Principles and proposals- Way forward for a new and just NFC award

First things first
- This piece of writing does not aim to involve itself with a long-form discussion of the complex issues, such as population, poverty/backwardness, or recently proposed performance-based criteria regarding the new National Finance Commission (NFC) award being debated in various circles. Its focus is on the consensus that needs to be built around a new formula for the next award.
- In addition, it solely dwells on evolving a way forward by setting certain principles on which the new NFC award may be deliberated and agreed upon.
- Let it be known from the outset that the writer believes in autonomous individuals and autonomous communities and, by extending this principle further, believes in maximum provincial autonomy. It is in this spirit that solutions are proposed.
How this line of thought ensued
In July 2017, an Islamabad-based think tank, Policy Research Institute of Market Economy (PRIME …
فکری اور علمی طور پر پسماندہ معاشرے

فکری اور علمی طور پر پسماندہ معاشرے وہ ہوتے ہیں
جہاں فرد جو کچھ کہتا ہے اس پر دھیان دینے کے بجائے
توجہ اس بات پر مبذول کر دی جاتی ہے کہ
اس کی نیت کیا ہے
اور یہ فرد یہ بات کہہ کیوں رہا ہے۔

اس کی بات کے بجائے اس کی نفسیات اور ذات زیر بحث آ جاتے ہیں۔…
What kills the representative democracy?

What kills the representative democracy?
General elections and professional politicians.
…
Lottery-based elections and citizens assembly

Politics has become a black hole.
Attempts to reform it are swallowed by the black hole.
That’s why politicians need to be thrown out and politics retrieved back to the people
through lottery-based elections and citizens assembly,
ensuring every citizen has a chance to represent their fellow citizens.

Khalil
–
7 April, 2026
…
A revivalist romanticism

After the subcontinent came directly under the British crown,
a triangular political situation emerged.
Apart from Sir Syed, there was no serious thinker among the lot of Muslim scholars,
but only those who were all romanticists, and theirs was all a revivalist romanticism.
Khalil
1-4-26…
Pak democracy: Where to focus on… Your political philosophy’s litmus test

Lottery-based elections are the way out for Pakistan

To make Pak democracy deliver in the first place, or say, to improve the quality of Pak democracy (yes, from zero to one and above), up to this moment, I have been focusing on the following aspects of it:
- How to curtail and limit the constitutional powers of the politicians, i.e., those politicians who somehow after winning general elections come to power.
Initially, in a 2012 book of mine, The Rise of State Aristocracy in Pakistan (پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج), I advocated strict constitutional rule as a panacea, as an effective antidote to stifle the capture of the state and its resources by aristocracy (Ashrafiya), thus named Riyasati Ashrafiya (State Aristocracy).
Earlier than that, in 2007, I had penned a Charter of Liberty, in the light of which the constitution of Pakistan needed to be rewritten, and …

عید الفظر مبارک
…
اہلِ دانش اور فکری پیش رفت کا مخمصہ
پاکستان میں اہل دانش کا طبقہ ذہنی اور فکری طور پر جیسے ایک نقطے پر مقیم ہے۔ اس نے خود کو چند تصورات کے حصار میں محفوظ بنایا ہوا ہے۔ اور کھُلے اور ناوابستہ ذہن کے ساتھ کسی معاملے کو جانچنے پرکھنے سے محترز ہے۔

مراد اس سے یہ ہے کہ اس طبقے کے ساتھ منطقی اور فلسفیانہ گفتگو کا امکان قریب قریب محال ہے۔ کیونکہ اس طبقے کی فکر کچھ مخصوص قضایا اور کچھ معروف تعصبات پر مبنی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ میں نے قضایا و تعصبات کی بات کی ہے، اقدار کی نہیں۔
آپ جو بھی معاملہ و مقدمہ اس طبقے کے سامنے رکھتے ہیں، یہ اس پر توجہ دینے کے بجائے آپ پر کوئی لیبل چسپاں کر دیتا ہے۔ اور یوں بات آگے نہیں بڑھتی اور وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ مثال کے طور پر جب آپ سامراج یعنی امریکہ یا پاکستان کی قائمیہ کے …
بابت ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ: سیاسی دنیا ایک بہاؤ میں ہے
انسانی دنیا ہمیشہ سے ایک دنیا رہی ہے۔ یعنی وحدت پر مبنی دنیا۔
مختلف ریاستوں اور ممالک کے مابین سیاسی و جغرافیائی تقسیم کوئی ناقابلِ تبدیل تقسیم نہیں تھی، نہ ہے۔ یہ سیاسی تقسیم تھی، اور ہے۔
مگر سیاسی فلاسفہ نے اس سیاسی تقسیم کو سیاسی فلسفے کے جامد تصورات میں متشکل کر دیا تھا۔
ان تصورات میں سے نہایت گمراہ کن تصور اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) کا تصور ہے۔
یہاں میں اس تصور کے ایک بڑے نتیجے کو سامنے لانا چاہتا ہوں۔
ہر قسم کی حکومتوں نے اس تصور کو اپنی اپنی جغرافیائی حدوں کے اندر اپنی طاقت کو دوام بخشنے کی خاطر استعمال کیا۔ یعنی اپنے شہریوں پر ناجائز حکمرانی قائم کرنے کے لیے استعمال کیا۔
انسانی دنیا کی موجودہ صورتِ حال میں یہ بات عیاں ہے اور اسے سمجھنا آسان بھی ہے کہ سیاسی فلسفے کے کئی تصورات بہاؤ میں ہیں۔ بالخصوص اقتدارِ اعلیٰ کا تصور۔
یہ بات …
More than books, it’s the writers of books that Pakistan needs
پاکستان کو کتابیں ہی نہیں،
بلکہ ناگزیر طور پر کتابیں لکھنے والے بھی چاہییں۔
Pakistan doesn’t need books as much as it inevitably writers of books.
Khalil

24 January, 2026…
Conspiracy theories accrue no knowledge
The grander the conspiracy theory,
the grander the crown of “easy come easy go” knowledge.
Khalil

24 November, 2025…
A few elements of a perfect economist

13-01-2026
A few elements of a perfect philosopher
Everyone should have about one-fourth of Socrates,
another one-fourth of Aristotle,
more than half a percent of Plato,
and finally
a thorough dip into Karl Popper
– that may help make a perfect philosopher out of him.
Dr Khalil

10-01-2026
…
Happy New Year نیا برس مبارک
While stepping into 2026,
let’s reboot ourselves with common sense
and reason in our thoughts,
actions, and daily lives.

Above all, let’s resolve to stand by
moral principles in everything we do.
Here’s to a year of integrity, tolerance,
and composure.
Happy New Year…
Thank you, Arif Habib, for purchasing the White Elephant!
Thank you, Arif Habib,
for purchasing the White Elephant!
…
سیاسی پارٹیاں: اخلاقی حِس اور قانون کی حاکمیت کا قتل
سیاسی پارٹیوں نے باہر کے محتسب (قانون کی حاکمیت) کو مار دیا ہے۔
لوگوں نے اپنے اندر کے محتسب (اخلاقی حس) کو۔
…
A conspiracy theory flattens anything, everything
The grander the conspiracy theory,
the grander the crown of “easy come easy go” knowledge.
…
جون ایلیا: ایک پہچان – ایک تاثر
جون ایلیا ایک باغی ہیں۔
وہ کسی سانچے میں فِٹ نہیں بیٹھتے۔
وہ کسی سانچے میں فِٹ بیٹھ ہی نہیں سکتے۔
وہ سانچوں کے لیے نہیں بنے تھے۔ نہ ہی سانچے ان کے لیے۔
وہ خالص باغی ہیں۔

وہ ایک خارِ مغیلاں تھے، جو خود ان کے وجود میں پیوست تھا۔
وہ جس اضطراب، جس احساسِ ناآسودگی کا شکار تھے، خود انھیں بھی اس کی خبر نہیں تھی۔
یہی سبب ہے کہ وہ ہمہ اضطراب، ہمہ احساسِ ناآسودگی تھے۔
وہ ایک ایسا بھالا تھے، جس کا پھل خود ان کے دل کے آر پار تھا۔
وہ خود اپنے گھائل تھے۔
وہ ایک ایسے شکاری تھے، جو خود اپنا شکار ہو گیا ہو۔
وہ انا پسند ہوتے ہوئے بھی اپنی انا پسندی سے مطمئن نہیں تھے۔
وہ لااُبالی اور تلون مزاج تھے۔
وہ ایک شوہر تھے۔ باپ تھے۔ مگر نہیں تھے۔
یہ دنیا داری ان کے شایانِ شان نہیں تھی۔
وہ …
فکری ظرف: کیا برِصغیر میں کوئی مسلم فکر وجود رکھتی ہے؟
برِصغیر ہی کیا، دنیا بھر میں مسلمانوں کی فکر بیشتر مذہبی تقدس میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آج بھی ایسا ہی ہے، یعنی پاکستان سمیت۔

لیکن ایک چیز جو سمجھنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ برِصغیر میں مسلمانوں کی فکر کا محاورہ (ایڈیم) ’’ادبی‘‘ تھا (اس کی وضاحت آگے آئے گی)۔ وہ اِن اصطلاحات اور اس سیاق و سباق میں سوچتے تھے۔ مراد یہ کہ اگر کوئی محقق برِصغیر کے مسلمانوں کی فکر پر کام کرنا چاہتا ہے، تو اسے لگے بندھے پیمانوں کو طاق میں رکھنا ہو گا۔ یعنی اگر کوئی یہ کہے کہ یہاں برِصغیر میں مسلمانوں میں کسی فکر کا ارتقا نہیں ہوا تو اس کا یہ کہنا غلط ہو گا، کیونکہ وہ لگے بندھے پیمانوں کا اطلاق کر رہا ہو گا۔
یہاں ایک نیا پیمانہ جو میں وضع کر رہا ہوں، وہ یہی ہے کہ برِصغیر میں مسلمانوں کی فکر کی تفہیم کے لیے مغربی فکر …
Dr Frankenstein and his monsters

Khalil