سپریم کورٹ اور سنسنی خیزی
[نوٹ: یہ مضمون 9 دسمبر، 2019 کو لکھا گیا، اور 12 دسمبر 2019 کو نیا دور ڈاٹ ٹی وی میں شائع ہوا۔]
’’جاسوسی کے ذریعے کسی شہری کے وقار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ انٹیلی جینس حکام کس قانونی اختیار کے تحت ٹیلی فون ٹیپ کرتے ہیں۔‘‘

’’یہ انسانی وقار کا معاملہ ہے، آرٹیکل 14 کے تحت کسی شہری کے وقار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے۔‘‘
یہ سپریم کورٹ کے معزز ججوں کی آراء ہیں، جن کا اظہار انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مقدمے کی شنوائی کے دوران کیا۔ یہ آراء 4 دسمبر کے اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔
انھیں پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ اس معاملے میں عدالت کچھ نہ کچھ مثبت قدم ضرور اٹھائے گی۔ دیکھیں اس مقدمے کے اختتام پر کیا نتیجہ یا فیصلہ سامنے آتا ہے۔
لیکن ماضی اس بات کا گواہ …
آرکیڈیا ـ دوسری وڈیو: ذمے داری کا تعین
دوسری وڈیو: ذمے داری کا تعین
…
Arcadia – Dr Khalil’s Political Chatroom
Introductory video:
…
محترم رؤف کلاسرا ۔۔۔ آپ کا ہدف غلط ہے۔
یہ تحریر آپ کے 2 اپریل کے ولاگ کے جواب میں ہے۔
صرف دو باتیں آپ کے سامنے رکھنا مقصود ہے۔

مسابقتی (کمپیٹیشن) کمیشن نے مختلف کمپنیوں کو جرمانے کیے ہیں، جن کا ذکر آپ نے کسی قدر تفصیل سے کیا، اور انھوں نے عدالتوں سے سٹے آرڈر لے لیے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے ایک کمپنی کو سٹے آرڈر لیے ہوئے دس برس کا عرصہ گزر گیا، اور جرمانہ ادا نہیں ہوا۔ اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ عدالتیں جرمانوں کی عدم ادائیگی میں ان کمپنیوں کے ساتھ ملوث ہیں۔ ممکن ہے ہوں بھی۔ اور اگر مسابقتی کمیشن اور حکومتیں دونوں اب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں، تو یہ بھی جرمانے کی عدم ادائیگی میں ان کمپنیوں کے ساتھ ملوث ہیں۔ یعنی یہ ریاستی اشرافیہ کا ایک کھیل ہے۔ یہ سب آئین، قانون اور اداروں کے آئینی اور قانونی مینڈیٹ کی خلاف ورزی …
کورونا وائرس وبا: کیا ہونے جا رہا ہے؟
دو باتیں بہت صاف ہیں۔
پہلی بات تو یہ کہ کورونا سے کسی ایک فرد کی جان کو نہیں، بلکہ ہر فرد کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

دوسری بات یہ کہ انسان اور انسانی معاشرے کا مستقبل بعید عام حالات میں بھی غیریقینی ہوا کرتا ہے، کیونکہ ایک محفوظ معاشرہ تعمیر کرنے کے باوجود انسان جس دنیا میں زندہ ہے، اس میں کام کرنے والی لاتعداد قوتوں پر اس کا اختیار بےحد کمزور ہے۔ وہ ایک حد تک سیلاب، زلزلوں، اور دوسری آفات کا مقابلہ کر سکتا ہے، ابھی اس سے بڑھ کر نہیں۔ مگر جہاں تک ان دیکھی آفات کا تعلق ہے، جیسے کہ نظامِ شمسی سے کسی آفت کا ظہور، وغیرہ، تو اس کے بارے میں انسان کا علم قریب قریب نہ ہونے کے برابر ہے۔
وباؤں کا مقابلہ انسان پہلے بھی کرتا رہا ہے، اور آج تو زیادہ بہتر انداز میں کر سکتا ہے۔
یہ چیز …
فسطائیت اپنے پنجے گاڑ رہی ہے
نوٹ: یہ تحریر 7 دسمبر 2019 کو ’’نیادور‘‘ پر شائع ہوئی۔
https://urdu.nayadaur.tv/25638/
پاکستانی فسطائیت کا چہرہ دو خطوط سے عبارت ہے، حماقت اور خودراستی۔ لیکن اندر سے یہ اپنے گنوں میں پوری ہے، یعنی اصلاً فسطائیت ہے۔ جتنا پاکستانی فسطائیت، فسطائی ہو سکتی ہے۔
میں نے حماقت کو اس لیے پہلے رکھا ہے کہ خودراستی کا دعویٰ ایک احمقانہ دعویٰ ہے۔ کیونکہ ہر سچ کو کچھ کہ کچھ معیارات پر پرکھا جانا ضروری ہے، اور انسانی دعوے کامل نہیں ہو سکتے۔
حماقت اس کی کرداری خصوصیت نہیں۔ یہ اس کے اس دعوے کی پیداوار ہے کہ یہ ’’عقلِ کل‘‘ ہے۔ لہٰذا، حماقتیں خود وارد ہوتی رہتی ہیں۔
اب اگر پاکستانی فسطائیت عقلِ کل ہے، تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باقی سب ’’عقلِ خام‘‘ ہیں، یعنی جاہلِ مطلق ہیں۔ پھر یہ بھی کہ آج تک جو بھی ہوا، وہ کرپشن (بدعنوانی) کی کمائی اور ثمر تھا اور غلط …
امریکہ ـ طالبان معاہدہ اور ’’رنگا رنگ‘‘ ردِ عمل
اس تحریر کا مقصد امریکہ ـ طالبان معاہدے کا جائزہ لینا یا اس پر کسی قسم کو کوئی تبصرہ کرنا نہیں۔
اس تحریر کا مقصد اس معاہدے پر جو ردِ عمل سامنے آ رہے ہیں، ان کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا ہے۔
پہلی بات یہ کہ وہی پرانی حکایت دہرائی جا رہی ہے، جس میں ایک کسان اور اس کا بیٹا اپنا گدھا بیچنے کے لیے منڈی لے جاتے ہیں۔ باپ بیٹے کو گدھے پر بٹھا دیتا ہے، اور خود پیدل چلتا ہے۔ لوگوں کو اس پر اعتراض ہے کہ دیکھو کیسا بیٹا ہے باپ پیدل چل رہا ہے، اور یہ خود گدھے پر سوار ہے۔ اب باپ گدھے پر سوار ہو جاتا ہے، اور بیٹا پیدل چلتا ہے۔ لوگ اس پر بھی معترض ہیں کہ دیکھو کیسا باپ ہے، خود گدھے پر سوار ہے اور بیٹا پیدل چل رہا ہے۔ اب دونوں گدھے پر سوار ہو جاتے …
کیا ہر روشن دماغ اور سوچنے سمجھنے والا شخص کسی نہ کسی کا ایجینٹ ہے؟
اکثر اوقات سوچ کے سانچے، افراد کی ذہنی ساخت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
قدیمی آبادیوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود کو نہ صرف طبیعی سرحدوں کے اندر بلکہ اپنی اساطیری اور روایاتی سرحدوں کے اندر بھی بند رکھیں۔ یہ بقا کی میکانکیت تھی۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا، تو باہر سے ہر قسم کے ’’دشمن‘‘ (حیوانات اور اجنبی گروہ) انھیں نقصان پہنچا سکتے تھے، یا ختم کر سکتے تھے۔

مگر قدیمی خانہ بدوش آبادیاں خود کو کسی طرح کی سرحدوں میں بند نہیں کرتی تھیں۔ ان کی بقا کی میکانکیت کسی نوع کی سرحدوں کی مرہونِ منت نہیں تھی۔ جب یہ لوگ کہیں آباد ہوتے، تو ان کی بقا کی میکانکیت بھی تبدیل جاتی۔
مراد یہ کہ طبیعی، اساطیری اور روایاتی سرحدوں نے قدیمی آبادیوں کے افراد کے فکری سانچوں کو ان کی ذہنی ساخت میں تبدیل کر دیا۔
قدیمی افراد کی یہ ذہنی ’’ساختیں‘‘ بالخصوص ان …
دھڑا دھڑ لیے گئے قرضے کیا لوگوں کی جیبیں کاٹ کر ادا کیے جائیں گے؟
یہاں کچھ ٹویٹس منسلک کی جا رہی ہیں:

ہر حکومت جس طرح قرضے لیتی ہے، اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ انھیں کوئی پروا نہیں، کیونکہ ان قرضوں کی ادائیگی کونسا ان کی جیب سے ہو گی۔
اس رویے کا کیا حل ہونا چاہیے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

ایک بات تو یہ عیاں ہے کہ جب تک ذمے داری عائد نہیں کی جائے گی، ہر کوئی اسی طرح بغیر سوچے سمجھے قرض لیتا رہے گا۔

دوسرے یہ کہ ایک کارکردگی آڈٹ ہونا چاہیے، جس کا مقصد یہ دیکھنا اور بتانا ہو کہ کونسا قرض غیرضروری تھا، اور کونسا قرض ضروری تھا، اور جو ضروری تھا، اس میں سے قرض کی کتنی مقدار کہاں خرچ ہوئی۔ اور اس میں سے کتنی مقدار غیرضروری چیزوں پر خرچ ہوئی۔
تیسرے یہ کہ قرض کا جو حصہ غیرذمے داری سے غیرضروری چیزوں پر خرچ کیا گیا، اس کے ضمن میں ذمے داروں …
بایاں بازو بھی تحریکِ انصاف کی طرح فسطائی (فاشسٹ) ثابت ہو گا
آج کل یوں معلوم ہو رہا ہے کہ جیسے بائیں بازو کی سیاست کا احیا ہو رہا ہے۔ منظور پشتین کی گرفتاری پر مختلف شہروں اور خاص طور پر اسلام آباد میں جو احتجاج ہوئے، بائیں بازو کی جماعت، عوامی ورکرز پارٹی، نے اس میں بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئیں، ان میں ’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ (پی ٹی ایم) کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے کارکن بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل جب اپریل 2018 میں پی ٹی ایم نے لاہور میں جلسہ کیا۔ اس وقت بھی عوامی ورکرز پارٹی نے اس کی ’’کچھ نہ کچھ‘‘ میزبانی کی تھی۔ میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ عوامی ورکرز پارٹی، جو کہ سوشل ازم (اشتراکیت) کی دعویدار ہے، وہ پی ٹی ایم کے ساتھ کیونکر متحد ہو سکتی ہے۔ سوشل ازم (اشتراکیت) میں تو حقوق کا کوئی ذکر نہیں۔ جبکہ پی ٹی مجسم …
میرے پاس تم ہو’’ میں کچھ تو جادو تھا‘‘
میں نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا۔ ہاں، مگر اس کی مقبولیت کو ضرور دیکھا۔ یہ یہی مقبولیت ہے، جس نے مجھے اس کے بارے میں کچھ لکھنے پر مجبور کیا۔
ہمارے گھر میں بھی یہ ڈرامہ دیکھا جاتا تھا۔ اس پر گفتگو بھی ہوتی تھی۔ اسی گفتگو سے اور پھر سوشل میڈیا سے اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ پتا چلتا رہتا تھا۔

صاف بات ہے اس ڈرامے میں کچھ تو جادو تھا، اسی لیے تو لوگ خاص طور پر عورتیں اس میں غیرمعمولی دلچسپی رکھتی تھیں۔ اور پھر اختتام تک پہنچتے پہنچتے، اس نے سارے میڈیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
پھر اس کے ایک کردار، دانش، کا جو انجام دکھایا گیا، اس پر جو ہنگامہ برپا ہوا، وہ علاحدہ ایک قصہ ہے۔ اور ایک ایسا قصہ، جس کا سایہ سیاست پر بھی پڑا۔ جتنی جاندار ’’میمز‘‘ (Memes) ’’دانش‘‘ کے بارے میں تخلیق ہوئیں، اور جتنی تیز …
غیرسرکاری سینسرشپ
کوئی دو ماہ قبل مجھے ’’نیا دور‘‘ (www.NayaDaur.tv) سے لکھنے کی دعوت موصول ہوئی۔ یہ خوشی کی بات تھی۔ میں نے انھیں کہا کہ میں فری لانس مصنف و محقق ہوں، کیا آپ ادائیگی کریں گے۔ انھوں نے کہا ابھی تو ابتدا ہے، آگے چل کر ضرور کریں گے۔

میں نے لکھنا شروع کر دیا، اس درخواست کے ساتھ کہ کچھ بھی تبدیل کرنا ہو یا نکالنا ہو تو مجھے بتائیے۔ پانچ چھ مضامین شائع ہوئے۔ انھی دنوں لاہور میں دل کے ہسپتال پر وکیلوں کا دھاوا ہو گیا۔ میں نے ایک مضمون بھیجا، جس کا عنوان ’’پی آئی سی دھاوا: مقدمات آئی جی اور وزیر اعلیٰ پر بھی درج ہونے چاہییں‘‘ تھا۔ جب شائع ہوا تو عنوان بدل گیا تھا: ’’پی آئی سی دھاوا: مقدمات آئی جی اور وزیر اعلیٰ پر درج ہونے چاہییں‘‘ میں نے عرض کی کہ یوں تو سارے کا سارا استدلال قتل ہو …
Addendum to the conversation: What should we (the civil society) be doing in India and Pakistan
Here is the link to the original conversation:
https://pakpoliticaleconomy.com/?p=1774
As Jayant Bhandari and I conversed, a few others joined. Since they commented publicly, below are copied, though anonymously, what did they add.
Anonymous 1: “state fulfilling its constitutional role/responsibilities”, “Form a political party to work as an institution”. ??? How much longer can grown-ups believe in these fairy tales of a benevolent state controlled by a political process – when the reality, right before their eyes, is so different, and not in a good way?
Khalil Ahmad: I fear you miss the context of the discussion. The context is Pakistan and India, especially.
Anonymous 1: Pakistan and India – even more so. Transpose the western idea (a fairy tale, really) of a enlightened benevolent state responsive to political process inputs, and viola! – we have two examples of prosperity and peace – India and Pakistan
KA: First I didn’t talk …
بےنظیر بھٹو کا فسانہ
نوٹ: یہ تحریر 31 دسمبر 2019 کو https://nayadaur.tv پر شائع ہوئی۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب بے نظیر بھٹو دسمبر 1988 میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور پہلی بار وزیرِ اعظم بنیں۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے پاکستان کی دنیا بدل جائے گی۔ پاکستان کے عام لوگوں کے دلدر دورہو جائیں گے۔ بہت کچھ بدل جائے گا۔

پھریوں ہوا کہ ابھی چھ سات ماہ گزرے تھے کہ انھوں نے جون 1989 میں امریکہ کا سرکاری دورہ کیا، اور امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ یہ خطاب پاکستان میں بھی نشر کیا گیا۔ میں نے بھی بڑے شوق اور فخر سے سنا۔ مگر یہی وہ خطاب تھا، جسے سن کر ان پر سے میرا اعتبار اٹھنے لگا۔ ایک دراڑ پڑ گئی تھی۔
بے نظیر نے خطاب کے دوران امریکی نمائندگان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’میرے دوستو، یہی وقت ہے پاکستان میں معجزات برپا کرنے …
ریاستی معیشت اور شہری معیشت
میری ایک اور تصنیف طباعت کے مراحل میں ہے۔
ریاستی معیشت اور شہری معیشت:
علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد
ریاستی اشرافیہ کی بقا کی انحصار ریاستی معیشت پر ہے۔ شہری معیشت کے غالب آتے ہی، ریاستی معیشت،
اور نتیجے کے طور پر، ریاستی اشرافیہ کی طفیلیت، دونوں اپنے انجام سے ہمکنار ہونے لگیں گی۔…
What should we (the civil society) be doing in India and Pakistan? A conversation between an Indian and a Pakistani
Jayant Bhandari is an Indian who left India and settled in Canada. I never met him. He’s a Facebook friend. His posts generate thoughtful discussions and that’s how we both found each other in a good friendly relation.
I did try to leave Pakistan during my teen years, and failed. Later I abandoned the idea of leaving the country for obvious “reasons.” I wanted to do my bit to free our people from the pseudo shackles made of unfounded notions by the Riyasati Ashrafiya (ریاستی اشرافیہ) of Pakistan.
What is common between Jayant and I is the deep concern for the freedom, well-being and happiness of our respective people. And no doubt for the larger humanity too.
Early this January one post of Jayant attracted my attention. It was an excerpt from one of his articles: First World, Third World.
“Irrespective of the merit of what Trump did, those who …
آئین کا نفاذ 14 اگست 1973 کو ہو گیا تھا، پھر تردد کیسا
نوٹ: یہ تحریر https://nayadaur.tv پر شائع نہیں ہو سکی۔
ابھی جب خصوصی عدالت نے جینرل مشرف کے خلاف ’’سنگین غداری‘‘ کے مقدمے میں فیصلہ سنایا، تو اس پر آئی ایس پی آر کی طرف سے فوج میں غم و غصے کے ردِ عمل کا اظہار نہ صرف غیرآئینی اور خلافِ آئین تھا، بلکہ یہ انتہائی غیرضروری اور غیراخلاقی بھی تھا۔
بات سیدھی سی ہے کہ موجودہ طور پر 1973 کا آئین نافذالعمل ہے۔ یہ یہی آئین ہے، جو پاکستان کی ریاست کو وجود میں لایا ہے۔ اسی آئین نے مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ کو وجود دیا ہے۔ اسی آئین نے دوسرے تمام آئینی اداروں کو وجود بخشا ہے۔ ’’فوج‘‘ کا وجود بھی اسی آئین کا مرہونِ منت ہے۔ آئین نہ ہو، نہ تو اس ریاست کا وجود قائم رہے گا، نہ ہی دوسرے اداروں کا، اور نہ ہی فوج کا۔
لہٰذا، آئین جس جرم کو ’’سنگین جرم‘‘ قرار دیتا ہے، اگر …
ریاست کو نئے سرے سے آئین کے مطابق ڈھالنا ہو گا
نوٹ: یہ تحریر 13 دسمبر 2019 کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔
https://urdu.nayadaur.tv/26108/
لاہور میں دل کے ہسپتال پر وکلا کا دھاوا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہو گا۔
تو پھر خرابی کہاں ہے؟
سوال تو یہ ہے کہ خرابی کہاں نہیں؟
بس ایک آئین ہے، جس سے امید باندھی جا سکتی ہے۔ مگر آئین تو محض ایک اخلاقی دستاویز ہے۔ اس پر عمل تو ہوتا نہیں۔
طاقت ور گروہ اس پر عمل نہیں ہونے دیتے۔ ریاستی اشرافیہ، اور اس کے مختلف طبقات، جیسے کہ سیاسی اشرافیہ، فوجی اشرافیہ، کاروباری اشرافیہ، وغیرہ، اس پر عمل نہیں ہونے دیتے۔ اشرافیہ کے طبقات نے ریاست اور اس کے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہ آئین اور قانون کو اپنی ضرورت اور فائدے کے مطابق ڈھالتے اور توڑمروڑ لیتے ہیں۔
یعنی جیسا کہ عیاں ہے کہ ریاست لوگوں کے لیے ہوتی ہے، لوگ ریاست کے لیے نہیں۔ مگر …
آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم قانون کی روح سے متصادم ہے
نوٹ: یہ تحریر 5 جنوری کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔
https://urdu.nayadaur.tv/27722/
فوجی آمروں نے آئین کے ساتھ جو سلوک کیا، اس پر تعجب نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب آئین کو معطل کر کے مارشل لا نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب شخصی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ اور جب شخصی حکومت قائم ہو گئی، تو آئین وہ چھکڑا بن جاتا ہے، جسے آمریت کے گدھے کے پیچھے باندھ دیا جاتا ہے۔
لیکن جب سیاست دان، خواہ یہ اصلی ہوں، یا جعلی، یا نام نہاد، یا کرائے کے، آئین کی درگت بناتے ہیں، تو تعجب ہی نہیں، ان کی عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ اور بہت کچھ جو بھی کیا جا سکتا ہے، وہ ضرور کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ فوجی آمر تو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، حکومت پر قبضہ کرتا ہے۔ جبکہ سیاست دان آئینی طریقِ کار کے مطابق منعقدہ …
کیا بایاں بازو بدل رہا ہے؟
نوٹ: یہ تحریر 2 دسمبر کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔
https://urdu.nayadaur.tv/25285
اس نومبر میں الحمرا لاہور میں معنقد ہونے والا ’’فیض میلہ‘‘ ’’فیض‘‘ سے زیادہ میلہ ٹھیلہ تھا۔ مراد یہ کہ ایک ڈھیلے ڈھالے بائیں بازو کا میلہ تھا۔
جیسا کہ ملک میں تفریح ایک نایاب شے بن گئی ہے، یہ موقع اس کمی کو بھی پورا کر رہا تھا۔ مختلف ہال کمروں میں جو سیشن ہو رہے تھے، وہ اپنی جگہ۔ سب سے بڑھ کر ہجوم، ہال نمبر 2 کے سامنے تھا۔ پتا چلا فلم سٹار، ماہرہ خان آ رہی ہیں۔
مختلف ہال کمروں میں کیا گفتگو ہو رہی تھی، معلوم نہیں۔ جو لوگ جنھیں سننا چاہتے تھے، انھیں سننے آئے تھے۔ خود میرا اور دوستوں کا تاثر یہ تھا کہ کسی کے پاس کوئی نئی بات نہیں۔ باربار وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے، جو پہلے بھی باربار کہا جا چکا ہے۔ پھر یہ کہ بولنے والے …