نوٹ: یہ مضمون اواخرِ 1987 میں لکھا گیا۔ اس کا اصل عنوان ’’مترجمین‘‘ تھا۔
پچھلے دنوں پھرتے پھراتے ’پنجابی ادبی سنگت‘ (لاہور) کے تنقیدی اجلاس میں جا پہنچا۔ حالیہ تفریق کے تحت یہ ادبی سنگت سیاسی بھی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ’پنجابی ادبی پروار‘ پروان چڑھ رہا ہے، جو دائرہٴ ادب کو اپنا دائرہٴ عمل قرار دیتا ہے۔ ادبی سیاست ہو سکتی ہے، تو سیاسی ادبیت کیوں نہیں!
سنگت میں حاضرین کی غیرمعمولی طور پر کم تعداد تقریباً معمول کے مطابق ہی تھی۔ دوسری رسومات کے بعد ایک صاحب نے نظم پیش کی اور بتایا یہ ’ترائیلے‘ ہے۔ دعوتِ تنقید دیتے ہوئے صدر صاحب نے ترائیلے کے لیے تعارفاً چند کلمات کہے، جن سے پتا چلا کہ ترائیلے فرانسوی صنفِ سخن ہے۔ پہلے اردو میں جرآت آزما ہوئی، اور اب پنجابی میں در آئی ہے۔ اور یہ شاعر صاحب پنجابی میں (صدر صاحب کے مطابق) جس عجز و استقلال سے ترائیلے لکھے چلے جا رہے ہیں، اس سے میں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ پنجابی کا مستقبل ترائیلے کے ساتھ ہو یا نہ ہو، ترائیلے کا مستقبل پنجابی کے ساتھ ضرور وابستہ ہے۔
دعوتِ تنقید کے بعد حاضرین نے ترائیلے، اس میں موجود شاعری اور شاعر میں قابلِ تحسین کی تلاش شروع کی، جسے صدر صاحب نے با اہتمام کامیاب انجام کو پہنچایا۔ سنگت کے خاتمے سے پہلے، ایک اور صاحب نے غالب کی کچھ غزلوں کا پنجابی ترجمہ پیش کیا۔ اسے بھی بہت سراہا گیا اور یوں مضمرانہ طور پر اس عمل کو بھی۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے شاہ حسین کو اردو میں شاعری کرنے پر مجبور کیا جائے۔
سردیوں کی ایک شام سنگت کے تنقیدی اجلاس میں جانا انتہائی ناقابلِ ذکر واقعہ ہوتا، لیکن نہ ہو سکا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بڑے وزیر کوئی کہانی پڑھی ہے، یا کوئی نظم پڑھی ہے، اور دوسرے چھوٹے وزرا اور مشیران، ’تنقید‘ کے فرائض کی تعمیل کر رہے ہیں۔ میں نے سوچا، سنگت کیا، حلقہٴ اربابِ ذوق میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، چاہے وہ سیاسی ہو، چاہے ادبی۔ بلکہ تمام حلقوں میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ چاہے کیسے بھی ہوں۔ کوئی بھی نوعیت ہو ان کی۔
منفیت کی رو ہر شے کو اپنے بہاؤ میں سمیٹنے لگی۔ ایک تھی کہانی، نہ تو فنی عمدگی تھی اس میں، نہ ہی جمالیاتی ترفع۔ اور وہ ترائیلے، بھلا ہمارے یہاں اس فرانسوی صنف کی کیا ضرورت اور کیا جواز؟ ترائیلے کوئی ری پروسیسنگ پلانٹ تو نہیں، جو سمندر پار سے درآمد کرنا ہی پڑے گا۔ لیکن ایک دلیل ترائیلے کے حق میں ضرور جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ترائیلے کی درآمد پر کسی سپر پاور کو کوئی اعتراض نہیں۔
علاوہ ازیں، سب پر مستزاد غالب کا ترجمہ تھا۔ پنجابی کوئی ٹمبکٹو میں تو نہیں بولی جاتی کہ غالب کا ترجمہ ناگزیر ٹھہرے، یا اردو میکسیکو کی زبان تو نہیں کہ شاہ حسین کو اردو میں ڈھال دیا جائے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ اور کیا کر رہے ہیں؟
بلھیا کیہ جاناں میں کون؟
قصہٴ پارینہ ہے جب ہم چیزوں سے لے کر خیالات تک باہر بھیجا کرتے تھے۔ اور جب سے منگوانا شروع کیا ہے، چیزیں اور خیالات تو ایک طرف رہ گئے، رہنے اور سوچنے کا انداز، اور سب سے بڑھ کر ’ہم کیا تھے؟‘، ’ہم کیا ہیں؟‘، یہ تعریفات بھی ہم باہر سے درآمد کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ خود پر عدم اعتمادی، جس کے ڈانڈے ہمارے عقائد سے جا ملتے ہیں، کچھ ایسی جڑ پکڑ بیٹھی ہے کہ ہم اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں ’مشیران‘ (Consultants) کے محتاج ہو رہ گئے ہیں۔
اپنے ماضی، حتیٰ کہ ماضی قریب کو جاننے کے لیے بھی ’انٹر نیشنل ٹینڈر‘ طلب کرتے ہیں۔ قائدِ اعظ کی سوانح عمری ہیکٹر بولیتھو سے لکھواتے ہیں اور قائدِ اعظم پر فلم انگریز سے بنواتے ہیں۔ ہماری اسی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر کاروباریوں نے مدت مدید سے ایک نیا شعبہٴ علم شروع کر رکھا ہے۔ اس شعبے کو ’استشراق‘ (Orientalism) اور اس کے خدائی خدمت گاروں کو ’مستشرقین‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
چیزیں اور پھر چیزیں بنانے والی مشینں منگوانے کے ساتھ ساتھ خیالات اور خیالات پیدا کرنے والے ذہن تک درآمد کرنے کی نہ چھٹنے والی کافر شراب ہم منہہ سے لگا بیٹھے ہیں، اور وہ بھی سودی قرض لے کر۔ ترائیلے یا ہائیکو، جسے ہمارے کچھ شاعروں کے ساتھ ساتھ معیشت دان اور سیاست دان بھی لکھنے پر تلے ہوئے ہیں، اس ’بدعت‘ کی قابلِ مذمت مثالیں قطعاً نہیں۔
جہاں تک غالب یا شاہ حسین کے ترجمے کی بات ہے، میری نظر میں یہ بھی ایک طرح کا استشراق ہے۔ اسے مقامی استشراق کہہ لیجیے۔ آپ پنجابی ہیں، آپ نہیں جانتے شاہ حسین کون ہے۔ مقامی مستشرقین کی کافی تعداد آپ کو اردو میں یہ بات سمجھانے پر تیار ہو گی کہ شاہ حسین کون ہے۔ اسی طرح، غالب اور اقبال کے بارے میں بھی پوچھ کر دیکھ لیجیے۔
(یعنی عروسی لباس کا اپنا طلسم تو ہوتا ہی ہے، لیکن مدعا اصل طلسم چھپانے سے ہے۔ فن اور محنت، عملِ اخفا بھی مانگتا ہے اور عملِ انکشاف بھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس سمت میں عازمِ سفر ہیں۔)
طرزِ ذہن اور زاویہٴ نظر کچھ شروع ہی سے مغربیت سے متاثر رہا۔ (کیونکہ تربیت ٹائپ کا لفظ پڑھ کر اور پائپ کا پانی پی کر ہوئی تھی!) لہٰذا، استشراق کا استبداد سہا اور شہرِ اغیار میں بچے کی تلاش کا ڈھنڈورا پیٹا۔ لیکن ذہنِ انسانی کھیل کے شوقین بچے سے بھی بڑھ کر ہے۔ والدین کی زبردستی اور تشدد، یہاں تک کہ جائیداد سے عاق کر دینے کی دھمکی، اور فکری نظاموں کا جبر بھی اسے غلام بنا کر نہیں رکھ سکتے۔ یہ ہر شے سے ہر طرح کھیلنا چاہتا ہے۔ ’ایامِ جاہلیت‘ سے ہی ایک جنون اس کے سر پر سوار ہے کہ نظارہٴ عالم دوسری طرف سے بھی کیا جائے۔ کائنات کو وہاں سے بھی دیکھا جائے، جہاں سے یہ پوری نظر آتی ہے۔ اس کے لیے انوکھا اور لاڈلا ہونا شرط نہیں۔ ہر بچہ کھیلنے کو چاند مانگتا ہے۔ یوں مغربیت اور اس کے استشراق کا غلام ہوتے ہوئے بھی، خیال کا ایک کوندا یہ آگ لگا گیا کہ ’استشراق‘ کے مقابل ’استغراب‘ (Occidentalism) کیوں نہیں! (یعنی مشرق کی طرف سے!)
مشرق و مغرب کے مسئلے کا ظہور اور ارتقا خود اس تضاد کے مرہونِ منت ہیں کہ جو آج ہمارے دور میں ’شمال ۔ جنوب مکالمہ‘ کی قدرے ’’ترقی یافتہ‘‘ صورت میں واقع ہو رہا ہے۔ اس مسئلے سے علمی اور فلسفیانہ سطح پر مجھے خاصا تعلقِ خاطر ہے۔ یہی تعلق کشاں کشاں مسئلہٴ مذکور کی اس سطح تک لے گیا، جو سطح سیاست اور معیشت سے عبارت ہے۔ یہاں کافی کچھ پردہٴ عریانیت میں ظاہر ہوا۔ لیکن مسئلے کا حل ایک اور مسئلہ تھا۔ خیال کا بظاہر وہ ایک خود رو شعلہ، جو تصورِ استغراب کی صورت میں لپکا تھا، ایک خاص سمت میں راہ سجھائی دیتا نظر آیا۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ اس نازک صورتِ حال میں ’سعی و خطا‘ (Trial and error) کے سوا اور کونسا طریقِ کار آزمایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی اور ہے تو وہ بھی سعی و خطا ہی ہو گا۔
استغراب کا شعبہ، اسمِ اعظم تو نہیں، اس کی تلاش میں ممد ضرور ہو سکتا ہے۔ تحریکِ استغراب سے مقصود یہ بھی ہے کہ ’شمال ۔ جنوب مکالمہ‘ کی طرز پر علمی اور فلسفیانہ سطح پر بھی ’مشرق ۔ مغرب مکالمہ‘ رواج پائے۔ یہاں یہ اضافہ کر دینا درست ہو گا کہ آج کی صورتِ حال میں کوئی بھی اسمِ اعظم تین چیزوں کو نظر انداز نہیں کر سکے گا، یا بہت مہنگی قیمت پر۔ لیکن استغراب اسی صورت یاوری کر سکتا ہے کہ ان تین پہلوؤں کو وسیع تناظر میں یکجا کر کے سمجھا جائے اور راہِ عمل میں ثابت قدم اور سچا رہا جائے۔ اول، اپنے تئیں اپنی بازیافت۔ دوم، استشراق اور اس کے نتائج و مضمرات سے چھٹکارا۔ ضمیمے کے طور پر مقامی استشراق کو بھی اس میں شامل سمجھا جائے۔ سوم، استغراب کی عقلی اور انسانی بنیادوں پر استواری۔ یہ تمام جتن ایک ہمہ پہلو عمل کا درجہ رکھتے ہیں۔
اوپر ذکر ہوا اشیا اور خیالات کی درآمد اور برآمد کا۔ اس ضمن میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس نوع کی درآمد اور برآمد غیرانسانی اور غیرعقلی نہیں تو اور کیا ہے! کسی بھی اسمِ اعظم یا درج بالا استغراب کی کسی بھی شکل کا اس کی کھلی یا چھپی حمایت کرنا وجود کی نفی کے عمل میں ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ اس نقطہٴ نظر سے یہ بات اخذ نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی قسم کا ’تبادلہ‘ مابین دو قوموں، یا دو اجتماعوں یا دو خطوں یا دو لوگوں کے ممنوع ٹھہرے۔ بہترین صورت تو آخرِ کار یہی ہے کہ یہ تبادلہ عقلی اور مثبت بنیادوں پر ہو اور کسی بھی سطح کا انسانی استحصال اس کا مطمحٴ نظر نہ ہو۔
تاہم، یہ سارا کچھ کرنے کے لیے لازم ہے کہ مکان عرش سے پرے ہو، تاکہ منظر اک اور بلندی پر بنایا جا سکے۔ اور یہ بھی ضروری ٹھہرتا ہے کہ ’ترائیلے‘ اور ’ہائیکو‘ لکھنے کے بجائے انھیں پڑھ کر فہمِ کلی کا حصہ بنا لیا جائے، تاکہ ’غزل‘ اور ’گیت‘ لکھے جا سکیں۔ فرانس، روس، چین اور دوسرے خطوں کے انقلابوں کو ضرور پڑھا جائے، سمجھا جائے اور انسانی اجتماعی تخلیق کی ان کوششوں کو فہمِ کلی کا حصہ بنا لیا جائے، تاکہ اپنے خطے میں انسانی اجتماعی تخلیق، یعنی انقلاب کے لیے خود کو تیار کیا جا سکے۔
لیکن افسوس! داعیانِ انقلاب سیاسی سنگتوں اور سیاسی حلقوں کی صورتِ حال بھی ادبی سنگت اور ادبی حلقوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کا پرتو لگتے ہیں۔ یہاں بھی اصناف درآمد کی جا رہی ہیں، ترجمے ہو رہے ہیں، روسی سے، چینی سے، اِس سے، اُس سے۔
ایک طرف وہ ہیں، جن کا زور روسی چینی پر ہے، دوسری طرف وہ، جن کا سانیٹ، ہائیکو اور ترائیلے پر۔ ایک طرف وہ ہیں، جو مشرق مشرق پکار رہے ہیں، دوسری طرف وہ، جو مغرب مغرب کا ہاؤ ہو مچائے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ ہیں، جو ماضی کے پالنے میں پڑے انگوٹھا چوس رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ، جو حالِ جدید کی شراب غٹاغٹ پیتے ہیں اور لڑکھڑاتے پھر رہے ہیں۔
جس طرح ایک قسم کا تخالف دوسری قسم کے تخالف کی طرف اشارہ کرتا ہے، اسی طرح، ایک قسم کی مماثلت دوسری قسم کی مماثلت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عظیم فنکار عظیم انسان بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح، عظیم انقلابی کے لیے عظیم انسان ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ایک گھٹیا انسان تو انقلابی ہی نہیں ہو سکتا، عظیم انقلابی ہونا تو دور کی بات ہے۔ مانا یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ انسان کی خامیوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، یہی انسانی اور عقلی رویہ ہے۔ پر بنیادی کمزوریوں سے درگزر کرنا سماجی موقع پرستی اور منافقت کے مترادف ہے۔ اور اصل تخلیق موقع پرست اور منافق فنکار سے جنم لے ہی نہیں سکتی۔ ایک انقلابی فنکار ہی اصل تخلیق کو جنم دے سکتا ہے۔ یا یوں کہہ لیجیےکہ اصل تخلیق کا خالق ہی انقلابی فنکار ہو سکتا ہے۔ انقلاب کسی فن پارے یا ادب پارے کی تخلیق نہیں، بلکہ ایک شہ پارے کی تخلیق کا درجہ رکھتا ہے۔ ہیر وارث شاہ کی طرح، غالب کی طرح۔ فرق صرف یہ ہے کہ انقلاب انسانی اجتماعی تخلیق ہے۔
کسی تخلیق کار کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ دنیا کے ادبی و ثقافتی ورثے کو پڑھے اور سمجھے تب ہی وہ اپنی زبان میں ادب پارہ یا شہ پارہ تخلیق کر سکے گا۔ لیکن یہ بات بھی ثبوت کی محتاج نہیں کہ اپنے ہی ثقافتی ورثے کو پڑھے، سمجھے اور فہمِ کلی کا حصہ بنائے بغیر کوئی بھی فنکار شہ پارہ تو کیا، فن پارہ بھی تخلیق کر سکتا ہے۔ ہاں، اگر وہ دنیا کے تمام لوگوں کے ادبی و ثقافتی ورثے کو پڑھے، سمجھے اور فہمِ کلی کا حصہ بنائے، تو نہ صرف اس کی فہم کو وسعت و رعنائی ملے گی، بلکہ اس کے فن میں پختگی اور تخلیق میں ہمہ گیریت اور آفاقیت بھی پیدا ہو گی۔
لیکن طلب گار اسے کامیابی کا گُر نہ سمجھ لیں۔ انھیں سخت مایوسی ہو گی!
بالکل اسی طرح انقلابی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ دنیا کے مختلف انقلابوں کو پڑھے اور سمجھے، تب ہی وہ اپنے معاشرے میں انقلاب کی تخلیق میں حصہ ڈال سکے گا۔ لیکن یہ بات بھی ثبوت کی محتاج نہیں کہ وہ اپنے ہمہ جہت ورثے کو پڑھے، سمجھے اور فہمِ کلی کا حصہ بنائے بغیر مقامی انقلاب کی تخلیق میں معمولی سا بھی حصہ ڈال سکتا ہے۔ ہاں، اگر وہ دنیا کے تمام انقلابوں کو پڑھے، سمجھے اور فہمِ کلی کا حصہ بنائے، تو نہ صرف اس کی فہم کو وسعت و رعنائی ملے گی، بلکہ اس کی شخصیت میں پختگی اور عمل میں ہمہ گیریت اور آفاقیت بھی پیدا ہو گی۔
لیکن طلب گار اسے کامیابی کا گر نہ سمجھ لیں۔ انھیں سخت مایوسی ہو گی!
بالکل اسی طرح انقلابی کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اشتراکی یا اشتمالی یا مارکسی یا لیننی، وغیرہ، کہلوائے، تب ہی وہ عظیم انقلابی بن سکے گا۔ حقیقتاً انقلابی ہونے کے لیے سوشلسٹ یا کمیونسٹ ہونا قطعی ضروری نہیں۔ لیکن یہ بات بھی ثبوت کی محتاج نہیں کہ وہ اپنے ہمہ جہت انقلابی ورثے اور انقلابیوں کو پڑھے بغیر اور اپنی ذات کو انقلابی نظم و ضبط اور عقلی اخلاقیات کا پابند بنائے بغیر انقلابی کہلوانے کا حق دار بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ انقلاب ظاہر و باطن اور فرد و معاشرے کی جدلیاتی تبدیلی کے عمل کا نام ہے، اور اس کا پہلا قدم تبدیلیِ ذات ہے۔
ہاں، اگر وہ دنیا کے تمام انقلابیوں کو پڑھے، سمجھے اور ان کے عمل کو اپنی فہم و شخصیت کا حصہ بنائے، تو نہ صرف اس کی فہم و فراست کو وسعت و رعنائی، شخصیت کو نکھار اسے عزم و حوصلہ اور صحبتِ عظمتِ انساں ملے گی بلکہ اس کے فکر و عمل میں تطابق اور انسانی بلند نظری بھی پیدا ہو گی۔
لیکن طلب گار اسے کامیابی کا گر نہ سمجھ لیں۔ انھیں سخت مایوسی ہو گی!
وہ اہلِ ظاہر، عقیدہ پرستی جن کا شیوہ، ترجمانی جن کی سایست، ترجمہ جن کی معیشت اور جن کی تنہائی کا سرچشمہ ’’عوام‘‘ ہیں، میرے ان خیالات پر جز بز ہوں گے۔ مگر یہ عیاں ہے کہ شہ پارہ تخلیق کرنا تو دور رہا، یہ لوگ کوئی ادب پارہ یا فن پارہ ہی تخلیق کرلیں تو بڑی بات ہو گی۔
خلیل احمد