آیا پاکستان میں خیالات جنم لے رہے ہیں یا نہیں؟

مجھے جس چیز نے اس سوال پر غور کرنے اور اس کا جواب دینے پر اکسایا، وہ ڈاکٹر ندیم الحق کی یہ رائے ہے کہ پاکستان میں خیالات جنم نہیں لے رہے۔

ڈاکٹر ندیم الحق معیشت دان ہیں۔ وہ آج کل پائیڈ (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمینٹ اکنامکس) کے وائس چانسلر ہیں۔ وہ اس عہدے پر پہلے بھی متمکن رہے ہیں۔ وہ منصوبہ بندی کمیشن کے چیئرمین بھی تھے۔

ان کی طرف سے یہ سوال حال ہی (3 فروری، 2022ء) میں ٹویٹر پر اٹھایا گیا۔

’’دہائیوں سے تدریسیاتی کاہلی کو فعالیت (مراد ہے سیاسی فعالیت۔ خلیل) میں چھپایا جاتا رہا ہے۔  فعالیت سہل ہے، تدریسیاتی سعی مشکل۔ احتجاج پسندی سہل ہے، خیالات کو جنم دینا مشکل ہے۔‘‘

یہ ٹویٹ جب میری نظر سے گزری تو میں نے اس کا یہ جواب لکھا۔ ’’خیالات کی پیدائش ہو رہی ہے۔ مسئلہ ہے ان کی ترسیل۔ اور ترسیل مشکل تر ہے۔‘‘

ڈاکٹر ندیم …

سچائی، سقراط اور موت: کیا جان بچانا ایک موثر فیصلہ نہیں ہوتا؟

سقراط کو سچائی کے ساتھ اور سچائی کو موت کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔

کیسے؟ اور کیوں؟

غالباً اس پر غور نہیں ہوا۔ یا ہوا ہے تو میری نظر سے نہیں گزرا۔

فلسفہ، تاریخ، ادب، شاعری، جو کچھ بھی پڑھا، وہاں سقراط کا ذکر ضرور تھا۔ اور پھر سچائی کے لیے اس کی موت کا بھی۔ اور اردو شاعری نے تو سقراط اور زہر کے پیالے دونوں کو امر کر دیا۔

سیاست، مزاحمت، انقلاب، یہاں بھی سقراط، اور سچائی کے لیے اس کی موت کے بغیر کام نہیں چلا۔ ہر انقلابی، سقراط کا اوتار بننے کا شائق نکلا۔

جب پہلی مرتبہ یہ بات پڑھی کہ سقراط نے سچائی کے لیے موت کو قبول کیا، میں نے تب اسے قبول تو کر لیا تھا، مگر یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔ اور اب تک ہضم نہیں ہوئی۔

میں سوچتا رہا، سوچتا رہا۔ اور ابھی کچھ برس قبل یہ طے ہوا کہ سقراط …

خوشحالی کی لہر یا شکستہ خواب: خودکلامی

میرے اکثر خواب بھی آزمائش کی طرح ہیں۔

سوچتا ہوں ارشد صاحب کو بتاؤں، جو دوست ہیں، اور سائییکالوجسٹ اور ہپناتھیراپسٹ بھی، اور پوچھوں کیا مطلب ہے ان کا۔ مگر پھر خیال آتا ہے، آزمائش پر تو پورا اتر جاتا ہوں، پوچھنے کی کیا ضرورت۔

یہ عجیب و غریب خواب ہیں۔ ان دیکھے رستے، پہاڑ، گلیاں، کثیرمنزلہ مکانوں، زینوں اور سیڑھیوں کا سلسلہ۔ گڑھوں سے بھری سڑکیں۔ اور ناسازگار حالات۔

ہر جگہ مشکل درپیش ہوتی ہے، اور میں ہمت ہار جاتا ہوں، مگر پھر کوشش کرتا ہوں، اور منزل پا لیتا ہوں۔

بلکہ میں نے جو کہانیاں لکھیں، ان میں سے کئی ایک خوابوں نے تراش کر دیں مجھے۔

ایک کہانی، کسی سینما ہال کے باہر کچھ مکالموں سے تشکیل پاتی ہے۔ اور ایک اور، کئی منزلہ مکانوں اور گلیوں کی بھول بھلیوں میں پوری ہوتی ہے۔

یہ خواب پتا نہیں کہاں کہاں سے کیا کیا چیز ڈھونڈ لاتے ہیں، …

انگریز ہندوستان کیا کرنے آئے تھے

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انگریز ہندوستان آئے تھے تو انھیں ہمیں کچھ دینے کے لیے آنا چاہیے تھا۔

یہ وہ بنیادی قضیہ ہے، جس کی بنیاد پر تمام قسم کی انگریز دشمنی استوار ہوئی ہے۔

ان لوگوں میں بایاں بازو، نوآبادیات دشمن (اینٹی کولونیل) دانشور اور اہل الرائے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

دائیں بازو کا دعویٰ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ وہ اس بات پر ذرا زیادہ زور دے دیتے ہیں کہ انگریز یہاں مسلمانوں سے حکومت چھیننے اور مسیحیت کی تبلیغ کرنے آئے تھے۔

نفسیات دانوں کو اس بنیادی قضیے کے پیچھے کارفرما نفسیاتی محرکات کو سامنے لانا چاہیے۔

جہاں تک اس قضیے کی پشت پر موجود سماجی، سیاسی اور معاشی فکر کا تعلق ہے، تو اسے مختصر انداز میں نیچے بیان کیا جاتا ہے۔

ـ سماجی: وہ یہاں ہماری تہذیب، مذہب، اور روایات کو خراب کرنے آئے تھے۔ وغیرہ۔

ـ سیاسی: وہ یہاں …

ریاستی اشرافیہ کا نظریہ: ایک اہم نکتہ

ابھی انھی دنوں امریکہ کے چوتھے صدر، جیمز اے میڈیسن (1751-1836) کا ایک قول/اقتباس دیکھنے کو ملا۔

میڈیسن امریکہ کے ان تین اہم بانیوں میں سے ہیں، جنھوں نے ’’وفاق پسند مباحث‘‘ (The Federalist Papers) میں حصہ لیا اور یوں امریکی آئین کی توثیق کو ممکن بنایا۔ دوسرے دو، الیگزینڈر ہیملٹن اور جان جے ہیں۔

پہلے اقتباس کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:

’’قانون سازی، انتظامی اور عدالتی، تمام اختیارات کے یکساں ہاتھوں میں ارتکاز کو، خواہ یہ کوئی ایک (فرد) ہو یا متعدد (افراد)، اور خواہ یہ وراثتی ہو، خودمقررہ، یا انتخابی، درست طور پر استبدادیت کی تعریف مانا جا سکتا ہے۔‘‘

میڈیسن کا یہ اقتباس وفاق پسند مباحث 47 اختیارات کی تقسیم سے بحث کرتا ہے۔

جس نکتے کو میں سامنے لانا چاہتا ہوں، وہ میڈیسن کی بات میں اس اضافے پر مبنی ہے کہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ سے متعلق تمام اختیارات ضروری نہیں ایک یا چند افراد کے …

پاکستان اور دانشوروں کا کردار

یہاں یہ معاملہ زیرِ بحث نہیں کہ دانشور کی تعریف کیا ہے۔ یا یہ کہ دانشور کسے کہا جائے۔ ان معاملات سے تفصیلی بحث میری نئی آنے والی کتاب، ’’دانشور اشرافیہ: تانا بانا، اجارہ، کردار‘‘ میں موجود ہے۔

لہٰذا، یہ جان لینا کافی ہے کہ پاکستان میں عملاً کون لوگ دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اور کون نہیں۔

اساتذہ، خواہ وہ کالجوں سے تعلق رکھتے ہوں، یا یونیورسیٹیوں سے، یا دوسرے تدریسی اداروں سے، انھیں دانشوروں میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ان میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ تدریس کا دانش یا دانشوری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان میں ایک مختصر تعداد ایسے اساتذہ کی بھی ہے، جو دانش یا دانشوری کی طرف نکل آتے ہیں۔ ان میں سے کالم نگار اہم ہیں۔ اس کے علاوہ، ان میں سے کچھ، صحافی، اور پھر سیاست دانوں کے مشیر، وغیرہ، بن جاتے ہیں۔ یا کسی سیاسی پارٹی کے …

بات آگے کیسے بڑھے گی؟

اگر آپ اپنی بات پر قائم ہیں، میں اپنی بات پر قائم ہوں، تو بات آگے کیسے بڑھے گی؟

کچھ عرصے سے یہ معاملہ مجھے ان مباحث میں معلق نظر آ رہا تھا، خود میں بھی جن مباحث کا حصہ تھا۔

ہر کوئی اپنی ایک رائے رکھتا ہے۔ اکثر بحث اس بات سے فیصل ہو جاتی ہے کہ ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔

تو کیا یہ کوئی رائے سازی کا مقابلہ ہے۔ یعنی ہر کوئی اپنی ایک رائے رکھتا ہے، یا نہیں۔ یا ہر کوئی ہر دوسرے کو اپنی رائے سنا بتا دے، اور بات ختم۔

ایک حل جو فوری طور پر میرے ذہن میں ابھرتا ہے، وہ کچھ یوں ہے۔

دوست علی سلمان کا بحث کا انداز نہایت شائستہ اور تسلیمی ہے۔ مثلاً کوئی بات کی جاتی ہے، وہ اس پر کوئی صفائی مانگتے ہیں یا اعتراض کرتے ہیں۔ آپ صفائی پیش کرتے ہیں، یا …

The GST and the SBP Bill — the Issues

Both measures are largely Ashraafist. Serving or saving the Riyasati Ashrafiya and Ashrafiya from the tax-burden.

The GST (General Sales Tax) may be delayed and/or levied in parts/instalments/gradually. I.e. On some items, and say 5% and then gradually may be increased with time, but must remain below the single digit limit, as recommended by the Prime Institute. If they need to raise this or that amount, they should cut the size of the government and cut the noncombat defense expenditures. Also, they should withdraw all tax exemptions/perks and privileges available to various classes of Riyasati Ashrafiya and Ashrafiya. But that’s not the case. That’s why I called it Ashraafist.

As for the SBP (State Bank of Pakistan) bill. Have a look at it and two things are noticeable.

First is, no more loans to the government by the SBP. That’s fine.

Second, the SBP immunity from any court proceedings, …

کیا انتخابات کے نتائج کی تعبیر ممکن ہے؟

نوٹ: اس تحریر میں وضع کیا گیا نظریہ دو چیزوں سے مشروط ہے۔ اول، صاف، شفاف اور منصفانہ انتخابات، اور، دوم، سیاست میں کسی خارجی عامل یا قوت کی عدم مداخلت۔

(یاد رہے کہ مداخلت بلاواسطہ یا بالواسطہ دونوں صورتوں میں ہو سکتی ہے، جیسا کہ پاکستان میں پراکسی (یعنی نائبی) سیاست بھی ہوتی ہے یا کی جاتی ہے۔)

انتخابات کے تنائج اعداد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کسی نے اتنے ووٹ حاصل کیے، اور اس کے حریفوں کو اتنے اور اتنے ووٹ ملے۔ اور یوں وہ اپنے حلقے میں اتنے ووٹوں کی برتری سے انتخاب جیت گیا۔ اور دوسرے اتنے ووٹوں سے انتخاب ہار گئے۔

یا شاذ ہی ایسا ہوتا ہے کہ دو یا تین فریقوں کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد یکساں ہو جائے۔ جیسا کہ ابھی 19 دسمبر (2021ء) کو خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں ایک حلقے میں دو امیدواروں کو یکساں تعداد میں ووٹ …

تصور کریں بیس برس بعد کا پاکستان کیسا ہو گا ـ ایک لاحاصل تصور

’’ساتواں ایاز میلو‘‘ حیدرآباد، سندھ میں منعقد ہوا۔ ڈان (23 دسمبر، 2021ء) کے مطابق، میلے میں دانشوروں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو پھر سے تصور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان دانشوروں میں ڈاکٹر جعفر احمد، غاذی صلاح الدین، ڈاکٹر سحر گل، ڈاکٹر ظفر جونیجو شامل ہیں۔

ہاں، اس چیز کے بارے میں پہلے بھی پڑھا سنا ہوا تھا۔ مگر برس 2010ء اچھی طرح یاد ہے۔ اس وقت میں آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ (اے ایس انسٹیٹیوٹ) کے معاملات کا منتظم تھا۔ علی سلمان اور میں، ہم دونوں نے مل کر ایک نیا کام شروع کیا۔ یہ تھا: فکری سرمائے کی تخلیق (Creating intellectual capital)۔ مختلف لوگوں کو مدعو کیا گیا، جن میں ڈاکٹر طاہر کامران، ڈاکٹر سعید شفقت، اور دوسرے شامل تھے۔ کوئی چار پانچ اجلاس منعقد ہوئے، اور بڑے بڑے معاملات و مسائل کی تشخیص کی گئی۔ پھر ان پر مضامین لکھنے کا کام شروع ہوا۔ ڈاکٹر …

ترانوے (93) ہزار قیدی ۔ بزدلی یا بہادری

اس سے پہلے کہ جو بات کہنی ہے، وہ کہی جائے، چند باتیں، جو اس تحریر پر اعتراض کی صورت میں وارد ہو سکتی ہیں، ان کی توضیح ضروری ہے۔

ـ جنگ بہر صورت ایک غیرانسانی فعل ہے۔

ـ جنگ ایک غیراخلاقی فعل ہے۔

ـ لیکن چونکہ اس سے مفر نہیں، لہٰذا، صرف اس جنگ کو جواز دیا جا سکتا ہے، جو اپنے دفاع اور اپنے تحفظ کے لیے لڑی جائے۔

ـ لیکن میں اس گنجائش کو بھی مشروط کرنا چاہتا ہوں۔

ـ یعنی یہ گنجائش صرف ملکی سطح پر قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔

ـ یعنی دو یا زیادہ سیاسی جغرافیائی اکائیوں کے درمیان۔ واحد سیاسی جغرافیائی اکائی کے اندر بالکل نہیں۔ قطعاً نہیں۔ جیسے کہ پاکستان کے اندر۔

ـ ملکوں کے اندر مسائل و تنازعات کے پرامن حل بہرصورت موجود ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کسی بھی قسم کے تشدد کو روا نہیں رکھا جا سکتا۔ اِلا کہ …

ووٹ کو عزت دو – ایک نامکمل سیاسی بیانیہ

سیاسی بیانیے سیاست کا رخ متیعن کرتے ہیں۔

جیسا کہ چند سال قبل مسلم لیگ (ن) کا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ سامنے آیا۔ یہ بیانیہ سویلین بالادستی کی عدم موجودگی پر دلالت کرتا تھا، اور کرتا ہے۔ یعنی سول حکومت کی بالادستی کے قیام پر اصرار اس کا خاصہ ہے۔

یہ بیانیہ پاکستان کی سیاسی حقیقت کو مخاطب کرتا ہے۔ اور اس کا حل بھی تجویز کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ جس سیاسی جماعت کو ووٹ ملیں، اس سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کی عزت کی جائے۔

لیکن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ ایک نامکمل بیانیہ ہے۔

کیوں؟ اور، کیسے؟

یہ بیانیہ اس لیے نامکمل ہے کیونکہ:

۔ ووٹ کو عزت دلانے کے لیے لڑنے کا عزم کرنے کے بجائے، یہ محض ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مطالبہ کرتا ہے۔

۔ اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ یہ مطالبہ کسی مصلحت سے بوجھل ہے۔ یعنی یہ بیانیہ …

اخلاقیات اور مذہب، اور سیاست: دخل در معقولات

عزیز دوست علی سلمان نے فیس پر نعیم بلوچ صاحب کی ایک پوسٹ کی طرف متوجہ (ٹیگ) کیا۔ یہ پوسٹ بیشتر عملی مذہب اور اخلاقیات کے تعلق سے بحث کرتی تھی۔ نعیم بلوچ صاحب، المورد گروہ سے منسلک ہیں، فیلو ہیں وہاں۔ دیکھیے ان کی 10 نومبر بوقت 10:52 PM کی پوسٹ، بعنوان: مادرِ علمی میں۔ مزید دیکھیے اس پر ڈاکٹر رضوان حیدر  صاحب کا تبصرہ۔

میں نے علی سلمان سے پوچھا، میں نے پوسٹ دیکھ لی ہے، آیا مجھے تبصرہ کرنا چاہیے، کیا میرا تبصرہ اس گروہ میں قبولیت پائے گا۔ ان کا جواب تھا، بالکل قبول کیا جانا چاہیے۔

سو میں نے متذکرہ پوسٹ اور تبصرےکو سامنے رکھتے ہوئے، اپنی رائے پیش کی۔ یہ نیچے نقل کی جاتی ہے:

’’سلمان صاحب، تو جہ دلانے کا شکریہ۔

توجہ دلانے کا منشا یہی ہو گا کہ میں کچھ رائے زنی  بھی کروں، کیونکہ یہ معاملہ خود میرے اندازِ نظر کا …

ریاست یا معاشرہ ۔ کسے صحیح کرنا ہے

پاکستان میں اہلِ دانش، عقلِ سلیم (کامن سینس) کو خیرباد کہتے جا رہے ہیں۔ یا خیرباد کہہ چکے ہیں۔ اسی لیے ان میں سے بیشتر کا کام دور کی کوڑی لانا رہ گیا ہے۔ بلکہ دانشوری اسی چیز کا نام بن گئی ہے۔

(دور کی کوڑی شاعر کو لانے دیجیے!)

اور غالباً یہی سبب ہے کہ اگر یہاں سو افراد سرگرم ہیں، تو ان میں سے (غالباً) ننانوے افراد معاشرے کو صحیح کرنا چاہتے ہیں۔

اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر یہ چیز، یعنی معاشرے کو درست کرنے کا معاملہ، خود اپنے منہہ سے بہت کچھ کہہ رہا ہے۔

یعنی یہ کہ پاکستان میں جو بھی اور جیسا بھی مکالمہ جاری ہے، اس پر کس قدر پریشان خیالی چھائی ہوئی ہے۔ بلکہ اس قدر حاوی ہے کہ لوگ سامنے کی چیز بھی دیکھ نہیں پاتے۔

عقلِ سلیم سے دوری اس پریشان خیالی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وگرنہ سامنے کی بات …

کلچر کی چکی

نہر پر چل رہی ہے پن چکی
دُھن کی پوری ہے کام کی پکی
(اسماعیل میرٹھی)

کلچر کی چکی رکتی نہیں۔ چلتی رہتی ہے۔

جب تک روئے زمین پر ایک انسان بھی موجود ہے، کلچر کی چکی چلے جائے گی۔

مگر ایک انسان سے کلچر تشکیل نہیں پاتا۔

روبنسن کروسو کوئی کلچر نہیں بنا سکا۔ اس نے اکیلے زندگی تو گزار لی۔ مگر جس جزیرے پر وہ تن تنہا زندہ رہا، وہاں کوئی کلچر وجود میں نہیں آیا۔ جو جزیرہ تھا، وہ ویسے کا ویسے ہی رہا، جیسا تھا۔

یعنی جب تک روئے زمین پر دو انسان (غالباً مرد اور عورت، اور پھر آبادی) موجود ہیں، اس وقت تک کلچر کی چکی چلے گی، اور چلتی رہے گی۔

مراد یہ کہ کلچر ایک فرد کے زندہ رہنے سے نہیں بنتا۔ جب ایک سے زیادہ افراد مل کر زندہ رہتے ہیں، مل کر رہتے ہیں۔ یعنی بود و باش اختیار کرتے …

موسیقار وزیر افضل ۔ ایک یاد

آج اخبار میں دیکھا، موسیقار وزیر افضل کل بروز منگل (7 ستمبر2021 ) 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

شکوہ نہ کر، گلہ نہ کر، یہ دنیا ہے پیارے، یہاں غم کے مارے ۔۔۔

سیو نی میرے دل دا جانی ۔۔۔

دل کو ایک دھچکا سا لگا۔

میں نے دو ڈھائی برس پی ٹی وی لاہور میں بطور معاون پروڈیوسر اور اپرینٹس پروڈیوسر کام کیا تھا۔ فروری 1985 سے لے 1987 کے آخر تک۔

اس دوران انھیں کئی مرتبہ دیکھا۔

جب ایک دن کسی نے بتایا، یہ وزیر افضل ہیں۔ میں حیران رہ گیا۔

ان میں کوئی بات ایسی نہیں تھی، جو منہہ پھاڑ پھاڑ کر بتاتی ہو کہ میں وزیر افضل ہوں، میں ایک بڑا موسیقار ہوں۔

بھاری جسم۔ لمبا قد۔ اور سانولا چمکتا ہوا رنگ۔

منکسرالمزاجی چہرے سے عیاں تھی۔ وہ تو مجسم عاجزی کی تصویر تھے۔

دیکھنے میں دیہاتی لگتے۔ آدمی پہلے سے سوچ لے

ٹرک، فوجی ٹرک اور سیاست

اپریل 1986 میں بے نظیر بھٹو کئی برس کی خودجلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آئیں۔ لاہور میں ان کا شاندار استقبال ہوا۔

وہ ٹرک پر سوار تھیں اور ایئر پورٹ سے ناصر باغ تک لوگوں کا جم غفیر ان کے ہمراہ تھا۔

کچھ وقت کے بعد جب یہ ہلچل تھمی، تو کسی صحافی نے پیر پگاڑہ سے بے نظیر بھٹو کی سیاست کے بارے میں پوچھا۔

پیر پگاڑہ نے جواب دیا:

ابھی وہ ٹرک پر سوار ہیں، جب ٹرک سے نیچے اتریں گی، پھر ان سے بات ہو گی۔

اب اگر کوئی فوجی ٹرک پر سوار ہو جائے تو پھر سیاست بے چاری کا کیا بنے گا؟…

سیاسی وابستگی کی نازک رگیں

اس معاملے کو جذباتی وابستگی کے ساتھ بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ بلکہ یہ معاملہ جذبات ہی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

یعنی ایسی سیاسی وابستگی جو جذبات پر مبنی ہو۔ جذباتی سیاسی وابستگی۔

صاف بات ہے کہ اس قسم کی وابستگی، عقل و استدلال اور معقولیت و شہادت کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتی۔ کیونکہ جذبات، دلیل اور شہادت کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اٹھا بھی نہیں سکتے۔

یہی سبب ہے کہ کسی بھی قسم کی سیاسی گفتگو میں جذباتی سیاسی وابستگی رکھنے والوں کے جذبات فوراً انگیخت ہو جاتے ہیں۔ وہ مشتعل ہو جاتے ہیں، بھڑک جاتے ہیں، تلخ ہو جاتے ہیں۔ اور اگر دوسرا فریق بھی اسی نوع سے تعلق رکھتا ہو، تو پھر بات گالم گلوچ، یا ہاتھا پائی تک پہنچ سکتی ہے، یا پہنچ جاتی ہے۔ جیسا کہ ٹی وی ٹاک شوز میں اب یا تب ہوتا بھی رہتا ہے۔

اور اگر دوسرا فریق …

فوجی مداخلت یا سیاست دانوں کی حیلہ جوئی

جیسے فوجی مداخلت ایک حقیقت ہے، اسی طرح، سیاست دانوں کی حیلہ جوئی بھی ایک حقیقت ہے۔

پاکستان کے شہریوں کے اصل ’’مجرم‘‘ سیاست دان ہیں۔ یہ میرا گذشتہ پندرہ بیس برسوں سے بہت سوچا سمجھا نقطۂ نظر ہے۔ گوکہ بہت کم لوگ ہیں، جو اسے ماننے پر تیار ہیں۔

عیاں رہے کہ میں ایک آئین پسند ہوں، اور آئین کی بالادستی، آئینی کی حکمرانی اور ایک آئینی حکومت کے حق میں ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بہت سے معاملات میں یہ صرف سیاست دانوں کی حیلہ جوئی ہے کہ وہ فوجی مداخلت کو بہانہ بنا کر شہریوں کے لیے کچھ نہیں کرتے، اور اپنا گھر بھرتے رہتے ہیں۔

اسلام آباد (2017) میں ایک تقریب میں پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال بھی مقرر کے طور پر شریک تھے۔ میں نے ان کے سامنے یہ بات کہی کہ کیا یہ فوج ہے، …

خورشید ندیم اور جمہوریت کا تاریک مستقبل – میرا جواب

اگر آپ سنجیدہ سیاسی تحریر پڑھنا چاہتے ہیں، تو خورشید ندیم کے کالم پڑھا کیجیے۔

بگڑتے ہوئے حالات کے بارے میں ان کی تشویش بھی اصلی ہے، نقلی نہیں۔

قطع نظر اس سے کہ ان کا سیاسی جھکاؤ ہے یا نہیں، یا کس طرف ہے، آج (10 جولائی، 2021) روزنامہ دنیا میں چھپنے والا ان کا کالم میرے سامنے ہے۔ اس کے عنوان سے مایوسی ٹپک رہی ہے: جمہوریت کا تاریک مستقبل۔

جمہوریت کا مستقبل کیوں تاریک ہے، ان کی نظر میں اس کے پانچ اسباب ہیں۔

پہلا، سیاسی جماعتوں کی اقتداری سیاست۔

دوسرا، سیاسی جماعتوں کو سیاسی جماعت کے طور پر منظم نہیں کیا جاتا۔ یہ اقتدار پسندوں پر مشتمل ایک گروہ ہوتی ہیں۔

تیسرا، وہ مذہبی طبقہ ہے، جو جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا۔

چوتھا، دانشور طبقہ ہے، جو محدود جمہوریت کا قائل ہے۔

پانچواں، وہ طاقت ور طبقہ، جو اقتدار اور اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کو …