عمران خان کے شر میں سے خیر کی امید

کہتے ہیں یا نہیں کہتے، مگر یہ ایک مشاہدے کی بات ہے کہ بعض اوقات شر میں سے خیر کا کوئی پہلو نکل آتا ہے۔

میں نے اسے مشاہدے کی بات اس لیے کہا کیونکہ یہ کوئی اصول نہیں، یا مبادا اسے کہیں ایک اصول نہ سمجھ لیا جائے۔ اور یوں شر پسنددوں کو شرپسندی کے حق میں ایک اور استدلال ہاتھ آ جائے۔

’’پراجیکٹ عمران‘‘ جیسے بھی شروع ہوا، اور جیسے بھی مختلف منزلیں مارتا 2018 میں مسندِ اقتدار پر براجمان ہوا۔ یعنی پہلے پڑاؤ پر جینرل حمید گل نے کیا کیا۔ پھر جینرل شجاع پاشا نے کیا کیا۔ اور اگلے پڑاؤ پر جینرل قمر جاوید باجوہ اور جینرل فیض حمید کی جوڑی نے کیا کیا۔ اس کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ یہ سب باتیں اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ولاگوں میں دستیاب ہیں۔

اور 2018 کے عام انتخابات کو کیسے تماشا بنایا گیا، اسے بھی علاحدہ رکھ دیجیے۔

بلکہ انتخاباات سے پہلے کیسے جنھیں قابلِ انتخاب سمجھا جاتا ہے انھیں ہانکا لگا کر عمران خانی پارٹی میں لایا گیا۔ پارٹی بنوائی گئی۔ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ سب کچھ بھول جائیے۔

اور ان جینرلوں نے بالعموم کیا سوچا کیا خیال کیا، اور بالخصوص موخر الذکر دو جینرلوں نے کیا کیا سنہرے خواب دیکھے ہوں گے، کیا کیا ارادے باندھے ہوں گے، کہ وہ اس پراجیکٹ عمران کے ذریعے کیا کیا معجزے کر دکھائیں گے، اسے بھی نظر انداز کر دیجیے۔

آگے چلنے سے پیشتر ایک جملہٴ معترضہ: جہاں تک میری ذات کی بات ہے، میں نے جس دن سے عمران خان کی تصویر اخبار یا ٹی وی پر دیکھی ہو گی، اسی یا نوے کی دہائی میں کسی وقت، فطرتاً یہ شخصیت میرے دل کو کبھی بھائی نہیں۔ ہاں، ان لمحوں میں جب یہ صاحب کسی کرکٹ میچ میں باؤلنگ کیا کرتے تھے۔ وہ منظر دیدنی ہوتا تھا۔ وکٹ اور بیٹسمین کے لیے ایک تباہ کن تصور کی طرح۔

اس سے بڑھ کر ذرا بھی نہیں۔ بالکل نہیں۔

قریباً نوے کی دہائی کی ابتدا کی بات ہو گی۔ ایک ڈاکٹر دوست لاہور جینرل ہسپتال میں تعینات تھے۔ میں ان سے ملنے گیا۔ باہر سڑک پر ویگن سے اُترا۔ سڑک پار کی۔ ہسپتال کا گیٹ کراس کیا، اور دوست کے وارڈ کی طرف جا رہا تھا، جہاں چند سیڑھیاں چڑھ کر طویل برآمدہ تھا۔ دیکھا کہ ایک پرانی میلے ہرے رنگ کی کار رکی، اور اس میں سے یہی صاحب اترے۔ میں نے پہچان لیا، اور ٹھٹکا۔ دیکھا کہ جدھر میں جا رہا تھا ان کا رخ بھی اسی برآمدے کی طرف تھا۔ میں رکا اور کچھ دیر رکا رہا۔ سوچا ذرا وقفہ حائل ہو جائے تا کہ دوری رہے۔

خیر یہ اپنی اپنی ترجیح کی بات ہے، اور جبلت کی بھی۔

پھر جولائی (2018) کا وہ دن بھی دیکھنا پڑا، جب ان صاحب سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھوایا گیا۔

اس وقت میں نے فیس بک پر یہ الفاظ لکھے: ’’یاد رہے آج وزیرِ اعظم بننے والے نے اسلام آباد دھرنے میں آئین، قانون، اخلاقیات، پارلیمان، اقدار، ہر چیز کی دھجیاں اڑائیں۔‘‘ (18 اگست 2018)

انھی برسوں میں، کسی دن میں نے دکھے ہوئے دل کے ساتھ فیس بک پر یہ بھی لکھا: ’’پاکستان کے ساتھ بڑے بڑے ظلم ہوئے ہیں، لیکن اس سے بڑا کوئی اور ظلم نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کے سر پر عمران خان کو بٹھا دیا جائے۔‘‘

اب اس بے بسی کا کیا کیا جائے! مراد یہ کہ آپ جو کچھ نہیں چاہتے کہ وہ ہو، وہ سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو، اور آپ اس کے تباہ کن مضمرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں، تو اس اسے بڑی بے بسی کیا ہو سکتی ہے۔

یہ یہی اسی بے بسی کا تصور ہے، جو یونانی اساطیر کی شہزادی اور کاہنہ کساندرا کی صورت میں مجسم ہوا۔ وہ اس طاقت سے متصف تھی کہ جو کچھ مستقبل میں ہونے والا ہوتا تھا وہ اسے قبل از وقت دیکھ لیتی تھی۔ لیکن اسے یہ سزا بھی دی گئی تھی کہ کوئی اس کی پیش گوئیوں پر یقین نہیں کرے گا۔

کچھ ایسے ہی احساسات میرے بھی رہے۔ لاہور میں جب عمران خانی پارٹی کا پہلا جلسہ ہوا، 30 اکتوبر 2011 کو تو پہلی مرتبہ مجھے اسی بے بسی کا ادارک ہوا۔ اور اس آگہی کا یہ ادراک اور پھر اس کا عذاب ہر آنے والے دن کے ساتھ دوچند ہوتا رہا۔

اسی اثنا میں، میں نے ایک مضمون، ’’پاکستان کے شہریوں کے ساتھ چوتھا عظیم دھوکہ‘‘ لکھنا شروع کیا۔ جو بعد ازاں طویل تر ہوتا ایک کتاب کی شکل اختیار کر گیا۔ جس کا عنوان ہے: ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ و خم کا فلسفیانہ محاکمہ۔‘‘ یہ کتاب جولائی 2012 میں شائع ہوئی۔

صفحہ 58 پر ایک پیرا ہے، جس کی سرخی یہ ہے: تحریکِ انصاف ڈیلیور نہیں کر سکتی۔

تفصیل ملاحظہ کیجیے: ’’جیسا کہ جب گھروں میں مرغی انڈے سیتی ہے، تو کچھ انڈوں میں سے چوزے نہیں نکلتے۔ مراد یہ کہ جیسے تیسے اگر تحریکِ انصاف حکومت میں آ جاتی ہے، تو یہ ڈیلیور نہیں کر سکے گی۔ اور یہاں ڈیلیور کرنے سے مراد حقیقتاً ڈیلیور کرنا ہے، اس طرح ڈیلیور کرنا نہیں، جیسے باقی سیاسی پارٹیاں ڈیلیور کرتی رہی ہیں۔

ہاں، یہ بالکل ممکن ہے کہ یہ کسی نہ کسی انداز سے اقتدار میں آ جائے گرچہ اس کے امکانات بھی بہت کم اور مخصوص پاکستانی مشکلات سے پُر ہیں، لیکن پاکستان میں ہر چیز کو ممکن کر دکھانے والی دیدہ اور نادیدہ قوتیں موجود ہیں، جو اس بات کو بھی ممکن کر دکھائیں گی یا دکھا سکتی ہیں؛ مگر تحریکِ انصاف کسی بھی صورت ڈیلیور نہیں کر سکے گی۔ کیونکہ یہ محض ایک بند و بست ہے۔ جیسا کہ متحدہ قومی موومینٹ ہے، مسلم لیگ ق ہے، جو تیزی سے اپنے انجام کی طرف لڑھک رہی ہیں۔‘‘

یاد رہے کہ ابتدا سے تاحال جتنا کچھ میں نے عمران خانی سیاست کے بارے میں لکھا ہے، وہ کئی سو صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ مگر ابھی تک میری تشفی نہیں ہوئی کہ اس مظہر کے بارے میں جو کچھ اور جتنا کچھ کہا جانا ضروری ہے، وہ سب کچھ کہہ دیا گیا ہے۔

ایک بات اور جو میں اکثر فیس بک پر اور اپنی ہر تحریر میں لکھتا اور گفتگو میں کہتا رہا ہوں، وہ میرا یہ تحیر ہے کہ عاقل و بالغ اور ’’سمجھ دار‘‘ لوگوں کو اس مظہر میں کیا نظر آیا کہ آنکھیں بند کر کے اور ہاتھ باندھ کر اس کے پیچھے چل پڑے۔ اور ابھی تک اس کے پیچھے لڑھکتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ حیرانی اس حقیقت کے احساس سے اور بڑھ جاتی ہے کہ لوگ نہیں، بلکہ یہ دانشور لوگ ہیں، جو گمراہ ہوئے اور ابھی تک گمرہی کا دامن چھوڑنے پر تیار نہیں۔

’’پاکستان جس ہمہ گیر بحران کا شکار ہے وہ عمران خان اور عمران پرستوں کی صورت میں متشکل ہو رہا ہے۔ اور اس کی تہہ میں کوئی فکر پوشیدہ نہیں بلکہ ایک فسطائی خواہش مرگ کار فرما ہے۔‘‘ (10 فروری 2024)

’’عمران خان کا بس ایک فائدہ ہوا۔ بڑے بڑے دانائے راز اور سمجھ دار لوگ اس کے پیچھے لگ کر بے نقاب ہو گئے۔‘‘ (29 اپریل 2024)

اور یہ کہ ان دانشوروں میں اہلِ قانون بھی شامل ہیں: ’’اتنا تماشا کیوں؟ عظمیٰ کو چاہیے الیکشن کمیشن اور پارلیمان کی طرف سے عمران خان کو وزیر اعظم منتخب کرنے کا اعلان کر دے۔‘‘ (14 اپریل 2023)

اگر آپ کو یاد نہیں رہا، تو توجہ دیجیے کہ عمران خانی دور میں جینرل باجوہ اور جینرل فیض حمید آئے روز وزیرِ اعظم ہاؤس میں بیٹھے ہوتے تھے۔ اس ضمن میں جو بات اہم ہے، اس کے بارے میں صحافی طلعت حسین اپنے ولاگ میں بتاتے تھے، ضابطہ یہ ہے کہ وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہونے والی ہر ملاقات کے منٹنس (Minutes) تیار ہوں۔ وہاں منٹس کیا، گھنٹوں کی خبر نہیں تھی!

خیر، جب جینرل باجوہ کی تسلی ہو گئی تو انھوں نے سیاسی پارٹیوں سے کہا اب وہ جو چاہتی ہیں کر لیں۔ یعنی یہ کہ انھوں نے عمران خان کے سر پر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ اب وہ عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ سیاست دان بے چارے پہلے بھی ایک مرتبہ عدم اعتماد کی تحریک لائے تھے، لیکن تب عمران خان کے سرپرستوں نے اسے کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔

اس مرتبہ یہ تحریک کامیاب ہونا ہی تھی، کامیاب ہوئی۔ اور آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ عمران خان کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے کیسے باہر نکالا گیا۔

یہ بھی عیاں رہے کہ عمران خان کی بنوائی گئی غیر آئینی یعنی ڈی فیکٹو حکومت اپریل 2022 میں آئینی طریقے سے یعنی عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اپنے انجام کو پہنچی۔

اور آپ کو یہ بھی یاد ہو گا، جیسا کہ بعد میں صحافیوں نے کہانیاں لکھیں (کیونکہ یہ تو صحافیوں کا پسندیدہ کام ہے۔ بلکہ ان کا کام ہی یہی ہے، کہانیاں سنانا اور کہانیاں لکھنا۔۔۔) کہ تینوں قسمت آزما اپنی اپنی جگہ کیسے کیسے سازشی جال بُن رہے تھے۔ اپنی اپنی حکومت کو دس دس برس تک قائم رکھنے کے کیسے کیسے منصوبے تیار ہو رہے تھے۔

پھر یہ بھی یاد کیجیے کہ عمران خان نے کس طرح خود کو اپنی رہائش گاہ، زمان پارک میں قلعہ بند کیا۔ اور 9 مئی 2023 کو بعد اس خرابیِ بسیار اس کی گرفتاری کے بعد ریاست کے خلاف ’’بغاوت‘‘ کا کھیل کس طرح کھیلا گیا۔

بہر حال پھر مقدمات چلے اور سزائیں ہوئیں۔ ابھی مزید مقدمات چل رہے ہیں، اور مزید سزائیں ہونا باقی ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس عرصے میں جھوٹ اور افترا کا ایک بازار گرم رکھا گیا۔ جلسے جلوس اور لانگ مارچوں کی ہنگامہ آرائی جاری رکھی گئی۔

اور یہ ابھی تین روز پہلے، 11 اکتوبر 2026 کی بات ہے کہ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد عمران خانی پارٹی کی جو حکومت خیبر پختونخوا کے صوبے میں قائم ہوئی تھی (جی ہاں، فارم 47 کی حکومت!)، اور جہاں سے اسلام آباد پر مسلسل گولہ باری جاری رہی اور اسلام آباد پر لانگ مارچوں کے دھاوے بولے جاتے رہے، وہاں ایمر جینسی کے ساتھ ساتھ گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ یوں عمران خانی پارٹی کا آخری قلعہ بھی سرنگوں ہوا۔

عمران خان کی کہانی بس اب اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔

تباہی و بربادی کے اس طلسمِ ہوش ربا کے باوجود میں سوچتا ہوں، اور پاکستان جہاں آئینی و قانونی اور سیاسی حالات کبھی قابلِ پیش بینی نہیں ہوتے (کیونکہ آئین و قانون کو اپنا کام نہیں کرنے دیا جاتا)، اور جہاں سیاست ریاستی اشرافیہ کے لیے محض ایک ’’مہم جوئی‘‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، وہاں آپ یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جو اور جتنا کچھ ’’شر‘‘ واقع ہو رہا ہوتا ہے، اور جو اور جس قدر ’’شر‘‘ قصداً پھیلایا جا رہا ہوتا ہے، اس میں سے کہیں کچھ ’’خیر‘‘ کا کوئی پہلو نکل آئے۔

یعنی ہماری بے بسی بس اتنا کچھ ہی کر سکتی ہے کہ کسی شر میں سے کسی خیر کے نکلنے کی امید لگا لے!

یہی خیال بار بار مجھے بھی ستاتا ہے کہ چلیں جو بھی جیسا بھی پراجیکٹ عمران بنا اور جیسے بھی اس پر عمل درآمد ہوا، مگر اس میں سے کچھ اچھی چیز تو نکل سکتی تھی۔ کیوں نہیں نکلی؟

یعنی چلیں عمران خان جیسے بھی اس بے یار و مددگار ریاست کا منتظمِ اعلیٰ بن گیا، بن بیٹھا، بنا دیا گیا۔ لیکن بننے کے بعد وہ کچھ نہ کچھ اچھا اور بہتر کر سکتا تھا۔

کوئی ایک چیز، کوئی ایک کام۔ ڈھونڈ لیجیے، گنوا دیجیے۔ کوئی ذرا سی بات، کوئی چھوٹا سا قدم۔

کوئی کامیابی، کسی محاذ پر، کسی شعبے میں۔ کوئی تعمیری تدبیر، کوئی تعمیری تجویز۔

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایسی کوئی چیز کہیں سے کھود کر بھی نکالی جا سکے!

بلکہ ہوا کیا، اس ’’شر‘‘ میں سے ایسے ایسے شر، ایسے ایسے شر پسند شر اور شر انگیز شر برآمد ہوئے کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔

چھوٹے پن اور کمینے پن کی لاتعداد مثالیں دسیتاب ہیں، مگر بڑائی کا ایک حرف بھی نہیں۔

جیسے کہ اقتدارِ اعلیٰ کی مسند پر انتقامی جذبے کی جبلت عریاں سریر آرا ہے۔ یاد کیجیے بشیر میمن ڈائریکٹر جینرل فیڈریل انویسٹی گیشن ایجینسی (ایف آئی اے) کا تہلکہ خیز انٹرویو۔ یہ عمران خان کے دورِ حکومت کے دوران اپریل 2021 میں نشر ہوا۔ بشیر میمن نے بتایا کہ عمران خان اور ان کی ٹیم نے بار بار انھیں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور مریم نواز کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیے کہا، اور خواجہ آصف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ بنانے کا حکم دیا جبکہ کوئی ثبوت مہیا نہیں تھے۔

بلکہ جینرل باجوہ سے یہ فرمائش تک کی گئی کہ تمام حزبِ اختلاف کو قید کر دیا جائے۔

پہلے سنا بھی تھا اور میں خود یہ سمجھتا بھی تھا کہ جب کوئی فرد کسی اعلیٰ مرتبے اور برتر مقام پر پہنچ جاتا ہے، تو اگر وہ اس کے قابل نہ بھی ہو، مگر پھر وہ خود کو اس مقام و مرتبے کے شایانِ شان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب کوئی انسان کوشش کرتا ہے، تو وہ کچھ نہ کچھ کامیابی ضرور حاصل کر لیتا ہے۔

لیکن یہاں اس شخصیت کے معاملے میں جو حقیقت سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اس نے خود کو مزید نیچے گرانے میں الجھائے رکھا۔ کھُل کھیلنے کو ترجیح دینا بہتر سمجھا۔ بلکہ سمجھا بھی کیا، یہ تو طے تھا کہ وہ یہی کچھ کر سکتا تھا اور اس نے وہی کچھ کر کے دکھایا۔

قصہ مختصر یہ کہ عمران خان وہی ’’بچہ سقہ‘‘ ثابت ہوا، جو خود کو مل جانے والے مقام و مرتبے سے بے بہرہ بچہ سقہ ہی رہا۔ یعنی جس نے جیسے بھی ملی، مگر مل جانے والی ذمے داری کو محض ’’سقہ شاہی‘‘ گردانا اور اپنی سفلی خواہشات کی تکمیل میں جُٹا رہا، اور کچھ اچھا نہ سوچ سکا نہ کر سکا۔

حیف کہ اس شر میں سے سوائے شر کے کچھ اور برآمد نہ ہوا!

[13 اکتوبر 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted