پاکستانی فسطائیت کے خد و خال Fascism in Pakistan
سیاسی قضیے: [29 نومبر، 2018]
تمہید:
ہر معاشرے میں مختلف النوع منفی رجحانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، جیسے کہ خودپسندی، عقل دشمنی، وغیرہ، (تاآنکہ فکری اور سماجی روشن خیالی ان میں سے کچھ رجحانات کا قلمع قمع نہ کر دے!)۔ سبب اس کا افراد کے مابین لاتعداد قسم کے اختلافات ہیں۔ ہاں، ان رجحانات کو جب کبھی خارج میں سازگار ماحول میسر آ جاتا ہے، تو یہ پنپنا اور ’’پھلنا پھولنا‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔

جیسا کہ فی زمانہ یورپ میں انتہاپسند دائیں بازو نے سر اٹھایا ہوا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں داخلیت پسندی کو فروغ ملا ہے۔ اور پاکستان میں عمران خان کی شکل میں فسطائیت نے ظہور پایا ہے۔
یہاں صرف فسطائیت (فاش ازم) کا رجحان پیشِ نظر ہے۔
کسی بھی معاشرے میں جو رجحانات پنپتے اور پھلتے پھولتے ہیں، وہ وہاں کی خاص مقامی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی سبب …
بے چارگی کی زندگی
سیاسی قضیے [ 29اکتوبر، 2018]
[نوٹ: یہ تحریر اگست 2007 میں انگریزی میں لکھے گئے، ایک پرانے مضمون میں بیان کیے گئے اور چند ایک حالیہ واقعات و تجربات پر مبنی ہے۔ اپریل 2013 روزنامہ ’’مشرق‘‘ پشاور میں شائع ہوئی۔ مگر افسوس کہ یہ آج بھی اسی طرح ’’تازہ‘‘ ہے۔ یعنی گذشتہ چودہ پندرہ برسوں میں کچھ نہیں بدلا۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔]

کچھ سال کی بات ہے ، مجھے لاہور میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی بُک شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ مجھے کچھ کتابیں، اور بالخصوص آئینِ پاکستا ن کے سرکاری اردو ترجمے کی تلاش تھی۔ وہاں جو صاحب انچارج تھے، صرف وہی موجود تھے۔ یہاں کتابوں کی دکان پر رش کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ مجھ سے بہت اچھی طرح ملے، جو کتابیں مجھے درکار تھیں، وہ دکھانے کے ساتھ ساتھ اور کتابیں بھی دکھائیں۔ میری دلچسپیوں کے بارے میں پوچھتے …
ریاستی اشرافیہ اور آئین و قانون کی حکمرانی

تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے:
https://www.facebook.com/StateAristocracy/
…
سیاست کی سماجی جڑیں
سیاسی قضیے: [25 ستمبر، 2018]
ترقی یافتہ ملکوں کی سیاست، بالعموم، درپیش معاملات پر مرتکزکیوں ہوتی ہے؟ جیسے کہ ٹیکس کے معاملات؛ لوگوں کی زندگیوں پر حکومت کا کنٹرول؛ وغیرہ۔
ترقی پذیر و پسماندہ ملکوں کی سیاست، بالعموم، درپیش معاملات کے بجائے غیرضروری اور فروعی معاملات پر مرتکز کیوں ہوتی ہے؟ جیسے کہ جیالا، لیگیا، انصافیا، وغیرہ، ہونا؛ شخصیت پسندی؛ وغیرہ۔

اس ضمن میں، میں اس رائے پر پہنچا ہوں کہ ترقی پذیر و پسماندہ ممالک کی سیاست کا تعین زیادہ تر ان کی سماجیات سے ہوتا ہے۔ یعنی سماجیات سے متعلق معاملات، سیاسیات سے متعلق معاملات کو نہ صرف متاثر کرتے ہیں، بلکہ بڑی حد تک ان کا تعین بھی کرتے ہیں۔
جیسے کہ ایک معاشرے کی سماجی زندگی اگر ابھی افراد کے مابین، ناپسندیدگی، امتیاز، بغض، کینہ، جلن، حسد، رقابت، کراہت، نفرت، دشمنی، انتقام، غصے، ’’شریکا‘‘، اشتعال، ظلم، سادیت، مساکیت، وغیرہ، سے عبارت ہے، تو یہ چیزیں سیاست …
چودھری شجاعت حسین کا سیاسی سچ
[سیاسی قضیے: [21 اگست، 2018
!سچ تو یہ ہے
چودھری شجاعت حسین
فیروز سنز لمیٹڈ، لاہور
بار اول مارچ 2018
بار دوم اپریل 2018
توجہ: سیاست و معیشت سے متعلق کتب تبصرے کے لیے اس پتے پر بھیجیے: ڈاکٹر خلیل احمد، پوسٹ باکس نمبر: 933 جی پی او، لاہور۔ 54000
سچ بولنے کے کئی انداز ہو سکتے ہیں۔ پورا سچ نہ کہا جائے۔ یا صرف اپنا سچ بیان کر دیا جائے۔
جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہے، تو ان کا سچ اکثر اوقات سیاسی ہوتا ہے۔ یعنی رات گئی، بات گئی۔ یعنی یہ سچ کسی مواد کا حامل نہیں ہوتا، بس بول دیا جاتا ہے۔ یہ علاحدہ بات ہے کہ سیاسی سچ جس موقعے پر بولا جاتا ہے، اس وقت جو سیاست دان یہ سچ بولتا ہے، اسے فائدہ ضرور دے جاتا ہے۔
جیسے کہ ’’پینتیس (35) پنکچر‘‘ والا (عمران خان کا) سچ ایک سیاسی بیان ثابت ہوا۔ اور …
اب مسلمان آزاد ہیں، اب معلوم ہو جائے گا کہ سیاست، معاشرت، حکومت، قانون، تجارت میں مسلمان اہل ہیں یا نااہل۔
:عنوان
اب مسلمان آزاد ہیں، اب معلوم ہو جائے گا کہ سیاست، معاشرت، حکومت، قانون، تجارت میں مسلمان اہل ہیں یا نااہل۔
:نوٹ
میرے پاس ’ماہنامہ رسالہ روحانی عالم ریاست رام پور یوپی‘ کے کچھ شمارے محفوظ ہیں۔ میرے نانا مرزا اکبر بیگ اس کے خریدار تھے، جیسا کہ صفحہ بارہ پر پتا درج ہے: ’جناب مرزا اکبربیگ صاحب پکے کوارٹر نمبر۹ لین نمبر۶۸۲ متصل بڑے میاں کا درس لاہور۔ پوسٹ مغلپورہ‘
اس ماہنامے کے ’محررخصوصی‘ الحاج مولانا مرزا محمود علی صاحب شفق ہیں، اور ’اڈیٹر‘ مرزا واجد علی۔
جیسا کہ اس رسالے کے نام سے عیاں ہے، یہ روحانی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، مگر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ روحانی معاملات بعد میں آتے ہیں، اور پہلے ہی صفحے پر ’’سیاسی اور ملکی خبریں‘‘ کے تحت قارئین کو امورِ عامہ سے واقفیت مہیا کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں ایسے معاملات بھی درج ہیں، جو سماجی …
اتحادی سیاست – خرابی کہاں ہے
سیاسی قضیے: 7 اگست، 2018
اصول یہ ہے کہ حکومت شفاف طریقے سے چلنی چاہیے۔
اصول یہ بھی ہے کہ حکومت شفاف طریقے سے بننی چاہیے۔
پارلیمانی نظام میں انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل کے لیے بالعموم جیتنے والی سیاسی جماعتوں اور دوسرے گروہوں کے ساتھ اتحاد بنانا اور آزاد ارکان کا کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا یا ان کی حمایت کرنا، معمول کی بات ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو اتنی تعداد میں نشستیں دستیاب ہو جائیں کہ حکومت بنانے کے لیے اسے کسی دوسرے فریق کی ضرورت نہ پڑے۔
یہی کچھ اب تحریکِ انصاف بھی کر رہی ہے، اور دوسری جماعتیں بھی اپنی سی کوشش میں لگی ہیں۔ خود اس عمل میں کچھ برائی یا خرابی نہیں۔ یہ اچنبھا ضرور ہے کہ خود تحریکِ انصاف اس عمل کو برا قرار دیتی رہی ہے، اور جب خود اسے یہ عمل کرنا پڑا …
!میں خود سے شرمندہ ہوں
سیاسی قضیے: یکم جولائی، 2018
میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا، جو سراسر بے مایہ تھا۔
تربیت، دیانت داری کے چلن پر ہوئی۔ کسی کو برا نہیں کہنا۔ کسی کو دھوکہ نہیں دینا۔ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا۔
یہ اخلاقی باتیں اچھی بھی لگیں۔ کوشش کی زندگی ان کے مطابق گزاروں۔
وہ دنیا ایک عجیب دنیا تھی، بھَری پُری۔ دلچسپیاں ہی دلچسپیاں، اطمینان ہی اطمینان۔ کوئی محرومی نہیں۔
پھر شعور نے آنکھ کھولی۔ اپنی چھوٹی سی دنیا سے باہر نکلا۔ بہت کچھ دیکھا اور سمجھا۔
پہلا فکری سانچہ، جس کی تعلیم ان دنوں میسر تھی اور جو مجھے بھی منتقل ہوئی، اس کی صورت گری ’’سوشلزم‘‘ سے ہوئی تھی۔
اب محرومیوں نے ہر طرف سے گھیر لیا۔ ہر محرومی، استحصال کا نتیجہ تھی۔
مگر میں رکنے والا نہیں تھا۔ سوشلسٹ سے آگے بڑھ کر، مارکس پسند بن گیا۔
پھر تعلیم ختم ہوتے ہوتے، یہ سب کچھ ہوَا ہو گیا، …
نیا پاکستان ۔ ایک اور عظیم دھوکہ
سیاسی قضیے: 27 جولائی، 2018
نوٹ: یہ تحریر 26 دسمبر، 2011 کو لکھی گئی تھی۔ بعدازاں، اسی کی توضیح و تعبیر ایک کتاب، ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ و خم کا فلسفیانہ محاکمہ‘‘ بن گئی، اور جولائی 2012 میں شائع ہوئی۔ اس تحریر کا محرک، 30 اکتوبر، 2011 کو لاہور میں منعقد ہونے والا جلسہ تھا، جہاں سے تحریکِ انصاف کے عروج کا آغاز ہوا۔
تحریکِ انصاف کے مظہر کے بارے میں میری رائے آج بھی وہی ہے، جو اس وقت تھی۔
واضح رہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت سے میری کوئی دشمنی نہیں؛ اور دوستی بھی نہیں۔ میرا کام ان کا بے لاگ مطالعہ ہے؛ اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ مطالعہ ان رجحانات کی نشان دہی پر مبنی ہوتا ہے، جن کا اظہار وہ سیاسی جماعت کرتی ہے۔ بعض اوقات کسی جماعت کے رجحانات بہت جلد تشکیل پا لیتے، اور منظرِعام پر …
نواز شریف کیا کرنا چاہتے ہیں، انھیں صاف صاف بتانا ہو گا
سیاسی قضیے:17 جولائی، 2018
نواز شریف 1999 کے مارشل لا کے بعد جس مقام پر پہنچے تھے، آج ایک مرتبہ پھر مارشل لا کے بغیر اسی مقام پر پہنچ چکے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ لوگ سزا سے بچنے کے لیے پاکستان سے بھاگ جاتے ہیں، اور نواز شریف خود بھی ایسا کر چکے ہیں، مگر اس مرتبہ وہ سزا بھگتانے کے لیے پاکستان آئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ کچھ عزائم رکھتے ہیں۔
ان سے متعلق ایک اور بات کہی جا رہی ہے کہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں، لہٰذا، وہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی۔ مگر میرے تحفظات، مجھے ان باتوں پر یقین نہیں کرنے دیتے۔ میرا موقف یہ ہے کہ نواز شریف کو کھل کر بتانا چاہیے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، اور کیسے کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں اپنا ایجینڈا واضح طور پر …
ڈان‘‘ اور سیاست دان اور عام لوگ’’
[سیاسی قضیے: [5 جولائی، 2018
ویسے تو انگریزی اخبار، ’’ڈان‘‘ اشتراکیت اور اشتراکیوں کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، جو اپنے مقصد حصول کے لیے طاقت اور تشدد کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں۔ مگر لیاری میں ووٹروں نے پیپلز پارٹی کے ’’کراؤن پرنس‘‘، بلاول بھٹو زرداری کا جس طرح استقبال کیا، ’’ڈان‘‘ کو یہ انداز اچھا نہیں لگا۔ ’’ڈان‘‘ نے اس پر جو اداریہ لکھا، اس کا عنوان ہی معنی خیز ہے: سیاست دانوں کو شرم دلانا [3 جولائی، 2018]۔
اداریہ پڑھ کر اس عنوان کا مطلب یہ بنتا ہے کہ لیاری کے ووٹروں کا سیاست دانوں کو اس انداز میں شرم دلانا درست نہیں۔ ’’ڈان‘‘ کی رائے یہ ہے کہ ووٹروں کو سیاست دانوں کی نااہلی پر اپنا ردِعمل ووٹ کی صورت میں ظاہر کرنا چاہیے۔
ڈان کے مطابق یہ رجحان تکلیف دہ ہے۔ ناخوش ووٹروں نے متعدد انتخابی امیدواروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، اور یوں ممتاز …
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہو گا
سیاسی قضیے: یکم جولائی، 2018
پاکستان مسلم لیگ ن کیا کرنا چاہ رہی ہے، غالبا اسے بھی خبر نہیں۔ یہ کس سمت میں جانا چاہ رہی ہے، کچھ واضح نہیں۔
ہاں، اتنا تو صاف ہے کہ یہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اسے یہ گمان ہے کہ یہ انتخابات جیت جائے گی، کم از کم پنجاب میں سو سے زیادہ نشستیں حاصل کر لے گی۔
اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک دائرے کے اندر رہ کر لڑے گی، اس سے باہر نکل کرنہیں۔
لیکن جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں، یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی جا رہی ہے کہ ن لیگ کو پنجاب میں اکثریتی جماعت نہیں بننے دیا جائے گا۔ اگر ایک جانب، ن لیگ کے راستے میں ہر قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف، پاکستان تحریکِ انصاف کے راستے کی ہر …
سیاسی جماعتوں کی ’’بے بسی‘‘ کا حل
سیاسی قضیے: 27جون، 2018
آج کل سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے اپنے اپنے امیدوار نامزد کر رہی ہیں اور یہ عمل مکمل ہونے کے قریب ہے۔ ان کے فیصلوں پر مختلف سمتوں سے مختلف ردِ عمل سامنے آ رہے ہیں۔ جن امیدواروں کی نامزدگی نہیں ہوتی، وہ بھی سیخ پا ہیں۔ جو کارکن دیکھ رہے ہیں کہ ان کی جماعت میں یک دم نازل ہونے والوں کی نامزدگی ہو رہی ہے، اور یوں دوسروں کی حق تلفی کی جا رہی ہے، وہ بھی سراپا احتجاج ہیں۔
بالخصوص تحریکِ انصاف نے اپنے کارکنوں کی جو تربیت کی تھی، کارکن اب اس سے کام لے رہے ہیں۔ وہ تحریک کے گڑھ، ’’بنی گالا‘‘ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں، اور کسی غیرمتوقع صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے وہاں رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
اس دباؤ اور احتجاج سے مجبور ہو کر مختلف جماعتیں، امیدوار تبدیل بھی کر رہی ہیں، …
PML-N’s Five Years and Unfulfilled Promises
Download the Report in PDF: PMLN – 5 Years and Unfulfilled Promises
For the first time in the history of Pakistan, a think tank has tracked the promises made by a political party in its Election Manifesto. The think tank is: Policy Research Institute of Market Economy (PRIME, based in Islamabad); and the party is: Pakistan Muslim League (N). The initiative was known as the “PML-N Economic Manifesto Tracking Report” and the funding for it was provided by the Center for International Private Enterprise (CIPE), an Institute of the USA’s National Endowment for Democracy (NED).
PRIME, aka Prime Institute prepared and released in total 10 Tracking Reports, the first in January 2014 and the last in January 2018.
I was part of the Tracking Team, but not for the concluding Report. Basically, the idea and the methodology was the brainchild of Ali Salman, Executive Director of the Institute. I did …
انتخابات کا بائیکاٹ اور آئین کی بالادستی
سیاسی قضیے:3 جون، 2018
جولائی میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ اس لیے ضروری ہے، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں آ جائے، عام لوگوں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
وہ اسی طرح دولت کماتے اور اس کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں ریاست اور حکومت کے اللوں تللوں کے لیے دیتے رہیں گے۔ انھیں اپنی جان و مال، حقوق اور آزادیوں کا تحفظ اور انصاف میسر نہیں آئے گا۔
یعنی جب تک ملک میں آئین کی بالادستی قائم نہیں ہو گی، یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اور جب آئین کی بالادستی قائم ہی نہیں ہونی، تو پھر انتخابات میں ووٹ دینے سے کیا فائدہ۔
پہلے مضمون، ’’کیا انتخابات کا بائیکاٹ موثر ثابت ہو سکتا ہے؟‘‘ میں اسی استدلال کی بنیاد پر انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔
یہاں موجودہ پوسٹ میں، اسی استدلال کو مزید وضاحت سے پیش کیا جائے …
کیا انتخابات کا بائیکاٹ موثر ہو سکتا ہے؟
سیاسی قضیے: ہفتہ 25 مئی، 2018
دو چیزوں سے توجہ ہٹانا، نہایت مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ بلکہ، میرے خیال میں، مہلک ثابت ہو گا۔
پہلی چیز، آئین کی بالادستی ہے، اور دوسری چیز، یہ سوال کہ انتخابات موثر ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔
ماضی میں، جب جب آئین موجود تھا، آئین کی بالادستی ایک خواب ہی رہی۔ اور ایسے میں جو انتخابات منعقد ہوئے، وہ آئین کی بالادستی کے قیام کے ضمن میں قطعی غیر موثر ثابت ہوئے۔
گذشتہ کئی ایک انتخابات میں، میں نے ووٹ ڈالا، اگرچہ کوئی بہت بڑی امیدوں کے ساتھ نہیں۔ صرف ان انتخابت میں ووٹ نہیں ڈال سکا، جب ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے مجھے انتخابات کروانے کے ضمن میں فریضہ سونپا گیا۔
مگر اب جو انتخابات ہونے والے ہیں، ان سے میں بالکل مایوس ہوں۔ بلکہ کوئی سال بھر سے میں اپنے دوستوں اور ملنے والوں سے ایک سوال پوچھتا رہا ہوں: …
سیاست اور میثاقِ وفاداری
سیاسی قضیے: 21 مئی،2018
کوئی بھی ہوش مند اور ذی عقل شخص اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ ایک ہی کشتی میں سوار افراد کی شکست و فتح جدا جدا ہو گی۔ کیونکہ اگر کشتی ڈوبتی ہے، تو غالب امکان یہی ہے کہ کشتی میں سوار ہر فرد ڈوب جائے گا۔
مگر سیاست دان ایک ایسی مخلوق ہو سکتے ہیں، جو ایسا سوچ بھی سکتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ وہ ایسے نشئی (’’جہاز‘‘) ہیں، جو اپنے نشے کی خاطر اپنے ساتھی نشئی کو بھی قتل کر دیتے ہیں!
سیاست دان کسی بھی ملک کے ہوں، ان میں سے بیشتر ایسا ہی سوچتے اور ایسا ہی کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارا پالا پاکستانی سیاست دانوں سے ہے، لہٰذا، یہاں انھی کا رونا رویا جائے گا۔
کسی ملک کی سیاسی حدود، اس کی تشکیل کرتی ہیں۔ بلکہ اصل میں یہ آئین ہوتا ہے، جن میں ان …
آئین کی بالادستی یا منظم انتشار
سیاسی قضیے: 17 مئی، 2018
آئین کی اہمیت کو سمجھنا ہو تو ایک ایسے معاشرے کو تصور میں لانا چاہیے، جہاں آئین سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ یا ایک ایسے معاشرے کو متصور کرنا چاہیے، جہاں آئین موجود تو ہو، مگر اس پر عمل درآمد صرف نام کے لیے ہو۔ یعنی اس پر عمل درآمد نہ ہوتا ہو۔
بالخصوص جب اورنگ زیب کی حکومت ختم ہوئی، اس وقت کا برصغیر، ایک ایسا ہی ایسا معاشرہ تھا، جہاں آئین سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ آئین تو اس سے قبل بھی موجود نہیں تھا، مگر ایک مضبوط اور دانا حاکم مضبوط حکومت قائم کر لیتا تھا۔ یوں اس کا سکہ چلنے لگتا تھا اور امن و امان قائم رہتا تھا۔ اصل میں یہ طاقت کا آئین ہوتا تھا۔
اورنگ زیب کے بعد، حکومت خود انتشار کا شکار ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ طاقت ور گروہوں …
مسٹر محمد علی جناح پر جس شخص نے حملہ کیا تھا اسے پانچ سال کی قید عدالت سے ہوئی۔
‘‘عنوان: ’’مسٹر محمد علی جناح پر جس شخص نے حملہ کیا تھا اسے پانچ سال کی قید عدالت سے ہوئی۔
:نوٹ
میرے پاس ’ماہنامہ رسالہ روحانی عالم ریاست رام پور یوپی‘ کے کچھ شمارے محفوظ ہیں۔ میرے نانا مرزا اکبر بیگ اس کے خریدار تھے، جیسا کہ
صفحہ بارہ پر پتا درج ہے: جناب مرزا اکبربیگ صاحب پکے کوارٹر نمبر۹ لین نمبر۶۸۲ متصل بڑے میاں کا درس لاہور۔ پوسٹ مغلپورہ
اس ماہنامے کے ’محررخصوصی‘ الحاج مولانا مرزا محمود علی صاحب شفق ہیں، اور ’اڈیٹر‘ مرزا واجد علی۔
جیسا کہ اس رسالے کے نام سے عیاں ہے، یہ روحانی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، مگر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ روحانی معاملات بعد میں آتے ہیں، اور پہلے ہی صفحے پر ’’سیاسی اور ملکی خبریں‘‘ کے تحت قارئین کو امورِ عامہ سے واقفیت مہیا کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں ایسے معاملات بھی درج ہیں، جو سماجی و تاریخی …
انتخابات یا لاٹری
سیاسی قضیے: 3 مئی، 2018
کتنے برس کبھی اِس سیاسی جماعت، کبھی اُس سیاسی جماعت کے ساتھ لگے رہنے کے بعد، اب یہ بات سمجھ آئی ہے کہ یہاں ہونے والے انتخابات تو لاٹری کی طرح ہیں۔
یہ بات ایک علاحدہ معاملہ ہے کہ کونسے انتخابات شفاف اور منصفانہ تھے یا نہیں تھے۔
پہلے پہل میں پیپلز پارٹی کا حامی رہا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کا فسطائی چہرہ سامنے آنے پر یہ ساتھ ختم ہو گیا۔ اور 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھاندلی اور فسطائی ہتھکنڈوں کے استعمال کے بعد پی این اے (پاکستان نیشنل الائینس) کی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیا۔
بیچ میں خاصے عرصے تک کوئی سیاسی وابستگی نہیں رہی۔ بلکہ اصل وابستگی بائیں بازو کے فلسفے کے ساتھ تھی۔
مگر پیپلز پارٹی کی مخالفت سر پر سوار تھی۔ دھوکہ بہت بڑا تھا، جسے میں عام لوگوں کے ساتھ …