انفرادی انقلاب سے اجتماعی و ریاستی انقلاب تک

سیاسی قضیے: 25 اپریل، 2018

اس بات کا احساس و ادراک تو خاصے عرصے سے تھا۔ مگر یہ بات ابھی کچھ برس قبل ایک نظریے کی صورت اختیار کر پائی ہے۔

اس کی پہلی نمایاں مثال جو مجھے یاد آتی ہے، وہ اس وقت سے تعلق رکھتی ہے، جب میں ایم اے کر رہا تھا۔

فلسفے کے ایک فارغ التحصیل صاحب اکثر شعبۂ فلسفہ میں تشریف لایا کرتے تھے۔ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ وہ آتے اور کچھ اساتذہ اور کچھ طلبہ سے ملتے ملاتے، گپ شپ لگاتے اور چلے جاتے۔

ایک دن سعید اقبال واہلہ نے بتایا کہ وہ مسرور خاں آئے تھے آج۔ ملے تو مجھے کہنے لگے: عبداللہ علیم، میں سول جج بن گیا ہوں۔

واہلے نے کہا: میں عبداللہ علیم نہیں، سعید اقبال ہوں۔

مگر مسرور خاں بولے: تم جو کوئی بھی ہو، میں سول جج بن …

دا سنگہ آزادی دہ ـ آزادی یہ کیسی ہے

’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ کے نام
[لاہور میں جلسے کے موقعے پر]

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، محفوظ  نہیں کوئی
آزادی یہ کیسی ہے، آزاد نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، اپنے ہی بنے آقا
آئین نہیں کوئی، سرکار نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، قانون نہیں کوئی
آزادی یہ کیسی ہے، انصاف نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، شنوائی نہیں کوئی
سننے کو گلہ ہرگز، تیار نہیں کوئی

دا سنگہ آزادی دہ
آزادی یہ کیسی ہے، تذلیل مقدر ہے
ہم بھی ہیں وطن دوست، غدار نہیں کوئی…

ووٹ کو عزت دو ۔ ۔ ۔ یا ووٹر کو عزت دو

سیاسی قضیے:  19اپریل، 2018

فرض کیجیے نواز شریف آج وزیرِ اعظم ہوتے، تو اس سے عام شہری کو بھلا کیا فرق پڑ جاتا۔

اور کیا اس صورت میں مسلم لیگ ن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ زبان پر لاتی۔ قطعاً نہیں۔ سب کچھ حسبِ معمول چل رہا ہوتا اور راوی چین ہی چین لکھتا۔

کیونکہ نواز شریف اب وزیرِ اعظم نہیں، لہٰذا، یہ بیانیہ چلایا جا رہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔ اس سے صاف مراد یہ ہے کہ جسے ووٹ ملیں، اسے حکومت کرنے دو۔ وہ جیسے چاہے، اسے ویسے حکومت کرنے دو۔

سوال یہ ہے کہ اب تک پاکستان میں اتنی حکومتیں بنیں بگڑیں، مگر کیا کسی حکومت نے ’’ووٹر کو عزت دو‘‘ کی طرف توجہ دی۔

کسی نے بھی نہیں۔

یہ تو اب چونکہ خود نواز شریف پر افتاد آن پڑی ہے، سو انھیں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا معاملہ یاد آ گیا ہے۔

ویسے …

اشرافیہ کی سیاست اور ’’پشتون تحفظ موومینٹ‘‘ کی سیاست

سیاسی قضیے: 15اپریل، 2018

اشرافیہ کی سیاست، بخشنے، عطا کرنے،  دینے اور دان کرنے سے عبارت ہے۔

جیسے روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا نعرہ۔

یا پھر بلا تعطل بجلی کی فراہمی۔ یا جیسے کہ سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، وغیرہ۔

اور ایسی ہی دوسری چیزیں، جو وقت اور موقعے کی مناسبت سے اشرافی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا حصہ بنتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اور ان کے سربراہ یہ چیزیں لوگوں کو اپنے پیسے سے مہیا کرتے ہیں۔

اس کا صاف جواب ہے: قطعاً نہیں۔

خواہ یہ روٹی، کپڑا اور مکان ہو، یا بجلی، یا کوئی اور چیز۔ یہ تمام چیزیں لوگوں کو قیمتاً مہیا کی جاتی ہیں۔ اور نجی کاروباروں کی نسبت کہیں زیادہ مہنگی قیمت پر۔ اگر کوئی چیز کبھی ’’مفت‘‘ کہہ کر مہیا کی جاتی ہے، تو اس کی قیمت بھی لوگوں سے ٹیکس کی صورت میں وصول کی جا رہی ہوتی ہے۔…

آرائشی سیاست اور اس کے پرستار

سیاسی قضیے: 7 اپریل، 2018

آرائشی سیاست اتنی نقصان دہ نہیں، جتنا نقصان دہ آرائشی سیاست کے پرستار ہیں۔

سبب اس کا یہ ہے کہ یہ آرائشی سیاست کے پرستار ہی ہیں، جو اسے زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس کا تجربہ مجھے کچھ ہفتے قبل ہوا۔

جب سینیٹ کے انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کیے جا رہے تھے، تو پیپلز پارٹی نے کرشنا کماری کوہلی کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا۔ اس پر ایک نعرہِ مستانہ بلند ہوا، اور تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسنے شروع ہو گئے کہ پیپلز پارٹی نے کیا کمال کر دیا: ایک اقلیتی فرد اور پھر وہ بھی عورت کو سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا۔

چونکہ میں ٹویٹر پر کچھ سرگرم رہتا ہوں، وہاں تو جیسے ’’عید‘‘ کا سماں تھا۔ میں نے دخل در معقولات کیا اور لکھا کہ بھئی یہ آرائشی سیاست ہے، جو محض نمائش کے لیے ہے، اس …

میرا ووٹ کسی مظلوم و مجبور کے لیے نہیں

سیاسی قضیے: پیر 31 مارچ، 2018

جب میں نے گورنمینٹ کالج، لاہور، سال اول میں داخلہ لیا، تو سٹوڈینٹس یونین کے پہلے انتخاب میں ہی ایک حیران کن چیز دیکھنے کو ملی۔ ایک طرف راوینز فرنٹ تھا، دوسری طرف انجمنِ طلبۂ اسلام، اور تیسری طرف اسلامی جمیعتِ طلبہ۔ انتخاب سے ایک دن قبل، انجمنِ طلبۂ اسلام کے امیدوار کالج میں نمودار ہوئے، تو زخموں اور پٹیوں سے لدے پھندے۔ ہم سب پریشان اور متجسس تھے، ایسا ظلم کس نے کیا۔ الزام ایک طلبہ تنظیم پر لگایا جا رہا تھا۔ آپ قیاس کر سکتے ہیں کس پر۔

بعد ازاں، کھُلا کہ یہ ’’میک اپ‘‘ انتخاب جیتنے کا ایک حربہ تھا۔

تو کیا ایسا ہوتا ہے کہ لوگ، زخمی امیدوار کو مظلوم و مجبور سمجھ کر ووٹ بھی دے دیتے ہیں۔ میں آج بھی اس سوال سے دوچار ہوں۔

ہاں، ایسے لوگوں کو بھیک تو دی جاتی ہے، اور ان کی مدد …

اگر ملک کے معاملات آئین کے مطابق نہیں چلا سکتے، تو آئین کو تحلیل کر دیں

سیاسی قضیے: اتوار 11 مارچ، 2018

ایک جانور بھی کسی جگہ رہتا ہے تو اسے اس جگہ سے کچھ نہ کچھ لگاؤ ہو جاتا ہے۔ مگر یہ پاکستان کیسا ملک ہے، اس کے اشرافی طبقات کو ستر برس بعد بھی اس ملک، اس کی زمین، اس کے لوگوں سے ذرا بھی تعلق نہیں۔ ملک کی سیاست اور معیشت پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مالِ غنیمت کو لوٹنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اور یہی وہ سبب ہے کہ ہر ادارہ سیاسی ریشہ دوانیوں سے گہنایا ہوا ہے۔

زیادہ دور نہیں جاتے۔ صرف گذشتہ دو حکومتوں کو پیشِ نظر رکھ لیں، یعنی پیپلز پارٹی اور حالیہ مسلم لیگ ن کی حکومت۔ ابھی اس قضیے کو رہنے دیتے ہیں کہ انھوں نے کیا کیا اور ان کی کارکردگی کیسی رہی۔ ابھی صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا کچھ کیا جاتا رہا۔ غالباً انھیں ایک …

سیاست کے سینے میں آئین کیوں نہیں دھڑکتا؟

سیاسی قضیے: منگل 6 مارچ، 2018

چند برس قبل، میں نے پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں کی مختلف دستاویزات دوبارہ دیکھنی شروع کیں، جن میں ان کی طرف سے شائع ہونے والے تجزیات، رپورٹیں، سالانہ جائزے، وغیرہ، شامل تھے۔ یہ چیزیں میرے پاس پہلے سے دستیاب تھیں، کیونکہ میں خود بائیں بازو سے وابستہ رہا تھا۔

ان دستاویزات کے مطالعے کے دوران، جس چیز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، وہ ’’آئین‘‘ کے ذکر کا مفقود ہونا تھا۔ ان میں قریب قریب تمام دستاویزات 1973 کے بعد سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کے پس منظر میں ’’آئین‘‘ کہیں موجود نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، پاکستان سوشلسٹ پارٹی، یا مزدور کسان پارٹی کی دستاویزات۔

کیا یہ حیران کن امر نہیں!

سوال یہ ہے کہ کیا آئین کو سامنے رکھے بغیر، کوئی سیاسی گفتگو بامعنی ہو سکتی ہے، خواہ آئین کو تبدیل کرنے کی بات ہی کیوں نہ ہو …

Quaid’s 11 August (1947) Address Be made Substantive Part of the Constitution

Since long, a controversy has been raging as to what kind of state Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah wanted Pakistan to be: a religious state or a secular state. Fortunately, that controversy precludes certain extremes, for instance, it is generally understood and admitted that Quaid never wanted Pakistan to be a theocratic or a socialist state. That amounts to saying that the controversy focuses mainly on whether it was an “Islamic” state or a “secular” state that Quaid may have envisioned.

That controversy has its roots in what Quaid himself said, that is, the speeches and addresses he delivered on various occasions. Both of the camps quote and cite inconsistent statements and argue for their case. That’s what makes the controversy complicate manifold.

Apart from such dishonesties with the help of which concocted statements are attributed to Quaid; or out of the context meanings are drawn from his statements; or this …

لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوانا کوئی پنجاب حکومت سے سیکھے

آج (4 اکتوبر،2017ئ، کو) ”ڈان“ میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی ہے۔ سرخی یہ ہے: غیرمصدقہ نمبر پلیٹوں پر یلغار (”کریک ڈاؤن“) شروع۔ تفصیل اس خبر کی یہ ہے کہ چیف ٹریفک آفیسر نے منگل کو وارڈنز کو غیر مصدقہ نمبر پلیٹوں کی حامل موٹر بائیکوں اور دوسری گاڑیوں پر یلغار میں شدت لانے کی ہدایت کی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق اس یلغار میں شد ت لانا اس لیے ضروری ہے، کیونکہ غیرمصدقہ نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

اس خبر نے مہمیز کا کام کیا۔ میں اس معاملے پر گذشتہ ہفتے بھر سے لکھنا چاہ رہا تھا۔ ہوا یوں کہ غالباً پچھلے برس یا ا س سے پچھلے برس جب ان نمبر پلیٹوں کی تشہیر شروع ہوئی، اور چند اخبارات میں دھڑا دھڑ اشتہار چھپنے لگے، تو میں نے یہی سوچا اور سمجھا کہ یہ بھی ان اخباروں کو نوازنے کا طریقہ ہے؛ …

Article 184 – interpreting it paradoxically

As far as the interpretation of the article 184 is concerned, common-sense understanding is altogether different. It has three clauses that form the whole of this article. Its title is: The Original Jurisdiction of Supreme Court.

The first clause states: (1) The Supreme Court shall, to the exclusion of every other court, have original jurisdiction in any dispute between any two or more governments.

The second clause states: (2) In the exercise of the jurisdiction conferred on it by clause (1), the Supreme Court shall pronounce declaratory judgments only.

The third and the last clause states: (3) Without prejudice to Article 199, the Supreme Court shall, if it considers that a question of public importance with reference to the enforcement of any of the Fundamental Rights conferred by Chapter 1 of Part II is involved, have the power to make an order of the nature mentioned in the said Article.…

میری نئی کتاب: ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول‘‘ شائع ہو گئی

بالآخر ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو : انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول‘‘ شائع ہو گئی۔
تحقیق و تحریر میں چار برس سے زیادہ کا عرصہ لگا، اور قریباً چھ ماہ اشاعت کے مراحل طے کرنے میں۔

صفحات: 800
قیمت: جلد اول و جلد دوم 1500 روپئے
ملنے کا پتا: میری گولڈ بُکس، لاہور

WWW.Facebook.com/MarigoldBooks

My nationalist pride

My two cents (tweets)

It kills the somewhat nationalist pride in me that the office of prime minister has a pride that needs to be supplemented by another office!

Every other laxity, corruption, etc I feel I may tolerate, not this one! It’s absolutely unbecoming no matter it’s constitutional or not.

Sense of direction

With JUI (F), MQM, and PML (Q) once again out to test their gamesmanship, and ANP, PML (N), the Army, and the political-religious parties outside waiting in the wings, it seems Pakistan is all set to brace for another bout of political crisis – leaving us the people bewildered what the hell is the direction they are all moving Pakistan into!
That there is no sense of direction in what is happening or cooking to happen is not far from the truth. An 18th Amendment, a 7th NFC Award, autonomous status for Gilgit-Baltistan, or the Reconciliation mantra appear like in-connectible jots on a maze of unattended urgencies.
This is an attempt to refresh memories of us all, especially the politicians and the Armymen, with the sense of direction reached in 1973.
A constitution is never a political document. It is not

Happy New Year!

Blogger wishes
the subscribers and readers 
of 
the Notes From Pakistan 
a
Very Happy New Year!