پاکستانی ریاست کی حقیقت ۔ ایک شہری کی زبانی
گذشتہ کچھ برسوں سے میں صحافی طلعت حسین کے یوٹیوب ولاگ باقاعدگی سے دیکھ سُن رہا ہوں۔
انھوں نے اپنے ولاگ میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے۔ ابھی 4 جون (2022) کو ان کے ایک ولاگ، ’’دا پبلک ہیز اے پرابلم؟ ۔۔۔‘‘ میں شہری محمد شفیق نے ایک سوال پوچھا۔ سوال کیا ہے، خود ایک پورا جواب ہے۔ اور جواب بھی ایسا جس نے پاکستانی ریاست کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا۔ انھی کی زبانی سنیے:
’’شاہ جی، محمد شفیق عرض کرناں تحصیل سانگلہ ضلع ننکانہ توں۔ شاہ جی، کوئی وی دور آیا اے، مہنگائی ایڈی ہو گئی اے، اگے تے ساڈی مہنگائی نے، کدی سِر ننگا ہو جاندا سی، کدی پیر ننگے ہو جاندے سی، ہُن تے تن ای ننگا ہو گیا اے۔ کہیڑی کیہڑی شے دا رونا پائیے۔ ایہہ گورمنٹاں نوں، خورے کِنے غلطی کیتی اے، کِنے کوتاہی کیتی اے، سزا ایہہ …
انفرادی شناخت کا مسئلہ، سیاست اور انصافیے
دوسرے اور بہت سوں کی طرح، میں بھی اس مسئلے پر سوچتا رہا ہوں کہ جیالے، نونیے، انصافیے، وغیرہ، کیسے اور کیونکر جنم لیتے ہیں۔
چکبست برج نرائن کے الفاظ میں، ان کے ظہور میں عناصر کی کیا ترکیب کام میں آتی ہے، اور ان کے اجزا پریشاں کیسے ہوتے ہیں۔ ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔
یا پھر اقبال کے انداز میں، یہ کونسے ’’چار‘‘ یا کم یا زیادہ عناصر ہیں، جو ہوں تو اس نوع کی ’’نوع‘‘ بنتی ہے۔
یہاں ابتدا ہی میں یہ بات سامنے رکھ دینا مناسب ہو گا کہ پہلے جو سیاسی انواع پیدا ہوتی رہی ہیں، جیسا کہ جیالے، پِپلیے، متوالے، نونیے، وغیرہ، اب گذشتہ دس بارہ برسوں میں جو ایک نئی ’’نوع‘‘ سامنے آئی ہے، اور جسے متعدد اور نام بھی دیے گئے ہیں، وہ نوعی طور پر ان تمام انواع سے مختلف ہے، جو ماضی میں جنم لیتی رہی ہیں۔
یہ نوع عمران …
PTI and One-Dimensional Men
Almost all the persons who joined IK (PTI) and devoted their wealth and energy to bolster his image and politics are without any exception one-dimensional men.
Not the politicians who jumped into the PTI-ship purposely. They are an exception.
One-dimensional men cannot see that the reality is a complex structure/phenomenon.
And they can’t understand the multilayered reality in its complex manifestations.
Thus they try to make everything and everyone conform to their black and white view of reality.
There they fail miserably, or fail themselves miserably.
The whole IK-PTI complex is an example of it. They failed miserably and they failed the state/government/society miserably.…
معلومات پر مبنی تجزیے کرنے والے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں
کسی کو کچھ پتا نہیں کون کیا کرنے جا رہا ہے۔
کون کیا کرے گا۔
کون کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے۔
یعنی تجزیہ کاروں کے پاس کوئی معلومات نہیں۔ انھیں معلومات نہیں مل رہیں۔ کہیں سے بھی نہیں۔
غالباً ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مہیا کی گئی معلومات کو بنیاد بنا کر تجزیہ کرنے والوں کو اپنی عقل و فہم کی مدد سے تجزیہ کرنا پڑ رہا ہے۔
اور یہی سبب ہے کہ یہ سب اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ ان کے تجزیے بے کار ہو کر رہ گئے ہیں۔
آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قائمیہ اور سیاسی جماعتیں دونوں پریشان خیالی کا شکار ہیں اور انتظار کرو اور دیکھو کے بجائے کچھ کرنے کے قابل نہیں؟
کہنے سے مراد یہ ہے کہ سیاسی تجزیہ کرنے والوں کے پاس تجزیہ کرنے کے لیے کوئی اصول تو ہیں نہیں، اور ان کے …
The birth of populism, fanaticism and fascism in Pakistan
Zulfikar Ali Bhutto gave birth to Populists.
Zia ul Haq gave birth to Fanatics.
Imran Khan gave birth to Fascists.
All that would never have happened had they not been bestowed with political power, (via) judicial endorsement and establishment’s backing.…
Back to the Basics: Will of the People
The Ultra-Executive
Understanding political reality
سپریم کورٹ کا مخمصہ ۔ درونِ دائرہ حل
قومی اسیمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کرنے سے متعلق، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ کے ضمن میں سپریم کورٹ کا از خود نوٹس، اور اس سے متعلق دوسری اپیلوں پر متعلقہ بینچ نے شنوائی پر کوئی پانچ دن صرف کیے۔ اور پانچویں دن شام ڈھلے مختصر فیصلہ سنایا۔ یہ پانچ دن، پاکستان کی سیاست اور مشوش شہری سولی پر لٹکے رہے۔ گو کہ جب فیصلہ آیا، تو غبار چھٹ گیا، اور سوائے تحریکِ انصاف اور اس کے پیروکاروں کے، کم و بیش ہر کسی نے اس پر مسرت و اطمینان کا اظہار کیا۔
تاہم، فیصلہ آنے کے بعد کچھ دیر اس مضمون پر توجہ قائم رہی کہ یہ پانچ دن کیسے گزرے۔ یہ پانچ دن ایسی تحریروں کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہیں، جیسے وہ پانچ دن، وہ سات دن، وغیرہم۔
بلاشبہ یہ پانچ دن پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں یادگار …
Politics is not Black & White
Politics is complex. It’s not Black & White.
If there is no more Black, that doesn’t mean now it’s all White. No, it’s Grey. A large Grey area.
From it, may emerge bits of White.
And it requires clarity, patience, perseverance and courage on our part.
Politics is a game of securing what we envision inch by inch while strictly following the constitution, moral values, political traditions, non-violence and peaceful means.…
Anti-Constitution, Anti-Democracy, Anti-Morality Politics is not going to stay here
IK-PTI, that’s a shallow phenomenon. It has no basis in the economic reality of the country.
The narrative of corruption, taking turns in power (PPPP-PMLN), was/is a negative, anti-constitution, anti-democracy, and anti-morality.
It’s not going to survive…provided it is not pumped up again, like it was done in 2011, 2014, and then finally in 2018.
In 2014, all the support was thrown into the project, be it media, ECP, judiciary, etc, and the non-civilians. All through the 3 plus years, the same support was provided. But it couldn’t deliver.
It’s a negative phenomenon, it’s all Negative politics (https://pakpoliticaleconomy.com/?p=2321)
بُغض کی سیاست اور حُب کی سیاست
It’s all based on a personalized/customized revenge strategy. It may remain there as an isolated group, but may not grow, rather is going to be weakened in the coming months and years.
Without support from those who have been giving it support it won’t …
سعادت حسن منٹو ۔ کون؟
سعادت حسن منٹو ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ ایک متنازعہ مصنف ہیں۔ ایک متنازعہ افسانہ نگار ہیں۔
ان کے بارے میں متعدد سوالات تسلسل کے ساتھ زیرِ بحث ہیں۔
وہ ترقی پسند تھے یا نہیں۔ اول اول انھیں ترقی پسندوں نے مسترد کیا۔ بعدازاں، اپنے اس انکار سے پھِر گئے۔
حالیہ طور پر انجمنِ ترقی پسند مصنفین کی جو صورتیں سامنے آئیں اور موجود ہیں، وہ انھیں ترقی پسند قرار دیتی ہیں۔
رجعت پسند تو تھے ہی ان کے مخالف۔ وہ فحش نگار جو ٹھہرے۔ ’ان کے دماغ پر عورت جو سوار تھی۔‘
ان کی شخصیت کے بارے میں، کتنے ہی سوالات ہیں۔ وہ ایک اچھے شوہر تھے یا نہیں۔ وہ ایک اچھے باپ تھے یا نہیں۔
ان کی خودپسندی مناسب تھی یا نہیں۔
انھوں نے جو افسانے لکھے، آیا وہ ادب کا حصہ ہیں یا نہیں۔
اگر وہ افسانے نہیں، تو کیوں نہیں۔
جو کچھ انھوں نے لکھا، وہ اگر …
ریاستی معیشت اور شہری معیشت” سے متلق ایک وضاحت طلب معاملہ”
متذکرۂ بالا کتابچے سے متعلق وٹس ایپ کے ذریعے ایک سوال پوچھا گیا ہے۔
’’اگر استدلال دولت کی تخلیق سے شروع ہو گا تو اس سے دولت کی تقسیم کا نتیجہ نکالنا کارے دارد بن جائے گا اور یہ اخلاقی طور پر تو بالکل ممکن نہیں۔ یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ ذرا تفصیل سے بتائیے گا مثالوں کے ساتھ ۔ صفحہ 19‘‘
جواب کو مختصر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے، میں دو زاویوں کو سامنے لانا چاہوں گا۔
پہلا زاویہ: اخلاقی اقدار میں سے ’’چوری نہ کرو‘‘ ایک بنیادی قدر ہے۔
اس میں وہ تمام افعال شامل ہیں، جو کسی دوسرے فرد کے مال و دولت پر قبضہ جمانے سے لے کر ان کے غلط استعمال تک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ان پر اس کے تصرف میں کمی لاتے ہیں۔
یعنی جو شے یا اشیا یا جو مال، دولت، جائیداد، وغیرہ، کسی فرد کی جائز ملکیت ہے، اسے اخلاقی …
سیاست اور اخلاقیات کے تعلق کا معاملہ
جہاں تک سیاست اور سیاسی معاملات پر سنجیدگی کے ساتھ لکھنے کی بات ہے، تو خورشید ندیم ایسے ہی کالم لکھتے ہیں۔
سیاسی وقوعات جن دھاگوں میں پروئے ہوتے ہیں، وہ انھیں گرفت کرتے ہیں، اور پھر ان دھاگوں کو علمی و فکری مسائل کی شکل میں بیان کرتے ہیں۔ اور پھر ان مسائل کے حل سے بحث بھی کرتے ہیں۔
پاکستان بھر میں اخبارات کے کالموں میں کون ایسا کام کر رہا ہے، یا ایسی پُرمغز تحریر لکھ رہا ہے، غالباً کوئی نہیں۔
میں پہلے بھی ان کے بارے میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکا ہوں۔ گو کہ اُس تحریر کا مقصد تعریف و تحسین نہیں، بلکہ ان کے ساتھ ایک اختلاف کو سامنے لانا تھا۔
آج بھی ان کا ایک کالم میرے پیشِ نظر ہے۔ یہ 10 مارچ (2022) کو چھپا۔ عنوان ہے: تحریکِ عدم اعتماد۔
اس میں انھوں نے سیاست اور اخلاقیات کے تعلق کے …
نہ بھولنے والی دو کہانیوں کی یاد
کوئی تین دہائیوں پہلے میں نے ایک کتاب پڑھی تھی، جس میں دنیا بھر سے چنی گئیں سو عظیم ’’شارٹ سٹوریز‘‘ شامل تھیں۔
ایک کہانی تو کمال ہی تھی۔ ویسے ایک اور کہانی بھی تھی اس میں، جو مجھے بھولتی نہیں۔
گاؤں کا باسی ایک امریکی پہلی مرتبہ قریبی شہر جاتا ہے۔ وہاں اسے ایک مشروب گاہ میں کچھ وقت گزارنا پڑتا ہے۔ وہ ایک میز پر بیٹھا ہوا ہے۔ ایک آدمی آتا ہے، اور اس سے اجازت لے کر خالی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔
کچھ دیر میں دونوں کے درمیان گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔
اور چند ہی لمحوں میں گفتگو کا محور عورتیں بن جاتی ہیں۔ اس کا سبب آنے والا آدمی ہے۔
یہ دوسرا آدمی اپنی فتوحات کے قصے سنائے جاتا ہے۔ درجنوں قصے۔ اس نے کیسے اور کہاں کس عورت کو اپنے جال میں پھنسایا۔ اس کے یہ قصے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔…
بُغض کی سیاست اور حُب کی سیاست
[نوٹ: ہمارے یہاں گفتگو میں ’’بُغض ۔۔۔‘‘ اور ’’حُب ۔۔۔‘‘ کی اصطلاحات عام ہیں۔ میں اصل الفاظ کے استعمال سے بوجوہ گریز کر رہا ہوں۔]
پاکستان کی بیشتر سے بھی زیادہ سیاست بُغض کی سیاست ہے۔
مراد یہ کہ یہ نفرت، عداوت، انتقام کے جذبات سے مغلوب سیاست ہے۔
اسے ’’مبنی بر بُغض سیاست‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔
یعنی یہ مثبت اور تعمیر کی سیاست نہیں۔ یہ منفی اور تباہی کی سیاست ہے۔
تو کیا جو تھوڑی بہت سیاست باقی رہ جاتی ہے، وہ حُب کی سیاست ہے؟
اس کا جواب ’’شاید‘‘ یا ’’غالباً‘‘ کہہ کر دیا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ ’’مبنی بر حُب سیاست‘‘ اگر کچھ وجود رکھتی ہے، تو اس کا یہ وجود محض عارضی، نمائشی اور ایک دھوکہ ہوتا ہے۔ نظر کا دھوکہ، سیاسی دھوکہ۔
اس مفہوم میں یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گا کہ پاکستان کی سیاست اصلاً ’’مبنی بر بُغض سیاست‘‘ …
3rd World War is an Economic War: a short note
The world is thus connected today economically it was never so in the past.
That means both dependence and interdependence, and sort of a combined survival of and for all.
In the past, there were regions that could stand isolation and survive economically. For example, some African, Asian and Latin regions.
Not so now.
Economic dependence/interdependence is technological dependence/interdependence. And vice versa.
Whether the Ukraine-Russia war will escalate or not, or what direction will it take, is too early to say.
However, it is clear that the USA and Europe instead of partnering with Ukraine are preferring economic measures, that is, various sanctions against Russia. They are trying to isolate Russia economically and technologically.
This abstaining of the USA and Europe, or say NATO, from jumping into the war against Russia is something very important.
That’s the sign of a new age that the world is entering, an age of …
سادگی کا رنگ
ان کی سادگی کا رنگ اتنا گہرا ہے، اس کا احساس نہیں تھا مجھے۔ ہاں، اتنا ضرور معلوم تھا کہ ان کی زندگی سادگی سے عبارت ہے۔
آج ہی صبح مسجد کے سپیکر سے اعلان ہوا، ’تعظیم الدین کے والد احترام الدین کا قضائے الہٰی سے انتقال ہو گیا ہے، ان کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔‘
کوئی دو گھنٹے بعد میں باہر گلی میں آیا تو ان کے گھر کے باہر کرسیاں بچھی تھیں، اور چند لوگ بیٹھے اور کچھ کھڑے تھے۔
میں بھی وہاں جا کر چار پانچ لوگ گفتگو کر رہے تھے ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔
احترام الدین کو صبح چار بجے کے قریب ہسپتال لے جایا گیا، مگر انھوں نے اصرار کیا کہ انھیں واپس گھر لے جائیں۔ بس کوئی سوا پانچ بجے ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
انھیں ریٹائر ہوئے کوئی آٹھ دس سال تو …
The Economic Advisory Group (EAG) and its Economics
On March 1 (2022), EAG Pakistan twitter handle @eagpakistan posted 6 tweets reacting to the incumbent regime’s “relief measures for the people.”
Here are the tweets:
PM’s decision to provide benefits of various sorts–lower fuel & elec prices & subsidized loans & tax exemptions for selected sectors–continues long & inglorious tradition of country’s top leadership enacting policies erratically in defiance of the most basic econ principles1/3
The benefits announced will be celebrated briefly as “relief” but will further deteriorate Pakistan’s financial health, because they create a burden that its decrepit tax machinery cannot shoulder through prudent revenue collection elsewhere. 2/4
For efficient economic system, it is essential prices be linked directly to costs. When underlying costs rise, as they do when int commodity prices increase the govt cannot insulate populace from higher dom prices without creating a higher debt burden for future generations. 3/5
Insufficient tax collection from broad swathes …
گلیوں بازاروں کا چوکیداری نظام
چیزیں خودرو انداز میں کس طرح وجود میں آتی ہیں، اور کس طرح، روایت اور پھر ایک غیررسمی نظام میں ڈھل جاتی ہیں، اس تحریر کا مقصد اسی مشاہدے کو بیان کرنا ہے۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر وہی شناسا چہرہ تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ہماری گلی اور دوسری کئی گلیوں میں یہی صاحب بہت عرصے سے چوکیداری کر رہے ہیں۔ اور جیسا کہ خاصی حد تک ایک معمول ہے کہ یہ صاحب بھی پختون ہیں۔
کئی برس قبل ان کے ساتھ میری تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔ انھیں جو پیسے ماہانہ دیے جاتے تھے، وہ دس روپے تھے، پھر بیس ہوئے۔ اور اب پچاس تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ اگر وہ صرف چند گلیوں کا پہرہ دیں، تو فی گھر کتنے روپے دیے جانے چاہییں، اور یہ کہ ان گلیوں میں کل کتنے گھر بنتے ہیں۔ اس وقت کے حساب کتاب کے مطابق فی …