ہم لوگ جب ایم اے کر رہے تھے، تو وہاں شعبہٴ فلسفہ میں کچھ لوگ اب یا تب یا باقاعدگی سے تشریف لایا کرتے تھے۔ یہ کئی لوگ تھے، یہاں سب کے ذکرکی ضرورت نہیں۔
ہاں، ایک صاحب تھے مسرور خان (اصل نام کچھ اور تھا)، وہ آتے، شلوار قمیض پہنی ہوتی، ساتھ واسکٹ، اور ہاتھوں میں ایک بیگ۔ بیگ اکثر بغل میں دبایا ہوتا۔
وہ مختلف اساتذہ کے پاس جاتے۔ یہاں وہاں کھڑے بیٹھے طلبہ کے پاس رکتے، بات چیت کرتے۔ آگے بڑھ جاتے۔
ایک دن ہمارے گروپ کے ایک دوست سعید اقبال واہلہ نے بتایا، آج وہ مسرور خان آئے تھے۔ مجھے نیچے روک لیا اور کہنے لگے، ’’عبداللہ سلیم، میں سِول جج بن گیا ہوں۔‘‘
یہ عبداللہ سلیم شعبے کے ایک اور دوست تھے۔ سعید نے انھیں کہا، میں عبداللہ سلیم نہیں، سعید اقبال واہلہ ہوں۔ تو وہ مسرور خان کہنے لگے۔ ’’تم جو کوئی بھی ہو، میں سِول جج بن گیا ہوں۔‘‘
جس دن یہ واقعہ یا لطیفہ وقوع پذیر ہوا، یہ اس سوقت اس دن کی ’’ہائی لائٹ‘‘ بن گیا۔ اور بعد میں ایک مستقل مذاق بھی۔
دیکھا جائے تو یہ ایک سانحہ بھی تھا۔ سانحہ اس اعتبار سے کہ ایک ایسا فرد جو کسی عہدے پر متمکن ہو گیا وہ دوسرے افراد کو خاطر میں نہیں لاتا، اور انھیں ایک انھیں ایک بے بے شعور وجود گردان کر اپنی فتح اور تحصیل کے اعلان کو فوقیت دیتا ہے۔
مجھے اتنے برسوں بعد یہ ’’سانحہ نما مکاشفہ‘‘ یا ’’مکاشفہ نما سانحہ‘‘ بھولا نہیں۔ کیونکہ اس کہ بہت سی تہیں ہیں۔ بہت سی جہات ہیں۔ اس کی متعدد توسیعات بھی ممکن ہیں۔
اس سے مماثل کئی اور سانحات بھی انتہائی معنی خیز ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے اکثر سانحات ’’اعلان‘‘ سے نہیں، بلکہ ’’رویے‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یوں کہ کوئی فرد کسی عہدے پر پہنچ گیا، وہاں براجمان ہوتے ہی اس کا رویہ یکسر تبدیل ہو گیا، اور اس فرد کا طرزِ عمل اُچھل اُچھل کر یہ بتانے لگتا ہے، جیسا کہ: ’’اب میں چیئرمین بن گئی ہوں، اب تم سارے انسان بن جاؤ!‘‘
یاد رہے کہ اس متذکرہٴ بالا سانحے کو کچھ ملتے جلتے مفہوم کے ساتھ میں پہلے بھی قلم بند کر چکا ہوں: ’’انفرادی انقلاب سے اجتماعی و ریاستی انقلاب تک‘‘
لیکن اس کا دوبارہ ذکر کرنے کی شدید خواہش پھر پیدا ہوئی۔ کیونک اس وقت ملک میں جو کچھ ملک ہو رہا ہے، وہ چیخ چیخ کر یہی کہہ رہا ہے کہ تم جو بھی ہو، میں وزیرِ اعظم بن گیا ہوں۔
یعنی تم سب جاؤ بھاڑ میں میں وزیرِ اعظم بن گیا ہوں۔
تم سب جاؤ جہنم میں، میں وزیرِ اعلیٰ بن گیا یا بن گئی ہوں۔
تم سب جو کوئی بھی ہو، میرا اس سے کوئی سروکار نہیں: میں صدر بن گیا ہوں۔ میں وزیر بن گیا ہوں۔ میں مشیر بن گیا ہوں۔ میں چیئرمین بن گیا ہوں۔ میں ڈائریکٹر بن گیا ہوں۔ وغیرہم۔
بالخصوص وزیرِاعظم شہباز شریف کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی میلے میں آئے ہوئے ہیں، اور میلہ لوٹ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ ہر چند گھنٹوں بعد نئے سوٹ میں ملبوس ہو جاتے ہیں، اور آئینے میں خود کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ پھر کہیں باہر کے دورے پر چلے جاتے ہیں۔ انھیں اور کوئی کام نہیں۔
ان کے بھائی نواز شریف بھی جب وزیرِ اعظم بنتے تھے، تو ان کے پاؤں ملک میں نہیں ٹکتے تھے۔ انھوں نے بھی اپنی وزارتِ عظمیٰ کے آخری دور میں کوئی ڈیڑھ سو کے قریب غیرملکی دورے کر لیے تھے۔ نااہل ہونے سے دو چار روز قبل بھی وہ مالدیپ کا دورہ ’’کھڑکا‘‘ آئے تھے۔
اب شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے یہ کہتے معلوم ہوتے ہیں، دیکھنا بھائی جان، میں آپ سے زیادہ دورے کر کے دکھاؤں گا۔
اور حقیقت یہ ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے طرزِ عمل سے بھی یہ عیاں ہے: ’’بے چارے پاکستانیو، تم جو کوئی بھی ہو، تم پر جو کچھ بھی گزر رہی ہے، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ تم میرا نئے سے نیا سوٹ دیکھو، میں وزیرِ اعظم بن گیا ہوں یہ دیکھو، میں سیر سپاٹے کر رہا ہوں، تم کون ہو، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔‘‘
[4 جولائی 2026]