[توجہ: یہ نوٹ فیس بک پر حُسن الامین کی دو پوسٹوں سے تحریک پا کر لکھا گیا۔]
جب کسی معاشرے کی بے بسی اور بے کسی حد سے بڑھ جائے۔۔۔
جی، میں مجموعی طور پر معاشرے کی بے بسی اور بے کسی کی بات کر رہا ہوں، معاشرے میں بے بسی اور بے کسی کی بات نہیں کر رہا۔
اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں افراد کی ایک بڑی تعداد خود کو بے بس اور بے کس محسوس کرنے لگے، تو یہ معاشرتی بے بسی اور معاشرتی بے کسی ہی ہے۔ اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ہر فرد اب یا تب بے بسی یا بے کسی کے تجربے سے گزرتا ہے۔ کوئی بھی فرد اس سے بچ نہیں سکتا۔
اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بیشتر لوگوں کی نظر میں بے بسی اور بے کسی کا کوئی بھی حل قابلِ عمل نہیں رہتا۔ یعنی ایک مایوسی دلوں میں گھر کر لیتی ہے۔
بے کسی حد سے جب گزر جائے
کوئی اے دل جیے کہ مر جائے
[جاں نثار اختر]
اس قسم کی بے بسی اور بے کسی کا نتیجہ بالعموم دو صورتوں میں نکلتا ہے۔ مگر دو سے زیادہ صورتیں بھی ہو سکتی ہیں، یعنی غیرمعلوم اور نادیدہ صورتیں۔ اور بعض اوقات ملی جلی صورت بھی وجود میں آ جاتی ہے۔
یاد رہے کہ منظم نراج اور منظم انتشار، بیجان سے گزرتے کسی معاشرے کی لازمی پہچان ہوتے ہیں۔
(بلاشبہ یہ اتھاریٹی کے بحران کا معاملہ ہے۔ یعنی یا تو اتھاریٹی کام نہیں کر رہی ہوتی۔ یا یہ با رسوخ اور طاقت وروں کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہوتی ہے۔ یا تحلیل ہو چکی ہوتی ہے، اور صرف چنیدہ مواقع پر حرکت میں آتی ہے۔ وغیرہ۔)
بہر حال، پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے پیچھے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ سفرِ معکوس اختیار کر لیتے ہیں۔ یعنی باہر کی جانب سفر کے بجائے اندر کی طرف متحرک ہو جاتے ہیں۔ خود کو اپنے داخل کی طرف موڑ لیتے ہیں۔ اپنی سمت کو اُلٹ دیتے ہیں۔ اپنے اندر کی طرف بے ہنگم بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
یعنی ایک بڑی تعداد کے لیے ’’نفسا نفسی کا مظہر‘‘ قریب قریب ایک معمول بن جاتا ہے۔ لوگ کسی بھی چیز کے لیے آپس میں ایک دوسرے کو الزام دینے، مارنے، لوٹنے، قتل کرنے، وغیرہ، پر اُتر آتے ہیں۔
یہ مظہر پردے کے پیچھے موجود اصل حقیقت سے اغماض کا غماز ہے۔
دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے اپنے باہر کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ اپنے داخل کو بھول جاتے ہیں۔ خود کو اپنے بیرون کی طرف موڑ لیتے ہیں۔ اپنے باہر کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ خارج پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔
یعنی ایک بڑی تعداد کے لیے ’’افرا تفری کا مظہر‘‘ قریب قریب ایک معمول بن جاتا ہے۔ لوگ کسی بھی چیز کے لیے منظم اداروں کو موردِ الزام ٹھہرانا، ان پر لعن طعن کرنا، اور بعض حالات میں ان کے خلاف متشدد مزاحمت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
یہ مظہر خارج میں موجود حقیقت کے خلاف غیرمنظم و منظم بغاوت کا پیش خیمہ ہے۔
واضح رہے کہ اس بیچ غلط صحیح کا سوال بے محل ہے۔ صرف ایک معروضی صورتِ احوال کا بیان مقصود ہے۔
یہاں نفسا نفسی سے مراد انسانی و سماجی رشتوں کا کمزور ہو جانا اور بعض حالات میں ٹوٹ جانا، یعنی ان کی شکست و ریخت مراد لی گئی ہے۔
جبکہ افرا تفری کو انتشار اور طوائف الملوکی اور ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی نظمیاتی اور اداراتی بندھنوں کی شکست و ریخت۔
پاکستان کا معاشرہ بنیادی طور پر کئی دہائیوں سے اپنے داخل کی طرف منعطف ہے۔ یہ نفسا نفسی کے مظہر کی ایک بڑی مثال ہے۔
اگر کہیں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اپنے باہر کی طرف مبذول و متوجہ ہو گا تو فی الحال ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ یہی سبب ہے کہ یہاں کسی بڑے تہلکے، کھلبلی، ہلچل یا بغاوت کا کوئی امکان نہیں۔
کیونکہ شہریوں کی ایک معتد بہ تعداد ابھی تک سیاسی جماعتوں، سیاست دانوں اور سیاسی عمل سے مایوس نہیں ہوئی ہے۔ ان کی امید ابھی تک انھی سے لگی ہوئی ہے۔
گو کہ لوگوں نے اپنے تحفظ اور سالمیت کے لیے مخصوص حلقے قائم کر لیے ہیں یا ان کا حصہ بن گئے ہیں اور بن رہے ہیں۔ جیسا کہ پیشہ ورانہ، فرقہ ورانہ، وغیرہ، قسم کے سلسلے۔
ایک اور مظہر آئی ٹی کی بدولت تخلیق ہونے والی دولت ہے، جس نے متوسط طبقے کی کئی پرتوں کو سنبھالا دیا ہے۔
تاہم، ہمیشہ اور ہر جگہ اس بات کا امکان موجود ہوتا ہے کہ کوئی نادیدہ چیز یا واقعہ، واقعات کے کسی متواتر سلسلے کو تحریک دے دے اور یوں کوئی معاشرہ یکدم اپنے باہر کی طرف سرپٹ دوڑ پڑے۔ جیسا کہ تیونس کے معاملے سے عیاں ہوا۔
یاد رہے کہ جب داخل کی طرف جھکا اور مُڑا ہوا کوئی معاشرہ یکدم باہر کی طرف بھاگ اُٹھے تو یہ اس شخص کی مثال کی طرح ہے جس کے گھر آگ لگی ہو اور وہ اضطراری طور پر باہر بھاگ پڑے۔ یہ خانہ جنگی سے پہلے کی صورتِ حال ہوتی ہے۔
لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں ہو گا کہ پاکستان کے معاشرے کے ضمن میں اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ تو یہ معاشرہ باہر کی طرف متوجہ ہو گا نہ ہی یہاں خانہ جنگی کے کوئی آثار موجود ہیں۔
یعنی فی الحال اور تاحال پاکستان کی صورتِ حال خانہ جنگی سے پہلے کی صورتِ حال ہرگز نہیں۔
[یکم جون 2026]