاں پہلے اسی ادھورے مضمون کو درج کیا جاتا ہے (پہلا حصہ)۔ پھر اس پر جو اضافہ میں کرنا چاہتا ہوں، وہ لکھوں گا (دوسرا حصہ)۔ اس کے بعد وہ اقتباسات بھی درج کرنا چاہوں گا جو میں نے عسکری صاحب یا ان کے مکتبِ فکر کے حامیین اور شارحین کی تحریروں سے اکٹھے کیے تھے (تیسرا حصہ)۔ ازاں بعد، وہ شذارات بھی درج کروں گا جو میں عسکری صاحب کی فکر سے متعلق وقتاً فوقتاً قلم بند کرتا رہا اور آج بھی مناسب اور موزوں معلوم ہوتے ہیں (چوتھا حصہ)۔ اور پھر وہ اقتباسات درج کروں گا، جو عسکری صاحب کے ناقدین و وغیرہم کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے محفوظ کیے تھے (پانچواں حصہ)۔  پھر جن نتائج اور حاصلات کو میں بیان کرنا چاہتا ہوں، ان کا مختصر ذکر کروں گا (چھٹا حصہ)۔ اور آخر میں حواشی و تعیلقات اور کتابیات درج ہوں گے (ساتواں حصہ)۔ یوں قاری اپنی ترجیح کے مطابق جس حصے کو دیکھنا چاہے گا، دیکھ سکے گا۔ اور اگر کوئی قاری صرف مضمون کے استدلال کو دیکھنا چاہتا ہے، تو پہلے اور دوسرے حصے پر نظر ڈال لینا کافی ہو گا۔

پہلا حصہ: ادھورا مضمون

’’گذشتہ روز ٹاؤن شپ میں مسماة رضیہ مسیح دختر یعقوب مسیح نے قاری مشتاق احمد شرق پوری کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اس کا اسلامی نام شکیلہ رکھا گیا ہے۔‘‘ (1)

اس نوع کی خبریں اخبارات میں اب یا تب چھپا کرتی ہیں۔ لیکن رضیہ مسیح کا شکیلہ بن جانا اتنا اہم نہیں، جتنا مارٹن لِنگز (Martin Lings) کا ابوبکر سراج الدین، فریدھوف شوآں (ٖFrithjof Schuon) کا عیسیٰ نورالدین، رینے گیناں (Rene Guenon) کا عبدالواحد یححیٰ، گئے ایٹن (Gai Eaton) کا حسن عبدالحکیم الشاذلی، مِشل والساں (Michel Valsan) کا مصطفیٰ عبدالعزیز، اور ٹائٹس برکہارٹ (Titus Burckhardt) کا ابراہیم عزالدین بن جانا اہم ہے۔

اس ضمن میں عسکری صاحب کا یہ بیان بھی نظر میں رکھیے: ’’البتہ بعض حضرات ایسے بھی ہیں جن کے متعلق دو ایک دفعہ یہ بتا بھی دیا گیا ہے کہ یہ مسلمان ہیں۔ مثلاً سوئٹزر لینڈ کے Frithjof Schuon (عیسیٰ نورالدین)۔ مگر عموماً یہ بھی اپنے اسلام کا عمومی اعلان نہیں کرتے کیونکہ اعلان کر دیں تو انکی کتابیں کوئی نہ پڑھے۔‘‘ (2)

ایک مرتبہ لاہور کی نواحی بستی شاہدرہ میں دیوار پر چسپاں ایک اشتہار دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کسی مذہبی اجتماع کے بارے میں تھا۔ مقررین میں ایک مولانا کے نام سے پہلے جو خطابات تحریر کیے گئے تھے، ان میں ’’فاتحِ یورپ‘‘ خطاب بھی درج تھا۔ انھوں نے شاید کسی ’’انگریز‘‘ (یا یورپی) کو مسلمان کر لیا ہو گا!

مختلف حلقوں میں اور مختلف ذرائع سے یہ بات اکثر سننے میں آتی رہتی ہے کہ مغرب کو زوال آ گیا ہے۔ مغرب گمراہ ہو گیا ہے۔ کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ ثبوت کے طور پر مغرب ہی کے عالموں (مثلاً) اوسوالڈ سپینگلر (Oswald Spengler) سے شہادت بھی لے آتے ہیں اور پھر مغرب کی گمراہیوں کا خاکہ بھی ان کی آرا کی روشنی میں مرتب کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تحریریں پڑھ کر اس کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے: اے مشرق والو! یہ تم کہہ رہے ہو، تم کہ مغرب زوال پذیر ہے۔ تم جو ایک انگریز کو مسلمان کر کے ’’فاتحِ یورپ‘‘ بن جاتے ہو! ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ / جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ (غالبؔ)

محمد حسن عسکری ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’ایک عجیب اتفاق ہے کہ 28 (یعنی 1928) کے قریب مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی مجلس میں کہا تھا کہ مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ اب اسلام کی حفاظت کرنے والے یورپ سے پیدا ہوں گے۔ تقریباً یہی زمانہ ہے جب Rene Guenon نے زور و شور سے لکھنا شروع کیا ہے۔‘‘ (3)

کیا یہ وہی ’’پیرویِ مغربی‘‘ (4) نہیں، جس کی وہ خود تضحیک کرتے نہیں تھکتے: ’’انھیں (حالیؔ کو۔ خ-ا) ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ مغرب کی پیروی کرنا بالکل کوہِ ندا یا حمام بادگرد کی خبر لانے کے برابر ہے۔ انھوں نے جس بھولے پن سے ’’حالی اب آؤ‘‘ کہا ہے، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے جیسے مغرب کی پیروی میں کچھ نہیں لگتا۔ بس گلے میں مفلر ڈالا، ہاتھ میں چھڑی لی اور چل پڑے۔‘‘ (5)

آگے چل کر سلیم احمد نے سارے مسئلے کو یوں پیش کیا: ’’اچھا تو اب مجموعی صورتِ حال یہ ہے

ہم مغربی بنیں اور مغربی ادب پیدا کریں تو انجام موت۔

ہم مذکورہ صورتِ حال کی روشنی میں مشرقی رہنا چاہیں اور مشرقی ادب پیدا کریں تو ناممکن۔

ہم مٖغرب کو رد کر کے اس مشرق کی طرف لوٹنا چاہیں جو پیرویِ مغربی سے پہلے تھا تو راستہ بند۔

یا اللہ! پھر کیا کریں؟

میں نے یہ سوال عسکری صاحب سے ان کی زندگی میں پوچھا تھا۔ زبانی بھی اور تحریری بھی۔ تحریر کا تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔ لیکن زبانی یہ کہا تھا، ’’نماز پڑھو۔‘‘ مغرب نے ہمارے عقیدے خراب کر دیے، مغرب نے ہمارا اخلاق خراب کر دیا، مغرب نے ہماری معاشرت خراب کر دی۔ معلوم نہیں اتنی بہت سے خرابیوں میں ہماری نماز بھی ٹھیک ہوتی ہے یا نہیں!

عسکری صاحب نے یوں تو زندگی بھر سوال اٹھائے تھے مگر آخر میں ایک سوال ایسا اٹھا دیا جس کا جواب خود ان کے پاس نہ تھا۔ شاید کسی کے پاس نہیں!‘‘ (6)

تاہم، کچھ بحث و تمحیص کے بعد وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں: ’’اب ہمارے تینوں سوالوں (کیا مشرق کو قائم رکھا جا سکتا ہے؟ کیا مغرب کو اختیار کیا جا سکتا ہے؟ کیا دونوں کا امتزاج ممکن ہے؟) کا جواب ایک ہے۔ مغرب کو اختیار کرنا باطل کو اختیار کرنا ہے۔ دونوں کی آمیزش کے معنی حق اور باطل کو ملانا ہے جو باطل کا کام ہے۔ مشرق کو قائم رکھنے کے معنی حق کو سمجھنا اور باطل کو باطل سمجھنا اور دونوں کے التباس کو دور کرنا ہے۔ عسکری صاحب کو رینے گیناں کا یہ جواب معلوم تھا۔ اس لیے عسکری صاحب … کا مقدمہ صرف اتنا ہے، حق اور باطل کے امتزاج کی ہر شکل کو رد کرنا۔‘‘ (7)

بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’مشرق کو قائم رکھنا‘ اور ’مشرق کو قائم رکھنے کے معنی حق کو سمجھنا ہے‘ سے کیا مراد ہے! اسی طرح آگے چلنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔

کیونکہ عسکری صاحب نے اس سوال پر کوئی روشنی نہیں ڈالی، (8) لہٰذا، سلیم احمد نے ’’عسکری صاحب کے شیخ‘‘ (9) رینے گینوں کے افکار کی روشنی میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس جواب کا ضروری اور متعلقہ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: ’’رینے گینوں کہتے ہیں کہ مغربی تہذیب سے لڑنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ جو کام ہم کر سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ مشرق اور مغرب اور روایت اور غیرروایت کے فرق کو سمجھ لیں اور حقیقت کے روایتی تصور کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنے کی کوشش کریں۔ یہ کوشش ایک خاص وجہ سے بہت ضروری ہے۔ رینے گینوں کا کہنا ہے کہ غیرروایت اتنی کمزور چیز ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس وقت تک قائم نہیں رکھ سکتی جب تک روایت کے کچھ اجزا اپنے اندر شامل نہ کر لے۔ مذہبی انداز میں یوں کہنا چاہیے کہ غیرروایت باطل ہے اور روایت حق۔ باطل کی حقیقت باطل ہے اس لیے باطل باطل کی حیثیت سے کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ باطل کا قائم رہنا صرف اس وقت ممکن ہے جب اس میں حق کی تھوڑی بہت آمیزش کی گئی ہو۔ چنانچہ باطل اپنے آپ کو قائم رکھنے کے لیے حق کا سہارا لیتا ہے۔ اب رینے گینوں کے نزدیک باطل کو شکست دینے کا صرف ایک طریقہ ہے، حق کو باطل سے الگ کر دیا جائے۔ کل یُگ کے آخری دور میں سب سے بڑا انسانی فریضہ حق و باطل کے التباس کو دور کرنا ہے۔ رینے گینوں کہتے ہیں کہ مشرق و مغرب کو اس طرح سمجھ کر ہم اس وقت کی تیاری کر سکتے ہیں جب کل یُگ ختم ہو کر ظہور کا نیا دائرہ شروع ہو گا۔‘‘ (10)

ہمارے مذکورہ بالا سوال کا جواب یہ بنا کہ ’مشرق کو قائم رکھنا‘ کا مطلب ہے روایت کو قائم رکھنا؛ اور ’مشرق کو قائم رکھنے کے معنی حق کو سمجھنا ہے‘ سے مراد ہے روایت یعنی حق کو سمجھنا۔ لیکن سوال موجود ہے کہ روایت کیا ہے۔ عسکری صاحب کے ’’تصورِ روایت‘‘ کو سلیم احمد نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’ان (عسکری صاحب) کے ہاں روایت کے معنی عادت نہیں بلکہ وہ چیز جس کا تعلق مابعد الطبیعاتی اصولوں سے ہو۔ ان مابعد الطبیعاتی اصولوں سے حقیقت کا ایک مخصوص تصور وابستہ ہوتا ہے اور اسی کے ذریعے وجود میں آتا ہے۔ حقیقت کا یہ تصور چونکہ ہر جگہ ایک ہے اس لیے اصلی اور بنیادی روایت بھی ایک ہے۔ اس میں نہ اختلاف ہو سکتا ہے نہ تضاد، نہ وہ نئی ہو سکتی ہے نہ پرانی۔ البتہ حقیقت کا یہ تصور چونکہ مختلف زمانوں اور مختلف مقامات پر انسانی ضروریات کے تحت مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے اس لیے ایک اضافی معنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ روایت کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح انسانی سرگرمیوں کے نقطہٴ نظر سے بنیادی اور مرکزی روایت مختلف کاموں میں مختلف طور پر ظاہر ہوتی ہے، اس لیے یہاں بھی اضافی طور پر ادب کی روایت یا فن کی روایت کہا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ روایتیں ایک ہی بنیادی روایت کا حصہ ہوتی ہیں اور اسی کے ذریعے وجود میں آتی ہیں اس لیے مرکزی روایت کے سوا کسی اور طرح کی روایت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (11)

حقیقت کا یہ تصور افلاطون کے نظریہٴ اعیان سے ملتا جلتا ہے۔ روایت، جو محض حقیقت کا تسلسل اور زمان و مکان میں اس کا مظہر ہے، نقلِ حقیقت ہے۔ خود حقیقت غیر متغیر، مکمل اور مستقل ہے۔ اس فکر کے ڈانڈے، خوش قسمتی یا بد قسمتی سے، افلاطون کے نظریہٴ علم سے جا ملتے ہیں، اور یوں افلاطونیت کا استرداد بالآخر (یعنی مغرب اور غیر روایت کا استرداد) افلاطونیت کا اثبات بن جاتا ہے۔ سلیم احد شرح کرتے ہیں: ’’… روایت مذہبی بھی ہوتی (ہے) اور غیرمذہبی بھی۔ چینیوں اور ہندوؤں میں روایت ہے مگر مذہب نہیں ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں میں روایت مذہب کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔

’’اب ان تمام روایتی تہذیبوں کے مقابلے پر مغرب کی موجودہ تہذیب مکمل اور غیرروایتی تہذیب ہے کیونکہ اس کا تعلق حقیقت کے روایتی تصور سے نہیں ہے۔ یہ تہذیب کیسے پیدا ہوئی اور اپنی پیدائش سے اب تک کن مراحل سے گزری، عسکری صاحب نے اس پر بھی کچھ روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ازمنہ وسطیٰ میں حقیقت کے متعلق مغرب کا تصور بھی وہی تھا جو مشرق کا۔ لیکن مغرب کے لوگ ازمنہ وسطیٰ میں بھی اس تصور کو پوری وضاحت سے نہیں سمجھ سکے۔ دوسرا فرق یہ تھا کہ مشرق میں حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے عقلِ محض۔ اور مغرب پر جذبہ حاوی تھا۔ لیکن اس فرق کے باوجود ان کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا۔ بنیادی اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب مغرب نے نشاة ثانیہ کے دور میں حقیقت کے مشترک تصور کو چھوڑنا شروع کیا۔ عسکری صاحب کہتے ہیں کہ نشاة ثانیہ کے دور میں صرف یورپ بلکہ انسانیت کی تاریخ میں جو بالکل نئی بات رونما ہوئی وہ یہ تھی کہ حقیقت کا دائرہ صرف مادی دنیا تک محدود کر دیا گیا۔ پہلے تو لوگوں نے صرف مادی دنیا سے آگے بھی اگر کوئی حقیقت ہے تو اس کے بارے میں پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ انیسویں صدی سے مغرب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مادی دنیا سے آگے کوئی حقیقت ہوتی ہی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرا خیال یہ پیدا ہوا کہ ہمیں ہر بات پر صرف انسان کے نقطہٴ نظر سے غور کرنا چاہیے خدا کے نقطہٴ نظر سے نہیں۔ نتیجہ عسکری صاحب کے الفاظ میں یہ نکلا کہ ’’مادی دنیا اور انسان کو آخری حقیقت سمجھنے کی وجہ سے مغربی تہذیب مدارجِ حقیقت کے اعتبار سے نیچے ہی اترتی چلی گئی اور غیرنامیاتی مادہ تک پہنچ کر اپنے دو خداؤں انسان اور حیات کو بھی رد کر رہی ہے۔

مشرق و مغرب کے اس فرق کی روشنی میں مشرق و مغرب کی آویزش دراصل روایت اور غیر روایت کی آویزش ہے۔‘‘ (12)

یہاں سے ہم حالیؔ والی ’’پیرویِ مغربی‘‘ کی طرف واپس آتے ہیں۔ مغرب ہمیں کہتا ہے کہ ہم مشرقی ہی رہیں۔ ان کا فلسفہ، مذہب، سماجیات، سیاسیات، معاشیات، اور ان کے سفارت کار تک ہمیں یہی بتاتے ہیں۔ (13) اور اب عسکری صاحب جیسے جاندار مفکر بھی مغربیوں سے پڑھ کر ہمیں یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ ہم مشرقی ہی رہیں۔ لیکن اگر ہم عسکری صاحب کے مشورے کو پسِ پشت ڈال دیں اور مشرقی نہ رہیں، تو کیا مغربی ہو جائیں۔ وہی عسکری صاحب والا مخمصہ پھر درپیش آ جاتا ہے۔

جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسئلہٴ مشرق کا حل، مغرب کو اختیار کرنے میں یا دونوں کے امتزاج میں نہیں۔ بلکہ اصولِ صداقت کو قبول کرنے میں مضمر ہے۔ لیکن ہمارے یہاں اس کے برعکس، روایت کے مقابلے میں جدیدیت کو لایا گیا۔ بلکہ روایت اور جدیدیت کو فی الواقعہ دو متضاد و متصادم قوتوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ عیاں ہے کہ یہ دونوں اس طرح متخالف و متغائر نہیں، جیسا کہ انھیں بنا کر دکھایا گیا ہے۔ ان دونوں کے درمیان، جو تضاد ابھارا گیا ہے، وہ نام نہاد اور خود ساختہ تضاد ہے۔ جدت پسندی یا جدیدیت پسندی، دونوں مرورِ زمانہ کے ساتھ روایت ہی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یوں جدت پسندی اور جدیدیت کو روایت کے خلاف ایک احتجاج اور بغاوت کا نام دیا جا سکتا ہے۔

یہاں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ روایت اور غیرِ روایت (یعنی مشرق و مغرب) کی حقیقت کو بھی سمجھ لیا جائے، کیونکہ سلیم احمد، محمد حسن عسکری، اور رینے گینوں کے مذکورہ بالا خیالات کے مطابق روایت حق ہے، اور اوپر روایت کے مقابلے میں ’صداقت‘ کو مقابل میں لا کھڑا کیا گیا ہے۔

دوسرا حصہ: اضافہ

یہاں آ کر یہ ’’ادھورا مضمون‘‘ پورا ہو جاتا ہے یا رُک جاتا ہے۔ میری کوشش اب یہ ہو گی کہ میں اسے جلد از جلد انجام تک پہنچاؤں۔ اور اس کا حل میرے نزدیک یہ ہے کہ چند بنیادی معاملات کا تصفیہ کروں اور جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں، اسے آپ کے سامنے رکھ دوں۔

جیسا کہ سلیم احمد کی بات اوپر درج کی گئی، اور وہ لکھتے ہیں کہ ’’مغرب نے ہمارے عقیدے خراب کر دیے، مغرب نے ہمارا اخلاق خراب کر دیا، مغرب نے ہماری معاشرت خراب کر دی۔‘‘ یہ بہتان پڑھ کر مجھے ملال ہوتا ہے۔ یہ بہتان سلیم احمد مغرب پر دھر رہے ہیں۔ وہی سلیم احمد جنھیں عسکری صاحب کا نہایت ہونہار اور مستند شاگرد مانا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تو کیا ہم اتنے دودھ پیتے بچے تھے، جو مغرب نے ہمیں بگاڑ دیا، خراب کر دیا۔ یعنی بجائے اس کے کہ سلیم احمد عسکری صاحب کے افکار و ملفوظات میں وہ وجوہات تلاش کرتے، جن کے سبب مغرب کی دیکھا دیکھی یا مغرب کی چال چلنے سے ہم اپنے عقیدے اور اخلاق بھول گئے، انھوں نے یک جبشِ قلم مغرب کو متہم کر دیا۔ بلکہ وہ بڑی آسانی سے سر سید احمد خاں اور الطاف حسین حالیؔ کو موردِ الزام ٹھہرا سکتے تھے۔ مگر کوئی ماں اپنے بچے کو کب خراب کہتی ہے۔ اس کے نزدیک وہ معصوم ہوتا ہے، اور گلی کے باقی بچے اسے بگاڑنے اور خراب کرنے والے۔ یہاں یہ بچہ مغرب ہے۔

بلکہ ان سے اچھے تو سر اقبالؔ رہے، جنھوں نے تسلیم کیا کہ مغرب میں کچھ نہ کچھ ایسا تھا، جس نے ہمیں دیوانہ بنا دیا۔ دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی / دلِ ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی / متاعِ دین و دانش لُٹ گئی اللہ والوں کی / یہ کس کافر ادا کا غمزہٴ خوں ریز ہے ساقی۔

اوپر جو یہ بات ہوئی کہ عسکری صاحب بھی ہمیں مشرقی رہنے کا سبق دے گئے، تو یہ معاملہ عسکری صاحب سے شروع نہیں ہوا۔ علمائے دیو بند نے بھی لوگوں کو یہی راہ دکھائی تھی۔ مگر لوگ کب کسی کی مانتے ہیں۔ اور پھر یوں بھی ہوا کہ بہت لوگ دیو بند کے پیروکار رہتے ہوئے  نہ صرف مادی زندگی کو سہل بنانے اور انھیں پسند آنے والی ہر چیز کو قبول کرتے رہے۔ گو کہ علمائے دانش اپنی سی کوشش پھر بھی جاری رکھے رہے۔

اس باب میں طرفہ تماشا یہ ہوا کہ بیشتر علما نے براہِ راست تو پیرویِ مغربی نہیں کی، ہاں، لوگوں کی پیروی میں مغربی چیزوں کو اپناتے رہے (ان میں ہر قسم کی اشیا شامل ہیں)۔ عملاً ان کے پیچھے چلتے رہے۔ یعنی جب انھیں اپنے پیچھے نہ چلا سکے تو خود پیچھے چل پڑے۔

ایک اور نہایت اہم حقیقت یہ ہے، اور میں حسرت کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے اس حقیقت کے احساس کا  ادراک اور ذکر بھی نہ کہیں دیکھا اور نہ کہیں سنا، یعنی یہ کہ پورے بر صغیر اور شاید پوری مسلم دنیا میں شاذ ہی کوئی ایسا مفکر و دانشور ملے گا جو اس تفکر سے کچھ قربت رکھتا ہو کہ بہت سی جستجوؤں میں سے صداقت کی جستجو بھی ایک جستجو ہے، جہاں سے ہر جستجو کا پہلا قدم اُٹھتا ہے، یا جو ہر جستجو کا منتہائے مقصود ہے۔

ہاں، مگر ایک شخص ایسا ہے، جو اس جستجو پر نظر رکھتا تھا۔ جسے اس در سے آشنائی تھی۔ یعنی برصغیر کی سالم مسلم فکر میں صداقت کی جستجو کے معاملے کو اگر کوئی سمجھتا تھا تو وہ سر سید تھے۔ تنہا سر سید۔ انھوں نے بار بار اور بارہا مسلمانوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ دلیل دو طرح کی ہوتی ہے، نقلی اور عقلی۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عقلی دلیل ہی وہ ذریعہ ہے، جس کے ذریعے حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے۔

مگر یہ دونوں راستے علاحدہ رہے، دریا کے دو پاٹوں کی طرح۔ اور یونہی آگے بڑھا کیے۔

اوپر کی بحث سے یہ بھی عیاں ہے کہ نقلی دلیل وہ استدلال ہے، جو مذہبی روایت کا زادِ راہ ہے۔ اور چونکہ صداقت کی جستجو کے سفر پر کوئی نکلا ہی نہیں، تو اس کے زادِ راہ یعنی عقلی دلیل کو در خورِ اعتنا سمجھنے کا سوال ہی کیوں پیدا ہوتا۔ اور پیدا بھی نہیں ہوا۔

یہی میری حیرانی اور بے سروسامانی کا بیان ہے۔

مشرق اور بالخصوص برِ صغیر میں فکر و دانش، علم و آگہی، اور شعر و ادب کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، جذب و دل، عشق و جنون، وجدان و الہام کے ذکر و تذکیر کی بہتات ملے گی۔ جیسا کہ یہ فکر کا ایک غالب اور بڑا دھارا ہو۔ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ یہی ایک دھارا ہے۔ یعنی عشق کا دھارا۔

یا یوں کہہ لیجیے کہ دل، دماغ پر حاوی ہے۔

اور اگر یہی ایک دھارا بہتا رہا اور بہہ رہا ہے، تو فطری اور منطقی تقاضا یہ ہے کہ اس کے مخالف دھارا بھی موجود تو ضرور ہو گا اور موجود ہونا چاہیے۔ بالکل موجود ہے۔ مگر کہیں تہہ میں دبا ہوا۔ سراسر اسی طرح، جیسے مسلم شخصیات کے دھاروں میں سر سید کے نام کا دھارا۔

بلکہ یہ مخالف دھارا بھی اصلاً عقل کی رگید سے تعلق رکھتا ہے، اور مشاہدے و تجربے کی تردید سے عبارت ہے۔ یعنی برِ صغیر میں کوئی عقل پسند ملنا قریب قریب ناممکنات میں سے ہے۔ اگر کوئی استثنیٰ ہے تو وہ سر سید ہیں۔

اب ایک اور معاملے کی طرف آتے ہیں، جس کا ذکر اوپر ہوا کہ باطل باطل کی حیثیت سے قائم اور باقی نہیں رہ سکتا جب تک کہ اسے حق کے ساتھ آمیز نہ کیا جائے۔ عسکری صاحب کی یہ آگہی رینے گینوں سے ماخوذ ہے۔

میں اس آگہی کو کچھ مختلف انداز میں دیکھنا اور بیان کرنا چاہوں گا۔ کیونکہ یہ آمیزش کا مسئلہ مجھے اسی صورت میں متشکل نظر آتا ہے۔

تجربیت اور عقلیت، دونوں مکاتب اس بات کو مانتے ہیں کہ حقیقت سے متعلق ہر قضیہ ایک عبوری وقت کے لیے اعتقاد کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ یعنی خواہ یہ کوئی مفروضہ ہو یا کوئی نظریہ، یہ اس وقت تک ایک اعتقاد کی صورت قائم رہتا ہے تاآنکہ مشاہدہ اور تجربہ یا منطق اسے جھٹلا نہ دیں۔ یہی وہ گوشہ یا درز ہے، جہاں باطل حق کا محتاج قرار پاتا ہے۔

یہ صرف مسئلے کا بیان ہے۔ یعنی اس چیز کا بیان کہ حق میں باطل کی آمیزش کیسے ہوتی ہے۔

مراد یہ ہے کہ وہ عبوری دورانیہ جس میں کوئی قضیہ، مفروضہ یا نظریہ ایک اعتقاد کی صورت اختیار کرتا ہے، تو عیاں رہنا چاہیے کہ یہ صرف صورت کا تغیر ہے اور وہ بھی ایک محدود وقت کے لیے۔ یہ کوئی قلبِ ماہیت نہیں۔ نوعی اور جوہری تقلیب نہیں۔ یعنی یہ نہیں ہوا کہ ایک نظریہ منقلب ہو کر اعتقاد بن گیا۔

مزید برآں یہ بھی کہ جب اس نظریے کو اعتقاد کا مرتبہ دیا گیا تو یہ اعتقادِ محض نہیں بن گیا۔ بلکہ یوں سمجھیے کہ جیسے اسے تشکیک کی بھٹی سے نکال کر کچھ وقت کے لیے اعتقاد کے سرد خانے میں رکھ دیا گیا۔ اور جیسے ہی اس کے بارے میں کوئی نئی شہادت سامنے آئی جو اسے کسی بھی طور جھٹلانے سے تعلق رکھتی تھی تو اسے پھر سے تشکیک کی بھٹی میں ڈال دیا گیا۔ بالکل اسی طرح جیسے موت اک ماندگی کا وقفہ ہے۔ یہ اس عمل کا بیان ہے، جس کے تحت ایک نظریے کو تشکیک سے لے کر اعتقاد تک کے دائرے میں گھمایا پھرایا گیا۔

یاد رہے کہ یہ معاملات انسانی علم و علمیات سے تعلق رکھتے ہیں۔

اب اس ضمن میں نیت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ مراد یہ کہ جب یہ عمل شروع ہوا تو نیت یا ارادہ یہ نہیں تھا کہ اس ایک نظریے کو مستقلاً اعتقاد کے زمرے میں رکھ دیا جائے۔ بلکہ چونکہ یہ نظریہ آزمائش کی منزل میں تھا، اور اس کی تصدیق یا تردید سے متعلق شہادتوں کا انتظار تھا، لہٰذا، اسے کچھ دیر سستانے کی مہلت دے دی گئی۔ اور جس لمحے کوئی شہادت مل گئی، اس کا عرصہٴ حیات ختم ہو گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ جہاں تک دورانیے کا تعلق ہے، تو وہ بھی اس ضمن میں اہمیت نہیں رکھتا۔ ہو سکتا ہے کہ ایک قضیے کو سستانے کے لیے محض چند لمحات ہی میسر آ سکیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی قضیے کو صدیوں کا وقفہ دستیاب ہو جائے۔ لیکن جیسا کہ عیاں ہے کہ ہر قضیے کی حیات نہ صرف ایک آزمائش ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس کی حیات حیاتِ مستعار ہے، اور یہی اس کا مقدر ہے، اور یہی اس کی آزمائش ہے، تو جب اس کا وقت آ گیا، یہ اپنے انجام سے دوچار ہو جائے گا۔

بعینہٖ جہاں تک اس عمل کے اختتام کا تعلق ہے، اس سے بھی یہی عیاں ہے کہ ہر قضیے کا انجام یا تصدیق ہے، یا تردید۔ تاہم، یہاں یہ بھی واضح رہے کہ یہ تصدیق بھی عارضی اور عبوری ہے۔ اور جیسا کہ کارل پاپر نے دکھایا ہے کہ علمِ انسانی اصل میں تردید و تغلیط سے عبارت ہے، اور یہ کہ کسی بھی چیز یعنی کسی بھی قضیے کی تصدیقِ کامل ناممکنات میں سے ہے۔ باایں سبب، ہر قضیہ ایک ایسے نام سے یاد رکھا یا یاد کیا جاتا ہے، جسے ’’اعتقاد‘‘ کہہ لیجیے۔

سو جب صورتِ حالات یہ ہو تو حق کے ساتھ باطل کی آمیزش کا رینے گیناں اور عسکری صاحب کا نظریہ اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ یہ ایک نظری صورتِ حال بھی ہے اور ایک اصولی صورتِ حال بھی۔ یعنی حقیقت اور عمل میں ہر قضیہ جسے ’اعتقاد‘ مان لیا جاتا ہے، خواہ ایک لمحے کے لیے مانا جائے یا ایک صدی کے لیے، یہ علمِ انسانی کے نزدیک ایک مفروضہٴ محض یا نظریہٴ محض ہوتا ہے۔ یہ اعتقادِ محض کبھی نہیں بنتا یا کبھی نہیں بن پاتا، یا کبھی نہیں بن سکتا۔

دریں اثنا اگر یہ اعتقاد ایک حقیقت اور پھر ایک روایت کے مرتبے پر سرفراز ہوتا ہے، تو یہ چیز عیاں ہے کہ ایسی روایت نہایت کمزور بنیادوں پر استوار ہو گی۔

مختصراً یہ کہ عسکری صاحب نے روایت کو مغربی جدیدیت یا پھر مشرق میں قبول کی جانے والی مغربی جدیدیت کے مقابل کھڑا کر کے دیکھا۔ اور چونکہ مشرق میں بھی اور برِ صغیر میں بھی صداقت کی جستجو کا ڈول ڈلا ہی نہیں تھا، تو انھوں نے بھی اسے کلیتاً نظر انداز کر دیا۔

جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقت اور اس حقیقت کی روایت دونوں کو صداقت کے آئینے کے سامنے رکھا جاتا۔

کیونکہ یہی وہ آئینہ ہے، یعنی ہر حقیقت اور ہر روایت کو صداقت کے آئینے میں رکھر کر جانچنا، جو فکر کو مہمیز کر کے ارتقا کی طرف مائل کرتی ہے۔ اور یہ بھی کہ  یہی وہ آئینہ ہے، جس میں مشرق کے فکری ارتقا کی پسماندگی کی داستان رقم ہے۔

اور میں جو عسکری صاحب کو مفکر مانتا ہوں، گو کہ وہ بھی آدھے فلسفی اقبال کی طرح آدھے مفکر رہے، تو اس کا ایک سبب یہی ہے کہ انھوں نے بھی جس مہم کا بیڑا اٹھایا، اس سے پھِر گئے اور کسی اور طرف نکل گئے۔ ان کے بھٹکنے کا ایک اور سبب اس تقابل اور تجادل میں پوشیدہ ہے، جو انھوں نے روایت اور جدیدیت کے مابین برپا کروایا۔ یعنی اعتقادِ انسانی اور علمِ انسانی کے مابین مجادلہ۔ یعنی اعتقاد کو منتِ کش عقل بنانے کی سعی۔

تیسرا حصہ: اقتباسات از عسکری و شارحینِ عسکری

جیسا کہ میرا عزم تھا عسکری صاحب کے نقطہٴ نظر کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کروں اور پھر اس سے تعرض کروں، تو میں نے عسکری صاحب اور ان کے معتقدین کی مختلف تحریروں سے متعدد اقتباسات جمع کر رکھے تھے، ان اقتباسات کو بھی یہاں نقل کر دینا مناسب رہے گا۔ پہلے خود عسکری صاحب کے الفاظ۔

’’ … مغرب روایت کو سمجھنے میں بالکل ناکام رہا ہے … مغرب میں اس سوال (یعنی یہ کہ روایت کیا ہے؟) کا جواب صرف ایک شخص نے دیا ہے اور مغرب اس شخص کی بات سننے سے انکاری ہے۔ میرا مطلب رینے گینوں سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ روایتی ادب اور روایتی فنون صرف روایتی معاشرے میں پیدا ہو سکتے ہیں اور روایتی معاشرہ وہ ہوتا ہے کہ جو مابعدالطبیعات کی بنیاد پر قائم ہو۔ مابعدالطبیعات چند نظریوں کا نام نہیں۔ التوحید وحدة’‘۔ مابعدالطبیعات صرف ایک ہی ہو سکتی ہے، یہی اصلی اور بنیادی روایت ہے۔ اس کا تعلق کسی نسل یا ملک سے نہیں۔ البتہ اس کے اظہار کے طریقے مختلف ہوتے ہیں اور ہندو روایت یا چینی روایت یا اسلامی روایت میں فرق نہیں۔ طریقوں کے اختلاف سے فرق پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلامی تہذیب میں خشکی ہے اور ہندو تہذیب میں حسیات کی رنگا رنگی ہے لیکن اپنشد میں لکھا ہے کہ انسانی وجود کے مرکز میں نہ تو سورج کی روشنی ہے نہ چاند کی نہ ستاروں کی، بلکہ ہر چیز پُرش کے نور سے منور ہے چنانچہ بنیادی روایت ہر جگہ وہی ہے، صرف شکلوں کا فرق ہے۔‘‘ (14)

’’یہ مابعدالطبیعات ہے کیا؟ چونکہ ادب کا تعلق خدا، کائنات اور انسان کے باہمی رشتے سے ہے اس لیے میں بنیادی روایت کا صرف اتنا ہی حصہ پیش کروں گا۔ شاہ وہاج الدین نے ’’الکہف والرقیم‘‘ کے دیباچے میں پوری بات بڑے اختصار کے ساتھ کہہ دی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’جب آپ وجودِ مطلق کو بلا لحاظِ تعینات یاد کریں گے تو یہ وجودِ باری ہے، اور جب بلحاظِ تناسب تعینات محسوس کریں گے تو یہ روحانیات ہے، جب بلحاظِ اعراض دیکھیں گے تو یہ مادیت ہے۔ وجودِ انسانی سے مراد وجودِ مطلق ہے، روحِ انسانی سے مراد وہ روح ہے جو مجموعہٴ تعینات ِانفس و آفاق ہے۔ جسمِ انسانی سے مراد خلاصہٴ مادیاتِ انفس و آفاق ہے۔

یہ ہے وہ تصور جو روایت کی جڑ ہے۔ اگر ادب اس تصور کی روایت پر قائم ہے تو روایتی ہے، ورنہ نہیں، چاہے الفاظ و اسالیب وہی استعمال ہو رہے ہوں۔‘‘ (15)

’’انسانی تاریخ کی عظیم ترین روایتی تہذیبیں تین ہیں، چینی، ہندو اور اسلامی۔ ان کے علاوہ اگر کسی اور تہذیب نے تکمیل کا درجہ حاصل کیا تو ہمیں اس کا علم نہیں۔ یونانی، یہودی اور ازمنہٴ وسطیٰ کی عیسوی تہذیبیں اپنی اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے نامکمل ہیں۔ موجودہ مغرب کسی طرح روایتی تہذیب کے دائرے میں آتا ہی نہیں کیونکہ اس میں روایت کا وجود ہی نہیں۔ بلکہ یہ بات بھی مشکوک ہے کہ جس معاشرے میں تہذیب نفس کا کوئی مرکزی اصول نہ ہو اسے تہذیب کہہ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ بہر حال ان تین تہذیبوں میں طرح طرح کے اختلافات کے باوجود ایک چیز مشترک ہے۔ توحید کا نظریہ، یعنی مابعدالطبیعاتی عنصر جس پر ان تہذیبوں کی بنیاد قائم ہے۔ پھر ان تہذیبوں کی لازمی خصوصیت یہ ہے کہ عقائد، عبادات، اخلاقیات اور رسمیں تو الگ رہیں، دنیاوی زندگی کا بھی کوئی فعل یا قول اس مابعدالطبیعات سے آزاد نہیں ہوتا۔ اچھی سے اچھی اور بری سے بری سب چیزوں میں اس کا عکس اور ظہور ملتا ہے۔‘‘ (16)

’’عربی کا لفظ ’’روایت‘‘ اور مغربی زبانوں کا لفظ Tradition دونوں ایسے حقائق یا معلومات پر دلالت کرتے ہیں جو ایک آدمی سے دوسرے آدمی تک زبانی منتقل ہوں اور سینہ بہ سینہ محفوظ چلے رہے ہوں۔ کوئی بھی روایتی معاشرہ ہو اس میں جو چیز آخری اور حتمی درجے میں قابلِ استناد ہوتی ہے وہ زبانی روایت ہے نہ تحریری شہادت۔‘‘ (17)

’’لیکن سوال تو یہ ہے کہ اس سو سال کے عرصے میں ہم سے پیرویٴ مغربی ہوئی بھی یا نہیں اور پیرویٴ مغربی کے معنی کیا ہیں؟ جو چیز ایک ادب کو دوسرے ادب سے الگ کرتی ہے وہ طرزِ احساس کا فرق ہے۔ لیکن حالیؔ کے زمانے میں لوگوں نے پیرویٴ مغربی کے معنی یہ سمجھے کہ چڑیوں اور پھولوں پر نظمیں لکھی جائیں کیونکہ مسٹر ورڈزورتھ بھی یہی کرتے تھے یا پھر شاعری کے ذریعے لوگوں کا اخلاق درست کیا جائے کیونکہ میکالے نے کہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ (18)

’’36 (یعنی 1936) میں جدید مغربی ادب کا مطلب یہ قرار پایا کہ معاشی مسائل کا تذکرہ ادب میں آ جائے۔‘‘ (19)

’’غرض حالیؔ کے زمانہ سے لے کر آج تک ہمارے یہاں پیرویٴ مغربی اس طرح ہوئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے ادب سے ہر قسم کے معیار بالکل ہی غائب ہو گئے ہیں۔‘‘ (20)

[یہاں جس چیز کو عسکری صاحب نے بھی دریافت کیا وہ اصل میں اصولِ صداقت کا فقدان ہے، یعنی رسمیت کو قبول کر لینا اور اصلیت کو چھوڑ دینا، یعنی فارمل ازم کو قبول کرنا اور ایسنشل ازم کو چھوڑنا۔ خلیل]

’’پیرویٴ مغربی کے صرف ایک ہی معنی ہو سکتے تھے اور وہ یہ کہ ہم مغرب کا طرزِ احساس قبول کر لیں۔ لیکن ہم نے تھوڑی دیر کے لیے رک کے یہ بھی نہیں سوچا کہ ہمارا طرزِ احساس کیسا تھا اور اس میں کوئی تبدیلی آئی یا نہیں۔‘‘ (21)

’’مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ پچھلے سو سال کے عرصے میں مغرب کی پیروی کرنے کی جتنی بھی شعوری اور غیرشعوری کوششیں ہوئی ہیں ان سب کے باوجود ہمارا احساس وہ نہیں بن سکا جو مغرب کا احساس ہے۔ بذاتِ خود یہ کوئی افسوس کی بات نہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے طرزِ احساس میں جس نشوونما کی صلاحیت تھی وہ تو ختم ہو گئی یا ظاہر نہ ہو سکی۔ دوسری طرف ہم مغرب کی طرح کا ادب بھی پیدا نہ کر سکے کیونکہ وہ تو ایک خاص قسم کے طرزِ احساس سے ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمارے ادیبوں کی تخلیقی قوت اس لیے مفلوج ہوئی ہے کہ ان کے لیے سارے راستے مسدود ہیں۔ سو سال پہلے ہمارا ادب جس طرح چل رہا تھا اگر اسی طرح چلتا رہتا تو اس میں جمود صرف اسی وقت پیدا ہو سکتا تھا جب اس طرزِ احساس کے سارے امکانات ختم ہو جاتے۔ آج کل کا ادبی جمود حالیؔ کے ’’اب آؤ‘‘ سے پیدا ہوا ہے۔‘‘ (22)

’’اگر ہمارے ادب میں چیزوں کے متعلق تحیر، تعجب، تکریم، خوف یا اسرار کا احساس نہیں ملتا تو صرف اسی وجہ سے کہ ہم انسان کے سوا کسی اور چیز کا وجود تسلیم نہیں کرتے … ‘‘ (23)

’’ہر تہذیب کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے فن کی شرائط اپنے آپ مقرر کرے۔ یعنی انسان کو اپنے طریقے سے سمجھے۔ مغربی ادب میں فرد کے افعال اور احساسات کا تعین خود اس کی شخصیت کرتی ہے۔ ہمارے ادب میں ان باتوں کا تعین سماجی روایات کرتی ہیں۔ طرزِ احساس کو سمجھے بغیر ہم پیرویٴ مغربی کریں گے تو بس مسٹر میکالے تک ہی رہیں گے۔‘‘ (24)

درج ذیل اقتباسات سلیم احمد سے لیے گئے ہیں۔

’’روایت کیا ہے اس کی تعریف ہم نے کر دی۔ اب ضروری ہے کہ مذہب کی بھی تعریف کی جائے۔ عسکری صاحب کہتے ہیں۔ ’’اگر ہم مذہب کے لفظ کو مبہم معنوں میں یا خالی فضا پیدا کرنے کے لیے نہ استعمال کریں بلکہ اسے ٹھوس معنی دیں تو وہ تین چیزوں کا مجموعہ ہے۔ اعتقادات، اخلاقیات اور ان سب میں جذبے کی آمیزش۔‘‘ اب ان معنوں میں مذہب نہ تو چینیوں کے ہاں وجود رکھتا ہے نہ ہندوؤں کے یہاں، البتہ اسلام اور عیسائیت مذہب کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روایت مذہبی بھی ہوتی (ہے) اور غیرمذہبی بھی۔ چینیوں اور ہندوؤں میں روایت ہے مگر مذہب نہیں ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں میں روایت مذہب کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔‘‘ (25)

’’ہم نے سابقہ باب میں تین سوال اٹھائے تھے: کیا مشرق کو قائم رکھا جا سکتا ہے؟ کیا مغرب کو اختیار کیا جا سکتا ہے؟ کیا دونوں کا امتزاج ممکن ہے؟ تاریخ کے نقطہٴ نظر سے یہ تینوں سوال ایک سوال کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ روایتی تہذیبیں تاریخ کا کیا تصور رکھتی ہیں اور تاریخ کے اس تصور کی روشنی میں موجودہ مغربی تہذیب کے کیا معنی ہیں؟ افسوس کے عسکری صاحب نے اپنے مضامین میں اس سوال پر روشنی نہیں ڈالی۔ لیکن عسکری صاحب کے شیخ عبدالواحد یحیحیٰ (رینے گینوں) نے اس بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ اور دراصل عسکری صاحب کے خیالات کو سمجھنے کے لیے رینے گینوں کے ان تصورات کا مطالعہ کرنا ازبس ضروری ہے۔ چنانچہ آئیے رینے گینوں کی روشنی میں تاریخ کے اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

حقیقت کا تصور ایک ہونے کی وجہ سے روایتی تہذیبوں میں تاریخ کا تصور بھی مختلف نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کوئی حرج نہیں ہے اگر اہم اس مسئلے کو کسی بھی روایتی تہذیب کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں۔ رینے گینوں نے یہ کام ہندو تہذیب کے ذریعے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندو ظہور کے ایک مکمل دائرے کو جسے وہ من ونترا کہتے ہیں چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ست یگ، پراپت یگ، دوارپت یگ اور کل یگ۔ ست یگ سب سے پہلے آتا ہے اور یہ سب سے اچھا زمانہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں حقیقت کا عرفان سب کو مکمل طور پر حاصل ہوتا ہے۔ پراپت یگ میں حقیقت پوشیدہ ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اس کا عرفان ہر ایک کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ دوارپت یگ میں حقیقت اور زیادہ چھپ جاتی ہے اور اس کا عرفان مشکل تر ہو جاتا ہے۔ آخر میں کل یگ آ جاتا ہے جب حقیقت کا عرفان بہت ہی زیادہ دشوار ہو جاتا ہے اور آخر میں بالکل ہی غائب ہو جاتا ہے۔ حقیقت کے عرفان کے ساتھ لوگوں کے اعمال میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور ست یگ کا خیرِ محض کل یگ کے شرِ محض میں بدل جاتا ہے۔ یہ چاروں دور ظہور کے دائرے کی تکمیل کے ضروری اجزا ہیں۔ پھر جب ایک دائرہ مکمل ہو جاتا ہے تو کل یگ کے بعد جو حقیقت بالکل چھپ گئی تھی ایک بار پھر ظاہر ہو جاتی ہے اور ظہور کا دوسرا دائرہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب رینے گینوں کے مطابق مغرب کی موجودہ تہذیب کل یگ کے آخری دور کی تہذیب ہے۔ ساری روایتی تہذیبیں ایک ایسے وقت کی پیش گوئی کرتی ہیں جب دنیا سے روشنی بالکل غائب ہو جائے گی اور صرف اندھیرا باقی رہ جائے گا۔ موجودہ مغربی تہذیب اس اندھیرے کی تہذیب ہے اور علامتی طور پر مشرق کے مقابلے پر اس سمت کو ظاہر کرتی ہے جس سمت میں سورج غروب ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تاریخ کے اس تصور کے مطابق مغربی تہذیب کی پیدائش تاریخ کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے کسی طرح روکا نہیں جا سکتا۔ اس کا ظہور اسی طرح ضروری ہے جس طرح ست یگ کا ظہور۔ (26)

’’بہر حال یہ ایک اصولِ مسلمہ کے طور پر تسلیم شدہ بات ہے کہ عالمِ انسانیت کا کسی بات پر متفق ہونا اس کی صداقت کی دلیل ہے اور جو بات جتنی زیادہ متفقہ ہو وہ اتنی ہی زیادہ صداقت سے قریب سمجھی جاتی ہے … اسی اصول کی بنا پر جس مابعدالطبیعات کو عسکری صاحب پیش کرتے ہیں اس کی صداقت کی یہ دلیل بہت کافی ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب اس مابعدالطبیعات پر متفق ہیں اور اس ہم آوازی کے ساتھ بولتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو مختلف زبانوں میں ادا کیا جا رہا ہو۔‘‘ (27)

محمد سہیل عمر سے چند اقتباسات۔

’’(محمد علی صدیقی اپنے مضمون ’روایت اور جدیدیت‘ میں) فرماتے ہیں کہ ’’عسکری صاحب کے خیال میں (گویا واقع میں نہیں) سائنس بذاتِ خود مادی ہے اور اسی لیے ہر وہ چیز جس سے مادہ پرستی کی بو آ جائے خود بخود ناپاک ہو جاتی ہے۔‘‘ جی ہاں! خدا پرستی کی جگہ اگر مادہ کی عبادت ہونے لگے تو بھلا کونسے عیب کی بات ہے؟ عسکری صاحب تو احمق تھے کہ خدا کی جگہ سائنس کا بچھڑا پوجنے پر خفا ہونے لگتے۔

صدیقی صاحب نے مضمون میں غریبوں کے استحصال پر بھی ٹسوے بہائے ہیں۔ کیا انھوں نے کبھی سوچا ہے کہ دوسری قوموں کا استحصال اور لوٹ کھسوٹ کس چیز نے ممکن بنائی تھی؟ مغربی سائنس نے۔ اسی نے آناً فاناً فنا کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ کیا صدیقی صاحب تاریخِ سائنس سے اتنے ہی نابلد ہیں جتنے اور کئی جہات سے ناواقف ہیں۔‘‘ (28)

’’اس مضمون (روایت اور جدیدیت) کے لیے موزوں اور مناسب ترین عنوان ہونا چاہیے تھا ’’ماروں گھٹنا، پھوٹے آنکھ‘‘، کہ یہ وہ کارنامہ ہے جو صدیقی صاحب اس مضمون میں قدم قدم پر انجام دیتے نظر آتے ہیں۔‘‘ (29)

چوتھا حصہ: فکرِ عسکری سے متعلق شذرات

یاد رہے کہ یہ وہ مختصر خیال پارے ہیں، جو عسکری صاحب کی فکر پر مختلف اوقات میں ذہن میں متشکل ہوتے رہے۔ ان میں ایک مجموعی ربط تو ضرور موجود ہے، لیکن چونکہ یہ عسکری صاحب کی فکر کی متنوع جہات سے تعلق رکھتے ہیں، تو بظاہر جدا جدا تبصرہ معلوم ہوں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے انتخاب میں کس چیز کو اولیت دیتے ہیں، صداقت کو یا روایت کو۔ ایک کو منتخب کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دوسرے کو رد کر دیا گیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو منتخب کیا گیا ہے اس کے حوالے سے، اس کی روشنی میں، اس کے معیار پر دوسرے کو پرکھا اور جانچا جائے گا۔

روایت کو مقدم انتخاب کر کے جب اس کی روشنی میں صداقت کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے تو ’علم الکلام‘ سے متماثل علوم جنم لیتے ہیں، اور جب منتخبہٴ اولیٰ صداقت ہوتی ہے اور اس کے معیار پر روایت کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے تو تخلیقی فلسفہ جنم پاتا ہے۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کی جدید تاریخ اس تخلیقی فلسفے سے عاری ہے۔ اور اس کی وجہ عیاں ہے کہ روایت کو مقدم سمجھا گیا، اور اس کی روشنی میں صداقت کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

پاکستان کے راسخ الاعتقاد علما بھی ماضی کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ بعینہٖ ترقی پسند، سوشلسٹ اور کمیونسٹ، وغیرہ، بھی ماضی کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور وہیں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ جیسا کہ علی عباس جلالپوری، سبطِ حسن، وغیرہ۔ اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ دونوں ہی دلیل سے خائف ہیں، اور یوں صداقت سے بھی ۔

ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم روایت کو صداقت سمجھ بیٹھے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ روایت کو صداقت کا معیار گردانتے ہیں۔ ہم نے صداقت کو روایت کا دُم چھلا بنا دیا ہے، جبکہ اسے مقدم رکھنا ضروری تھا، بلکہ صداقت کی تلاش کو ہمارا رہنما بننا چاہیے تھا۔

جیسا کہ عیاں ہے کہ روایت لوگوں سے ان کا رہا سہا مال بھی یہ دعویٰ کر کے مانگ لیتی ہے کہ وہ اسے سونا بنا دے گی۔ جبکہ صداقت کوئی وعدہ نہیں کرتی اور لوگوں کے پاس جو تھوڑا بہت سونا بچا موجود ہے اسے بھی مٹی بنا دینا چاہتی ہے، تاکہ یہ ٹنٹا ہی ختم ہو۔ یعنی کسی بھی نام کے تحت سونا بنا دینے کے دعاوی کو رد کرتی ہے۔

ہمارے عہد اور ہمارے علاقے کا مسئلہ یہ ہے کہ کس کا انتخاب کیا جائے، صداقت کا یا روایت کا۔ اور جیسا کہ روایت تھک ہار کر فرسودہ ہو چکی ہے، اور کوئی بھی فرد دیانت داری کے ساتھ  صداقت کو اپنانے پر تیار نہیں، لہٰذا، تمام نقطہ ہائے نظر اپنی تاثیر سے عاری ہو چکے ہیں۔

روایت کے کچھ پہلوؤں کو اہمیت دی جاتی ہے، کچھ کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ مفادات ہو سکتے ہیں، کیونکہ معیار مفقود ہے جس کی مدد سے روایت کے کس پہلو کو چھوڑا جائے اور کسے اختیار کیا جائے۔ جبکہ صداقت کو ایک غیرمتنازعہ فیہ معیار کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ ہاں، اگر اصولِ صداقت پیشِ نظر ہو۔

اس مسئلے کو جس طرح میں سمجھ سکا ہوں اور جو شکل دے سکا ہوں، وہ یہ ہے کہ صداقت کو اختیار کیا جائے یا روایت کو گلے لگایا جائے، یہ مسئلہ بہر حال ان لوگوں ہی کو پیش آتا ہے یا آ سکتا ہے، جو روایت پر کسی نہ کسی طرح شک کی نظر ڈالتے ہیں یا جو صداقت کو بھی اپنے روبرو رکھتے ہیں یا جو صداقت اور روایت کا کوئی ملغوبہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ روایت کو ہی حرفِ اول اور حرفِ آخر سمجھتے ہیں، یا اسے اسمِ اعظم مانتے ہیں، یا روایت کو صداقت کا مقام دے دیتے ہیں، ان کے لیے کوئی مسئلہ سر نہیں اٹھاتا۔

روایت کو چھوڑ کر صداقت کو قبول کرنے کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں کہ روایت کا رد کر دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صداقت کو اصولِ صداقت کی حیثیت سے قبول کیا گیا ہے۔ روایت کو اصولِ صداقت ہی کی مدد سے پرکھا جا سکتا ہے: یوں اصولِ صداقت کی دھار پر جو کچھ بچ جاتا ہے وہ صداقت کا حصہ بن جاتا ہے اور بقیہ تاریخ، داستان، اور قصہٴ پارینہ۔

جب عامة الناس کسی چیز کو قبول کر لیتے ہیں، خواہ وہ روایت کا حصہ رہی ہو یا خود روایت رہی ہو، تو اب دانشور جتنا زور لگا لیں کہ لوگ اس مسترد روایت کی طرف واپس آئیں، لیکن یہ چیز کسی دانشور کی خواہش ہوتی ہے، خود حقیقت نہیں۔

صداقت، روایت کی محتاج نہیں۔ جبکہ روایت اپنے وجود کی قبولیت کے لیے صداقت کی محتاج ہے۔ روایت زمان و مکان میں محدود ہوتے ہوئے بھی لامحیط ہونا چاہتی ہے، جبکہ صداقت زمان و مکان کی تحدیدات کا ممکنہ طور پر مکمل ادراک و آگہی و احساس رکھتے ہوئے اپنی دریافتوں کو زیادہ یقینی بنانے کا جتن کرتی ہے۔

روایت عقلی طریقِ کار پر نہیں، بلکہ استنادی طریقِ کار پر چلتی ہے، جبکہ صداقت بنیادی طور پر عقلی طریقِ کار پر کاربند رہتی ہے۔

روایت کا بنیادی موضوع ماضی ہے، اگرچہ اس کا معروض حال ہی ہوتا ہے۔ جبکہ صداقت ماضی، حال اور مستقبل کو ایک مسلسل سلسلے اور بہاؤ کی حیثیت سے اپنا موضوع بھی اور معروض بھی تسلیم کرتی ہے۔ بلکہ اوپر والے پیرے کی روشنی میں ’روایت‘ کے نقطہٴ نظر سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ اس کا بنیادی موضوع ماضی ہوتا ہے کیونکہ دراصل یہ وقت کو تسلیم نہیں کرتی۔ لہٰذا، یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ کسی ماضی یا حال یا مستقبل کو تسلیم کرتی ہے۔ یعنی اگر یہ کسی چیز کو تسلیم کرتی ہے، تو وہ ماضی سے متعلق خود اس کی اپنی حالیہ تعبیر ہوتی ہے۔

میری شاعری کی کتاب، ’’انحراف‘‘ کا پیش لفظ بعنوان ’’تمہید‘‘ ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

’’سیاحوں کے گھرانے میں اس کا جنم ہوا تو رات تھی۔ صبح کی کہانیاں سنتے ہوئے وہ جوان ہوا تو شب کی تاریکی پھیلی تھی۔

انھوں نے کہا:

صبح تو ایک خواب ہے جو ہم اس لیے دیکھتے ہیں کہ سوئیں تو رات ہو۔ اور نیند بھی ایک سپنا ہے جو ہم اس لیے دیکھتے ہیں کہ جاگیں تو انتظارِ شب ہو۔ لیکن صبح کو ہم نے مقصود بنا لیا ہے۔ کیونکہ ہم نے اسے جنم دیا ہے۔ صبح ہمارے دیوتاؤں کی دیوی ہے۔ تم بھی اس کی پوجا کرو اور سفر پر روانہ ہو جاؤ۔ یہی ہمارے آبا و اجداد کی رسم ہے۔

اس نے کہا:

میں صبح پر ایمان نہیں رکھتا۔ پوجا میرا مسلک نہیں۔ میں صرف سیاح ہوں۔ رات میرے لیے رات نہیں اور صبح میرے لیے صبح نہیں۔ مگر مسافت ہے یہاں سے وہاں تک جہاں میرے آبا و اجداد نے اختتامِ سفر کا کتبہ لکھا اور پھر سفر ہے، رسم نہیں۔

سو وہ سفر پر نکل کھڑا ہوا اور اندھے غار کے دہانے سے زمانوں دور کے فاصلے تک پہنچا، جہاں صرف وہ تھا، روشنی تھی اور لامحدود آئینہ۔ لیکن آئینہ تاریک تھا۔ چندھیا دینے والی خاموشی کی دھند جب گہری ہونے لگی تو اس نے واپسی کا قصد باندھا۔ اور خود کو آسمان تلے بیٹھا گوتم پایا۔ کیونکہ یہاں درخت نہیں تھے۔ کہتے ہیں: وہ آئینے کے دوسری جانب جائے گا۔ کہتے ہیں؛ وہ سفر میں ہے، اور سفر ہے۔‘‘

جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس ’’تمہید‘‘ میں روایت کو مسترد کیا گیا ہے اور روایت سے انحراف کرتے ہوئے صداقت کی تلاش کے سفر کا عزم باندھا گیا ہے۔ موضوعی صداقت بھی اور معروضی صداقت بھی۔ موضوعی جب کوئی خود مسافت ہو اور معروضی جب وہ محض مسافر ہو۔ چلتے چلتے شک کے ازالے کے لیے اس بات کا اعترف مناسب ہے کہ یہ تنہا انسانی سرگرمی ہی ہے جو ان دونوں اسفار کو جوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہہ کر کہ یہ دونوں سفر حقیقتاً ایک ہی ہیں، میں تصوف میں پنادہ ڈھونڈنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ یوں تو ایک سفر دوسرے سفر کا متبادل بن جائے گا۔ جبکہ میری کوشش یہ ہو گی کہ کچھ نہیں تو کم از کم لفظ صداقت کی لاج رہ جائے۔

ہمیں جس انتہائی ناگزیر فکری سوال کا صدیوں سے سامنا ہے اور ہم جس فکری سوال سے صدیوں سے دامن بچاتے آ رہے ہیں وہ یہی سوال ہے کہ صداقت کا انتخاب کیا جائے یا روایت کا۔

اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ صداقت کیا ہے؟ ہماری روایت ہمیں صداقت کا کیا تصور دیتی ہے؟ اسے بھی اصولِ صداقت پر ہی پرکھا جائے گا۔ بہر حال صداقت کا کوئی نہ کوئی حوالہ تو ضرور بنے گا۔ بغیر اس کے یہ تجرد کا شکار ہو کر مابعدالطبیعیات بن کر رہ جائے گی۔ یہ حوالہ زمینی بھی ہو سکتا ہے زمانی بھی  اور مکینی بھی مکانی بھی۔ اسی کو صداقت کا ٹھوس تصور کہہ سکتے ہیں۔ اور اسی سے اصولِ صداقت وضع ہوتا ہے۔

آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں وہاں سے اگر ہم پیچھے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں روایت کے حق میں فیصلہ کرنا ہو گا جو حقیقت پسندی کے تقاضوں کے مطابق اور کچھ مقدر کی ستم ظریفی کے مطابق ہم کریں یا نہ کریں، ہوا ہوایا ہے، اور اگر ہم اس مقام سے آگے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں صداقت کو اپنانا ہو گا۔

پیرویٴ مغربی بلکہ چھپی ہوئی پیرویٴ مغربی ایسا لگتا ہے ہماری جبلت بن چکی ہے۔ لیکن یہ حوالے یعنی زمین و زمان اور مکینی و مکانی، محض حوالے ہیں۔ یہ صداقت کے تعینات (Determinant) نہیں ہیں۔ صداقت کا تعین صرف عقلِ انسانی ہی کر سکتی ہے۔ وہ عقلِ انسانی جو تاریخ کے متذکرہ مرحلے پر اپنے مکمل آلاتِ حرب و ضرب سے مسلح ہو۔

یعنی ہمیں صرف مشین نہیں چاہیے بلکہ اس مشین کا علم بھی چاہیے ہے، تاکہ ہم اس پر قدرت بھی حاصل کر سکیں کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے یہ ہم پر حاوی ہو جائے اور ساتھ ہی ساتھ ہم مشین بنانے والوں کے محتاج بھی ہو جائیں۔ ہمیں صرف ایٹم بم نہیں چاہیے اسے بنانے کا پورا علم بھی چاہیے ہے۔ ہمیں محض ٹیکنالوجی درکار نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی بنیاد سائنسی علم بھی چاہیے ہے۔ اور یہ سب کچھ صداقت اور اصولِ صداقت کے ذریعے ہی دستیاب ہو سکتا ہے۔

ہمیں ’’صداقت‘‘ کے بنڈل نہیں چاہییں، بلکہ اصولِ صداقت چاہیے ہے۔ اصولِ صداقت کو پانا ہے۔ یعنی ہمیں کائنات کا ’’بنا بنایا‘‘ علم نہیں چاہیے، بلکہ ہمیں کائنات کو تسخیر کرنے کے عمل میں شریک ہونا ہے۔

دیکھنا یہی ہے کہ ہماری روایت میں صداقت کا کیا مقام ہے؟ اور حقیقت تو یہ ہے کہ سچائی پر قائم رہنے کی خاطر جان دینے کی تلمیح بھی ہم یونانی فلسفی سقراط کی زندگی سے لاتے ہیں۔

اب تک روایت اور جدیدیت میں تضاد کو بنا کر تراش کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے اصل تضاد روایت اور صداقت میں ہے۔ یہاں مقصود صداقت کو جدیدیت کے متبادل یا ہم معنی کے طور پر پیش کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس حقیقت یا صداقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اصل میں تضاد روایت اور صداقت میں موجود ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ اور لوگوں نے بھی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جدت بھی بالآخر روایت بن جاتی ہے یا جدت بھی جدیدیوں کی نظر میں روایت کا درجہ رکھتی ہے، جو رویہ روایت پسندوں کا روایت کی طرف ہوتا ہے وہی رویہ جدت پسندوں یا جدیدیوں کا جدت اور جدیدیت کی طرف ہوتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ بنیادی رویے میں کوئی اختلاف نہیں۔ ہاں، جب ہم جدیدیت کو ایک خاص مکتبِ فکر کے طور پر لیتے ہیں تو پھر صورتِ حال ذرا مختلف ہوتی ہے۔ پھر ہمیں اس مکتبِ فکر کے منشور اور طریقِ کار اور طریقِ عمل کو جانچنا پڑتا ہے۔

بہرحال کہنے سے مراد یہ ہے کہ روایت اور جدیدیت یا جدت کے نام نہاد یا خود ساختہ مسلط کیے گئے تضاد نے جو مسائل ابھارے ان کا تسلی بخش جواب نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ غالباً یہی ہے کہ جن چیزوں کو متضاد بنا کر پیش کیا گیا وہ حقیقتاً متضاد نہیں۔

اصل تضاد دراصل صداقت اور روایت کا ہوتا ہے۔ روایت مختلف ذرائع، مختلف طریق اور مختلف اشکال میں اپنے آپ کو منواتی ہے اور کچھ مخصوص مفادات کو بھی تحفظ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت پسند روایت پر پڑنے والی ہر ضرب کو کبھی مذہب، کبھی کلاسیکی ادب، وغیرہ، پر ہونے والا حملہ قرار دیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ جدت پسند اور جدیدیت پسند دونوں سطحی طور پر بھی اور ماہیتی و معنوی طور پر بھی روایت پسندوں سے اپنے آپ کو تصادم کی صورتِ حال میں پاتے ہیں۔ اس میں کافی سچائی ہے کہ جدت پسندوں اور جدیدیت پسندوں کے قرصِ خورشید میں صداقت کی کچھ نہ کچھ رمق ضرور پائی جاتی ہے۔ جدیدیت روایت کو پرکھنے سے قاصر رہتی ہے، وہ صرف اسے رد کر سکتے ہیں، یا یوں کہ جدت اور جدیدیت کے معیار روایت کو پرکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ اسے رد تو کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ صداقت اور صداقت کے معیار ہی ہیں جو روایت کو ہر دور میں پرکھتے آئے ہیں اور آج اسے پرکھنے کے کچھ زیادہ ہی اہل ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اصل تضاد روایت اور صداقت کے درمیان ہوتا ہے۔ روایت، ’’روایت‘‘ اور ’’استناد‘‘ (Authority) کی بنیاد پر کسی بھی چیز کو درست اور سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یوں صداقت کے بنیادی اصول سے لگا کھاتی ہے، ٹکراتی ہے۔ جبکہ صداقت فلسفہ، منطق، عقل، سائنس، وغیرہ، کی بنیاد پروضع کیے گئے اصول و قوانین کی روشنی میں کسی چیز کو درست یا غلط اور سچ یا جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یوں واضح ہوتا ہے کہ دونوں کے طریقِ کار اصلاً متضاد ہیں۔

پانچواں حصہ: اقتباسات از ناقدینِ عسکری، وغیرہ

جیسا کہ چھٹے حصے میں مفصل ذکر آیا ہے کہ عسکری صاحب نے روایت کی علم برداری نہیں کی۔ انھوں نے حقیقت کے ایک خاص تصور پر مبنی روایت کی بات کی، محض روایت کی بات نہیں کی۔ تو سب سے بڑا خلطِ مبحث تو یہی پیدا ہو جاتا ہے۔ اور ہوا بھی اور پیدا کیے رکھا گیا۔

میں خود اس غلطی کا شکار رہا۔ یہاں یہ مناسب ہو گا میں دوسرے اقتباسات کے ساتھ وہ اقتباسات بھی درج کروں جو میں نے عسکری صاحب کے تصورِ روایت اور پھر روایت اور جدیدیت کے نزاع کی تردید کے ضمن میں اکٹھے کیے تھے۔

’’یہ لفظ (روایت) عیب اور مذمت کے علاوہ شاذ ہی کسی دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر کبھی دوسرے معنی میں استعمال ہوتا بھی ہے تو مبہم تعریفی معنی میں۔ زیادہ سے زیادہ کسی آثارِ قدیمہ کی تعمیرِ نو پر اظہارِ پسندیدگی کرنا ہو تو یہ لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ انگریزی قوم کے لیے یہ لفظ اس وقت تک مشکل ہی سے مانوس ہو سکتا ہے جب تک کہ اسے آثارِ قدیمہ کی سائنس کے خوشگوار حوالے کے ساتھ استعمال نہ کیا جائے۔‘‘ (30)

’’اگر روایت کے یہ معنی ہیں تو اپنے سے پہلی نسل کے طریقوں اور کامیابیوں کا آنکھ میچھ کر سہمے سہمے اتباع کیا جائے تو ایسی صورتِ حال میں یقیناً روایت سے گریز کرنا چاہیے۔ ہم نے خود ایسے بہت سے رجحانات کو مرتے دیکھا ہے۔ یہ بات مسلم ہے کہ جدت تکرار سے بہتر ہے۔ (31)

’’ہمارے یہاں کچھ لوگوں کے اندر تو روایت کا ایک مروجہ تصور ہے کہ روایت ہر اس چیز کا نام ہے جو ماضی ہے اور ماضی سے رشتے کا مطلب رجعت پسندی یا ماضی پرستی ہے اس نہج پر سوچنے والوں کے نزدیک تو لفظ ماضی ایک گالی بن گیا اور ماضی کا نام لینے والے گردن زدنی ٹھہرائے جانے لگے جو معاشرے کی جاندار قوتوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ یہ وقت ہمارے اوپر بڑا کڑا تھا۔ اس لیے کہ بظاہر اس طرزِ فکر میں کچھ لوگوں کے لیے بڑی کشش تھی جو صرف آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ کسی ایسے سویرے کی طرف جہاں کبھی شام نہیں ہوتی۔ ترقی پسند تحریک اپنی چند خوبیوں کے باوجود اس لیے نہ پنپ سکی کہ اس تحریک میں روایت کا شعور اور اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ نہ کیا گیا۔ ایک طرف تو ماضی کا لفظ گالی بنا دیا گیا اور دوسری طرف علاقائی کلچر پر زور دیا گیا جس کے سوتے سرزمین سے پھوٹتے ہیں۔ عوامی گیتوں اور عوامی تھیٹر کو سینے کے ساتھ لگانے اور علاقائی زبانوں کے احیا اور ان میں صوفیا کے اقوال اور ان کی شاعری سے فلرٹ کرنے کا مسلک ایسا تھا جس سے تحریک کے نقطہٴ نظر کے اندر تضاد کی صورت پیدا ہو گئی ۔۔۔‘‘ (32)

’’۔۔۔ یہ لازم نہیں ۔۔۔ کہ ہم جب خود لکھنے بیٹھیں تو۔۔۔ روایت کو بھوت بنا کر اس سے ڈرنا شروع کر دیں اور اس طرح یا تو قلم ہی ہمارے ہاتھ سے چھوٹ جائے یا جیسے جیسے یہ بھوت ہم سے لکھواتا جائے ہم لکھتے جائیں۔ اپنے عصری شعور اور انفرادی تقاضوں کو دبانا تخلیقِ فن کے منافی ہو گا۔‘‘ (33)

’’جب زوال آمادہ روایت اور تجربے میں تصادم ہو، تجربے کا ساتھ دینے کے معنی زندگی کا ساتھ دینا۔‘‘ (34)

’’سامراج دنیا کے ہر گوشے میں عوامی انقلابی قوتوں کو مطیع کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ عوامی انقلابی قوتوں کو فکری طور پر کمزور کرنے کے لیے کلچر، روایت، دیومالا، اجتماعی لاشعور وغیرہ ایسی طبقاتی کشمکش سے ماورائی اصطلاحات بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔‘‘ (35)

’’تاہم جدیدیت کے سلسلے میں ایک ممکنہ غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ پیرویٴ مغرب یا تحریکِ جدیدیت کو ذہنی تحفظات کے ساتھ قبول کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم مغرب کے ہر نظریے اور خیال کو عسکری یا رینے گینوں کے زاویوں سے دیکھنا شروع کر دیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جدید دور میں مغرب نے نئے علمی انکشافات اور نئے فکری زاویے تخلیق کرنے میں بنیادی نوعیت کا کام سرانجام دیا ہے۔ لیکن زندگی کے آخری ایام میں حسن عکسری پر اچانک یہ انکشاف ہوا تھا کہ گذشتہ پانچ چھ سو سال میں مغرب نے بڑے پیمانے پر گمراہیاں پھیلائی ہیں (جدیدیت اور انفرادیت بھی بقول عسکری ان گمراہیوں کے زمرے میں آتی ہیں)۔‘‘ (36)

’’اگر ذہن زندہ ہے اور مائلِ ارتقا ہے تو ایک دن وہ گمراہیاں ترک کر کے صداقت اور سچائی کی دریافت کر سکتا ہے۔ ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ مردے سچائیاں دریافت نہیں کر سکتے، یہ کام غلطیوں کا ارتکاب کرنے والا زندہ اور بیدار ذہن ہی انجام دے سکتا ہے۔ مثبت اور منفی قوتوں کی آویزش ایک فطری عمل ہے، قانونِ ارتقا کا یہ ایک عملی اور فعال پہلو ہے لہٰذا حسن عسکری کی زبان میں انسانی معاشرے اور تاریخ کی ان مثبت اور منفی قوتوں کے اختلاف اور تصادم کو یا غالب عصری رجحانات اور نظریات کو گمراہی قرار دینا انھیں کسی مخصوص دینیاتی اور مابعدالطبیعاتی نقطہٴ نظر سے دیکھنا خود ایک بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہونے کے مترادف ہے۔‘‘ (37)

’’حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اگر ہم مغرب کی فوقیت کو تسلیم بھی کر لیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مغرب کے ہر خیال کو سچا اور ہر نظریے کو ترجمانِ حقیقت کا درجہ دے دیں۔ فن و ادب، نظامِ افکار، طرزِ حیات، فنی ہئیت اور تکنیک، تصورِ حقیقت، ادبی موضوع اور مواد کے ہر پیکج ڈیل کو سندِ قبولیت دے دیں۔ ہمارے اندر اپج اور اختراعی قوتوں کا فقدان ہی سہی، کم از کم اندھی تقلید اور پیروی سے تو ہم خود کو بچا سکتے ہیں، اس مرحلے پر اگر ہم اپنے اندر اپنی روایات اور معروضی حالات کا صحیح اور سچا شعور پیدا کر لیں اور ایک ایسے تنقیدی اور تجزیاتی ادراک کو ترقی دے لیں جو ہمارے اندر پیرویٴ مغرب کے قابلِ عمل اور قابلِ تقلید اور ناقابلِ عمل اور ناقابلِ تقلید افکار و حسیات، اسالیب و ہئیتوں کے مابین فرق و امتیاز کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکے تو اس کے اثرات ہمارے تخلیقی ادب کے لیے یقیناً بے حد خوش آئند ہوں گے۔‘‘ (38)

’’جدت روایت کا ایک تکوینی حصہ ہے، کوئی بھی روایت ایسی نہیں ہے جس میں بے شمار جدتوں کا اضافہ نہ ہوا ہو اور جو ان کے امتزاج سے وجود میں نہ آئی ہو۔ اس کے برعکس ’’جدیدیت‘‘ ایک کلٹ (Cult) ہے اور اس کے پیچھے ایک فلسفہ ہے۔‘‘ (39)

’’۔۔۔ جب کوئی قوم کسی روایت یا وضع کہن پر اڑ جاتی ہے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی قبول کرنے کی روادار نہیں ہوتی ہے اور اس وضع کہن کی مدافعت اور معذرت میں اپنا سارا زور صرف کر دیتی ہے تو وہ منزل قوموں کی زندگی میں نہ صرف کٹھن ہوتی ہے، جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ طرزِ کہن پہ اڑنا آئینِ نو سے ڈرنا /  منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں، بلکہ خود کشی کے مترادف بن جاتی ہے۔‘‘ (40)

’’۔۔۔ فلسفے کو سمجھنے سمجھانے کی بھی ایک روایت ہوتی ہے اور وہ روایت ہمارے یہاں کئی صدیوں سے موقوف ہے۔ چنانچہ ہم نے گذشتہ چھ سات سو سال میں کوئی بڑی فکر عقل کے ذریعے نہیں، بلکہ جذبے یا عشق کے حوالے سے کی ہے، اور روشنی جو خدا کا پیرہن ہے، اس کے بجائے، وحشت اور جنون کی آرزو کی ہے، جو لباسِ اہرمن ہے۔‘‘ (41)

زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک

دلیلِ کم نظری، قصہٴ قدیم و جدید

اقبالؔ

’’واضح ہو کہ علم سے عمل مقصود ہے، روایت نہیں؛ جیسا کہ شمع سے مقصود حصولِ روشنی ہے نہ کہ بیانِ حقیقت۔‘‘ (42)

میکس ویبر کی نظر میں روایت ’’منابع میں سے ایک منبع ہے، اور یوں اسناد کی اور جواز کی اقسام میں سے بھی ایک قسم۔‘‘ (43)

کارل فریڈرک ایک طویل بحث کے بعد یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ’روایت کے بغیر سند کا وجود ممکن نہیں، نہ ہی سند کے بغیر روایت کا وجود۔ لیکن دونوں عقل کے مخالف نہیں، کیونکہ دونوں کا وجود عقلی مباحثے پر منحصر ہے۔‘ (44)

’’جدیدیت کا بنیادی تصور تغیر ہے یعنی یہ کہ کائنات کی ہرشے ہر لمحہ تغیرپذیر ہے ۔۔۔ جدیدیت کوئی ’’جدید‘‘ شے نہیں۔ جدیدیت اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانیت۔‘‘ (45)

’’جدیدیت کے عمل میں دو امور کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اول یہ کہ جدیدیت روایت سے متصادم نہیں بلکہ روایت کی ارتقا یافتہ شکل ہے ۔۔۔ جدیدیت کی اکثر تحریکیں ماضی کی اہم فکری اور تہذیبی روایات سے شروع ہوئیں۔ مثلاً یورپ میں نشاة الثانیہ (Renaissance) کی تحریک احیا العلوم سے شروع ہوئی تھی۔‘‘ (46)

’’ریت کیہ اے؟ مَلّ دی سنبھال دے پرانے منّے پر ونّے گُر۔‘‘ (47)

روایت اپنی جگہ پھر بھی وضع دار رہی

نئے شعور کی رو نکتہ چین کتنی تھی

روایتیں بڑی معصوم ہیں فضاؔ ان کو

بغیر تبصرہ و احتساب رکھ آؤں

فضاؔ ابن فیضی

“The Eastern problem is perhaps the most pressing problem of the day. It certainly is one fraught with far-reaching consequences for East and West alike. It calls for a careful, dispassionate, impartial study: for no true understanding or appreciation of this problem is possible unless it strikes and sustains the note of scrupulous impartiality. The heat of passion and controversy, dogmatic assertiveness, petulance, pride, contempt – all these must, for the moment, be put aside. Truth and truth only, should be our one guide, one sole aim, our destined goal.” (48)

“One must not accept any law from reverence, but first try it as gold is tried by fire.” (49)

According to Max Weber, tradition is “one of the sources and hence one of the types of authority and of legitimacy as well, …” (50)

“… there cannot be authority without tradition, nor tradition without authority. But neither is the opposite of reason, for both depend on rational discourse.” (51)

“For it belongs to the necessary excellence of a man of learning that he should not despise the doctrines in which he been brought up, and that he should explain them in the fairest way, and that he should understand that the aim of these doctrines lies in their universal character, not in their particularity, and that, if he expresses a doubt concerning the religious principles in which he has been brought up, or explains them away contradictory to the prophets and turns away from their path, he merits more than anyone else that term unbeliever should be applied to him, and he is liable to the penalty for unbelief in the religion in which he has been brought up.” (52)

In the early 20th century, Radhakrishnan declared “Reverence for the past” a “rational trait.” (53)

“When once the tradition is regarded as sacred and infallible it must be represented as expressing or implying what is considered to be the truth. This accounts for the fact that the same texts are adduced in support of varying tenets and principles, mutually contradictory and inconsistent. If fidelity to dogma and diversity of view should live together, it is possible only through absolute freedom of interpretation, …” (54)

“If the Indian thinkers combine a love of what is old with a thirst for what is true, Indian philosophy may yet have a future as glorious as its past.” (55)

“Men are so little accustomed to trust their own judgment that they take refuge in authority and tradition. Though there are safe enough guides for conduct and life, truth requires insight and judgment as well.” (56)

“In his ‘preface to the earliest metaphysical work in Arabic, Al-Kindi writes: “It is fitting to acknowledge the utmost gratitude to those who have contributed even a little to truth, not to speak of those who have contributed much. We should not be ashamed to acknowledge truth and assimilate it from whatever source it comes to us, even if it is brought to us by former generations and foreign people. For him who seeks the truth itself: it never cheapens or abases him who searches for it, but ennobles and honors him.” (57)

چھٹا حصہ: حاصلِ بحث

اس وقت جب کلر سیداں میں رہتے ہوئے، میں نے عسکری صاحب پر لکھنے کے ضمن میں جو نوٹس تیار کیے تھے، اس میں متعدد دانشوروں کے اقتباسات موجود ہیں، آج جب میں ان نوٹس پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ خود میں ایک بڑی غلط فہمی کا شکار تھا اور اسی غلط فہمی کے تحت میں نے وہ اقتباسات جمع کیے۔ لیکن یہ اقتباسات بھی تو وہی کچھ کہہ رہے تھے، جس غلط فہمی کا میں شکار ہوا۔ یعنی یہ کہ عسکری صاحب کو اس لیے ہدفِ تنقید بنانا کیونکہ وہ روایت کے علم بردار بنے۔ جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں۔ عسکری صاحب نے روایت کی علم برداری نہیں کی۔ انھوں نے حقیقت کے ایک خاص تصور پر مبنی روایت کی بات کی، محض روایت کی بات نہیں کی۔ یعنی سب سے بڑا خلطِ مبحث تو یہی پیدا ہو جاتا ہے۔ نہ صرف پیدا ہوا بلکہ پیدا کیے رکھا گیا۔

اس خلطِ مبحث میں الجھنے کا کچھ سبب خود عسکری صاحب میں بھی موجود تھا۔ وہ ایسے کہ انھوں نے روایت کو جدیدیت اور بالخصوص مغربی جدیدیت کے خلاف نبرد آزما کر دیا۔ یوں روایت اور جیدیدت کا نزاع پیدا ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہا۔ گو کہ یہاں بھی عسکری صاحب کا مدعا و مفہوم کچھ اور تھا۔ یعنی یہاں بھی وہ مغرب کو حقیقت کے اس تصور کو ترک کر دینے کا ملتزم ٹھہرا رہے تھے، جو ان کے مطابق اس کی روایت کا خاصہ رہا تھا اور جسے وہ اب ترک کر چکا تھا۔ یعنی جدیدیت کے تحت مغرب، حقیقت کے ایک خاص تصور کی روایت کو متروک قرار دے چکا تھا۔

اب جبکہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور میں اپنی خطا کو تسلیم کر رہا ہوں تو مناسب ہو گا وہ اقتباسات بھی درج کر دوں جو میں نے عسکری صاحب کے تصورِ روایت اور پھر روایت اور جدیدیت کے نزاع کی تردید کے ضمن میں اکٹھے کیے تھے۔ یہ اقتباسات پانچویں حصے میں ناقدینِ عسکری کے عنوان کے تحت درج ہیں۔

کسی مغربی کا مسلمان ہو جانا بڑے معنی رکھتا ہے، یعنی نفسیاتی معنوں میں۔ جیسے رینے گیناں، وغیرہ، ان کو رہنما مان لیا جاتا ہے۔ یہ دراصل وہی چھپی ہوئی پیرویٴ مغربی ہے، جس کے انجام کی نہایت بڑی مثالیں عسکری صاحب اور سلیم احمد، وغیرہ، ہیں۔ لیکن یہاں میں اس بات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خود یہ عمل اپنی تہہ میں، اور فلسفیانہ اندازِ نظر کے لحاظ سے خود صداقت کی جستجو کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ یعنی اس مفہوم میں کہ عسکری صاحب کو جہاں بھی صداقت نظر آئی انھوں نے اسے قبول کر لیا۔ جیسا کہ انھوں نے رینے گینوں میں صداقت کو متشکل دیکھا اور اسے مان لیا، قطع نظر اس سے کہ خود مغرب رینے گینوں کو اس مقام و مرتبے کا حامل نہیں سمجھتا جس سے عکسری صاحب نے اس متصف پایا۔

یاد رہے کہ رینے گینوں (1951-1886) فرانسوی-مصری دانشور، ادیب اور مابعدالطبیعیات دان ہیں۔ انھیں تقابلی مذہبی فکر کے روایت پسندانہ مکتب کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ خود عسکری صاحب نے بتایا ہے کہ وہ اس بنا پر اپنے قبولِ اسلام کا چرچا نہیں کرتے تھے کہ کہیں لوگ ان کی کتابیں پڑھنا چھوڑ نہ دیں۔ اور یہ بھی کہ رینے گینوں کا مسلمان ہونا عسکری صاحب کے نزدیک ایک اہم واقعہ تھا۔

اس عمل میں بہرحال ایک مثبت چیز یہ تلاش کی جا سکتی ہے کہ رینے گینوں، وغیرہم، کی پیروی میں عسکری صاحب، وغیرہم، نے مغرب کی فوقیت اور برتری کو تسلیم ضرور کیا۔ جیسا کہ خود عسکری صاحب مولانا اشراف علی تھانوی کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انھوں نے اسلام کی حفاظت کے ضمن میں جس مغربی کا ذکر کیا ہے، وہ شخصیت رینے گینوں ہی ہیں۔ اگرچہ عسکری صاحب میں اس تسلیم  کا انداز ان کی اپنی مخصوص ادا سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی انھوں نے مشرقی مسلمانوں کی نسبت مغربی مسلمان کو برتر اور رہنما تسلیم کیا۔

بہت اچھی بات ہے۔ میں بھی مغرب مخالف ہونا چاہتا ہوں۔ لیکن مغرب کے جواب میں کچھ لائیے تو سہی۔ کچھ ایسا کہ جو کچھ آگے کی بات ہو۔ ورنہ پرانی تنخواہ پر کام کرتے جائیے، کرتے رہیے۔

جیسا کہ تیسرے حصے میں مذکور ہوا، عسکری صاحب کے نزدیک ’یہ بات بھی مشکوک ہے کہ جس معاشرے میں تہذیب نفس کا کوئی مرکزی اصول نہ ہو اسے تہذیب کہہ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔‘ یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے۔ اتنا بڑا اور اتنا تباہ کن کہ اس اصل اور بنیادی چیز کو نہ صرف رد و مسترد بلکہ یکسر اس کی نفی بھی کر دیتا ہے۔ یعنی اصولِ اخلاقیات کی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اخلاقیات ہی کی نیو ہے، جس پر انسانی آبادی یعنی انسانی معاشرے کی تعمیر ممکن ہوئی ہے۔

اور یہی اخلاقیات ہے، جو تہذیبِ نفس کا سب سے بڑا اصول بھی ہے۔ جہاں تک تہذیبِ نفس کے مابعدالطبیعیاتی اصول کی بات ہے، تو جو تہذیبیں اس اصول پر تکیہ کیے ہوئے ہیں، ان کا حال ملاحظہ کر لیجیے، اور جن تہذیبوں کا انحصار اخلاقی اصولوں پر ہے، یا جو تہذیبیں دونوں اصولوں پر استوار ہیں، ان پر بھی نظر ڈال لیجیے۔ فرق عیاں ہو جائے گا کہ کونسی تہذیبِ نفس کہاں اور کتنی کامیاب ہے۔

اور تیسرے حصے میں ہی عسکری صاحب زبانی روایت کی برتری کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ ’کوئی بھی روایتی معاشرہ ہو اس میں جو چیز آخری اور حتمی درجے میں قابلِ استناد ہوتی ہے وہ زبانی روایت ہے نہ تحریری شہادت۔‘

دیکھا جائے تو عملاً اور بالعموم ہم لوگ ایک دوسرے پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی قطعی اور واحد اصول نہیں۔ کئی صورتوں میں ایسا نہیں بھی کیا جاتا، اور کسی چیز کی تصدیق و تردید کے لیے دوسرے ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔

اس کے باوجود اگر ہم اس چیز کو انسانی ابلاغ کی نفسیات کی رو سے سمجھنا چاہیں، تو یہ بات بہت حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔ ہم رازی اور رازدانی اسی نوع کا ایک فعل ہے۔

مگر جہاں تک انسانی علم کے منابع کا تعلق ہے، تو گو کہ وہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن جب ان منابع سے حاصل ہونے والے علم کی جانچ پرکھ کا سوال آئے گا، تو پھر یہ وہی مشاہدہ و تجربہ، عقل و منطق، بحث و تنقید، وغیرہ، ہیں، جن سے رجوع لایا جائے گا۔ یعنی انسانی علم زبانی روایت پر نہ تو استوار ہوا نہ زبانی روایت پر اس کا ارتقا ہوا۔

ہاں، اعتقادی علم کی بات اور مقام علاحدہ ہے۔

صداقت کا بنیادی نقطہٴ نظر اس شعر میں پنہاں ہے۔

کس کی منزل کسے کہاں لے جائے

راہ کا ساتھ بھی بہت ہے میاں

[نامعلوم]

صداقت محض راہ کے ساتھ پر قناعت نہیں کرتی، بلکہ اس کے بارے میں، سمت کے بارے میں اور منزل کے بارے میں متجسس رہتی ہے۔ روایت چیزوں کو روایتی روزن یا روایت کے روزن سے ہی دیکھنا چاہتی ہے، جبکہ صداقت اشیا کو جیسی کہ وہ ہیں انھیں ویسے ہی زمان و مکان کی وسعت میں رکھ کر دیکھنا چاہتی ہے۔ روایت صرف اپنے نقطہٴ نظر کی مدد سے اپنی صداقت کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ صداقت اپنے نقطہٴ نظر سے خود کو جھٹلا بھی سکتی ہے۔

جیسا کہ شعر سے عیاں ہے کہ کیا خبر کہ منزل، خواہ کسی کی بھی ہو، کہاں لے جائے، یعنی کیا خبر کہ آخر میں کیا صداقت برآمد ہو، لہٰذا، راہ کا ساتھ بھی غنیمت ہے۔ یعنی صداقت کی جستجو ہی اصل راہ ہے اور یہی اصل سفر بھی ہے۔

کارل پاپر نے صداقت کا جو اصول بیان کیا ہے، وہ یکسر یہی ہے۔ یعنی یہ کہ صداقت بذاتہٖ کچھ نہیں۔ یہ ایک اصولِ انضباط ہے، یا ایک انضباطی اصول ہے، جو صداقت کی جستجو کو ایک سمت اور ایک ضابطہ مہیا کرتا ہے اور اسے اپنے راستے سے بھٹکنے نہیں دیتا۔ اس شعر کا مدعا بھی قریباً یہی ہے۔ مراد یہ کہ منزل یعنی صداقت کی جستجو معلوم نہیں ہمیں کہاں لے جائے، اور ایسے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے پاس کم از کم ایک راستہ یعنی صداقت کی جستجو کا عزم تو موجود ہے۔ اور یہ کہ ہم نے صداقت تک پہنچنا ہے، یہی ہماری منزل ہے۔

ساتواں حصہ: حواشی و تعلیقات

پہلا حصہ: ادھورا مضمون

(1) روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور، 13 فروری 1990

(2) (روایت [1]، ترتیب محمد سہیل عمر، ص ص: 90-89)

(3) عسکری بنام فاروقی: خطوط (کراچی سے 10 جون 1968 کا خط) مشمولہ روایت [1]، ص: 91

(4) حالیؔ اب آؤ پیرویِ مغربی کریں / بس اقتدائے مصحفیؔ و میرؔ کر چکے

(5) محمد حسن عسکری، ستارہ یا بادبان، ص ص: 122-121

(6) سلیم احمد، محمد حسن عکسری، آدمی یا انسان؟، ص: 80

(7) ایضاً، ص: 86

(8) ایضاً، ص: 85

(9) ایضاً، ص: 85

(10) ایضاً، ص ص: 86-85

(11) ایضاً، ص: 82

(12) ایضاً، ص ص: 84-83

(13) ’’کچھ مغربی اسلام پسندوں نے بھی یہی دلیل دی ہے۔ مثلاً ای آئی جے روزینتھل اور وِلفریڈ کانٹ ویل سمتھ پاکستانیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اسلامی ریاست کے قیام کے بغیر اپنے ساتھ دیانت دار نہیں ہو سکتے۔ (’کیونکہ پاکستان اسی تصور کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا۔‘ خ ا) سمتھ تاہم انھیں درپیش مسئلے سے باہر نکلنے کا بہتر مشورہ دیتا ہے کہ وہ مسلم ریاست جو اسلامی ریاست بننے کی آرزو رکھتی ہے، اپنی اسی آرزو کی بنا پر ہی اسلامی ریاست بن جاتی ہے۔‘‘

See Anwar Hussain Syed’s Pakistan – Islam, Politics, and National Solidarity; Praeger, New York, 1982; Notes PP.10-11

نیوکلیئر توانائی، ہماری صنعت، جدید ترین ٹیکنالوجی، وغیرہ، کے حصول میں درپیش رکاوٹیں اور پھر پاکستان کو ایک زرعی، صارفی اور خام مال تیار کر نے والا معاشرہ بنائے رکھنے کے مختلف مغربی و امریکی حیلے بھی اس بات کی نمایاں شہادتیں ہیں۔

افتخار جالب نے بھی اسی ’داؤ پیچ‘ کی طرف اشارہ کیا ہے: ’’ سامراج دنیا کے ہر گوشے میں عوامی انقلابی قوتوں کو مطیع کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ عوامی انقلابی قوتوں کو فکری طور پر کمزور کرنے کے لیے کلچر، روایت، دیومالا، اجتماعی لاشعور، وغیرہ، ایسی طبقاتی کشمکش سے ماورائی اصطلاحات بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔‘‘ ملاحظہ کیجیے آزاد کوثری کی کتاب، ’’پاکستانی کلچر کی مختلف جہتیں‘‘ کا ابتدائیہ از افتخار جالب (ریپبلیکن بکس، لاہور، 1988)، ص: 39

تیسرا حصہ: اقتباسات از عسکری و شارحینِ عسکری

(14) محمد حسن عسکری، وقت کی راگنی، ص: 108

(15) ایضاً، ص: 109

(16) ایضاً، ص: 93

(17) ایضاً، ص: 153

(18) محمد حسن عسکری، ستارہ یا بادبان، ص: 122

(19) ایضاً، ص ص: 123-122

(20) ایضاً، ص: 123

(21) ایضاً، ص: 124

(22) ایضاً، ص ص: 126-125

(23) ایضاً، ص: 129

(24) ایضاً، ص ص: 130-129

(25) سلیم احمد، محمد حسن عسکری، آدمی یا انسان؟، ص؛ 83

(26) ایضاً، ص ص: 85-84

(27) سلیم احمد، عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں، مشمولہ: روایت [1]، مرتبہ: محمد سہیل عمر، ص ص: 739-738

(28) محمد سہیل عمر، ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ، مشمولہ: روایت [1]، مرتبہ: محمد سہیل عمر، ص: 583

(29) ایضاً، ص: 571

پانچواں حصہ: اقتباسات از ناقدینِ عسکری

(30) جمیل جالبی، ایلیٹ کے مضامین، ص: 183

(31) ایضاً، ص: 184

(32) افتخار جالب،ابتدائیہ، پاکستانی کچلر کی مختلف جہتیں، ص: 28

(33) مظفر علی سید، بحوالہ ابتدائیہ از افتخار جالب، پاکستانی کلچر کی مختلف جہتیں، ص: 34

(34) ایضاً، ص: 34

(35) افتخار جالب، ، پاکستانی کچلر کی مختلف جہتیں، ص: 28

(36) سجاد حارث، ادب اور ریڈیکل جدیدیت، ص: 54

(37) ایضاً، ص: 56

(38) ایضاً، ص: 57-56

(39) ممتاز حسین، نقدِ حرف، ص: 104

(40) ایضاً، ص: 104

(41) ایضاً، ص: 106

(42) ضیا الدین بخشی، مشمولہ دربارِ ملی، ص: 109

(43) کارل جے فریڈرک، روایت اور سند (انگریزی)، ص: 13

(44) ایضاً، ص: 56

(45) ڈاکٹر آغا افتخار حسین، جدیدیت، ص: 6، 7

(46) ایضاً، ص: 12، 13

(47) نجم حسین سید، اکتھ کہانی، ہیر دمودر باے کجھ گلاں، ص: 119

Notes and References: Part 5

(48) S. Khuda Bukhsh’s article The New World of Islam, in Studies: Indian and Islamic, Kegan Paul, Trench, Trubner & Co. Ltd., London, 1927, P.22

(49) Quoted in S. Radhakrishnan’s Indian Philosophy, Vol I, George Allen & Unwin Ltd., London, 1971, P. 611

(50) Earl J. Friedrich, Tradition and Authority, Pall Mall, London, 1972, P.13

(51) Ibid, P. 56

(52) Averroes’ Tahafat al-Tahafat (The Incoherence of the Incoherence) Volume I and II, translated by Simon Van Den Bergh, E. J. W. Gibb Memorial Trust, London, 1978, P. 360

(53) S. Radhakrishnan, Indian Philosophy, Vol I, P. 46

(54) S. Radhakrishnan, Indian Philosophy, Vol I, P. 130

(55) S. Radhakrishnan, Indian Philosophy, Vol I, P. 53

(56) S. Radhakrishnan, Indian Philosophy, Vol I, P. 139

(57) Quoted in The Age of Belief, The Medieval Philosophers, edited by Anne Fremantle, P. 115

کتابیات:

ادب اور ریڈیکل جدیدیت، سجاد حارث، نگارشات، لاہور، 1988

اکتھ کہانی (ہیر دمودر باے کجھ گلاں)، نجم حیسن سید، اوم پبلشرز، لہور، 1990

ایلیٹ کے مضامین، جمیل جالبی، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، 1989

پاکستانی کچلر کی مختلف جہتیں، آزاد کوثری، ری پبلکن بکس، لاہور، 1988

جدیدیت، ڈاکٹر آغا افتخار حسین، مکتبہٴ فکرودانش، لاہور، بار اول، دسمبر 1986

دربارِ ملی (اردو ترجمہ)، قومی زندگی کی کہانی، معاصرین کی زبانی، منتخبہ و مرتبہ: ڈٓاکٹر ایس ایم اکرام، ڈاکٹر وحید قریشی، ترجمہ و تعلیقات و حواشی: خواجہ عبدالحمید یزدانی، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1966

روایت [1]، مرتبہ: محمد سہیل عمر، مکتبہٴ روایت، لاہور، 1983

ستارہ یا بادبان، محمد حسن عسکری، مکتبہٴ سات رنگ، کراچی، 1963

نشانات، محمد علی صدیقی، ادارہٴ عصرِ نو، کراچی، 1981

نقدِ حرف، ممتاز حسین، مکتبہٴ اسلوب، کراچی، 1985

محمد حسن عکسری، آدمی یا انسان؟، سلیم احمد، مکتبہٴ اسلوب، کراچی، 1982

وقت کی راگنی (مضامین)، محمد حسن عسکری، مکتبہٴ محراب، لاہور، بار اول، 1979

انحراف، خلیل احمد، حرف مطبوعات، لاہور، بار اول فروری 1987

Bibliography:

Studies: Indian and Islamic, S. Khuda Bukhsh, Kegan Paul, Trench, Trubner & Co. Ltd., London, 1927

Indian Philosophy, Vol I, S. Radhakrishnan, George Allen & Unwin Ltd., London, 1971

Tradition and Authority, Earl J. Friedrich, Pall Mall, London, 1972

Averroes’ Tahafat al-Tahafat (The Incoherence of the Incoherence) Volume I and II, translated by Simon Van Den Bergh, E. J. W. Gibb Memorial Trust, London, 1978

The Age of Belief, The Medieval Philosophers, edited by Anne Fremantle, New American Library, New York, 1954

Pakistan: Islam, Politics, and National Solidarity, Anwar Hussain Syed, Praeger, New York, 1982

Khalil Ahmad

Completed

6 August, 2026

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted