Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

مشکل الفاظ بے چارے کہاں جائیں؟

اگر آپ مصنف ہیں اور باقاعدگی سے لکھتے بھی ہیں، تو آپ کو اکثر اس اعتراض کا سامنا کرنا پڑا ہو گا کہ آپ بہت مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

چونکہ میں باقاعدگی سے لکھنے والا ہوں، تو مجھے اکثر اس اعتراض سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ذیل میں چند اہم مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

میری کتاب، ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول‘‘ کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں انسٹیٹوٹ فار پیس سٹڈیز کے تحت ہوئی۔ یہ 2017 کی بات ہے۔ کتاب پر بات کرنے کے لیے خود انسٹیٹیوٹ نے کچھ لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ صدارت کے لیے ڈاکٹر خالد مسعود اور مقررین میں ڈاکٹر اے ایچ نیئر، ظفراللہ خان اور خورشید ندیم شامل تھے۔

ڈٓاکٹر اے ایچ نیئر نے کتاب پر بات کرتے ہوئے یہی کہا کہ کتاب میں بہت مشکل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ انھیں استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ انھوں نے لفظ ’’متمتع‘‘ کو استہزائی انداز سے ادا کرتے ہوئے اسے ایک مشکل لفظ کی مثال کے طور پر پیش کیا۔

میں نے اپنی گفتگو میں انھیں یہ جواب دیا: جب کبھی انگریزی کا کوئی مشکل لفظ پڑھنے میں آ جاتا ہے تو ہم واہ واہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں لاؤ بھئی ڈکشنری، دیکھتے ہیں کیا ہے اس کا مطلب۔

یہاں ’’مشکل لفظ‘‘ کونسے لفظ ہوتے ہیں ان کی ایک تعریف مخفی ہے۔ یعنی مشکل لفظ وہ ہوتا ہے جو ابھی تک ہمارے مطالعے میں نہیں آیا اور ہم جس کے مفہوم و معنی سے واقف نہیں۔

معاشیات سے متعلق کچھ معاملات پر 2020 میں، میں نے ایک کتابچہ لکھا۔ ’’ریاستی معیشت اور شہری معیشت: علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد‘‘۔

اس کی اشاعت کا مرحلہ درپیش تھا۔ میں نے سوچا یوں کرتا ہوں کہ دو تھِنک ٹینک جو ہیں، ان سے پوچھتا ہوں کہ بھئی کیا آپ اسے چھاپنا چاہیں گے اور کیا مجھے کچھ معاوضہ بھی دے سکیں گے۔ یہ دو تھِنک ٹینک تھے، پرائم انسٹیٹیوٹ (پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اِکانومی) اور آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ۔

اول الذکر انسٹیٹیوٹ کے سربراہ علی سلمان نے کہا، فی الحال تو ہمارے پاس مالی گنجائش نہیں، ہم نہیں چھاپ سکتے۔ (بعد ازاں، چند برس بعد انھوں نے اسے شائع کیا۔)

موخر الذکر انسٹیٹیوٹ کے سربراہ رضا اللہ نے کہا۔ آپ اس میں جو مشکل الفاظ ہیں ان کی جگہ آسان الفاظ استعمال کریں، تا کہ عام آدمی اسے سمجھ سکے، پھر اسے چھاپ دوں گا۔ میں نے جواباً کہا کہ یہ کتابچہ عام آدمی کے لیے نہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو معیشت میں دلچسپی رکھتے ہیں اور معاشیات کے عالم ہیں۔ میں نے ان سے یہ استفسار بھی کیا کہ یہ عام آدمی کیا ہوتا ہے۔ پھر میں نے انھیں اپنا فیصلہ سنایا کہ یہ کتابچہ جس حالت میں ہے اگر آپ اسے اس حالت میں چھاپ سکتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ آپ نہ چھاپیں۔ اور یوں یہ بات آئی گئی ہو گئی۔

یہاں بھی مشکل لفظ کی ایک تعریف موجود ہے۔ یعنی مشکل لفظ وہ ہوتا ہے جسے عام آدمی نہ سمجھ سکے۔ اب یہ عام آدمی کون ہوتا ہے یہ خود ایک مشکل سوال ہے۔

ابھی گذشتہ برس اکتوبر 2025 میں پرائم انسٹیٹیوٹ نے پہلے سر سید احمد خان پبلک لیکچر کا انعقاد کیا۔ اس کا اہتمام قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے سکول آف اِکنامکس اور نیشنل انسٹیٹوٹ آف پاکستان سٹڈیز نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ اور مقرر میں تھا۔

لیکچر کے بعد جو سوالات پوچھے گئے ان میں مشکل الفاظ کے استعمال کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

وہاں اس اعتراض کا مفصل جواب دینے کا موقع نہیں تھا۔ میں نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ مشکل الفاظ مشکل الفاظ نہیں ہوتے۔ یہ بھی اپنے معانی رکھتے ہیں۔ اور کچھ معانی کی ادائیگی ان الفاظ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ یعنی فکر کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اسے گرفت کرنے کی خاطر اسی نوع کے الفاظ بھی درکار ہوتے ہیں۔ آپ انھیں مشکل الفاظ کہہ لیجیے۔

اس ضمن میں میری رائے یہ بنی ہے کہ یہ مشکل الفاظ کے استعمال کا اعتراض مصنفین کو پیچھے کھینچنے کے مترادف ہے۔ جو لوگ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ لکھنے والا ان کی سطح پر اُترے نہیں، بلکہ گِر جائے۔ جبکہ مصنف یہ چاہ رہے ہوتے ہیں کہ اسے پڑھنے والے اپنے آپ کو اوپر اُٹھائیں، فکری بلندی کی طرف سفر کریں۔ مگر یہ لوگ مصنف کی ٹانگیں کھینچے جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہر چیز آسان الفاظ میں اور عام آدمی کے لیے لکھے (میرے خیال میں یہ عام آدمی وہی آدمی ہوتے ہیں جو یہ مشکل الفاظ کے اعتراض کے موجد ہوتے ہیں!)۔

جبکہ عیاں ہے کہ کسی فرد کا مطالعہ جتنا زیادہ ہو گا اس کا ذخیرہٴ الفاظ بھی اتنا فزوں تر ہو گا، خواہ وہ مصنف ہو یا نہ ہو۔ یعنی مشکل الفاظ مشکل الفاظ نہیں ہوتے۔ یہ ایسے الفاظ ہوتے ہیں، جن سے اب تک ہمارا سابقہ نہیں پڑا ہوتا۔ یا اب تک ہم جن کے مفہوم و معنی سے شناسا نہیں ہوئے ہوتے۔ جن لفظوں سے ہم مانوس ہو چکے ہوتے ہیں، وہ ہمیں کبھی مشکل معلوم نہیں ہوتے۔ پھر اس میں کچھ عمل دخل سُستی کا بھی ہوتا ہے کیونکہ لغت کا استعمال باریک بینی اور عرق ریزی چاہتا ہے۔

حاصلِ بحث یہ کہ الفاظ الفاظ ہوتے ہیں، وہ مشکل یا آسان نہیں ہوتے۔ ہاں، وہ اجنبی ضرور ہو سکتے ہیں۔

[یکم جولائی 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted