Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

تصور کریں بیس برس بعد کا پاکستان کیسا ہو گا ـ ایک لاحاصل تصور

’’ساتواں ایاز میلو‘‘ حیدرآباد، سندھ میں منعقد ہوا۔ ڈان (23 دسمبر، 2021ء) کے مطابق، میلے میں دانشوروں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو پھر سے تصور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان دانشوروں میں ڈاکٹر جعفر احمد، غاذی صلاح الدین، ڈاکٹر سحر گل، ڈاکٹر ظفر جونیجو شامل ہیں۔

ہاں، اس چیز کے بارے میں پہلے بھی پڑھا سنا ہوا تھا۔ مگر برس 2010ء اچھی طرح یاد ہے۔ اس وقت میں آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ (اے ایس انسٹیٹیوٹ) کے معاملات کا منتظم تھا۔ علی سلمان اور میں، ہم دونوں نے مل کر ایک نیا کام شروع کیا۔ یہ تھا: فکری سرمائے کی تخلیق (Creating intellectual capital)۔ مختلف لوگوں کو مدعو کیا گیا، جن میں ڈاکٹر طاہر کامران، ڈاکٹر سعید شفقت، اور دوسرے شامل تھے۔ کوئی چار پانچ اجلاس منعقد ہوئے، اور بڑے بڑے معاملات و مسائل کی تشخیص کی گئی۔ پھر ان پر مضامین لکھنے کا کام شروع ہوا۔ ڈاکٹر سعید شفقت نے جو مضمون پڑھا، اس کا اہم نکتہ یہ تھا: پاکستان کو بیس پچیس برس بعد تصور کریں کہ اسے کیسا ہونا چاہیے۔

اس وقت اس بات نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ہاں، تصور کیا جائے، اور پھر ویسا بنانے کے لیے کام کیا جائے۔ بات معقول بھی تھی۔

پھر اس کے بعد ڈاکٹر ندیم الحق کا لکھا ہوا ایک کتابچہ ہاتھ لگا۔ ’’پاکستان ـ آج سے پچیس برس بعد ـ ایک وژن۔‘‘ یہ 2007ء میں چھپا تھا۔

آج جب میں ڈان میں ’’ساتواں ایاز میلو‘‘ کی تفصیل دیکھ رہا تھا، تو یہ پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ اب تک پاکستان کو تصور کرنے اور پھر سے تصور کرنے (Imagine, Reimagine) کی بات چل رہی ہے۔ یہ تصور اور بار بار تصور کرنے کی بات کب تک چلے گی۔ اس سے آگے بڑھنے کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔

کیا یہ کوئی دلدل تو نہیں بن گئی؟

لگتا تو ایسے ہی ہے کہ ہم پھر ایک دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

لیاقت علی ایڈووکیٹ دوست ہیں، اور فیس بک پر بہت فعال۔ روزانہ ایک دو پوسٹیں ضرور چھپتی ہیں۔ مختصر یا طویل، اور طویل اتنی کہ دو تین صفحات پر محیط۔ اور پڑھنے اور تبصرہ کرنے والے بھی کم نہیں ہوتے۔ سو کے قریب، یا کم یا زیادہ۔ اور خوب بحث ہوتی ہے۔ جھگڑے ہوتے ہیں۔ تاریخ دہرائی جاتی ہے۔ تجزیے ہوتے ہیں۔

ایک مرتبہ میں نے فون کیا اور ان سے پوچھا، لیاقت صاحب، یہ تاریخ کا بیان، یہ تجزیے کب تک چلیں گے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اس میں بھی ایک لذت پسندی (Political Hedonism) شامل ہو گئی ہے۔ کرنا کیا ہے، کچھ اس طرف بھی آئیں۔

ان کا جواب تھا: بس یار، عادت بن گئی ہے۔

ایک پوسٹ میں کچھ اس طرح کا معاملہ تھا کہ بس اسٹیبلش مینٹ اور امریکہ جو چاہتے ہیں، وہی ہوتا ہے۔ میں نے تبصرہ کیا: آپ سیاسی مقدرپسندی (Political Fatalism) کا شکار ہو رہے ہیں؟ انھوں نے اس تبصرے کو بھی ’’لائیک‘‘ کر دیا۔

خود میں نے ارادتاً اور شعوری طور پر سوچ کر اور خود پر روک لگا کر یہ کام ترک کیا، تجزیوں والا۔ اور آگے کیسے بڑھا جائے پر زور دینا شروع کیا۔

کوشش کرتا ہوں کہ اس بات پر متوجہ  رہا جائے کہ کرنا کیا ہے۔

میری فیس بک کے چہرے پر جو پوسٹ آویزاں ہے، وہ یہ ہے: ’’ہر طرف تجزیے ہو رہے ہیں۔ بحث مباحثے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ بھئی اس بات کی طرف بھی آئیں کہ ہونا کیا چاہیے۔ کرنا کیا ہے۔ یہ سب کیسے تبدیل ہو گا۔‘‘

یعنی پاکستان کو تصور کرنا اور بار بار تصور کرنا، اس میں نہ صرف لذت پسندی داخل ہو گئی ہے، بلکہ یہ ایک عادت بھی بن چکی ہے۔ تصور کریں، اور کام ختم۔ پھر تصور کریں، اور بیٹھے تصور کرتے رہیں۔

یعنی ایک دلدل ہے، جس میں پھنسے رہنے کے لیے نئے سے نئے جواز تلاش کیے جاتے ہیں۔ تصور کریں۔ پھر تصور کریں۔ بار بار تصور کریں۔

یا، تاریخ کو بار بار دہراتے رہیں۔ یہ ہوا تھا۔ اس نے کیا تھا۔ یہ غلط تھا۔ وہ صحیح تھا۔ تجزیے کرتے رہیں۔ تجزیوں سے اختلاف کرتے رہیں۔

جیسے گڈ (بیل گاڑی) گار (کیچڑ) میں پھنس گئی ہو۔ (اور نوری نت اسے باہر نکالنا نہ چاہتا ہو! فلم میں تو نوری نت گڈ کو گار سے نکالنا چاہتا ہے، اور مولا جٹ اس کی مدد کو آ جاتا ہے، مگر حقیقت میں کوئی مولا جٹ نہیں آنے کا!)

ستر برس سے زیادہ ہونے کو آ رہے ہیں۔ براہِ کرم، اب تو تصور کرنے سے چھٹکارا حاصل کیجیے!

بہت تصور کر لیا۔ بہت بار تصور کر لیا۔

اب کوئی قدم اٹھائیں۔ کچھ عمل کریں۔ کوئی عملی کام کا منصوبہ بنائیں۔ غلط ہو گا۔ پتا تو چلے گا، کچھ غلط ہوا۔ اور کچھ صحیح کرنے کی راہ سجھائی دے گی۔

تجزیوں سے یہ بات کیسے نکل سکتی ہے کہ کیا کرنا ہے، اگر چیزوں کو بدلنا پیشِ نظر ہی نہیں۔

لذت پسندی اور عادت کی گرفت سے باہر نکلے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ خود کو بھی میں نے یہی سبق دیا۔ آپ سے بھی یہی استدعا ہے۔

بلکہ مجھے ایک بات اور تنگ کرنے لگی تھی۔ اتنا کچھ لکھنے پڑھنے کا کیا فائدہ۔ ان تصورات اور نظریات کو وضع کرنے سے کیا حاصل، اگر یہ ہماری دنیا کو بدل نہیں سکتے، ہمارے معاشرے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

لیکن تبدیل کرنے نکلیں گے، تو کچھ تبدیل ہو گا نا۔ کچھ خراب ہو گا، اور پھر صحیح کا پتا ملے گا۔

تجزیوں کی لذت اور عادت سے چھٹکارا پا کر کچھ کرنے کی بات ہو گی، تو قدم بھی اٹھے گا۔ پھر یہی قدم، قدموں میں تبدیل ہو گا اور تبدیلی کا سفر شروع ہو جائے گا۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments