مطالبے کی منطق یا معاہدے کی منطق

مجھے اس تحریر کو عنوان دینے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

ویسے تو اکثر و بیشتر جب میں کچھ لکھنے بیٹھتا ہوں تو کچھ نہ کچھ عنوان ذہن میں ضرور بن جاتا ہے، گو کہ لکھنے کے دوران یا مکمل ہونے کے بعد یہ عنوان اکثر جزواً یا کلیتاً تبدیل جاتا ہے۔

لیکن اس تحریر کے ضمن میں خیال کے پہلے ہی جھلکے میں جو عنوان سوجھا ہے، میں اس سے بالکل مطمئن نہیں۔ کیونکہ اس عنوان سے بات نہیں بنتی۔ یعنی جس چیز کے بارے میں میں لکھنا چاہ رہا ہوں، وہ چیز اس عنوان سے مترشح نہیں ہو رہی۔

اصل میں جو لفظ مجھے تنگ کر رہا ہے، وہ ہے مطالبہ۔ اس کی جگہ کوئی اور مناسب لفظ کیا ہو سکتا ہے؟ طلب۔ یا تقاضا۔ یا مانگ۔ مگر یہ سب الفاظ وہ بات نہیں کہہ پا رہے، جو میرے ذہن میں ہے۔

یا عرض، استدعا، درخواست، وغیرہم۔ لیکن یہ الفاظ تو پورے معاملے ہی کو الٹا دیتے ہیں۔

خیر پہلے میں مسئلے کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ہم سب کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے، اور اگر اکثر نہیں، تو اب یا تب یہ واقعہ ضرور ہوا ہوتا ہے۔ یعنی کسی کے ساتھ گفتگو میں، یا بحث میں، یا کسی وٹس ایپ گروپ میں تبادلہٴ خیال میں۔

جیسا کہ ابھی ایک وٹس ایپ گروپ میں یہی معاملہ پیش آ گیا۔ اور میں نے سوچا اب اس معاملے پر اپنے خیالات کو حوالہٴ قرطاس کر دینا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ محرک ایک طرح سے یاد دہانی بھی تھا۔

ایک بحث کے دوران ایک معیشت دان دوست نے لکھا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: ’ملک کے معاشی حالات خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ معاشی مسائل میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ان کے پاس سیاست، سیاست دانوں کی قلابازیوں اور سیاسی جھوٹ سچ کے لیے بہت وقت ہے۔ یو ایس میں انتخابات کا فیصلہ معیشت سے متعلق دونوں پارٹیوں کے پروگراموں اور وژن پر ہوتا ہے۔ یہاں میں نے شاذ ہی کبھی کوئی ایسی بحث دیکھی ہے۔ بیشتر صورتوں میں یہ لایعنی گفتگو، ڈھونگ اور چال بازی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا اور چینلوں پر گذشتہ ہفتے بھر کی بحثوں کے موضوعات کو دیکھ لیں، یہ سب آئیں بائیں شائیں ہوں گے۔ اور اسی دوران جس چیز پر بحث کی ضرورت ہے، وہ حکومت کی وہ ڈیل ہیں، جو اس نے چار نئے آئی پی پیز کے ساتھ دستخط کی ہیں، جو 2040 سے آگے تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس ملک کو جس طرح چلایا جا رہا ہے، بس خدا ہی حافظ ہے۔‘

اس پر میں نے کہا کہ لوگوں پر الزام نہیں بنتا، انھیں الزام نہیں دینا چاہیے۔ یہ سیاست دان اور دانشور ہیں، جو اصل مجرم ہیں۔ صرف اور صرف انھیں ذمے دار قرار دینا چاہیے۔ اسی لیے تو میں انھیں سیاسی اشرافیہ اور دانشور اشرافیہ کہتا ہوں۔

ان کا جواب تھا بھئی سیاست دان لوگوں کی ڈیمانڈ کو رسپانڈ کرتے ہیں۔ یعنی لوگ جس چیز کا تقاضا کریں گے، سیاست دان وہ چیز کر کے دیں گے۔ اگر لوگوں کی ڈیمانڈ پکی گلی اور پکی نوکری ہے، تو پھر بحث بھی اس کے بارے میں ہی ہو گی۔ اگر ریفارمز کی ڈیمانڈ ہوتی، تو اب تک ہمیں یہ ریفارمز مل چکی ہوتیں۔

اس پر میں نے کہا کہ یہ ایک غلط تصور بن گیا ہے۔ پاکستان میں سیاست دان اس چارے کو رسپانڈ کرتے ہیں، جو قائمیہ انھیں ڈالتی ہے۔۔۔ لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ وہ سیاسی اشرافیہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ لوگوں کی ڈیمانڈ کو رسپانڈ کیوں کریں گی؟

یہ بحث تو ختم ہو گئی، لیکن میرا ذہن اس معاملے پر مرکوز ہو گیا۔

چلیں اس گفتگو میں جو بات سامنے آئی اسی سے ابتدا کر لیتے ہیں۔

اصل قضیہ یہ ہے: لوگ ڈیمانڈ کریں گے، تو سیاست دان اس چیز کو پورا کریں گے۔ اگر لوگ ڈیمانڈ نہیں کریں گے، تو سیاست دان وہ چیز نہیں کریں گے۔

ابھی یہاں وہ اوپر بیان ہوا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ میں نے ڈیمانڈ کے لفظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے، لفظ مطالبہ استعمال کیا تھا۔ مگر جس مفہوم کا حامل لفظ ’’ڈیمانڈ‘‘ ہے، وہ مطالبہ، طلب، یا تقاضا یا مانگ کے الفاظ سے ادا نہیں ہو پا رہے۔

لفظ ڈیمانڈ یہاں صرف معاشیات کی اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں ہو رہا۔ ہمارے سیاق و سباق میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

اسی طرح، گو کہ لفظ طلب، ڈیمانڈ کی معاشی اصطلاح کا اردو متبادل ہے اور خاصا مستعمل بھی ہے، لیکن اس سے بھی مطلوبہ مفہوم ادا نہیں ہوتا۔

تقاضا کا اردو لفظ بھی اپنے دامن میں بہت مختلف معانی رکھتا ہے۔

اور مانگ کا لفظ بھی معانی کی ایک بالکل مختلف جہت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

خود مطالبہ کا لفظ ڈیمانڈ کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے، گو کہ یہ بھی مطلوبہ مفہوم ادا نہیں کرتا۔

یاد رہے میں لغات سے رجوع نہیں لا رہا اور جو مفاہیم مروج ہیں انھیں سامنے رکھ رہا ہوں۔

اردو کے ان چاروں الفاظ کی سیاسیات، سماجیات، اور معاشیات، وغیرہ، اس مفہوم کو ادا کرنے سے قاصر ہے، جس سے انگریزی کا لفظ ڈیمانڈ لبریز ہے۔ غالباً اس کا سبب ڈیمانڈ لفظ کا نہایت وسیع استعمال ہے۔ لاتعداد صورتوں میں اس کے استعمال نے اس کے معانی کو نہایت وسعت آشنا کر دیا ہے۔

جہاں تک اردو کے چاروں الفاظ کا تعلق ہے، ان کے ساتھ جو مسئلہ درپیش ہے اسے میں یوں بیان کرنا چاہوں گا۔

مطالبہ کے لفظ میں کسی باہمی بندھن کے معنی کا کوئی اتا پتا نہیں ملتا۔ یعنی یہ ایک یک طرفہ کاروائی کو ظاہر کرتا ہے۔

طلب کا لفظ بھی اپنے معانی کے حیطے میں معاہدے کے مفہوم کا حامل نہیں۔ یعنی جب لفظ طلب استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں بنتا کہ یہ طلب ایک معاہدے کی پابندی سے تعلق رکھتی ہے۔ اور یہ بھی کہ طلب کے معنی کسی فرد کی آزادانہ طلب کے ہیں۔ یعنی طلب کا لفظ یک طرفہ مفہوم رکھتا ہے۔

اسی طرح، لفظ تقاضا بھی جن معنی کا حامل ہے، ان میں دونوں صورتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ ایک فرد نے کسی دوسرے فرد کو قرض دیا ہوا ہے، اور وہ اس فرد سے اس کی واپسی کا تقاضا کرتا ہے۔ یا ایک فرد کسی دوسرے فرد سے قرض کا تقاضا کیے جاتا ہے۔ یہاں بھی یک طرفہ مفہوم عیاں ہے۔

اور لفظ مانگ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ مانگ میں بھی نہ تو کسی معاہدے کی کارفرمائی نظر آتی ہے، نہ کسی دو طرفہ ذمے داری کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ گو کہ مطالبے کے لفظ کی طرح یہ لفظ مانگ بھی سیاست اور ریاست سے متعلق بیانیوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کا مفہوم بھی معاہدے کے دو فریقوں کے معاملے سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا۔

بلکہ جہاں تک انگریزی لفظ ڈیمانڈ کا معاملہ ہے، تو یہ بھی کسی معاہدے کے ضمن میں دو طرفہ ذمے داری کے مفہوم سے عاری ہے۔ اس کے ذریعے جس بات کا اظہار ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے، وہ محض کسی چیز کے حصول کے لیے کی جانے والی سرگرمی ہے۔

یعنی جس مسئلے پر گفتگو مقصود ہے، وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس مسئلے کے ضمن میں ایک ایسے لفظ یا اصطلاح کا استعمال کیا جائے، جس میں ایک معاہدے کے ساتھ ساتھ اس معاہدے میں شامل دو یا زیادہ فریقوں کو اس معاہدے میں موجود شرائط پر عمل درآمد کا پابند بنایا گیا ہو اور یہ کہ وہ لفظ اس مفہوم کو ادا کرتا ہو۔

یوں ایک بات تو کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ لفظ معاہدہ اس مسئلے کی توضیح میں مددگار ہے۔

تاہم، جیسا کہ عیاں ہے کہ کسی بھی گفتگو یا بحث میں یہ لفظ معاہدہ تو استعمال کیا ہی نہیں جاتا۔ جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے، وہ ہے ڈیمانڈ یا مطالبہ۔

اور اسی سے سارا خلطِ مبحث پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ اوپر کی مثال سے ظاہر ہے۔

جب تک لوگ سیاست دانوں سے مطالبہ نہیں کریں گے، تو سیاست دان وہ چیز کر کے نہیں دیں گے۔ اور کر کے بھی کیوں دیں، جبکہ اس کا مطالبہ ہی نہیں کیا گیا۔

یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا دنیا میں جو کچھ بھی ہوا، اس کا مطالبہ کیا گیا تھا، تب ہی وہ ہوا! یا یہ کہ چیزوں کے واقع ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کا مطالبہ کیا جائے! میں یقیناً انسانی سماج اور انسانی معاملات کی بات کر رہا ہوں۔

سو اس ضمن میں جو استدلال میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور جو اس صورت کو ایک مغالطے کے ساتھ ساتھ ایک مخمصے میں بھی بدل دیتا ہے، وہ یہ ہے۔

پہلی بات: کوئی سیاست دان جو جس کسی سیاسی جماعت سے بھی تعلق رکھتا ہے، وہ سیاسی جماعت جب قائم ہوئی، تو اس وقت اس کا ایک آئین بھی لکھا گیا ہو گا، جو جیسا کہ آج کل معمول ہے اس جماعت کی ویب سائیٹ پر دسیتاب ہو گا یا ہونا چاہیے۔

دوسری بات: اسی طرح، جب اس سیاسی جماعت نے انتخابات میں حصہ لیا ہو گا، تو اس نے اپنا ایک انتخابی منشور بھی تیار کیا ہو گا اور یہ بھی اس کی ویب سائیٹ پر دستیاب ہو گا۔ یعنی کہ حکومت میں آنے کی صورت میں وہ جماعت اس انتخابی منشور پر عمل درآمد کرے گی۔

تیسری بات: ان دونوں چیزوں یعنی آئین اور انتخابی منشور کے علاوہ اس سیاسی جماعت کے قائدین نے جب بھی جہاں بھی لوگوں کے ساتھ زبانی کوئی وعدہ کیا، یا کوئی یقین دلایا کہ جب وہ حکومت میں آئیں گے تو ان چیزوں پر عمل درآمد کریں گے۔

اب یہ بات عیاں ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا آئین اور اس کا انتخابی منشور ایسی چیزیں ہیں جو حیطہٴ تحریر میں آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر اس سیاسی جماعت نے یہاں وہاں کسی جلسے میں، کسی اجلاس میں لوگوں کے ساتھ کچھ وعدے کیے اور کچھ اہداف کا تذکرہ کیا، تو یہ بھی اس سیاسی جماعت کا عہد ہے لوگوں کے ساتھ اور یہ بھی اتنا ہی واجب التعمیل ہے، جتنا اس سیاسی جماعت کا لکھا ہوا لفظ یعنی اس کا آئین اور انتخابی منشور۔

مراد یہ کہ خواہ یہ لکھا ہوا لفظ ہے یا (زبانی) بولا ہوا لفظ، دونوں کی حرمت یکساں ہے اور دونوں ایک معاہدے کی حیثیت رکھتے ہیں، اور صرف اخلاقیات ہی کا تقاضا نہیں کہ ان الفاظ پر عمل کیا جائے، بلکہ آئین اور قانون بھی متقاضی ہیں کہ وہ سیاسی جماعت اپنے آئین اور انتخابی منشور کے ساتھ ساتھ زبانی کیے گئے وعدوں، وغیرہ، پر بھی یکساں عمل درآمد کی پابند بنے۔

واضح رہے کہ یہ صرف اخلاقیات کا معاملہ نہیں، جو انسانی سماج کی اساس کو تشکیل دیتی ہے، بلکہ آئین اور قانون کی حاکمیت کا مسئلہ بھی ہے، جس کے بغیر کسی سماج کا نظم و ضبط باقی نہیں رہ سکتا۔ اور ان دونوں چیزوں سے بڑھ کر یہ سماجی اخلاقیات کی بقا کا معاملہ بھی ہے، جس کے بغیر کسی سماج میں انسانی رشتوں کے تار و پود اور ان کا تانا بانا قائم و استوار نہیں رہ سکتا۔

جہاں تک سیاست کی اہمیت کی بات ہے، تو یہ سیاست ہی ہے، جو ریاست، معشیت، عدالت کو بناتی یا بگاڑتی ہے، اور پاکستان کے معاملے میں تو یہ چیز اظہر من الشمس ہے کہ یہاں سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے کس طرح ریاست، معیشت اور عدالت کو تباہ و برباد کیا، یہاں تک کہ کسی چیز کا اعتبار باقی نہیں رہا۔ نہ ریاست کا نہ عدالت کا، اور نہ ہی سیاست کا۔

یہ ہے وہ استدلال جس کے مقابل، میں چاہوں گا کہ، ’’مطالبے کی منطق‘‘ کو رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔ جب کسی سیاسی جماعت کا آئین موجود ہے، اس کا انتخابی منشور موجود ہے، جب لوگوں کے ساتھ کیے گئے اس کے وعدے اور ان کے سامنے رکھے گئے اس کے اہداف موجود ہیں، تو کیا اس سیاسی جماعت سے کسی مطالبے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ یعنی کسی طلب، کسی تقاضے، یا کسی مانگ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔

یہ ہے مطالبے کی وہ منطق جس کے پیچھے اصل میں کوئی منطق پوشیدہ نہیں۔ صرف ایک مغالطہ موجود ہے۔ ایک مخمصہ موجود ہے۔

یعنی جب ایک وعدہ کر لیا گیا، تو اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے اور اگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، تو یہ ایک مغالطہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا۔ یا تو جھوٹا وعدہ کیا گیا۔ یا دھوکہ دیا گیا۔ یا لوگوں کو گمراہ کیا گیا۔

سیاست میں یہی وہ چیز ہے، جس نے ریاست اور عدالت کے ساتھ ساتھ خود سیاست کو بے اعتباری کے قعرِ مذلت میں دھکیل دیا۔

مخمصہ یہ ہے: ایسی کیا افتاد آن پڑی کہ لکھے ہوئے لفظ کے ساتھ زبانی لفظ کی حرمت کو بھی پامال کیا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ اور یہ عمل ایک ایسی سطح پر کیا گیا، جو محض انفرادی نہیں (گو کہ یہ بھی یکساں اہم ہے)، بلکہ ایک سماج کی اجتماعی اور تاریخی سطح ہے۔ اور یہ ایک ایسا فعل ہے، جس نے پورے ایک سماج کی حیات و بقا کو زد پر رکھ لیا اور اس کی سالمیت کو پارہ پارہ کر دیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ جس مسئلے کو سامنے لانا مقصود تھا، وہ مقصد تو سامنے آ گیا۔ اب ذیل میں اس کے ساتھ منسلک مختلف معاملات سے تعرض کیا جاتا ہے۔

ایک بات بچپن سے سننے میں آئی۔ ماں بچے کو اس وقت تک خوراک نہیں دیتی، جب تک وہ روتا اور شور نہیں مچاتا۔ آیا یہ بات درست ہے؟ آیا اسے ایسے ہی ہونا چاہیے؟

یہاں بھی سیاق و سباق اہم ہے، بلکہ نہایت اہم ہے۔

یعنی ایک ماں کی کیا ذمے داریاں ہیں۔ ایک بچے کی پرورش و تربیت کے ضمن میں کیا چیزیں ضروری ہیں۔ کیا بچے کی ماں کو یہ معلوم نہیں یا معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ بچے کو کس کس وقت خوراک دینی ہے۔ یا اگر یہ سمجھا جائے کہ جب بچہ روئے گا تب ہی اسے خوراک دینی ہے، تو یہ چیز ماں کے ضمن میں ایک بڑی کوتاہی کی غمازی کرتی ہے۔ اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماں کو ماں کی ذمے داریوں اور تقاضوں سے کچھ بھی آگاہی نہیں۔ یہ بس جو کام سر پر پڑ جائے، اسے کر لیتی ہے۔

عیاں ہے کہ یہاں اس مثال میں بھی وہی ’’مطالبے کی منطق‘‘ کارفرما ہے۔

دوسرا معاملہ: جب سے شعور کی آنکھ کھلی، اس وقت سے ایک اور بات سننے کو ملی۔ بعدازاں، اسے پڑھا بھی۔

اس کا تعلق شاہ حسین کی کافی کی ایک سطر سے ہے: کہے حسین فقیر سائیں دا، تخت نہ ملدے منگے۔

پوری کافی ملاحظہ کیجیے:

مینڈی جان جو رنگے سو رنگے
مستک جنھاں دے پئی فقیری بھاگ تنھاں دے چنگے
سُرت دی سوئی، پریم دے دھاگے پیوند لگے ست سنگے
کہے حسین فقیر سائیں دا، تخت نہ ملدے منگے

یہاں بھی پہلے سیاق و سباق سیدھا کر لیا جائے تو مناسب رہے گا۔

جیسا کہ کافی میں مذکور ہے کہ جن کے نام فقیری لکھی گئی، ان کا مقدر اس سے بہتر کیا ہو گا۔ ہاں اگر تخت چاہیے تو یہ ایسی کوئی چیز نہیں جو مانگے سے مل جائے گی یا مانگے سے مل سکتی ہے۔ یعنی اس کے لیے جتن کرنا پڑے گا۔ اس کا ایک مفہوم اور بھی ہو سکتا ہے کہ فقیری تو مانگے سے مل سکتی ہے، مگر تخت نہیں۔

شاہ حسین کا تعلق لاہور سے تھا اور دور سولہویں صدی (1599-1538) کے آخری تین چوتھائی پر مشتمل ہے۔ یہ عہد ہے مغل شہنشاہ اکبر کا۔

یہ دور ابھی کرہٴ انسانی پر ایسے وقت سے عبارت تھا جب تاج و تخت کے حصول کا دار و مدار بے رحمانہ اور جان لیوا تگ و تاز اور جنگوں پر تھا۔ مراد یہ کہ ابھی حاکمیت کا معاملہ ’’محکوموں‘‘ کی رضا سے طے نہیں ہوتا تھا۔ جیسا کہ ازاں بعد، نمائندہ جمہوریت کے آنے سے حکومت کی تبدیلی پُرامن انداز سے ہونے لگی۔

ظاہر ہے کہ سولہویں صدی کی اثنا میں، شاہ حسین کی تفہیم کے مطابق تخت کا حصول مانگنے پر منحصر نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن جمہوری اداروں کے ساتھ حکومت کی پُرامن تبدیلی نے اس حرکیات کو منقلب کر دیا۔ اب ’’تخت‘‘ ملنے کے معاملے کا انحصار مانگنے پر ہو سکتا تھا، ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ جب 1993 میں صدر غلام اسحاق خان نے قومی اسیمبلی کو تحلیل اور نواز شریف کی حکومت کو برخاست کیا اور یہ مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا تو وہاں سے داد رسی ہوئی اور نواز شریف کی حکومت بحال ہو گئی۔

(یہاں یہ بات عیاں ہے کہ انصاف کے لیے بہر طور درِ عدالت پر دستک دینا پڑتی ہے! گو کہ اس معاملے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، کیا جانا چاہیے۔)

سو، شاہ حسین کی کافی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ جبکہ اس متذکرہ سطر کو بالعموم جس سیاق و سباق میں استعمال کیا جاتا ہے، اور جیسا کہ اس سطر کا بیشتر استعمال بائیں بازو کی شخصیات اور گروہوں کے ہاتھوں ہوتا ہے، تو اس سے جو مفہوم مراد لیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جو چیز بھی زیرِ بحث ہے اس کے ضمن میں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ چیز تخت کی طرح مانگے سے نہیں ملے گی۔ اور بائیں بازو کی سوچ بھی ایسی ہی ہے، اور بائیں بازو والے حکومت کے حصول کے ضمن میں تشدد سمیت ہر حربے کو جائز بھی سمجھتے ہیں۔

مطالبے کی منطق سے متعلق ایک اور معاملے کو دیکھ لینا اہم ہو گا۔

ریسکیو 1122 کی ایمرجینسی سروس چاروں صوبوں، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان کے بیشتر شہروں میں دستیاب ہے۔ کیا اس سروس کی فراہمی کے لیے لوگوں نے مطالبہ کیا تھا؟ بالکل نہیں۔ لیکن جیسا کہ آئین میں حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہر شہری کو جان و مال کا تحفظ مہیا کرے، تو یہ سروس اسی ذیل سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اس سروس کی فراہمی ریاست کے آئینی فرائض میں شامل ہے۔

اگر مطالبے کی منطق کو پیشِ نظر رکھا جائے، تو چونکہ لوگوں نے اس 1122 یا ایسی کسی سروس کو ڈیمانڈ نہیں کیا تھا، تو سیاست دانوں کو لوگوں کو یہ سروس مہیا نہیں کرنا چاہیے تھی!

اس کُل استدلال کو بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ عیاں ہے کہ اگر ’’مطالبے کی منطق‘‘ کا سہارا لیا جاتا رہے گا اور اسے ’’مغالطے کی منطق‘‘ نہیں مانا جائے گا، تو یہ منطق بلکہ غیرِ منطق، اخلاقیات اور سماجی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کو بھی روندتی رہے گی۔ اور اس صورتِ حال کا فائدہ وہ تمام افراد اور گروہ اٹھاتے رہیں گے، جو اخلاقیات، اصول و اقدار، سماجی قاعدوں اور انسانی احساسِ ذمے داری کو خاطر میں نہیں لاتے، اور جو آئین و قانون، اور قواعد و ضوابط اور طور طریقوں کو اپنے گھر کی لونڈی گردانتے ہیں۔

یہ یہی پس منظر ہے جس کے پیش منظر میں ایک دوراہے کی نشان دہی کی گئی۔ یعنی یہ کہ ایک طرف مطالبے کی منطق ہے اور اگر اس منطق کو درست مانا جاتا ہے، اور جیسا کہ عیاں ہے کہ اکثر و بیشتر صورتوں میں اسے درست مان لیا گیا ہے، تو دوسری طرف جو چیزیں موجود ہیں، جیسا کہ اخلاقی اصول و اقدار، سماجی اقدار اور ان سے منسلک جتنے تانوں بانوں کو خیال کیا جا سکتا ہے، یہ تمام چیزیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔

یاد رہے کہ اس تحریر کی ابتدا کرتے ہوئے میں نے اسے ’’مطالبے کی منطق یا ہر چیز کی موت‘‘ کا عنوان دیا تھا۔ اور اب جب یہ تحریر اختتام کو پہنچی ہے تو اس کا جو عنوان طے ہوا ہے، وہ یہ ہے: مطالبے کی منطق یا معاہدے کی منطق۔

تو اب اس دوراہے پر کھڑے ہو کر مطالبے کی منطق اور معاہدے کی منطق کے درمیان کسی انتخاب کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ یہ انتخاب تو ہوا ہوایا موجود ہے!

نہیں۔ یہ انتخاب ہوا ہوایا موجود نہیں، مگر اس مفہوم میں کہ مطالبے کی منطق کو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیا گیا ہے۔

جبکہ میرے خیال میں ایک ایسے انتخاب کی ضرورت ہے، جسے سوچا سمجھا گیا ہو، جس پر غور و فکر کیا گیا ہو، اور اسے شعوری طور پر قبول کرتے ہوئے، ارادتاً اس سمت میں سفر اختیار کیا گیا ہو۔

یعنی اگر ایک عہد کر لیا گیا ہے، جو ایک معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ یہ لفظاً کیا گیا ہو یا زبانی، یا اشارتاً، تو بہرصورت اور بہرحال اس کی پابندی اور تعمیل واجب قرار پاتی ہے، قطع نظر اس سے کہ کوئی مطالبہ یا تقاضا کیا گیا ہے یا نہیں۔ یہی معاہدے کی منطق کا مقصود ہے۔

[22 ستمبر 2026]

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted