FTAs – Do they really free the trade?

In recent years free trade agreements have become fashionable. Thus, when two or more countries reach an agreement to allow free trade (because it is they which in the first instance imposed restrictions on free trade), it is publicized as a Free Trade Agreement. It is misleading and ridiculous! It’s not allowing free trade between the contracting countries, since there are more ‘strings’ here than the natural freedom allows!


[This short paper tires to highlight some of the points of Free Trade Agreements that negate the very concept of Free Trade. It argues that governments do not need any agreement to promote free trade; that is a contradiction in terms. Agreements are reached between trading parties, not between the governments. In order to explain this, South Asian Free Trade Area agreement’s text has been used as a test case. This agreement was reached between Bangladesh, Bhutan, India, Maldives, Nepal, Pakistan …

ہمارا سماجی و سیاسی مقدر کیسے بنتا ہے، اور بدلتا کیوں نہیں؟

۔ پہلی بات  یہ کہ میرے پیشِ نظر پاکستان ہے۔

۔ اب آ جاتے ہیں، سوال کی طرف۔

ہمارا سماجی و سیاسی مقدر

۔ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جیسا کہ سوال خود کچھ نہیں ہوتا، جس نوعیت کے جواب کی طرف یہ اشارہ کر رہا ہوتا ہے، وہ چیز اس کی اہمیت کا تعین کرتی ہے۔

۔ اس مفہوم میں سوال مشکل قطعاً نہیں، ہاں، اس کا جواب نہایت پیچیدہ اور طویل ضرور ہو گا۔

۔ مگر چونکہ یہ ایک مختصر تحریر ہے، لہٰذا، مختصر جواب پر ہی اکتفا کیا جائے گا۔

۔ یعنی جو چیزیں اور باتیں اس سوال کے جواب کی تشکیل کرتی ہیں، ان کی طرف محض اشارہ کیا جائے گا۔

۔ انسان تصورات کا مجموعہ ہے۔ اس کی زندگی کی قوتِ محرکہ تصورات ہیں۔

۔ مراد یہ کہ یہ اس طرح کی زندگی گزارتا ہے، یا گزارنا چاہتا ہے، جو اس کے تصورات سے میل کھاتی ہو۔

۔ …

دو سو سال طویل خواب، مغل اشرافیہ اور پاکستانی اشرافیہ

۔ بایاں بازو، دایاں بازو، لبرل، اور جو بھی ایسے ہی دوسرے انداز ہائے نظر موجود ہیں، یہ سب کے سب اب تک انگریزوں کو رد و مسترد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

دو سو سال طویل خواب، مغل اشرافیہ اور پاکستانی اشرافیہ

۔ یعنی انگریزوں کو گئے، ستر برس سے زیادہ ہو گئے، مگر یہ اب تک ان کو رگیدے جا رہے ہیں۔

۔ (اور یہ چیز قابلِ غور ہے کہ اگر اتنے برس بعد بھی ان کو رگیدا جا رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہیں بہت گہرائی میں جا کر کچھ نہ کچھ ایسا ہے جسے اس کی جگہ سے ہلا گئے ہیں۔)

۔ اور اب تک بتایا جا رہا ہے، وہ نہ آتے، تو ہم کہاں ہوتے، اور کیسے ہوتے۔ اور انھوں نے آ کر ہماری ترقی یافتہ تہذیب، ثقافت، صنعت، وغیرہ، کو کیسے برباد کر دیا۔ اور اب تک ہر بری اور غلط چیز کا رشتہ کولونیل دور سے جوڑ دیا …

پاکستانی فسطائیت اور ہٹلر کی فسطائیت

ایک پریشان خیالی تو یہ ہے کہ پاکستانی فسطائیت، فسطائیت نہیں، اور یہ کہ، جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں، فسطائیت تو ہٹلر کی فسطائیت تھی۔

یا شاید وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی فسطائیت کو ہٹلر جیسی فسطائیت ہونا چاہیے۔

فسطائیت کی تعریف اور  اس کے بارے میں درسگاہی مطالعات سے قطع نظر، فسطائیت کو ایک رویے اور انداز ہائے نظر اور طرزِ عمل کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

اس کی تہہ میں، کہیں نہ کہیں، خود پارسائیت کا زعم کلبلا رہا ہوتا ہے۔ یہ ہر کسی کو غلط اور گمراہ گردانتی ہے۔ یہ نہ تو تاریخ کو تسلیم کرتی ہے، نہ انسانی تہذیب کی تحصیلات کو۔ یہ کسی اصول کو نہیں مانتی، نہ ہی اقدار کا پاس کرتی ہے۔ یہ خود کو ایک اصول، معیار اور قدر کے طور پر پیش اور نافذ کرتی ہے۔

یعنی  یہ خود ایک پیمانہ ہوتی ہے، جس پر دوسروں اور …

آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے: ایک برتر قبیلے کے برتر اخلاقی شعور کی تحلیل

’آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے۔‘

’آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘

’آپ کو ایسا نہیں لکھنا چاہیے۔‘

’آپ کو ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔‘

یا جیسے کہ سوشل میڈیا پر: ’آپ کو ایسی پوسٹ نہیں کرنی چاہیے۔‘

یہ ہیں وہ کلمات جو بعض اوقات یا اکثر اوقات ہر کسی کو کہیں نہ کہیں کبھی نہ کھی مختلف لوگوں سے سننے کو ضرور ملے ہوں گے۔ اور یقیناً اس ضمن میں لوگوں کا تجربہ مختلف رہا ہو گا۔ کسی کو ایسی باتیں کم اور کسی کو زیادہ سننے کو ملی ہوں گی۔ لیکن غالباً ایسا نہیں ہو گا کہ کسی کو ایسی کوئی بات کبھی سننے کو نہ ملی ہو۔

مجھے بھی مختلف مواقع پر ایسی باتیں سننے کو ملیں۔ زیادہ نہیں، بس چند بار۔ مگر یہ بہت تکلیف دہ تھیں۔ کیونکہ ایسی باتیں اکثر ان افراد کی طرف سے کہی گئیں، جو میرے بارے میں اچھی یا بہت اچھی رائے …

سیاست دان ووٹ کو عزت دلوانے سے قاصر ہیں

ـ نواز شریف (پاکستان مسلم لیگ ن) کا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مقدمہ، قضیہ یا نعرہ گمراہ کن تھا۔

ـ ویسے اب تو یہ نعرہ سیاسی افادیت بھی کھوتا نظر آ رہا ہے۔

ـ اگر اس نعرے کی معنوی ساخت پر غور کریں، تو معاملہ عیاں ہو جاتا ہے۔

ـ ووٹ کو عزت دو، یوں ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے کسی سے کوئی چیز، یعنی عزت مانگی جا رہی ہے۔

ـ کس سے؟

ـ اقتدار کی سیاست کے سیاق و سباق کو سامنے رکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ ووٹ کے لیے یہ عزت، قائمیہ (Establishment) سے مانگی جا رہی تھی۔

ـ اور اب یوں باور ہو رہا ہے کہ ووٹ کو تو عزت نہیں ملی، مگر جیسے ووٹ کے لیے عزت مانگنے والوں کو کچھ عزت بخش دی گئی ہے۔

ـ اس اقتداری سیاست سے قطع نظر، اگر آئین کے سیاق و سباق کو سامنے رکھیں، تو جو …

پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دور

یہ 2018ء کے عام انتخابات سے دو تین ماہ پہلے کی بات ہے۔

مجھے یاد ہے یہ میرے لیے انتہائی مایوسی اور بے بسی کا دور تھا۔ بے بسی کا دور اس لیے تھا کہ جیسے یونانی دیوی کیساندرا کا معاملہ ہے کہ وہ جو پیشین گوئیاں کرتی ہے، وہ سچ ہوتی ہیں، مگر کوئی ان پر یقین نہیں کرتا۔

بلکہ میری مایوسی اول روز سے موجود تھی۔

جب 30 اکتوبر 2011ء کو لاہور میں تحریکِ انصاف کا جلسہ ہوا، اس وقت سے مجھے احساس ہو گیا تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ یہ کوئی الہام جیسی چیز نہیں تھی۔ عمران خان کی شخصیت میں اور یوں تحریکِ انصاف میں جو رجحانات ابتدا سے موجود تھے، وہ بتا رہے تھے کہ پاکستان فسطائیت کی تاریکی میں ڈوبنے جا رہا ہے۔

اس معاملے پر میں نے نومبر 2011ء میں ایک مضمون بعنوان، ’’دوسرا عظیم دھوکہ‘‘ لکھنا شروع کیا (پاکستان کے …

نقصان برائے نقصان

ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ کوئی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے اپنے فائدے کے لیے۔ چلیں اس نے خود کوئی فائدہ تو اٹھایا۔
مگر ایک اور چیز ہوتی ہے کہ کوئی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے، مگر خود اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

Harming Pakistan for the sake of harm

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نقصان کیوں پہنچایا؟
یہی چیز ہے جو اب تک مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ مگر اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، تو اس میں ہونے والی بہت سی چیزوں میں نقصان پہنچانے والے کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا۔ وہ پاکستان کو بس نقصان پہنچانے کی خاطر نقصان پہنچا رہا ہے۔
اور پاکستان سے میری مراد پاکستان کے شہری ہیں۔ خاص طور پر عام شہری۔ نقصان انھیں پہنچ رہا ہے۔
اور یہ نقصان باہر سے نہیں، پاکستان کے اندر سے پہنچایا جا رہا ہے۔ اور نقصان پہنچانے والے وہ …

لوگوں کو الزام دینا، ذمے دار ٹھہرانا بالکل غلط ہے

کیا اس ملک کے لوگوں کے کوئی اصول ہیں، کوئی اقدار ہیں، جن پر وہ یقین رکھتے ہوں؟

How to fix responsibility

مگر یہ سوال ہی غلط ہے؟

لوگ تو غیرمنظم ہوتے ہیں۔ ان کی طاقت بکھری ہوتی ہے، منتشر ہوتی ہے، وہ تو ایک کلرک کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔

جب وہ منظم ہو جاتے ہیں، جیسے کہ شہری تنظیموں کی صورت میں، سیاسی جماعتوں کی صورت میں، تو ان کی طاقت بھی منظم ہو جاتی ہے۔ اور وہ طاقت ور بن جاتے ہیں۔

پھر یہ کہ لوگ بیشتر عملیت پسند یا عمل پسند ہوتے ہیں۔ یعنی وہ، جیسے بھی حالات ہوں، بڑی تیزی سے ان میں زندہ رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ جو نہیں سیکھتے یا نہیں سیکھ پاتے، یا نہیں سیکھ سکتے، یا سیکھنا نہیں چاہتے، وہ ایک مفہوم میں ناکام زندگی گزارتے ہیں۔ یا خود کشی کر لیتے ہیں۔

ہاں، مگر کچھ لوگ ان حالات کو تبدیل کرنے کا بیٹرا …

نظریۂ ضرورت یا آئین کی بالادستی

کچھ نظریات ایسے بھی ہیں، جن کا زور اس بات پر ہے کہ عمران خان کی حکومت کو مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے۔
Doctrine of Necessity or Constitutionalism
دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یوں لوگوں کا تبدیلی کا شوق پورا ہو جائے۔
ایک اور دلیل یہ ہے، اور یہ سادہ لوح لوگوں کی طرف سے ہے، کہ حکومت کے لیے مدت پوری کرنا ضروری ہے، اور آئین کا تقاضا بھی ہے۔
یعنی حامی اور مخالف دونوں جانب سے مختلف طرح کی دلیلیں موجود ہیں، اس نظریے کے حق میں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کسی غیرآئینی حکومت کو کیوں قبول کیا جائے، مدت پوری کرنے کی بات تو علاحدہ رہی۔
جو لوگ پاکستان کی عدلیہ کو نظریۂ ضرورت کا طعنہ دیتےہیں، تو کیا یہ لوگ خود نظریۂ ضرورت کے حامی نہیں بنے ہوئے۔ یعنی وہ بھی نہ صرف ایک غیرآئینی حکومت کو قبول کر رہے ہیں، بلکہ چاہتے ہیں کہ یہ مدت

کرپشن (بدعنوانی) کے خلاف سامنے آنے والے مختلف ردِ عمل

کرپشن بھی کئی دوسری چیزوں کی طرح قدیم سے موجود چلی آ رہی ہے۔

آج کی دنیا میں یہ جس طرح پھیلی ہوئی ہے، اس سے یہ باور ہوتا ہے، جیسے کہ اسے قبول کر لیا گیا ہو۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ اسے کبھی قبول نہیں کیا گیا۔

کہنے سے مراد یہ ہے کہ کرپشن نظام کا حصہ بن گئی، لازمی حصہ، اور اسے اس نظام کو چلانے والوں نے قبول بھی کر لیا۔

لیکن جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے، انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ وہ تو نظام اور کرپشن کو قبول کرنے والوں، یعنی کرپشن کے نظام کو چلانے والوں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اس نظام کے سامنے بے بس ہیں۔ جو اس نظام کو بدلنے کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس نام سے سیاست کا ڈول ڈالتے ہیں، وہ بھی اسی کرپشن کے نظام کا حصہ ہیں۔ تو لوگ مجبور و …

نسائیت کی تحریک ۔ ایک تجزیہ

۔ یہ تحریر پاکستان میں نسائیت کی تحریک کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ غلط، صحیح، سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

March

۔ نسائیت کی تحریک ملک میں گذشتہ 30۔ 35 برس سے موجود ہے۔

۔ یہ تحریک موجود ہے۔ ختم نہیں ہوئی۔ نہ بکھری۔ نہ منتشر ہوئی۔

۔ بلکہ مضبوط ہوئی ہے۔ مستحکم ہوئی ہے۔ پھیلی ہے۔

۔ اس کی ایک شکل بنی ہے۔ منظم شکل۔ یعنی یہ متعدد تنظیموں میں متشکل ہوئی ہے۔

۔ قبل ازیں یہ چند ایک تنظیموں کی صورت میں منظم تھی۔ جیسے کہ وومین ایکشن فورم۔

۔ جہاں تک مطالبات کا تعلق ہے، تو اس ضمن میں بھی یہ صاف اور واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ ملاحظہ کیجیے اس کے مطالبات کا چارٹر۔

۔ اس تحریک پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ غیرملکی فنڈز پر انحصار کرتی ہے۔ یہ کسی بھی تحریک کو جانچنے کا ایک گمراہ کن طریقہ ہے۔ …

خود پارسائیت ۔ پاکستانی فسطائیت کا جوہر

خود پارسائیت کا مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف میں پارسا اور ٹھیک ہوں، اور باقی سب گنہ گار اور غلط ہیں۔ یہ ایک نہایت تباہ کن رجحان ہے۔ اس کا بڑا شاخسانہ یہ ہے  کہ دوسروں کی رائے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ لہٰذا، فسطائی، اپنے علاوہ دوسرے لوگوں سے رائے کی آزادی کا حق چھین لیتے ہیں۔

ویسے تو خودپارسائیت کا یہ فسطائی رجحان پاکستان میں شروع سے موجود تھا۔ مگر سیاست میں اس کا غلبہ تحریکِ انصاف سے خاص ہے۔

یہی رجحان ہے، جو عمران خان اور یوں تحریکِ انصاف میں ابتدا سے جاری و ساری تھا۔ اور اسی رجحان کی شناخت کے سبب میں نے 2012 ہی میں تحریکِ انصاف کی سیاسی حقیقت کو کھول کر بیان کر دیا تھا (دیکھیں میری کتاب: سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست، جولائی 2012)۔ یعنی یہ جماعت اگر کسی طرح اقتدار میں آ بھی گئی، تو کارکردگی نہیں دکھا …

نواز شریف کو لوگوں سے معافی تو لازماً مانگنی چاہیے

نواز شریف آج جن طاقتوں کے خلاف کھڑے ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہ ماضی میں ان کے ساتھ ساز باز کرتے رہے ہیں۔ اور ان کے ساتھ ملوث بھی رہے ہیں۔

لیکن اس چیز سے درگزر کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ دنیا بھر میں سمجھا جاتا ہے، یہی طاقتیں پاکستان میں نہ صرف بیشتر حکومتیں بنانے اور ہٹانے کے پیچھے کارفرما ہوتی ہیں، بلکہ اِس یا اُس سیاسی جماعت کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے بھی برسرِ پیکار رہتی ہیں، تو ایسے میں کوئی سیاسی جماعت اگر اپنی بقا کے لیے پیچھے ہٹتی ہے، اور ان طاقتوں کے ساتھ مصالحت کرتی ہے، تو اس کے لیے اتنی گنجائش نکالنا مناسب ہو گا۔ لیکن اس سے زیادہ قطعاً نہیں۔

مثلاً غالباً ذوالفقارعلی بھٹو کو موقع نہیں ملا، ورنہ وہ بھی جلاوطن ہو سکتے تھے، اور اپنی جان بچا سکتے تھے۔

مثلاً نواز شریف جینرل مشرف کے …

شہباز شریف کو یہ ایک سزا تو ضرور ملنی چاہیے

شہباز شریف پر جو مقدمات قائم ہوئے ہیں، ان سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔

نہ ہی ان سے میری کوئی ذاتی مخاصمت ہے۔

ان سب باتوں سے جدا، انھوں نے جو ’’جرم‘‘ کیا ہے، وہ کوئی چھوٹا ’’جرم‘‘ نہیں۔

یہ بہت بڑا ’’جرم‘‘ ہے، جس نے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انھوں نے ترقی کے نام پر لاہور اور کچھ دوسرے شہروں میں جو تباہی پھیلائی ہے، وہ تو ایک خوفناک کہانی ہے۔

اصل تباہی جو انھوں نے پھیلائی اور جس نے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، اس کی طرف نہ میڈیا کی توجہ ہے، نہ تجزیہ کاروں کی، نہ کالم نگاروں کی، اور نہ ہی خود ان شہریوں کی، جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

لاہور میں جو سڑکیں تعمیر کی گئیں، وہاں فٹ پاتھ تباہ و برباد اور ختم کر دیے گئے۔

دوسرے شہروں میں جہاں جہاں شہباز شریف کی ’’نظرِ …

کیا عثمان بزدار کو ہٹانا اصل مسئلہ ہے؟

عثمان بزدار کو ہٹانا یا نہ ہٹانا کوئی مسئلہ نہیں۔ اکثر صحافی، تجزیہ کار اور حزبِ اختلاف کے سیاست دان اسی پر متوجہ ہیں۔ جبکہ جو اصل مسئلہ ہے، اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

اصل مسئلہ ہے 2018 کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی دھاندلی۔ یہ معاملہ بھرپور توجہ چاہتا ہے۔ خاص طور پر حزبِ اختلاف کو اس معاملے پر سیاست کرنی چاہیے۔ اگر وہ اس معاملے پر توجہ نہیں دیتی، تو اس کا مطلب ہے وہ صرف اقتداری سیاست (پاور پالیٹکس) میں دلچسپی رکھتی ہے۔ جمہوری سیاست میں نہیں۔

اور جب تک سیاست دان جمہوری سیاست نہیں کریں گے، جمہوریت لوگوں کے لیے بے سود اور بے معنی رہے گی!…

مایوسی کی نیند

اپنی مایوسی کو اگر کسی چیز سے تشبیہ دینا چاہوں، تو ایک ایسی ترکیب اور ایک ایسی عمارت کا ڈھانچہ ذہن میں آتا ہے، جسے گنبدِ بے در کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسا گول کمرہ، جس میں کوئی دروازہ نہیں، کوئی کھڑکی نہیں، کوئی روشن دان نہیں۔ اور نہ ہی کوئی درز یا جھری کہ روشنی اندر دم مار سکے۔

آپ کہیں گے یہ تو گھٹن والا ماحول ہوا، مایوسی تو نہیں۔ ہاں، مگر بعض اوقات اور بعض صورتوں میں مایوسی بھی اسی شکل میں سامنے آ سکتی ہے اور آتی ہے۔

پاکستان میں سیاسی اعتبار سے جو مایوسی ہر سو چھائی ہوئی ہے، وہ اسی قسم کی مایوسی ہے۔

میں نے کہا، سیاسی اعتبار سے۔ یعنی سماجی اعتبار سے جیسی بھی مایوسی ہو، وہ اس قسم کی نہیں، جیسی کہ سیاسی مایوسی ہے۔

سماجی مایوسی کا تعلق خاصی حد تک اخلاقی بحران سے ہے۔

مگر سیاسی مایوسی گنبدِ …