ابھی 16 مئی کو الطاف حسن قریشی کی وفات ہوئی۔ خبر پڑھتے ہی ذہن کے پردے پر ایک روشنی جھلکی۔ یہ روشنی ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کا نام تھا۔
میری رائے میں اردو ڈائجسٹ ایک ادارے کی حیثیت کا حامل ڈائجسٹ تھا۔ اگر اس کے متوازی کوئی اور ادارہ موجود تھا تو وہ سیارہ ڈائجسٹ تھا۔ سید قاسم محمود کا سیارہ ڈائجسٹ۔ وہ مختلف اوقات میں اس کے چیف ایڈیٹر رہے۔
میں سیارہ ڈائجسٹ کے ساتھ ساتھ اردو ڈائجسٹ کا مقروض بھی ہوں۔ لڑکپن میں ان دونوں نے جس طرح فکری و علمی اور ذوق کی تربیت کی، وہ کام ایک ادارہ ہی کر سکتا ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارہ الطاف حسن قریشی ہی تھے۔ وہی تھے جو اردو ڈائجسٹ کی روحِ رواں تھے۔
اردو ڈائجسٹ میں کیا چیز ہے جو نہیں ہوتی تھی۔ تاریخ۔ فلسفہ۔ شعر و ادب۔ عالمی شعر و ادب۔ سیاسیات۔ انٹرویو۔ شکاریات۔ وغیرہم۔
ذوق کی ہمہ پہلو تربیت کا سارا سامان۔
ابھی غالباً آٹھ دس برس قبل جیسے کچھ پرانی کتابوں کی یاد آتی ہے، اسی طرح اردو ڈائجسٹ دیکھنے کی تڑپ اُٹھی۔ چونکہ تعلق بہت پہلے قبل ختم ہو چکا تھا، یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اردو ڈٓئجسٹ اسی طرح زندہ و موجود تھا۔ خریدا، پڑھا اور ورق گردانی کی۔
ابھی جب میں یونیورسٹی میں تھا تو کسی محفل میں سید قاسم محمود نظر آ گئے۔ انھیں دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ ان کے پاس گیا، ہاتھ ملایا، بات کی اور بس اتنے ہی میں دل شاد ہو گیا۔
اب جب الطاف حسن قریشی نہیں ہیں، تو سوچتا ہوں کہ اگر ان کو بھی کہیں کسی محفل میں دیکھ پاتا تو ان سے ضرور ملتا، بات کرتا، اور یہاں بھی یہی جذبات غالب ہوتے۔
مگر خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایک عجیب بازار گرم ہے۔ ان کے شخص اور شخصیت کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ان کی سیاسی و فکری وابستگی کو رگیدا جا رہا ہے۔
کرتے رہیں آپ یہ کام۔
میں تو وہ ہوں جس نے شریف الدین پیرزادہ کو رگیدنے والوں سے بھی اختلاف کیا۔
بھئی، جو کام شریف الدین پیرزادہ کرتے تھے، یعنی آمروں، وغیرہ، کو جو کچھ وہ چاہتے تھے اس کا ڈرفٹ یا پھر حتمی ڈرافٹ بنا کر دینا اور انھیں نئے سے نئے غیرآئینی غیرقانونی راستے سجھانا، تو اس میں وہ آپ کے مجرم کیسے بن گئے۔ فرض کیجیے وہ یہ کام نہ کرتے، تو کوئی اور یہ کام کر دیتا۔
کوّا کان لے گیا۔ کوے کے پیچھے بھاگے جا رہیں آپ۔ ذرا اپنے کان کو بھی ہاتھ لگا کر دیکھ لیجیے۔
الطاف حسن قریشی کے پیچھے کیا پڑے ہیں، آمروں سے پوچھیے نا۔
بھئی ہر فرد ایک آزاد روح ہوتا ہے۔ اس کی اپنی شخصیت اور اپنی رائے ہوتی ہے۔ آپ اس کی رائے سے اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے۔ آپ یہ کیوں چاہتے ہیں، وہ آپ کی طرح ہو جائے۔ آپ کی طرح سوچے۔ آپ کی طرح لکھے۔ آپ جیسی زندگی گزارے۔
اور اگر وہ آپ سے یہ مطالبہ کرے تو پھر آپ کیا جواب دے سکتے ہیں!
الطاف حسن قریشی بھی ایک آزاد روح تھے۔ ان کی اپنی شخصیت تھی۔ وہ اپنی طرح کے شخص تھے۔ وہ اپنی طرح ہی سوچتے تھے۔ ان کے اپنے نظریات تھے۔ ان کی اپنی رائے تھی۔ وہ اپنے انداز میں لکھتے تھے (جو لاکھوں سے لاکھ درجے بہتر تھا)۔
جیسے آپ اپنے نظریات کے حامل ہیں، ویسے ہی وہ بھی اپنے نظریات رکھتے تھے۔ جیسے آپ ایک رائے رکھتے ہیں، ویسے ہی وہ بھی ایک مخصوص رائے رکھتے تھے۔
یوں یہ معاملہ تو ایک جیسا ہوا۔ نہ وہ بے نظریہ تھے نہ آپ بے نظریہ ہیں۔ نہ وہ بے رائے تھے، نہ آپ بے رائے ہیں۔
آپ ان کے نظریات اور ان کی رائے کو ہدف بنائیے، ضرور بنائیے۔ مگر یہ کام دلیل اور شائستگی کے ساتھ کیجیے۔
پھر یہ بھی کہ جیسے آپ کوئی نہ کوئی فکری و سیاسی وابستگی رکھتے ہیں، ویسے ہی وہ بھی اپنی مخصوص فکری و سیاسی وابستگی کے حامل تھے۔
یوں ہم سب ایک جیسے ہوئے، جو کسی نہ کسی نوع کی فکری و سیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔
آپ ان کی فکری و سیاسی وابستگی سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ آپ سے اختلاف رکھتے تھے۔
یوں اس ضمن میں بھی ہم سب ایک ہوئے۔
الطاف حسن قریشی نہیں رہے۔ ان کا کام موجود ہے۔ آپ ان کے کام کو ضرور نشانہ بنائیے۔ ان سے اختلاف کیجیے۔ مگر وہی بات دلیل کے ساتھ اور شائستگی کا دامن چھوڑے بغیر۔
مجھے بھی بہت اختلاف ہے ان کے نظریات سے، ان کی آرا سے۔
مگر میں احسان مند ہوں۔ میں نے اردو ڈائجسٹ سے بہت کچھ سیکھا۔ یعنی الطاف حسن قریشی سے بہت کچھ سیکھا۔
جہاں تک اپنے نظریات وضع کرنے کا تعلق ہے، میں بالکل آزاد رہا۔ آزادی کے ساتھ اپنے نظریات وضع کیے۔ آزادی کے ساتھ اپنی رائے بنائی۔ آزادی کےساتھ اپنا کام کیا۔
الطاف حسن قریشی بہت کام کے آدمی تھے۔ انھوں نے اپنا کام کیا، پوری دلجمعی سے کیا۔ ہمیں بھی اپنا کام کرنا چاہیے۔
کسی کو سب و شتم اور دشنام کا نشانہ بنانا اور اس پر مختلف طرح کے بہتان دھرنا کوئی کام نہیں۔
پیش کیجیے اگر کوئی ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ ہے آپ کے پاس، جس نے نسلوں کے فکری و علمی ذوق کی تربیت کی!
خلیل احمد
[20 مئی 2026]