ایک اور عظیم دھوکہ
[نوٹ: یہ تحریر ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ کے لیے 26 دسمبر 2011 کو لکھی اور پوسٹ کی گئی۔ تحریکِ انصاف کے مظہر کے بارے میں آج بھی
نوٹ: یہ تحریر 7 دسمبر 2019 کو ’’نیادور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/25638/ پاکستانی فسطائیت کا چہرہ دو خطوط سے عبارت ہے، حماقت اور خودراستی۔ لیکن اندر سے یہ اپنے گنوں میں پوری ہے، یعنی اصلاً فسطائیت ہے۔ جتنا پاکستانی فسطائیت، فسطائی ہو سکتی ہے۔ میں نے حماقت کو اس لیے پہلے رکھا ہے کہ خودراستی کا […]
Here is the link to the original conversation: https://pakpoliticaleconomy.com/?p=1774 As Jayant Bhandari and I conversed, a few others joined. Since they commented publicly, below are copied, though anonymously, what did they add. Anonymous 1: “state fulfilling its constitutional role/responsibilities”, “Form a political party to work as an institution”. ??? How much longer can grown-ups believe […]
Jayant Bhandari is an Indian who left India and settled in Canada. I never met him. He’s a Facebook friend. His posts generate thoughtful discussions and that’s how we both found each other in a good friendly relation. I did try to leave Pakistan during my teen years, and failed. Later I abandoned the idea […]
Historically, the governments in Pakistan use utility companies (gas and electricity) and petroleum products (since they are the backbone of modern survival) as gold mines to extract as much revenue as they want to raise. So under the circumstances, what should be the policy recommendations? And what should we be demanding? Policy recommendations: Citizens’ demands: […]
[نوٹ: یہ تحریر ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ کے لیے 26 دسمبر 2011 کو لکھی اور پوسٹ کی گئی۔ تحریکِ انصاف کے مظہر کے بارے میں آج بھی
پہلی بات تو یہ کہ یہاں سیاست دانوں کی ناکامی کی ”آمد“ سے جینرل مشرف (ریٹائرڈ) کی جلاوطنی سے وطن واپسی مراد ہے۔ اور پھر
جلد ہفتم ـ ـ ـ ـ ـ یہ بات قابلِ غور ہے کہ شرر اپنا نام، محمد عبدالحلیم شرر لکھتے تھے ۔ دیکھیے صفحہ: 81 یہ
ایک خبر کے مطاقب نگران وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، نواب غوث بخش باروزئی نے اپنی گاڑی سے کالے شیشے اتار دیے، اور کوئیٹہ کے بڑے پولیس
سیاست دان تو بدنام ہیں، اور صحیح بدنا م ہیں۔ وہ صرف نام کے، یا نام کے لیے بدنام نہیں، جیسا کہ کہا جاتا ہے:
تحریکِ انصاف نے پارٹی انتخابات کیا کروائے، جیسے کوئی انہونی ہو گئی۔ پاکستان میں کچھ ایسا ہو گیا، جو کبھی نہ ہوا تھا، اور یوں
پاکستان میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی موجود ہے، جو چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان کے پاس ایٹم بم ہے تو اس کا کوئی
ٹویٹر پر آج کی ٹویٹ: ترجمہ: بحوالہ پاکستانی میڈیا پر آصف علی زرداری کی تعریف و تحسین: میڈیا میں چمکتی ہر چیز سونا نہیں ہوتی!
Today’s tweet: Re Pakistani media’s praise for Asif Ali Zardari: Everything that glitters in Media is not gold! https://twitter.com/khalilkf
What’s happening at this time in Pakistani media has no precedent! It’s desperately trying to transform Dust into Gold using its science of alchemy and
جیسا کہ پہلے بھی ایک پوسٹ میں یہ ذکرآ چکا ہے کہ حامد میر کے کالم معلومات سے بھرے ہوتے ہیں۔ تاہم، ان معلومات کو
پاکستان کی فکری فضا مغالطوں سے آلودہ ہے۔ یہاں ہرقسم کے مغالطے وافر دستیاب ہیں۔ مغالطے ایسے تصورات ہوتے ہیں، جو بظاہر درست معلوم ہوتے
کیا آپ نے کبھی ایسا کوئی منظر دیکھا ہے کہ نغمۂ شادی کے ساتھ ساتھ نغمۂ غم بھی گونج رہا ہو! یا شادی خانہ آبادی
پہلے ایک نظم ملاحظہ کیجیے، جو میں نے سال 2010 میں لکھی تھی۔ یہ آج بھی حالات کے مطابق ہے۔ بلکہ گزرے برسوں کے ساتھ
فلسفی جان ڈیوی کا کہنا تھا کہ انسانیت کا نہایت اہم مسئلہ اکٹھے مل کر رہنا ہے۔ یعنی انسانوں کا اجتماع کی صورت میں رہنا۔
انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی بھی نظام وضع کر لیا جائے، اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔ وجہ یہ ہے کہ
پاکستان میں ”جرم“، ریاست، سیاست اور حکومت کے ساتھ لازم و ملزوم بن گیا ہے۔ جرائم پیشہ سیاست اور جرائم پیشہ حکومتوں نے پاکستان کو جرائم
کیاانصاف ممکن ہے؟ بالخصوص اگر ایک فرد یا افراد کا ایک مختصر گروہ، قتلِ عام کا مرتکب ہو تو پھر انصاف کی نوعیت کیا ہو
یہ ایک مشاہدے کی بات ہے کہ سوسائیٹی کا نظامِ اقدار، قانون کی عمل داری سے ناگزیر طور پرجڑا ہوتا ہے۔ جتنا قانون کی عمل
Today is the day when the five-year term of President Asif Ali Zardari has come to an end (writing this blog in the evening). See
جیسا کہ آج آصف علی زرداری کے عہدۂ صدارت کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ آج کے اخبارات دیکھیے۔ میرا اندازہ ہے کہ قریب قریب
”انصاف کو علاحدہ رکھ دیں، اور پھر دیکھیں تو مملکتیں کیا ہیں، غنڈوں کے عظیم گروہ؟ غنڈوں کے گروہ کیا ہوتے ہیں، غنڈوں کی چھوٹی
پاکستان کے بڑے بڑے سیاسی مسائل کی نوعیت انتہائی حیران کن ہے۔ آئیے ذرا اخبارات کے آئینے میں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ، مثلاً،
سمت کو ئی محفوظ نہیں ہے قدم قدم پر خطرہ ہے یکدم کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی بھی آفت آ سکتی ہے اک لمحہ بھی
پاکستانی فوج کو بالآخر ہزاروں شہریوں کی قیمتی جانوں، اور شہریوں کے ٹیکس کے اربوں کھربوں روپوں کے نقصان کے بعد یہ سمجھ آنے لگا
نوٹ: یہ کالم، سابقہ کالم ’’مافیا سیاست کی جنم کنڈلی‘‘ کا دوسرا حصہ ہے۔ پاکستان میں ریاست، حکومت اور سیاست کی سرپرستی میں موجود مافیا
محبت پل رہی ہے جھونپڑوں میں، کوٹھیوں میں راستوں پر گلیوں بازاروں میں سڑکوں پر محبت پل رہی ہے بستیوں میں، کٹڑیوں میں ایک کمرے
یہ بات درست ہے کہ مافیا گروہ ہر جگہ جنم لے سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ مافیا گروہوں کے
پنجاب میں جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنتی ہے، یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ نت نئے تجرے کیےجاتے ہیں، اور ہر مرتبہ نئے
کراچی، بلدیہ ٹاؤن کی گارمینٹس فیکٹری میں گذشتہ ستمبر میں لگنے والی آگ کو، جس میں ڈھائی سو سے زیادہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع
[نوٹ: یہ تحریر 21 جولائی 2012 کو ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ کے لیے لکھی گئی تھی اور 23 جولائی کو پوسٹ کی گئی۔] گذشتہ ماہ کی بات ہے، جب
یہ سوال کچھ عجیب سا لگے گا۔ یہ سوال اٹھانے والا کچھ ”خود پسند“ محسوس ہو گا۔ یقین کیجیے، یہ سوال بہت اہم ہے۔ اصل
یہ ان دنوں کی بات ہے، جب قانون کی حکمرانی کے لیے وکلا کی تحریک زوروں پر تھی۔ 9 مارچ 2007 کو طاقت کے ایک
شاہ رخ جتوئی کراچی ایئر پورٹ سے بیرونِ ملک فرار ہوا، ایف آئی اے کا اعتراف [روزنامہ ایکسپریس، 29 جنوری، 2013]
تیسری دنیا کے ممالک کے ننانوے فی صد مسائل کا سبب قانون کی حکمرانی اور خود کارحکومتی اداروں کی عدم موجودگی ہے۔ پاکستان غالباً اس
یہ پوسٹ ایک سابقہ پوسٹ: ’’خان فضل الرحمٰن خان اور ان کا ناول، آفت کا ٹکڑا‘‘، سے جڑی ہوئی ہے۔ جیسا کہ اس پوسٹ میں
جس طرح آج کل لائن آف کنٹرول پر حالات خراب ہو رہے ہیں، اور ایک خوف سا محسوس ہو رہا ہے کہ نوبت کہیں جنگ
جب فروری 1999 میں وزیرِ اعظم بھارت، اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہو ر آئے تھے تو یہ پاک بھارت سفارت کاری میں
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پیچھے پاکستانی سیاست اور ریاست کے سنگین جرائم چھپے ہوئے ہیں۔ جب سے واپڈا کا قیام عمل میں آیا، اس
کسی بھی قسم کی قوت، طاقت، اختیار، وغیرہ، سب اتھاریٹی کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ قوت اور طاقت پیدائشی اور فطری بھی ہو سکتی
ٹویٹر پر آج کی ٹویٹ: ترجمہ: یومِ نجات ـ آصف زرداری نے جو نقصان پہنچایا، پاکستانی ریاست، سوسائیٹی اور تصورات پر اس کے اثرات برسوں
Today’s Tweet: Good Riddance Day – the devastation caused by Asif Zardari to exert its impact on the Pakistani state, society and ideas for years
نوٹ: یہ ٹکڑا 4 مارچ 2011 کو لکھا گیا اور 21 مارچ 2011 کو ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ پر پوسٹ ہوا۔ حکومت ِ پاکستان کی بس چلانے کے لیے ڈرائیوران و
اس ضمن میں ایک خبر (ریاستی اشرافیہ کا پاکستان ـ 5) پہلے پوسٹ کی جا چکی ہے۔ اب 17 جنوری کے روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں اول صفحے پر یہ خبر
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اگوائی میں پارلیمان کے اندراور پارلیمان سے باہر موجود اکثر سیاسی جماعتیں ہر قسم کے غیر آئینی اقدام اور حکومت
نوٹ: یہ کالم ’’نجی تعلیم کی ریگولیشن کا مسئلہ‘‘ کے سلسلے کا تیسرا کالم ہے۔ گذشتہ دو کالم، ”نجی سکول اور خیبر پختونخوا حکومت“، اور ”نجی سکول اور تعلیم
دروازے پر بیل ہوئی۔ جا کر دیکھا تو شاہد اور ظفر کار لیے کھڑے تھے: ’گوجرانوالے جانا ہے۔‘ ’میں تو ابھی سو کر اٹھا ہوں۔
نوٹ: یہ کالم “نجی تعلیم کی ریگولیشن کا مسئلہ” کے سلسلے کا دوسرا کالم ہے۔ جیسا کہ گذشتہ کالم، ”نجی سکول اور خیبر پختونخوا حکومت“ میں ذکر
پاکستان میں ریاست اور حکومتوں کی ناکامی ہمہ گیر ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی اس ناکامی سے مستثنیٰ نہیں۔ کہنے کو ایک خود رو انداز
Copyright © 2021 Pak Political Economy. All Rights Reserved