میرا ووٹ اتنا سستا نہیں!
انتخابات کے نتیجے میں کیا ہو سکتا ہے، اور کیا نہیں ہو سکتا، یہ سوال، انتخابات سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس سے بھی زیادہ
Citizens should have the right to record video in every government office and building, including police stations, courts, hospitals, and other public-dealing institutions, as required. This would be a critically important step toward improving governance. This right is also essential because the entire state apparatus is funded by taxpayers’ money and is accountable to them. […]
According to a report in Jang (August 25), a new feat of the bureaucracy has come to light: 33 retired officials are receiving their pensions in foreign currency after relocating abroad. How is this a feat of the bureaucracy? This is, in fact, the doing of the political aristocracy (ریاستی اشرافیہ) that runs the affairs […]
If an individual decides to struggle against an unjust law, system, or State Aristocracy (ریاستی اشرافیہ), then more than half of that struggle must be waged against those who act as the divine custodians of that system. This does not yet include those closest to him who, out of envy, become his enemies. Nor does […]
Political parties do not represent the citizens. They are trade unions of politicians. The way to rid ourselves of them is to make elections entirely democratic. That is, the Election Commission will draw lots from among all the voters present in a constituency, and thus a representative of the citizens for that constituency will be […]
Should new provinces be created or not? And on what basis should they be created? On an administrative basis, or on some other basis? This matter should not be left in the hands of politicians, centralists, intellectuals, and opportunists. To resolve it, there should be a referendum. In other words, this issue should be placed […]
Friendships “deeper than the sea” with foreign countries and joint defence agreements with them cannot bring about any improvement in governance within Pakistan. For citizens, there is nothing to be gained from this kind of politics and diplomacy. For them, all of this will remain mere exhibition and show. Talk about governance <> focus on […]
Among other things, the most crucial factor is the uneven development of human populations on planet Earth, caused by the ruling Ashrafiya in their respective countries. This factor seeks to dissolve the political world order, which is neither possible nor advisable. Migration is not a solution. Nor is destroying the developed world. Emulating the developed […]
انتخابات کے نتیجے میں کیا ہو سکتا ہے، اور کیا نہیں ہو سکتا، یہ سوال، انتخابات سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس سے بھی زیادہ
گذشتہ کالم، ”انتخابات یا سیاسی ہانکا“ جیسے نامکمل رہ گیا تھا۔ خود مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جو کچھ میں کہنا چاہتا تھا،
سیاست دانوں سمیت ایلیکشن کمیشن کے سربراہ سب کے سب یہ کہتے تھک نہیں رہے کہ انتخابات نہ ہوئے تو پاکستان کی بقا اور مستقبل
جب اکتوبر 1958 میں میجر جینرل سکندا مرزا نے مارشل لا نافذ کیا تو 1956 کا آئین منسوخ کر دیا۔ جیسے کو تیسا: جینرل ایوب
جیسا کہ گذشتہ کالم، ”1935 کا ایکٹ اور نااہلیت کی دفعات“ میں ذکر ہوا کہ آئین اور قانون، اخلاق اور جُرم سے تعلق رکھتے ہیں۔
انگریزی کے عظیم شاعر چاؤسر کی ایک سطر ہے: حکم نہ لگاؤ، کہیں تم پر حکم نہ لگ جائے۔ مراد یہ کہ جب کوئی شخص
فی الحال ماضی کو چھوڑے دیتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ جینرل مشرف، چیف آف آرمی سٹاف تھے، اور پاکستان کے صدر بھی۔
ابھی 8 اپریل (2013) کو پنجاب پبلک لائیبریری کے پرانے ہال میں، جو قبل ازیں، لائیبریری کا ریڈنگ روم ہوا کرتا تھا، ایک تقریب کا
پاکستان میں بالخصوص 2007 کے بعد، سول سوسائیٹی کا وجود ثابت ہے۔ اب میڈیا کے ساتھ ساتھ سول سوسائیٹی بھی، ریاست، ریاستی اداروں اور حکومت
یہ غزلِ مسلسل جب میں کلر سیداں (تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی) میں تھا، تب لکھی تھی۔ اس نے دو دن مجھے اپنی گرفت میں لیے
اب تو اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ یہ انتخابات، سیاست دانوں کے لیے ”یومِ حساب“ ثابت ہو رہے ہیں۔ مراد یہ
پولیو کے قطرے پاکستان کے لیے دردِ سر بن گئے ہیں۔ بلکہ خون کے قطرے ثابت ہو رہے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ گذشتہ
ابھی 23 مارچ کے دن ایک انگریزی اخبار میں سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی، اور سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن عطاالرحمان کا ایک
[نوٹ: یہ تحریر ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ کے لیے 26 دسمبر 2011 کو لکھی اور پوسٹ کی گئی۔ تحریکِ انصاف کے مظہر کے بارے میں آج بھی
پہلی بات تو یہ کہ یہاں سیاست دانوں کی ناکامی کی ”آمد“ سے جینرل مشرف (ریٹائرڈ) کی جلاوطنی سے وطن واپسی مراد ہے۔ اور پھر
جلد ہفتم ـ ـ ـ ـ ـ یہ بات قابلِ غور ہے کہ شرر اپنا نام، محمد عبدالحلیم شرر لکھتے تھے ۔ دیکھیے صفحہ: 81 یہ
ایک خبر کے مطاقب نگران وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، نواب غوث بخش باروزئی نے اپنی گاڑی سے کالے شیشے اتار دیے، اور کوئیٹہ کے بڑے پولیس
سیاست دان تو بدنام ہیں، اور صحیح بدنا م ہیں۔ وہ صرف نام کے، یا نام کے لیے بدنام نہیں، جیسا کہ کہا جاتا ہے:
تحریکِ انصاف نے پارٹی انتخابات کیا کروائے، جیسے کوئی انہونی ہو گئی۔ پاکستان میں کچھ ایسا ہو گیا، جو کبھی نہ ہوا تھا، اور یوں
پاکستان میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی موجود ہے، جو چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان کے پاس ایٹم بم ہے تو اس کا کوئی
ٹویٹر پر آج کی ٹویٹ: ترجمہ: بحوالہ پاکستانی میڈیا پر آصف علی زرداری کی تعریف و تحسین: میڈیا میں چمکتی ہر چیز سونا نہیں ہوتی!
Today’s tweet: Re Pakistani media’s praise for Asif Ali Zardari: Everything that glitters in Media is not gold! https://twitter.com/khalilkf
What’s happening at this time in Pakistani media has no precedent! It’s desperately trying to transform Dust into Gold using its science of alchemy and
جیسا کہ پہلے بھی ایک پوسٹ میں یہ ذکرآ چکا ہے کہ حامد میر کے کالم معلومات سے بھرے ہوتے ہیں۔ تاہم، ان معلومات کو
پاکستان کی فکری فضا مغالطوں سے آلودہ ہے۔ یہاں ہرقسم کے مغالطے وافر دستیاب ہیں۔ مغالطے ایسے تصورات ہوتے ہیں، جو بظاہر درست معلوم ہوتے
کیا آپ نے کبھی ایسا کوئی منظر دیکھا ہے کہ نغمۂ شادی کے ساتھ ساتھ نغمۂ غم بھی گونج رہا ہو! یا شادی خانہ آبادی
پہلے ایک نظم ملاحظہ کیجیے، جو میں نے سال 2010 میں لکھی تھی۔ یہ آج بھی حالات کے مطابق ہے۔ بلکہ گزرے برسوں کے ساتھ
فلسفی جان ڈیوی کا کہنا تھا کہ انسانیت کا نہایت اہم مسئلہ اکٹھے مل کر رہنا ہے۔ یعنی انسانوں کا اجتماع کی صورت میں رہنا۔
انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی بھی نظام وضع کر لیا جائے، اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔ وجہ یہ ہے کہ
پاکستان میں ”جرم“، ریاست، سیاست اور حکومت کے ساتھ لازم و ملزوم بن گیا ہے۔ جرائم پیشہ سیاست اور جرائم پیشہ حکومتوں نے پاکستان کو جرائم
کیاانصاف ممکن ہے؟ بالخصوص اگر ایک فرد یا افراد کا ایک مختصر گروہ، قتلِ عام کا مرتکب ہو تو پھر انصاف کی نوعیت کیا ہو
یہ ایک مشاہدے کی بات ہے کہ سوسائیٹی کا نظامِ اقدار، قانون کی عمل داری سے ناگزیر طور پرجڑا ہوتا ہے۔ جتنا قانون کی عمل
Today is the day when the five-year term of President Asif Ali Zardari has come to an end (writing this blog in the evening). See
جیسا کہ آج آصف علی زرداری کے عہدۂ صدارت کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ آج کے اخبارات دیکھیے۔ میرا اندازہ ہے کہ قریب قریب
”انصاف کو علاحدہ رکھ دیں، اور پھر دیکھیں تو مملکتیں کیا ہیں، غنڈوں کے عظیم گروہ؟ غنڈوں کے گروہ کیا ہوتے ہیں، غنڈوں کی چھوٹی
پاکستان کے بڑے بڑے سیاسی مسائل کی نوعیت انتہائی حیران کن ہے۔ آئیے ذرا اخبارات کے آئینے میں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ، مثلاً،
سمت کو ئی محفوظ نہیں ہے قدم قدم پر خطرہ ہے یکدم کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی بھی آفت آ سکتی ہے اک لمحہ بھی
پاکستانی فوج کو بالآخر ہزاروں شہریوں کی قیمتی جانوں، اور شہریوں کے ٹیکس کے اربوں کھربوں روپوں کے نقصان کے بعد یہ سمجھ آنے لگا
نوٹ: یہ کالم، سابقہ کالم ’’مافیا سیاست کی جنم کنڈلی‘‘ کا دوسرا حصہ ہے۔ پاکستان میں ریاست، حکومت اور سیاست کی سرپرستی میں موجود مافیا
محبت پل رہی ہے جھونپڑوں میں، کوٹھیوں میں راستوں پر گلیوں بازاروں میں سڑکوں پر محبت پل رہی ہے بستیوں میں، کٹڑیوں میں ایک کمرے
یہ بات درست ہے کہ مافیا گروہ ہر جگہ جنم لے سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ مافیا گروہوں کے
پنجاب میں جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنتی ہے، یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ نت نئے تجرے کیےجاتے ہیں، اور ہر مرتبہ نئے
کراچی، بلدیہ ٹاؤن کی گارمینٹس فیکٹری میں گذشتہ ستمبر میں لگنے والی آگ کو، جس میں ڈھائی سو سے زیادہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع
[نوٹ: یہ تحریر 21 جولائی 2012 کو ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ کے لیے لکھی گئی تھی اور 23 جولائی کو پوسٹ کی گئی۔] گذشتہ ماہ کی بات ہے، جب
یہ سوال کچھ عجیب سا لگے گا۔ یہ سوال اٹھانے والا کچھ ”خود پسند“ محسوس ہو گا۔ یقین کیجیے، یہ سوال بہت اہم ہے۔ اصل
یہ ان دنوں کی بات ہے، جب قانون کی حکمرانی کے لیے وکلا کی تحریک زوروں پر تھی۔ 9 مارچ 2007 کو طاقت کے ایک
شاہ رخ جتوئی کراچی ایئر پورٹ سے بیرونِ ملک فرار ہوا، ایف آئی اے کا اعتراف [روزنامہ ایکسپریس، 29 جنوری، 2013]
تیسری دنیا کے ممالک کے ننانوے فی صد مسائل کا سبب قانون کی حکمرانی اور خود کارحکومتی اداروں کی عدم موجودگی ہے۔ پاکستان غالباً اس
یہ پوسٹ ایک سابقہ پوسٹ: ’’خان فضل الرحمٰن خان اور ان کا ناول، آفت کا ٹکڑا‘‘، سے جڑی ہوئی ہے۔ جیسا کہ اس پوسٹ میں