دنیا کی برطانوی فتح باقی فتوحات سے کیونکر مختلف تھی؟

یورپی نشاة ثانیہ 14ویں صدی سے 17ویں صدی پر محیط ہے۔ اٹلی اس کا مرکز رہا اور انسان پسندی بنیادی قدر۔
یورپی روشن خیالی کا پھیلاؤ 17ویں صدی کے اواخر سے 18ویں صدی تک ہے۔ اس کی پہچان منطق، عقلیت اور تجربیت رہی۔
یہ دو بڑے ڈگ بھرنے کے بعد پھر کہیں یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہوتا ہے، اواخر 18ویں صدی سے 19ویں صدی تک۔ اس کا گڑھ برطانیہ بنا۔
یہ وہ تام جھام تھا، جسے لے کر مختلف یورپی طاقتوں نے دنیا کو تاراج کرنے کی ٹھانی۔
میری توجہ یہاں صرف برصغیر پر ہے اور وہ بھی خاص ہندوستان پر۔
پہلے پرتگالی ہندوستان پہنچے۔ 1498 میں۔
جبکہ ولندیزیوں کا ورود 1605 میں ہوتا ہے۔
برطانوی پہنچتے ہیں 1608 میں۔
ڈینش 1620 میں وارد ہوتے ہیں۔
فرانسویوں کی آمد ہوتی ہے 1668 میں۔
تاہم، صرف برطانوی یہاں قدم جمانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
ولیم ہاکنز 1608 میں سورت میں …
Market of Ideas in Pakistan

When there is no market of ideas,
and there is no competition between ideas,
how can people progress intellectually?…
The same old bottle bought from the same scrap dealer

Budget 2025-26:
The same old wine
in the same old bottle
bought from the same scrap dealer.
Khalil…
The NFC Award: Some Radical Views

Recently, I put down my views regarding the National Finance Commission Award that were processing in my mind since 2017. When I shared this piece of writing in a WhatsApp group (3 June 2026), a debate ensued between a friend, Shahid Mehmood, an economist by training, and me. I am copying the debate below with due permission from Shahid Mehmood.
Dr Khalil:
Principles and proposals- Way forward for a new and just NFC award
In July 2017, an Islamabad-based think tank, Policy Research Institute of Market Economy (PRIME Institute), held a meeting, and I was part of it. It was a working group that deliberated on the dynamics of the NFC awards. I was merely an observer participant.
During the proceedings, I expressed my astonishment at the principle on which the NFC was built. I asked, “Why are the larger provinces required to provide for Balochistan and KPK? What is …
The Governance Raj in Punjab

It just feels pathetic
and I fear the day
when all these cards, schemes, projects, packages, etc.,
will collapse like a house of cards!…
The taxes people pay

The taxes people pay are being used
to make them dependent on government handouts.
This creates a vicious cycle.…
مگر پاکستان کی سیاست اسی حمام کی کہانی ہے

جو خود فراڈیے ہوں
انھیں دوسروں کو فراڈیا کہنے کا کوئی حق نہیں۔
مگر پاکستان کی سیاست اسی حمام کی کہانی ہے۔…
پریس اور میڈیا بنا جہانِ خس

پریس اور میڈیا کے لیے اخلاقیات جتنا ناگزیر تھی،
پریس اور میڈیا نے اخلاقیات کو
اتنا ہی زور سے لات ماری۔
خس کم جہاں پاک۔
اور یوں پریس اور میڈیا بنا جہان خس۔…
!معصوم خطاکار، نواز شریف کا اب یہی استعمال رہ گیا ہے

معصوم خطاکار، نواز شریف نہ سیاست چھوڑیں گے
نہ اس میں سرگرمی دکھائیں گے۔ بیچ میں لٹکے رہیں گے۔
مگر جب عام انتخابات کا ڈول ڈلے گا
تو ن لیگ کا اعتبار بنانے کی خاطر جلسوں اور پریس کانفرینسوں میں
کہانیاں سناتے ضرور نظر آئیں گے۔
ان کا اب یہی استعمال رہ گیا ہے!
…
معصوم خطاکار

جب نواز شریف کی جوابدہی کا وقت آتا ہے
تو وہ خود ’’عوام‘‘ کی جوابدہی شروع کر دیتے ہیں۔
2 جون 2026…
خانہ جنگی سے پہلے کی صورتِ حال

[توجہ: یہ نوٹ فیس بک پر حُسن الامین کی دو پوسٹوں سے تحریک پا کر لکھا گیا۔]
جب کسی معاشرے کی بے بسی اور بے کسی حد سے بڑھ جائے۔۔۔
جی، میں مجموعی طور پر معاشرے کی بے بسی اور بے کسی کی بات کر رہا ہوں، معاشرے میں بے بسی اور بے کسی کی بات نہیں کر رہا۔
اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں افراد کی ایک بڑی تعداد خود کو بے بس اور بے کس محسوس کرنے لگے، تو یہ معاشرتی بے بسی اور معاشرتی بے کسی ہی ہے۔ اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ اس قسم کے معاشرے میں ہر فرد اب یا تب بے بسی یا بے کسی کے تجربے سے گزرتا ہے۔ کوئی بھی فرد اس سے بچ نہیں سکتا۔
اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بیشتر لوگوں کی نظر میں بے بسی اور بے کسی …
دو شخصیات کا یورپ کا سفر: دو فکری تشکیلات کی تدوین

پہلی شخصیت سر سید احمد خان (1898-1817) ہیں۔
سر سید نے یورپ کا صرف ایک سفر کیا۔ 1869 سے 1870 تک۔
وہ یکم اپریل 1869 کو بنارس سے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ چار لوگ تھے، ان کے دو بیٹے، سید حامد اور سید محمود، ایک عزیز، مرزا خداداد بیگ، اور ایک ذاتی ملازم، چھجو۔
سید محمود کو حکومت کی طرف سے برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظیفہ ملا تھا۔
بمبئی سے یہ لوگ 10 اپریل کو ’’ایس ایس بڑودا‘‘ میں بیٹھے۔ یہ جہاز 23 اپریل کو سوئز پر لنگر انداز ہوا۔ سکندریہ پہنچ کر یہ لوگ مارسے، فرانس کے لیے ’’ایس ایس پونا‘‘ پر سوار ہوئے۔ بالآخر 4 مئی کو یہ لوگ لنڈن پہنچے۔
سر سید کا انگلستان کا یہ سفر کوئی 17 ماہ پر دراز تھا۔
سر سید اور سید حامد 4 ستمبر 1870 کو لنڈن سے روانہ ہو کر سال کے اواخر میں ہندوستان واپس آ …
بڑی عید کی نماز، پیش امام کا وعظ اور وعظ کا موضوع

آج ہم بھائیوں اور ہمارے بچوں نے بڑی عید کی نماز صبح صبح پانچ بج کر بیس منٹ پر اسی جگہ پڑھی جہاں بہت سالوں سے پڑھتے آ رہے ہیں۔ بہت حیران کن اور خوشگوار تجربہ رہا۔
گذشتہ برسوں میں یہاں یہی پیش امام پہلے اپنے وعظ میں سیاسی معاملات کو زیرِ بحث لاتے تھے اور لوگوں کا خون گرماتے تھے۔
ابھی جو چھوٹی عید گزری، اس پر بھی ان کا وعظ سماجی اور خاندانی معاملات تک محدود تھا۔ اس مرتبہ بڑی عید پر بھی ایسا ہی ہوا۔
پہلے عیدین پر بھی وہ دوسرے سیاسی معاملات پر جوش و جذبہ دکھانے کے ساتھ ساتھ ایک معاملے پر لازماً زور دیا کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ اگر آپ اپنے کسی عزیز سے ناراض ہیں تو آج کا دن ایسا ہے کہ جائیں اور اسے گلے لگائیں۔ کسی ہمسائے اور واقف سے کھنچے ہوئے ہیں تو یہ موقع ایسا …
عیدالاضحیٰ مبارک

عیدالاضحیٰ مبارک
Eidul Azha Mubarak…
PMLN at a dead end!

’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘
PMLN at a dead end!…
To the Young!

Age is just a number.
Whether one is a young adult or an older person
does not matter and endows one with no special privilege.
What matters is what one is doing,
how one contributes toward society,
and what ideas and values one espouses.…
پیمانے کس طرح وضع کیے جائیں؟ کچھ منہاجیاتی معاملات

وضاحت: یہاں ذیل میں جو گفتگو کی گئی ہے، وہ کُلی و نوعی اعتبار سے صرف اور صرف دنیاوی اقالیم سے تعلق رکھتی ہے۔
زیرِ بحث موضوع سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کو جانچنے کے لیے پیمانے کس طرح وضع ہونے چاہئیں؟
محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے
رند کا ساقی کا مے کا خم کا پیمانے کا نام
(فیضؔ)
میں نے سوچا اس تحریر کا آغاز فیضؔ کے شعر سے کروں، جس میں پیمانے کا لفظ استعمال ہوا ہے، اور کہوں کہ یہاں پیمانے سے یہ پیمانہ مراد نہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ پیمانہ بھی تو شراب کی پیمائش کے کام آتا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر شراب کا یہ پیمانہ فرد کی پیمائش کے کام آتا ہے۔ یعنی اس کے ظرف کی پیمائش۔
بلکہ میں اس بات کو بڑھانا چاہوں گا۔ یہ پیمانہ معاشروں اور ان کے ظرف کی …
China Pictorial and the Cultural Revolution

In the 1980s,
one of China’s export items was the magazine China Pictorial,
also published as چین باتصویر in Urdu.
It was mailed free to subscribers.
I was a subscriber myself and used to read it avidly.
At the same time, the notorious Cultural Revolution was taking place.
But in the magazine, they presented only happy faces.
Later I came to know about the atrocities unleashed by the Revolution.…
اردو ڈائجسٹ اور الطاف حسن قریشی کی یاد میں

ابھی 16 مئی کو الطاف حسن قریشی کی وفات ہوئی۔ خبر پڑھتے ہی ذہن کے پردے پر ایک روشنی جھلکی۔ یہ روشنی ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کا نام تھا۔
میری رائے میں اردو ڈائجسٹ ایک ادارے کی حیثیت کا حامل ڈائجسٹ تھا۔ اگر اس کے متوازی کوئی اور ادارہ موجود تھا تو وہ سیارہ ڈائجسٹ تھا۔ سید قاسم محمود کا سیارہ ڈائجسٹ۔ وہ مختلف اوقات میں اس کے چیف ایڈیٹر رہے۔
میں سیارہ ڈائجسٹ کے ساتھ ساتھ اردو ڈائجسٹ کا مقروض بھی ہوں۔ لڑکپن میں ان دونوں نے جس طرح فکری و علمی اور ذوق کی تربیت کی، وہ کام ایک ادارہ ہی کر سکتا ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارہ الطاف حسن قریشی ہی تھے۔ وہی تھے جو اردو ڈائجسٹ کی روحِ رواں تھے۔
اردو ڈائجسٹ میں کیا چیز ہے جو نہیں ہوتی تھی۔ تاریخ۔ فلسفہ۔ شعر و ادب۔ عالمی شعر و ادب۔ سیاسیات۔ انٹرویو۔ شکاریات۔ وغیرہم۔
ذوق کی …
پاکستان کے شہریوں کے دو بڑے مجرم ہیں۔ اول سیاسی اشرافیہ، دوم دانشور اشرافیہ

78 برس ہو گئے ہیں
اور پاکستانی پریس اور میڈیا
حکومتی سبز باغوں کی فلم چلائے جا رہا ہے
اور سیاست دانوں کی وہی رٹی رٹائی زبان بولے جا رہا ہے۔…