پاکستان میں مذہبی شخص کا تصور (وہ عمومی تصور جس پر بیشتر لوگ عمل پیرا ہیں)

(وہ عمومی تصور جس پر بیشتر لوگ عمل پیرا ہیں)

پہلے تو دو قسم کے تصورات میں فرق کر لینا ضروری ہے۔ مذہبی شخص کا ایک تصور تو وہ ہے، جسے عامر لیاقت حسین نے بدلا۔ نہ صرف لباس کے ضمن میں، بلکہ گفتگو اور طرزِ عمل کے ضمن میں بھی۔ لیکن اس تصور کا تعلق مختلف مراتب کے علما کے ساتھ ہے۔

جبکہ دوسرا تصور، جس پر میں بات کرنا چاہتا ہوں، اس کا تعلق معاشرے کے بیشتر افراد کے ساتھ ہے۔ مراد یہ کہ لوگوں کے ذہن میں ایک مذہبی شخص کا کیا تصور موجود ہوتا ہے، یا بن جاتا ہے، وہ جس کی پیروی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یا اسے ایک بنے بنائے اور گھڑے گھڑائے سانچے کی حیثیت سے اختیار کر لیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ باقی لوگ بھی اسی کی پیروی کریں۔

یعنی مذہبی شخص کا یہ تصور ایک پناہ گاہ بھی بن جاتا ہے اور ایک سانچہ بھی۔ اور خود کو بڑی آسانی کے ساتھ اس تصور کی پناہ گاہ میں محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس تصور کے سانچے کا اطلاق دوسروں پر بھی یکساں آسانی اور فوجداری انداز میں ہونے لگتا ہے۔

یعنی معاشرے میں جیسے بھی اور جو بھی وجوہات اور حالات ہوں، ان کی بنا پر مذہبی شخص کا ایک ایسا تصور اُبھر آتا ہے، بیشتر لوگ اسے ایک مذہبی شخص کے تصور کے طور پر قبول کر لیتے ہیں، اور اس پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ان کی طرح اس پر عمل پیرا ہوں۔

یاد رہے ہر فرد اپنے تخلیقی ذہن اور تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال میں نہیں لاتا۔ نہیں لانا چاہتا۔ (حتیٰ کہ وہ بھی جو اس کے دعوے دار ہوتے ہیں۔) وہ تن آسانی برتتا ہے اور موجود اور مروج چیزوں کو ہو بہو یا معمولی تبدیلی کے ساتھ تسلیم و قبول کر لیتا ہے۔ یعنی بیشتر لوگوں کو طرزِ حیات کا ایک ایسا تصور درکار ہوتا ہے، جو ایک پناہ گاہ کا کام بھی دے سکے، جہاں گوشہ نشین ہو کر وہ کسی کی تنقیدی اور سخت گیر رائے زنی کا نشانہ نہ بن سکیں۔ اور ایک ایسے سانچے کا کام بھی، جس میں وہ خود کو آسانی کے ساتھ بِٹھا لیں۔ جبکہ وہ دوسروں پر تنقید اور سخت گیرانہ رائے کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

یہاں میں پہلے ہی یہ بھی واضح کر دوں کہ میں صرف ایک مشاہدہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ میرا اس چیز سے تعرض کا کوئی ارادہ نہیں کہ یہ تصور جس کا مشاہدہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں، اس کی تشکیل کیسے اور کس طرح ہوئی اور یہ بھی کہ یہ تصور غلط ہے یا صحیح، یہاں یہ معاملات زیرِ بحث نہیں۔

دو دہائیوں سے زیادہ وقت گزر گیا ہے کہ میں ایک عالمِ دین کی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ کتاب پڑھتے ہوئے میں ایک ایسے مقام پر پہنچا، جہاں جو الفاظ درج تھے، ان کا عیاں مفہوم یہ تھا: ’خدا نے انسان کو کس لیے پیدا کیا؟ خدا نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔‘

میں فکری طور پر وہیں رک گیا۔ اور آج بھی رُکا ہوا ہوں۔ یہ الفاظ میرے ذہن کی لوح پر نہ صرف محفوظ رہے بلکہ بارہا اور بعض مواقع پر تو بہت شدت کے ساتھ یاد آتے رہے۔

اب متعدد برسوں سے مجھے ان الفاظ کے پیچھے جو شبیہہ نظر آتی ہے، وہ بیشتر وہی شبیہہ ہے، جو ہمارے معاشرے میں صورت پذیر ہو چکی ہے اور جس پر ہمارے معاشرے کے بیشتر افراد عمل پیرا ہیں۔

(واضح رہے کہ اس تصور کے حیطے میں وہ لوگ شامل نہیں، جو سوچ سمجھ کر ایک جداگانہ طرزِ حیات اختیار کرتے ہیں، ان میں وہ لوگ بھی شمار ہو جاتے ہیں، جو کسی مسلک کے سرگرم پیروکار بنتے ہیں۔)

یعنی اگر فرقہ وار اور مسلکی تقسیم اور اختلافات سے صرفِ نظر کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ بیشتر افراد کس طرزِ زندگی پر عمل پیرا ہیں، تو یہ وہی مقصود ہے، جو انسان کی تخلیق کا مقصد ہے۔ یہ وہی تقاضا ہے، جو خدا اپنی مخلوق سے کرتا ہے۔ یعنی اس کی عبادت و شکرگزاری۔

اور پھر یہ بھی کہ اس میں فرقے اور مسلک کا کوئی امتیاز حائل نہیں۔ ایک مذہبی شخص کا جو تصور فی زمانہ بنا اور رائج ہوا، اسے معاشرے کی بڑی تعداد نے قبول کر لیا۔ اس تصور میں کسی فرد کے عقائد جیسے بھی ہوں اور جو بھی ہوں، ان سے قطع نظر جو چیز آنکھوں سے چھپ نہیں سکتی، وہ حُلیہ بھی ہے۔

بیشتر افراد جیسے ہی چالیس پچاس کے گیڑ میں پہنچنتے ہیں، یا اگر نوکر تھے اور ریٹائر ہوتے ہیں تو ان میں ایک مخصوص تبدیلی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ میرا مشاہدہ یہی ہے کہ خود ان کا مشاہدہ انھیں یہ بتاتا ہے کہ اب وہ اس تصور کے تقاضوں کی پیروی میں داڑھی بڑھا لیں، سر پر ٹوپی پہن لیں، شلوار قمیض یا کرتا، ساتھ واسکٹ (ویسٹ کوٹ) زیبِ تن کر لیں۔ باقاعدہ نمازی بن جائیں۔ یا اگر ایسا نہیں ہوتا تو جمعے کی نماز شروع کر دیں۔

اور بیشتر صورتوں میں بقیہ زندگی ان کا یہی معمول رہتا ہے۔ یا اگر کوئی فرق دیکھنے میں آتا ہے تو وہ یہ ہے کہ کئی افراد کچھ نہ کچھ ایسا کام دھندہ شروع کر دیتے ہیں، جس سے وہ اپنے لیے یا اپنے گھر کے لیے کچھ کما سکیں۔

یہ ہے وہ تصور جسے عملاً ہمارے معاشرے میں ایک مذہبی شخص کے تصور کی حیثیت سے قبول کیا جا چکا ہے۔ اور یہ تصور، جن کا اوپر ذکر آیا، ان عالمِ دین کی بات کے عین مطابق ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔

جیسا کہ مذکور ہوا کہ یہاں میرا سروکار اس چیز سے قطعاً نہیں کہ یہ تصور صحیح ہے یا صحیح نہیں۔ لیکن چند ایک باتیں جو میرے ذہن میں کھٹکتی رہتی ہیں، انھیں میں معروضات کی صورت میں اس تحریر کا حصہ ضرور بنانا چاہوں گا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تصور کا بہت بڑا بلکہ غالب حصہ ظاہرداری پر مشتمل ہے۔ یعنی مذہبی شخص کے اس تصور میں حلیے کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ بیشتر لوگ یہ حلیہ اختیار کرتے ہیں یہ گردانتے ہوئے کہ یوں وہ ایک مذہبی شخص کے تصور پر پورے اتر رہے ہیں۔ پھر یہ تقاضا بھی ہوتا ہے کہ باقی لوگ بھی اسی حلیے کی نقل کریں۔

دوسری بات یہ ہے کہ عبادت اور عبادات کو کسی بھی قسم کے ظاہردارانہ حلیے کے ساتھ منسلک کرنے کی منطق عام فہم نہیں۔

ان دونوں باتوں کی تہہ میں ایک فہم یہ بھی کارفرما ہے کہ مذہبی عبادات کو کسی فرد کے ضمن میں عمر کے کسی خاص حصے اور کسی ثقافت کے خاص حلیے کے ساتھ جوڑنے کے عمل کو جواز کیونکر مہیا کیا جا سکتا ہے۔

تیسری بات کو بیان اور واضح کرنے کے لیے کچھ سیاق و سباق بنانا ضروری ہے۔

مجھے درست طور پر یاد تو نہیں کہ یہ کب کی بات ہے۔ لیکن میں نے نیویارک ٹائمز میں ڈینمارک کے بارے میں ایک فیچر پڑھا تھا۔ جتنا کچھ میری یاداشت میں محفوظ ہے وہ یہ ہے: کچھ ریٹائرڈ لوگ ایک کیفے میں بیٹھا کرتے تھے۔ پیتے پلاتے اور گپ شب کرتے۔ اور انھیں ایک دن یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم اپنے وقت کا کوئی بہتر استعمال کریں۔ یوں انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ لوگ اپنے گھروں میں جو چیزیں استعمال کرتے ہیں، یعنی آلات، وغیرہ، تو کیوں نہ ہم ان کی مرمت کر دیا کریں۔ یعنی ہم میں سے جس جس کو جو کام آتا ہے وہ اس طرح کے آلات کی مرمت کرنا شروع کر دے۔ اور انھوں نے لوگوں سے بغیر کوئی معاوضہ لیے یہ کام کرنا شروع کر دیا۔

مجھے اس فیچر میں جو چیز اہم نظر آئی، وہ خود کو (ا) کارآمد بنانے اور (ب) کسی پیداواری کام کے ساتھ جوڑنے سے تعلق رکھتی ہے۔

چلیں مصنوعی ذہانت سے کام لے لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ اس فیچر کو ڈھونڈ لاتی ہے یا نہیں۔

اے آئی کے مطابق یہ فیچر 8 اگست 2012 کو نیویارک ٹائمز کے سنڈے ایڈیشن میں چھپا تھا۔ بالکل درست۔ اس وقت ’’نیویارک ٹائمز‘‘ انگریزی اخبار ’’دا ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کے ساتھ اسی کی قیمت میں آتا تھا۔ مگر اب میں نیویارک ٹائمز کا یہ پورا فیچر تو نہیں پڑھ سکتا کیونکہ یہ سبسکرپشن کے بغیر دستیاب نہیں۔ اے آئی نے اس کا خلاصہ مہیا کیا ہے۔ اسے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔

یہ فیچر “ریپئیر کیفے” (مرمت کیفے) موومینٹ کی پیدائش اور فوری پھیلاؤ کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کیسے ریٹائرڈ لوگوں اور مقامی رضاکاروں کے ایک گروپ نے، جو پہلے اپنا وقت فارغ بیٹھ کر گزارتے تھے، جدید دور کی “چیزیں استعمال کرو اور پھینک دو ثقافت” کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کمیونٹی کے لیے کام کرنے کی ایسی جگہیں بنائیں جہاں وہ اکٹھے ہو سکتے تھے، گپ شپ کر سکتے تھے، اور اپنے پڑوسیوں کے خراب گھریلو آلات، لیمپ اور کپڑے مفت میں ٹھیک کرنے کے لیے اپنی زندگی بھر کی تکنیکی مہارتوں کا استعمال کر سکتے تھے۔ اگرچہ اس عالمی تحریک کا آغاز اصل میں ایمسٹرڈیم سے ہوا تھا، لیکن جلد ہی یہ ڈنمارک اور بقیہ یورپ میں رضاکاروں کے زیر انتظام چلنے والے کیفے کے ایک بڑے نیٹ ورک میں تبدیل ہو گئی۔

اس وقت سے میرے ذہن میں یہ بات موجود رہی اور میں سوچتا رہا کہ ہمارے معاشرے میں اور ہمارے لوگوں میں اپنی کمیونٹی یعنی معاشرے کو کچھ واپس لوٹانے کی سوچ اور روایت کیوں موجود نہیں؟

(میرا خیال ہے کہ ریپئیر کیفے کے تصور سے جو کچھ میں نے اخذ کیا ہے، وہ اتنا غلط نہیں!)

لوگ بس اپنی زندگی یا زیادہ سے زیادہ اپنے گھر سے سروکار رکھتے ہیں۔ انھیں اس حقیقت کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہوتا کہ اس معاشرے نے انھیں کیا کچھ دیا۔ یعنی یہ کہ اس معاشرے کا بھی ان پر کچھ حق بنتا ہے۔

یقیناً میں یہاں ریاست کی بات نہیں کر رہا، جو صرف اور صرف لوگوں کی جیبوں میں سے پیسہ نچوڑنے سے تعلق رکھتی ہے۔ بلکہ ریاست نہیں، کیونکہ پاکستان کی ریاست پر تو ریاستی اشرافیہ قابض ہے، یہ ریاستی اشرافیہ ہے جو لوگوں سے لینے اور بس لینے پر یقین رکھتی ہے، کچھ دینے اور لوٹانے پر نہیں۔ حتیٰ کہ قانون کی حکومت اور انصاف تک دینے پر یقنین نہیں رکھتی۔ جنھیں کسی بھی حکومت کے بنیادی فرائض مانا جاتا ہے۔

اسی طرح لوگوں کی ایک بڑی تعداد معاشرے یا اپنی کمیونٹی سے صرف لینا چاہتی ہے، ان کے ذہن میں دینے اور لوٹانے کا کوئی تصور موجود نہیں ہوتا۔

معاشرہ جیسا بھی ہو، یعنی جتنا بھی ترقی یافتہ ہو یا پسماندہ یا ترقی پذیر، بہر صورت ہر فرد کو نسبتاً ایک بہتر زندگی کی ضمانت ضرور دیتا ہے۔ اس چیز کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ جب ہم خود کو ایک قدیم یا ایک ایسے معاشرے میں رکھ کر خیال کرنے کی کوشش کریں، جس میں بالخصوص عام فرد کی زندگی انتہائی غیرمحفوظ تھی۔ تب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم کس درجہ محفوظ معاشرے میں زندہ ہیں اور ہمیں زندگی کی کتنے تحفظات میسر ہیں۔

سو جہاں تک مذہبی تقاضوں اور عبادات، وغیرہ، کا تعلق ہے، یہ ہر فرد کی ترجیح اور اس کا اپنا فعل ہے۔ لیکن کیا وہ اس سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ یعنی کیا وہ اس سے آگے بڑھ کر اپنے افراد، اپنے محلے، اپنے علاقے، وغیرہ، کے لیے بارآور اور ثمرآور بن سکتا ہے۔ کیا وہ اپنے معاشرے کے لیے کارآمد ہو سکتا ہے؟ انھیں کچھ لوٹا سکتا ہے؟ یہ سوال نہایت اہم ہے۔ اور اس تحریر سے میرا مقصود اصل میں اسی سوال کو سامنے لانا ہے۔

میں ان چیزوں کا انکار نہیں کر رہا، جو چیزیں ہو رہی ہیں۔ بلاشبہ، ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد ایسے لوگ موجود ہیں، جو مخلصانہ جذبے کے ساتھ دوسروں کے لیے اپنی زندگی اور کوششوں کو وقف کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ بہت ہی کم۔

یہی سبب ہے کہ میں نے شروع میں یہ کہا کہ پاکستان میں مذہبی شخص کے تصور کو لوگ ایک پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ اور ایک سانچے کے طور پر بھی۔ پھر یہ بھی کہ جو چند لوگ ان کے اس تصور کے تقاضوں پر پورے نہیں اُترتے، انھیں وہ اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے۔

لیکن بنیادی سوال جسے ہر فرد کے سامنے موجود ہونا چاہیے وہ یہی ہے: کیا پاکستان کے لوگ خود کو اپنے معاشرے کے لیے، اپنے لوگوں کے لیے، اپنی کمیونٹی کے لیے کارآمد اور پیداواری بنا سکتے ہیں؟ کیا وہ انھیں کچھ لوٹانے کے بارے میں کچھ سوچ سکتے ہیں؟
یقیناً اگر یورپ میں لوگ ایسا کر سکتے ہیں، تو یہاں پاکستان کے لوگ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر کر سکتے ہیں، تو پھر اب تک انھوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟

خلیل

[3 ستمبر 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted