مسئلہٴ علم اور نئی مابعد الطبیعات: چند وضاحتیں

علم نہ آوے وچ شمار
علموں بس کریں او یار
بلھے شاہ

علم دو طرح کا ہو سکتا ہے۔ ایک تو جب اس کا حصول درجہٴ ماحصل رکھتا ہو۔ یعنی جب یہ فی الذاتہٖ قدر کا حامل ہو۔ دوسرے جب اکتسابِ علم سے غرض مطلب برآرای ہو۔ علم وسیلہ ٹھہرے مقاصدِ خیر یا شر کے حصول کا۔ علم کی یہ تقسیم ذہن کو فوراً علم برائے علم اور علم برائے عمل کی عمومی حد بندی کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ انقسام مائل بہ تحلیل نظر آتا ہے۔

انسانی زندگی کی ابتدا سے ہی بقائے حیات کی جد و جہد بھی ناگزیر طور پر شروع ہو چکی تھی۔ پہلے پہل حاضر اشیا اور روبرو مظاہر کو سمجھنے اور ان پر اپنے تئیں دسترس پانے کی کوشش ہوئی ۔ اس طرح ایک سعیِ مستقل کی بنیاد پڑی۔ یہ ایک اندھی دوڑ دھوپ تھی جس میں حصولِ علم کی خواہش کو ذرہ بھر دخل نہ تھا۔ لیکن خوش عملی دیکھیے، اس اندھی دوڑ دھوپ میں اشیا اور مظاہر کے بارے میں علم کا طومار لگنے لگا، جو وقتاً فوقتاً آزمائش اور تصدیق و تردید کے مسلسل مراحل سے گزر کر بہتری پکڑتا رہا۔ یوں جو عمل جبلی اور اندھی ٹٹول کی مانند شروع ہوا تھا، شعوری طور پر آج بھی بے رکے جاری و ساری ہے۔

اس ناگزیر جہد للبقا سے ذرا سا لمحہٴ سکون میسر آیا تو انسان نے گوناگوں فطری مظاہر کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور ان کی ماہیت کے جاننے کی طرف دھیان دیا۔ شوقِ تجسس، جس کی بنیاد اندھی دوڑ دھوپ کی تاریکیوں میں رکھی جا چکی تھی، بچپن سے نکل کر خود مختاری کی عمر میں داخل ہوا، اور علم اور زندگی، دونوں کے لیے سرچشمہٴ فیضان سمجھا جانے لگا۔ جیسے جیسے لمحہٴ سکون میں طوالت آئی، غور و فکر کرنے والے چند منتخب برگزیدگان کا ایک قبیلہ صفحہٴ ہستی پر نمودار ہوا، جنھیں آج ہم تارک الدنیا فلاسفہ اور دانشوروں کے نام سے جانتے ہیں۔ ان لوگوں نے علم کی معاشرتی تقسیم کی بِنا ڈالی، اور بالآخر جسمانی محنت اور ذہنی کاوش دو علاحدہ ہی نہیں، بلکہ متصادم و متضاد، انسانی و سماجی حقیقتوں میں ڈھل گئیں۔ فلسفے میں یہ مسئلہ شعور و مادہ اور ذہن و جسم کی ثنویت کی شکل میں آج بھی موجود و معروف ہے۔

وحدتِ علم، دراصل علم کی مذکورہ تقسیم کی کسی بھی طرح روادار نہیں۔ اس کے نزدیک علم میں دوئی خارجی دخل اندازی کے مترادف ہے، جو علم کو یونانی تصور کے مطابق برائے علم اور جدید مغربی تصور کے مطابق برائے عمل کے دو خانوں میں بانٹ دیتی ہے۔ جبکہ علم اپنی نہایت میں نہ تنہا نظری ہے، نہ تنہا عملی۔ یہ دونوں کے امتزاج سے متشکل ہوتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ جب ذہن کی تجربہ گارہ میں مقید ہو کر علم اور سچائی کے حصول کی تگ و دو کی جائے گی تو اس کا نتیجہ ایک بنجر مابعد الطبیعات یا ڈیوڈ ہیوم (1776-1711) کے الفاظ میں ’’کج بحثی اور التباس‘‘ سے مختلف کیا ہو گا! حقیقت یا سچائی کو پہلے ہی ساکت یا متحرک فرض کر لینا اور پھر ان تصورات کی پرتیں یوں کھولنا کہ لایعنیت کہ سوا کچھ باقی نہ بچے، ہیراقلیتس (480-540 B.C.) یا کریٹائلس (پانچویں صدی) یا زینو (430-490 B.C.) کا شیوہ تو ہو سکتا تھا، آج کے مصروفِ پیکار انسان کا طریقِ کار نہیں ہو سکتا۔

برطانوی فلسفی ڈیوڈ ہیوم فلسفے میں مابعد الطبیعاتیانہ طالع آزمائی کے لیے تحقیر آمیز جذبات رکھتا تھا۔ اس کی یہ حقارت خود مابعد الطبیعات کے خمیر سے اٹھی تھی۔ اسی باعث وہ ’’تیقن‘‘ کا بے چین طلب گار اور ایک ایسے ’’راہ نما اصول‘‘ کا متلاشی تھا، جو قطعی ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل معیار کا درجہ بھی رکھتا ہو، جس کی مدد سے فلسفے کو ’’قیاس‘‘، ’’تخئیل‘‘ اور ’’اختراع‘‘ سے پاک کیا جا سکے۔ ہیوم کے لیے ذاتی طور پر میں کچھ زیادہ ہی تحسین آمیز جذبات رکھتا ہوں، بالخصوص اس لیے کہ وہ ’’تحریصِ فلسفہ‘‘ سے مغلوب نہ ہوا اور اس دلدل سے کامیابی سے نکل آیا، جس میں کتنے ہی مسافرانِ فکر دھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اس نے نہایت راستی کے ساتھ مستحکم بنیادوں پر ’’علم کا ایک نیا نظام‘‘ تعمیر کرنے کی کوشش کی، اور صدق دل سے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ایک ’’انسان فلسفی‘‘ کی زندگی گزارنا چاہتا ہے، نہ کہ ایک فلسفیِ محض کی۔

ہیوم ایک نئے علمِ ایقانی کی بنیاد رکھنا چاہتا تھا، جسے خود اس نے ’’انسانی فطرت کے قوانینِ اول‘‘ یا ’’انسان کی سائنس‘‘ کا نام دیا تھا۔ لیکن اس کا پہلا ہی قدم درست سمت میں نہیں اٹھا۔ وہ یہ قوانین انسانی ذہن کے وظائف و اعمال میں دریافت کرنے کی طرف مائل تھا، جبکہ یہ ایک بین حقیقت ہے کہ ذہن کے وظائف و اعمال روزِ اول سے ہی مسلسل حالتِ تغیر میں ہیں۔ یوں اگر ہم ان وظائف و اعمال کا یقینی، حتیٰ کہ حیاتِ انسانی اور اس کے مظہر کا مکمل علم بھی حاصل کر لیں، تب بھی یہ کہنا سچائی اور تیقن کا تنہا یہی معیار ہے، محال ہی نہیں ناممکن بھی ہو گا۔

عالم کسی مظہر کو جاننے کے عمل میں ہو یا نہ ہو، لیکن عالم اور شے دونوں تبدیلی کے عمل میں ضرور ہوتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک خاص لمحے میں اس شے کا مکمل علم حاصل کر لیا جائے۔ یونانی فلسفی کریٹائلس کا یہی عقیدہ تھا۔ لیکن اس نے قطعی برعکس نتائج اخذ کیے اور علم کو مطلقاً ناقابلِ حصول ٹھہرایا۔ ہیوم سے بھی اسی غلطی کا ارتکاب ہوا۔ اس نے فطرتِ انسان کو اپنی ماہیت میں جامد، ایک مابعد الطبیعاتی تصور کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی اور علم کا حصول ناممکن پایا۔ اس طرح، وہ ’’مسئلہٴ علم‘‘ کو سلجھانے میں ناکام رہا۔ تشکیک کو اس نے عقیدہ بنایا اور نہ چاہتے ہوئے بھی، تشکیک ہی کو طرزِ زندگی کے طور پر قبول کیا۔ یہ فلسفیانہ وقوعہ پیش آنے کا سب سے اہم سبب یہی ہے کہ علمیاتی تشکیک سے مفر کی کوئی راہ نہیں۔ سوائے اس کے سیکٹس ایمپیریکس (Sextus Epmiricus) کی تقلید میں تشکیک کو ایک ذہنی رویہ اور ایک اسلوبِ حیات بنا لیا جائے۔

تشکیک بالعموم نظریہٴ علم یا علمیات کی صورت میں ظہور پاتی ہے۔ تقریباً تمام مشککین، چاہے قدیم و متوسط ہوں، چاہے جدید و ہم عصر، مسئلہٴ علم سے رجوع لاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ تمام بنیادی علمیاتی سوالات بالعموم مشککین یا عدمیوں (Nihilists) نے اٹھائے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ تخریب پسند فلاسفہ لازماً علمیاتی موشگافیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس طرح تشکیک یا ایسے ہی مقاصد کو زندہ و پائندہ رکھنے کے لیے مسئلہٴ علم کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اسے تشکیک برائے تشکیک یا تشکیکِ محض کا نام دیا جا سکتا ہے۔ با ایں ہمہ، کہنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک تعمیری فلسفہٴ حیات مشککانہ علمیات پر وضع نہیں کیا جا سکتا۔ ہیوم اور کانٹ (1804-1724) اس کی واضح مثالیں ہیں۔

جہاں تک ہیرالڈ ہافڈنگ (Harald Hoffding, 1931-1843) کی چار فلسفیانہ مسائل کی سکیم کا تعلق ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی ایک مسئلے کو اتنا زیادہ ترفع اور سیادت نہیں دی جانی چاہیے کہ بقیہ مسائل گہنا جائیں، اور اپنا مناسب مقام کھو بیٹھیں۔ مثال کے طو پر، مسئلہٴ علم کو سرتاجی سونپ دینے سے مشککانہ نراجیت اور جمود کی حالتیں جنم لیتی ہیں، کیونکہ وجود، قدر اور شعور کے مسائل سے علاحدہ و جدا مسئلہٴ علم کی اپنی کوئی آزاد حیثیت و وقعت ثابت نہیں کی جا سکتی۔

تاہم، رگِ نزاع تب ہی ہاتھ آتی ہے جب علم کی طرف انسانی رویے کو بھی بنیادی اہمیت دی جائے۔ علمیاتی تشکیک کے استرداد کو بامعنی اور بارآور بنانے کے لیے بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ علم کی طرف رویے میں تبدیلی لائے جائے۔ نیا رویہ ہی علم کے نئے تصور کی طرف پیش رفت کا امین ہو سکے گا، اور اس نئے تصور کی وضع و تشکیل سے نئے رویے کے ترکیبی عناصر بھی اُبھر کر سامنے آئیں گے۔

میری حقیر رائے میں علم کو آخرالامر بباطن اور بظاہر دونوں ہی طرح موجود، سرِ مکمل کے لمحہ بہ لمحہ مسلسل انشراح و انکشاف کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ یہی رویہ ہمیں عقیدہ پسندی اور تشکیک کی مختلف صورتوں سے دور رکھنے کی ضمانت دے سکتا ہے۔ تمام علوم میں پیش آنے والے اثبات و ابطال اور دریافت و بازیافت، درحقیقت، موضوع اور معروض میں موجود سرِ مکمل کی ماہیت کو افشا کرتے ہیں۔ علم اگر ایک طرف انسان کو جہل کی خبر اور فطرت پر دسترس دیتا ہے، تو دوسری طرف، سرِ مکمل کو منکشف اور انسان کے شوقِ تجسس کو مہمیز بھی کرتا ہے۔ شاید اسی میں جوہرِ حیات اور فیضانِ حیات دونوں مضمر ہیں، اور شاید یہی سرِ مکمل ہے، جس کے بغیر حیات اور کائنات دونوں ایک بنجر مابعد الطبیعات یا ایک ریاضیاتی تیقن یا ایک لمحہٴ محض ہوتے!

سّرِ مکمل کا خاصہ یہ ہے کہ جیسے جیسے یہ منکشف ہوتا ہے، ویسے ویسے مستور ہوتا جاتا ہے۔ اس کی سریت کے مکمل ہونے کا اصل سبب بھی یہی ہے کہ ہر نئے انکشاف سے یہ کچھ سوا اخفا میں چلا جاتا ہے۔

مرا وجود ہے میری نگاہِ خود نشناس
وہ راز ہوں کہ نہ ہوتا جو رازداں ہوتا
فانی بدایونی

انشراح و انکشاف کے اس عمل میں بسا اوقات ایسا مرحلہ آ پہنچتا ہے جب انسان پر کُھلتا ہے کہ یہ تمام کچھ بے سود اور لاحاصل ہی تو ہے، لیکن کچھ ہی دیر میں یہ احساس ایک التباس ثابت ہوتا ہے۔ اسے غالباً وہم، سراب یا ذہنِ انسانی کی واماندگی یا یاسیت کہنا چاہیے۔ یا پھر حقیقتِ قطعی کی ماہیت یا سرِ مکمل کی کنہ کو لمحہ بھر میں جان لینے کی انسانی روح کی مضطربانہ عدم صبر طلبی۔

نئے تصورِ علم سے متعلق اوپر جو کچھ کہا گیا ہے، اسے فلسفے کے کل دفترِ اصطلاحات کے سلسلے میں بھی مساوی طور پر درست جاننا چاہیے۔ محتاط مطالعے اور صبر آزما نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اکثر اصطلاحات، معاصر مفہوم و مطالب کو سہارنے سے قاصر ہیں، کیونکہ تمام کا تمام سیاق و سباق متغیر، بلکہ کہنا چاہیے، منقلب ہے۔ مختصراً یہ کہ نہ صرف انسان اور کائنات کے بارے میں ہمارا علم تیز بہاؤ میں ہے، خود علم کا تصور بھی گردش میں ہے۔

بہ الفاظِ دیگر یہ کہ علم کا تصور نہ صرف حالتِ سیال میں بلکہ موافق قالب اور مناسب شکل کے انتظار میں بھی ہے۔ اگر اسے متجاوز مبالغہ آرائی نہ سمجھا جائے، تو یہ کہنا درست ہو گا کہ ہر شے اپنے آپے اور اپنی بساط سے باہر ہے۔ میں اسے مابعد الطبیعات کی عدم موجودگی سے تعبیر کرتا ہوں۔ یہاں مراد قدیم الہٰیاتی مابعد الطبیعات، وغیرہ، نہیں، بلکہ نئی مابعد الطبیعات مراد ہے، جو ابھی سلسلہٴ تشکیل کی ابتدائی منزلوں میں ہے۔ ماورا سے وضع پاتی ہوئی مابعد الطبیعات (Metaphysics from without) نہیں، بلکہ موجود سے متشکل ہوتی ہوئی مابعد الطبیعات (Metaphysics from within)۔

اس کی صراحت ایک استعارے کی مدد سے کرنا آسان ہو گا: ہم ایک راستہ چل رہے ہیں۔ اس راستے کے نقشہٴ کلی کا ایک خاکہ ذہن میں رکھ کر ہم نے سفر کا آغاز کیا۔ پہلے قدم، پہلے فعل، اور پہلے پارہٴ علم کے ساتھ ہم نقشہٴ کلی میں مناسب تبدیلی لاتے ہیں۔ یہ عمل اسی طرح جاری رہتا ہے۔ ہر نئے مرحلے پر نقشہٴ کلی میں مناسب و ضروری تبدیلیاں لا کر ہم اسے حقیقت پذیر بناتے جاتے ہیں۔ بالآخر ایک ایسا موڑ آ جاتا ہے، جہاں نقشہٴ کلی کا خاکہ جو اب جزوی طور پر حقیقت سے تطابق پذیر ہے، ناکام ہو جاتا ہے۔ اب تک کے حاصل شدہ مجموعی ذخیرہٴ علم، ابھرتی ہوئی تفہیم اور تحسس کے سامنے یہ خاکہ اب اپنی منظم شکل کھو بیٹھتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بنیادی اور بڑی تبدیلیوں کا تقاضا کرتی ہیں۔ اس طرح راستے کے نئے نقشہٴ کلی کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے، جو اب تک حاصل شدہ علم اور اس علم کی بنیاد پر اخذ کی جانے والی معقول پیش بینیوں کی روشنی میں وضع کیا گیا ہو۔

آج ہم ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ہر طرح کی مابعد الطبیعات ناکام، تمام نقشہٴ کلی منتشر اور سارے نظریے اپنی وقعت کھو رہے ہیں۔ زندگی اور علم کے ہر شعبے میں خلفشار، پراگندگی اور بدنظمی براجمان ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ہر چیز کی روح، کوئی چیز، ہم بہ سرعت کھو رہے ہیں۔ بلاشبہ، یہ مابعد الطبیعات ہی ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ باہر سے نافذ ہونے والی مابعد الطبیعات اب نہیں چلے گی۔ ایسے میں نہ صرف مابعد الطبیعات کے ایک نئے تصور بلکہ ایک نئی مابعد الطبیعات کی ناگزیر ضرورت بھی عیاں ہے۔

یہ نئی مابعد الطبیعات آفاقی ہو گی، کیونکہ جدید تہذیب ہمہ گیر سب کا مقدر ہے۔ دوسرے، یہ مابعد الطبیعات کل، حتمی اور مستقل نہیں ٹھرائی جا سکے گی۔ یہ خود اس کی اپنی روح کے خلاف ہو گا۔ تیسرے، اس مابعد الطبیعات کو محض تشکیل پذیر کا درجہ دیا جا سکے گا، تاآنکہ علم و تفہم اسے کوئی پائیدار صورت دینے کے قابل ہو سکیں۔ ایسی مابعد الطبیعات وہی ہو سکتی ہے، جو ماورا سے مسلط نہ ہو، بلکہ موجود سے تشکل پائے۔

یہاں اس سے مدعا جزوی طور پر یہ بھی ہے کہ جیسا کہ ہیوم نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہمیں اپنے شوقِ تجسس اور روحِ تحقق کو دائرہٴ اعتدال میں لانا چاہیے۔ فکر اور تخئیل کو لگام اور ضبط دینا چاہیے، کہیں وہ برگشتگیِ خیال اور مرض الفکر نہ بن جائیں۔ کارل مارکس (1883-1818) نے بھی اپنی کتاب، ’’مقدس خاندان‘‘ میں ہر طرح کے سوالات کی زمانی و مکانی تحدیدات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ الغرض نئے رویوں اور نئے تصورات کی ضرورت ہے، جو نئی مابعد الطبیعات کی تشکیل کی ضمانت دے سکتے ہوں۔

جہاں تک نئی مابعد الطبیعات کے لزوم کا تعلق ہے، اس معاملے کو مزید تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ تاریخِ فلسفہ میں زیادہ تر غیرشعوری اور نادانستہ تقریظ و تنقید تقریباً مکمل ہونے کو ہے۔ ضرورت، شعوری اور دانستہ تحقیق و تبصر کی ہے۔ ایک ہمہ پہلو منقلبیت ناگزیر ہے۔

اول اول خارجی مظاہر کا علم تھا۔ پھر انسان کی نظر اپنی طرف گئی۔ اور پھر حقیقت کا پتا بھی ملا۔ جان لاک (1704-1632) تک آتے آتے دو نئی تبدیلیاں پوری طرح وجود میں آ چکی تھیں۔ ایک تو یہ کہ تحقیق و تجسس کا رخ اشیا و مظاہرِ فطرت کی طرف سے ہٹ کر محقق اور متجسس کی طرف ہو گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ اشیائے علم سے توجہ بٹ کر توجہ ذرائع علم یا ذہن کی طرف ہو چکی تھی۔ مغربی فلسفے کا معاصر منظر ایک اور اہم تبدیلی کا ظہور دکھا رہا ہے۔ اب نہ اشیائے علم پر زور ہے، نہ طالبِ علم پر، بلکہ اس واسطے یا وسیلے پر زور ہے، جو علم اور عالم کے درمیان وجود رکھتا ہے، یعنی لسان و زبان، اس لیے یہ دعویٰ کرنا غیرمناسب نہ ہو گا کہ ذہن اور شے، شے کے ذہنی علم اور شے، اور ذہن اور ذہن کے درمیان حائل خلا، جن کی بنیاد پر یونانی سوفسطائی گورجیاس (480 B.C.) نے علم کے امکان سے انکار کیا تھا، اگر انھیں اب تک جمع کیے گئے علوم کی روشنی میں پاٹنے کی سعی کی جائے، تو وہ ایسی بھی لاحاصل نہ ہو گی کہ اس کے بارے میں سوچا ہی نہ جائے۔

خلیل احمد
[16 فروری 1987]

نوٹ: یہ تحریر ایم اے فلسفہ کے لیے لکھے گئے انگریزی مقالے، ’’ہیوم کے فلسفہٴ تشکیک کا تنقیدی مطالعہ‘‘ (A Critique of Hume’s Scepticism) کے حرفِ آخر کا اردو ترجمہ ہے۔ اسے ایک اردو مضمون کے طو پر حلقہٴ اربابِ غالب (راولپنڈی) کے تنقیدی اجلاس منعقدہ 7 مئی 1990 میں پڑھا گیا۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted