Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

فسطائیت اپنے پنجے گاڑ رہی ہے

نوٹ: یہ تحریر 7 دسمبر 2019 کو ’’نیادور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/25638/ پاکستانی فسطائیت کا چہرہ دو خطوط سے عبارت ہے، حماقت اور خودراستی۔ لیکن اندر سے یہ اپنے گنوں میں پوری ہے، یعنی اصلاً فسطائیت ہے۔ جتنا پاکستانی فسطائیت، فسطائی ہو سکتی ہے۔ میں نے حماقت کو اس لیے پہلے رکھا ہے کہ خودراستی کا […]

امریکہ ـ طالبان معاہدہ اور ’’رنگا رنگ‘‘ ردِ عمل

اس تحریر کا مقصد امریکہ ـ طالبان معاہدے کا جائزہ لینا یا اس پر کسی قسم کو کوئی تبصرہ کرنا نہیں۔ اس تحریر کا مقصد اس معاہدے پر جو ردِ عمل سامنے آ رہے ہیں، ان کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا ہے۔ پہلی بات یہ کہ  وہی پرانی حکایت دہرائی جا رہی ہے، […]

کیا ہر روشن دماغ اور سوچنے سمجھنے والا شخص کسی نہ کسی کا ایجینٹ ہے؟

اکثر اوقات سوچ کے سانچے، افراد کی ذہنی ساخت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ قدیمی آبادیوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود کو نہ صرف طبیعی سرحدوں کے اندر بلکہ اپنی اساطیری اور روایاتی سرحدوں کے اندر بھی بند رکھیں۔ یہ بقا کی میکانکیت تھی۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا، تو باہر سے ہر […]

دھڑا دھڑ لیے گئے قرضے کیا لوگوں کی جیبیں کاٹ کر ادا کیے جائیں گے؟

یہاں کچھ ٹویٹس منسلک کی جا رہی ہیں: ہر حکومت جس طرح قرضے لیتی ہے، اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ انھیں کوئی پروا نہیں، کیونکہ ان قرضوں کی ادائیگی کونسا ان کی جیب سے ہو گی۔ اس رویے کا کیا حل ہونا چاہیے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ ایک بات تو یہ عیاں […]

بایاں بازو بھی تحریکِ انصاف کی طرح فسطائی (فاشسٹ) ثابت ہو گا

آج کل یوں معلوم ہو رہا ہے کہ جیسے بائیں بازو کی سیاست کا احیا ہو رہا ہے۔ منظور پشتین کی گرفتاری پر مختلف شہروں اور خاص طور پر اسلام آباد میں جو احتجاج ہوئے، بائیں بازو کی جماعت، عوامی ورکرز پارٹی، نے اس میں بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ اس کے بعد […]

میرے پاس تم ہو’’ میں کچھ تو جادو تھا‘‘

میں نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا۔ ہاں، مگر اس کی مقبولیت کو ضرور دیکھا۔ یہ یہی مقبولیت ہے، جس نے مجھے اس کے بارے میں کچھ لکھنے پر مجبور کیا۔ ہمارے گھر میں بھی یہ ڈرامہ دیکھا جاتا تھا۔ اس پر گفتگو بھی ہوتی تھی۔ اسی گفتگو سے اور پھر سوشل میڈیا سے اس کے […]

غیرسرکاری سینسرشپ

کوئی دو ماہ قبل مجھے ’’نیا دور‘‘ (www.NayaDaur.tv) سے لکھنے کی دعوت موصول ہوئی۔ یہ خوشی کی بات تھی۔ میں نے انھیں کہا کہ میں فری لانس مصنف و محقق ہوں، کیا آپ ادائیگی کریں گے۔ انھوں نے کہا ابھی تو ابتدا ہے، آگے چل کر ضرور کریں گے۔ میں نے لکھنا شروع کر دیا، […]

Addendum to the conversation: What should we (the civil society) be doing in India and Pakistan

Here is the link to the original conversation: https://pakpoliticaleconomy.com/?p=1774 As Jayant Bhandari and I conversed, a few others joined. Since they commented publicly, below are copied, though anonymously, what did they add. Anonymous 1: “state fulfilling its constitutional role/responsibilities”, “Form a political party to work as an institution”. ??? How much longer can grown-ups believe […]

بےنظیر بھٹو کا فسانہ

نوٹ: یہ تحریر 31 دسمبر 2019 کو https://nayadaur.tv پر شائع ہوئی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بے نظیر بھٹو دسمبر 1988 میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور پہلی بار وزیرِ اعظم بنیں۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے پاکستان کی دنیا بدل جائے گی۔ پاکستان کے عام لوگوں کے دلدر دورہو جائیں […]

ریاستی معیشت اور شہری معیشت

میری ایک اور تصنیف طباعت کے مراحل میں ہے۔ ریاستی معیشت اور شہری معیشت: علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد ریاستی اشرافیہ کی بقا کی انحصار ریاستی معیشت پر ہے۔ شہری معیشت کے غالب آتے ہی، ریاستی معیشت، اور نتیجے کے طور پر، ریاستی اشرافیہ کی طفیلیت، دونوں اپنے انجام سے ہمکنار ہونے […]

What should we (the civil society) be doing in India and Pakistan? A conversation between an Indian and a Pakistani

Jayant Bhandari is an Indian who left India and settled in Canada. I never met him. He’s a Facebook friend. His posts generate thoughtful discussions and that’s how we both found each other in a good friendly relation. I did try to leave Pakistan during my teen years, and failed. Later I abandoned the idea […]

آئین کا نفاذ 14 اگست 1973 کو ہو گیا تھا، پھر تردد کیسا

نوٹ: یہ تحریر https://nayadaur.tv پر شائع نہیں ہو سکی۔ ابھی جب خصوصی عدالت نے جینرل مشرف کے خلاف ’’سنگین غداری‘‘ کے مقدمے میں فیصلہ سنایا، تو اس پر آئی ایس پی آر کی طرف سے فوج میں غم و غصے کے ردِ عمل کا اظہار نہ صرف غیرآئینی اور خلافِ آئین تھا، بلکہ یہ انتہائی […]

ریاست کو نئے سرے سے آئین کے مطابق ڈھالنا ہو گا

نوٹ: یہ تحریر 13 دسمبر 2019 کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/26108/ لاہور میں دل کے ہسپتال پر وکلا کا دھاوا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہو گا۔ تو پھر خرابی کہاں ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ خرابی کہاں نہیں؟ بس ایک آئین ہے، جس سے امید باندھی جا […]

آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم قانون کی روح سے متصادم ہے

نوٹ: یہ تحریر 5 جنوری کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/27722/ فوجی آمروں نے آئین کے ساتھ جو سلوک کیا، اس پر تعجب نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب آئین کو معطل کر کے مارشل لا نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب شخصی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ […]

کیا بایاں بازو بدل رہا ہے؟

نوٹ: یہ تحریر 2 دسمبر کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/25285 اس نومبر میں الحمرا لاہور میں معنقد ہونے والا ’’فیض میلہ‘‘ ’’فیض‘‘ سے زیادہ میلہ ٹھیلہ تھا۔ مراد یہ کہ ایک ڈھیلے ڈھالے بائیں بازو کا میلہ تھا۔ جیسا کہ ملک میں تفریح ایک نایاب شے بن گئی ہے، یہ موقع اس کمی […]

توسیع کی سیاست

سیاسی طاقت کے ریاستی ایوانوں میں کیا سازشیں ہوتی ہیں۔ ہم بےچارے عام شہریوں کو کیا پتا۔ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی چینل جو خبر دیتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کیا ہو رہا ہے، کیا ہونے جا رہا ہے۔ ایک بات صاف ہے کہ ریاست، حکومت جس بات کا انکار کرتی ہیں، وہ […]

Increasing prices of petroleum products: what should be done?

Historically, the governments in Pakistan use utility companies (gas and electricity) and petroleum products (since they are the backbone of modern survival) as gold mines to extract as much revenue as they want to raise. So under the circumstances, what should be the policy recommendations? And what should we be demanding? Policy recommendations: Citizens’ demands: […]

میزانیہ مالی سال 2019-20 – کچا چٹھا

The Gist of the Budget 2019-20

زری پالیسی: مختصر نوٹ

A Short Note on Monetary Policy زری پالیسی: مختصر نوٹ (1) یہ اختیار ریاست/حکومت نے ہتھیا لیا ہوا ہے کہ شہری، ادارے اور کاروبار ایک دوسرے کو جو پیسہ قرض دیں گے، اس کی شرحِ سود کیا ہو گی۔ یا حکومت ریاستی اور کاروباری بینکوں سے جو قرض لے گی، اس کی شرحِ سود کیا […]

اگر انتخابات منصفانہ نہیں، تو آپ اسیمبلیوں میں کیوں بیٹھے؟

سیاسی قضیے: 29  دسمبر، 2018 یہ ان دنوں کی بات ہے، جب تحریکِ انصاف ’’دھاندلی دھاندلی‘‘ کھیل رہی تھی، یا اس کے پردے میں کچھ اور۔ اسی پس منظر میں آصف علی زرداری کا ایک بیان پڑھنے کو ملا۔ انھوں نے فرمایا: ’’ہمارا مینڈیٹ تو ہر دفعہ چوری ہوتا ہے۔‘‘ وہ کیا کہنا چاہ رہے […]

ایک اور عظیم دھوکہ

[نوٹ: یہ تحریر ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ کے لیے 26 دسمبر 2011 کو لکھی اور پوسٹ کی گئی۔ تحریکِ انصاف کے مظہر کے بارے میں آج بھی

Read More »

بزدل ایٹم بم

پاکستان میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی موجود ہے، جو چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان کے پاس ایٹم بم ہے تو اس کا کوئی

Read More »

پارٹی انتخابات کا ڈھونگ

پاکستان کی فکری فضا مغالطوں سے آلودہ ہے۔ یہاں ہرقسم کے مغالطے وافر دستیاب ہیں۔ مغالطے ایسے تصورات ہوتے ہیں، جو بظاہر درست معلوم ہوتے

Read More »

مبارک سلامت!

کیا آپ نے کبھی ایسا کوئی منظر دیکھا ہے کہ نغمۂ شادی کے ساتھ ساتھ نغمۂ غم بھی گونج رہا ہو! یا شادی خانہ آبادی

Read More »

حکومت میلہ

پہلے ایک نظم ملاحظہ کیجیے، جو میں نے سال 2010 میں لکھی تھی۔ یہ آج بھی حالات کے مطابق ہے۔ بلکہ گزرے برسوں کے ساتھ

Read More »

انصاف کے انسانی تقاضے

انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی بھی نظام وضع کر لیا جائے، اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔ وجہ یہ ہے کہ

Read More »

جعل ساز یا قانون ساز

پاکستان میں ”جرم“، ریاست، سیاست اور حکومت کے ساتھ لازم و ملزوم بن گیا ہے۔ جرائم پیشہ سیاست اور جرائم پیشہ حکومتوں نے پاکستان کو جرائم

Read More »

ویسے یہ پستول کس کا ہے؟

یہ ایک مشاہدے کی بات ہے کہ سوسائیٹی کا نظامِ اقدار، قانون کی عمل داری سے ناگزیر طور پرجڑا ہوتا ہے۔ جتنا قانون کی عمل

Read More »

سندھ میں سیاسی طفیلیت

جیسا کہ آج آصف علی زرداری کے عہدۂ صدارت کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ آج کے اخبارات دیکھیے۔ میرا اندازہ ہے کہ قریب قریب

Read More »

مافیا سیاست کا کچا چٹھا

نوٹ: یہ کالم، سابقہ کالم ’’مافیا سیاست کی جنم کنڈلی‘‘ کا دوسرا حصہ ہے۔ پاکستان میں ریاست، حکومت اور سیاست کی سرپرستی میں موجود مافیا

Read More »

پریزیڈینسی اور یومِ نجات

ٹویٹر پر آج کی ٹویٹ: ترجمہ:  یومِ نجات ـ آصف زرداری نے جو نقصان پہنچایا، پاکستانی ریاست، سوسائیٹی اور تصورات پر اس کے اثرات برسوں

Read More »

نجی سکول اور تعلیم کا کاروبار

نوٹ: یہ کالم ’’نجی تعلیم کی ریگولیشن کا مسئلہ‘‘ کے سلسلے کا تیسرا کالم ہے۔ گذشتہ دو کالم، ”نجی سکول اور خیبر پختونخوا حکومت“، اور ”نجی سکول اور تعلیم

Read More »

نجی سکو ل اور تعلیم کا تقد س

نوٹ: یہ کالم “نجی تعلیم کی ریگولیشن کا مسئلہ” کے سلسلے کا دوسرا کالم ہے۔ جیسا کہ گذشتہ کالم، ”نجی سکول اور خیبر پختونخوا حکومت“ میں ذکر

Read More »