اخلاقیات اور مذہب، اور سیاست: دخل در معقولات
عزیز دوست علی سلمان نے فیس پر نعیم بلوچ صاحب کی ایک پوسٹ کی طرف متوجہ (ٹیگ) کیا۔ یہ پوسٹ بیشتر عملی مذہب اور اخلاقیات
Mao Zedong said, “Let a hundred flowers blossom.” And it was Mao Zedong himself who plucked and crushed all of 99 flowers and forced others to nurture the remaining one, his flower. A myth is like that. It is a truth about something that repudiates all other truths about that thing. It is a theory […]
First things first This piece of writing does not aim to involve itself with a long-form discussion of the complex issues, such as population, poverty/backwardness, or recently proposed performance-based criteria regarding the new National Finance Commission (NFC) award being debated in various circles. Its focus is on the consensus that needs to be built […]
Politics has become a black hole. Attempts to reform it are swallowed by the black hole. That’s why politicians need to be thrown out and politics retrieved back to the people through lottery-based elections and citizens assembly, ensuring every citizen has a chance to represent their fellow citizens. Khalil – 7 April, 2026
Lottery-based elections are the way out for Pakistan To make Pak democracy deliver in the first place, or say, to improve the quality of Pak democracy (yes, from zero to one and above), up to this moment, I have been focusing on the following aspects of it: How to curtail and limit the constitutional […]
The Wealth of Nations by Adam Smith was published on March 9, 1776. This makes the year 2026 the 250th anniversary of its publication. — Everyone should have around 95% of Adam Smith. Yes, only Adam Smith. hen he may have this or that bit of the most notable contributors to the economic theory. That […]
عزیز دوست علی سلمان نے فیس پر نعیم بلوچ صاحب کی ایک پوسٹ کی طرف متوجہ (ٹیگ) کیا۔ یہ پوسٹ بیشتر عملی مذہب اور اخلاقیات
پاکستان میں اہلِ دانش، عقلِ سلیم (کامن سینس) کو خیرباد کہتے جا رہے ہیں۔ یا خیرباد کہہ چکے ہیں۔ اسی لیے ان میں سے بیشتر
نہر پر چل رہی ہے پن چکی دُھن کی پوری ہے کام کی پکی (اسماعیل میرٹھی) کلچر کی چکی رکتی نہیں۔ چلتی رہتی ہے۔ جب
آج اخبار میں دیکھا، موسیقار وزیر افضل کل بروز منگل (7 ستمبر2021 ) 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ شکوہ نہ کر، گلہ
اپریل 1986 میں بے نظیر بھٹو کئی برس کی خودجلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آئیں۔ لاہور میں ان کا شاندار استقبال ہوا۔ وہ ٹرک پر
اس معاملے کو جذباتی وابستگی کے ساتھ بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ بلکہ یہ معاملہ جذبات ہی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یعنی ایسی سیاسی
جیسے فوجی مداخلت ایک حقیقت ہے، اسی طرح، سیاست دانوں کی حیلہ جوئی بھی ایک حقیقت ہے۔ پاکستان کے شہریوں کے اصل ’’مجرم‘‘ سیاست دان
اگر آپ سنجیدہ سیاسی تحریر پڑھنا چاہتے ہیں، تو خورشید ندیم کے کالم پڑھا کیجیے۔ بگڑتے ہوئے حالات کے بارے میں ان کی تشویش بھی
In recent years free trade agreements have become fashionable. Thus, when two or more countries reach an agreement to allow free trade (because it is
۔ پہلی بات یہ کہ میرے پیشِ نظر پاکستان ہے۔ ۔ اب آ جاتے ہیں، سوال کی طرف۔ ۔ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے۔
۔ بایاں بازو، دایاں بازو، لبرل، اور جو بھی ایسے ہی دوسرے انداز ہائے نظر موجود ہیں، یہ سب کے سب اب تک انگریزوں کو
ایک پریشان خیالی تو یہ ہے کہ پاکستانی فسطائیت، فسطائیت نہیں، اور یہ کہ، جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں، فسطائیت تو ہٹلر کی فسطائیت

’آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے۔‘ ’آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘ ’آپ کو ایسا نہیں لکھنا چاہیے۔‘ ’آپ کو ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔‘ یا
ـ نواز شریف (پاکستان مسلم لیگ ن) کا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مقدمہ، قضیہ یا نعرہ گمراہ کن تھا۔ ـ ویسے اب تو یہ
یہ 2018ء کے عام انتخابات سے دو تین ماہ پہلے کی بات ہے۔ مجھے یاد ہے یہ میرے لیے انتہائی مایوسی اور بے بسی کا
ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ کوئی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے اپنے فائدے کے لیے۔ چلیں اس نے خود کوئی فائدہ تو اٹھایا۔ مگر
کیا اس ملک کے لوگوں کے کوئی اصول ہیں، کوئی اقدار ہیں، جن پر وہ یقین رکھتے ہوں؟ مگر یہ سوال ہی غلط ہے؟ لوگ
کچھ نظریات ایسے بھی ہیں، جن کا زور اس بات پر ہے کہ عمران خان کی حکومت کو مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے۔
کرپشن بھی کئی دوسری چیزوں کی طرح قدیم سے موجود چلی آ رہی ہے۔ آج کی دنیا میں یہ جس طرح پھیلی ہوئی ہے، اس
۔ یہ تحریر پاکستان میں نسائیت کی تحریک کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ غلط، صحیح، سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ۔ نسائیت کی
خود پارسائیت کا مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف میں پارسا اور ٹھیک ہوں، اور باقی سب گنہ گار اور غلط ہیں۔ یہ ایک
ریاستی معیشت اور شہری معیشت: علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد Published by Prime Institute, Islamabad www.PrimeInstitute.org Oder form: https://docs.google.com/forms/d/1L1Ah8LZt9ue-DOYbVhT3bc1ziSF0y6kyxJsoQ6BgkSo/viewform?edit_requested=true&gxids=7628
نواز شریف آج جن طاقتوں کے خلاف کھڑے ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہ ماضی میں ان کے ساتھ ساز باز کرتے رہے ہیں۔

شہباز شریف پر جو مقدمات قائم ہوئے ہیں، ان سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ نہ ہی ان سے میری کوئی ذاتی مخاصمت ہے۔ ان سب
عثمان بزدار کو ہٹانا یا نہ ہٹانا کوئی مسئلہ نہیں۔ اکثر صحافی، تجزیہ کار اور حزبِ اختلاف کے سیاست دان اسی پر متوجہ ہیں۔ جبکہ
اپنی مایوسی کو اگر کسی چیز سے تشبیہ دینا چاہوں، تو ایک ایسی ترکیب اور ایک ایسی عمارت کا ڈھانچہ ذہن میں آتا ہے، جسے
[نوٹ: یہ مضمون 9 دسمبر، 2019 کو لکھا گیا، اور 12 دسمبر 2019 کو نیا دور ڈاٹ ٹی وی میں شائع ہوا۔] ’’جاسوسی کے ذریعے
یہ تحریر آپ کے 2 اپریل کے ولاگ کے جواب میں ہے۔ صرف دو باتیں آپ کے سامنے رکھنا مقصود ہے۔ مسابقتی (کمپیٹیشن) کمیشن نے
نوٹ: یہ تحریر 7 دسمبر 2019 کو ’’نیادور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/25638/ پاکستانی فسطائیت کا چہرہ دو خطوط سے عبارت ہے، حماقت اور خودراستی۔ لیکن اندر
اس تحریر کا مقصد امریکہ ـ طالبان معاہدے کا جائزہ لینا یا اس پر کسی قسم کو کوئی تبصرہ کرنا نہیں۔ اس تحریر کا مقصد
اکثر اوقات سوچ کے سانچے، افراد کی ذہنی ساخت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ قدیمی آبادیوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود کو نہ
یہاں کچھ ٹویٹس منسلک کی جا رہی ہیں: ہر حکومت جس طرح قرضے لیتی ہے، اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ انھیں کوئی پروا
آج کل یوں معلوم ہو رہا ہے کہ جیسے بائیں بازو کی سیاست کا احیا ہو رہا ہے۔ منظور پشتین کی گرفتاری پر مختلف شہروں
میں نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا۔ ہاں، مگر اس کی مقبولیت کو ضرور دیکھا۔ یہ یہی مقبولیت ہے، جس نے مجھے اس کے بارے میں
کوئی دو ماہ قبل مجھے ’’نیا دور‘‘ (www.NayaDaur.tv) سے لکھنے کی دعوت موصول ہوئی۔ یہ خوشی کی بات تھی۔ میں نے انھیں کہا کہ میں
Here is the link to the original conversation: https://pakpoliticaleconomy.com/?p=1774 As Jayant Bhandari and I conversed, a few others joined. Since they commented publicly, below are
نوٹ: یہ تحریر 31 دسمبر 2019 کو https://nayadaur.tv پر شائع ہوئی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بے نظیر بھٹو دسمبر 1988 میں پاکستان
میری ایک اور تصنیف طباعت کے مراحل میں ہے۔ ریاستی معیشت اور شہری معیشت: علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد ریاستی اشرافیہ کی
Jayant Bhandari is an Indian who left India and settled in Canada. I never met him. He’s a Facebook friend. His posts generate thoughtful discussions
نوٹ: یہ تحریر https://nayadaur.tv پر شائع نہیں ہو سکی۔ ابھی جب خصوصی عدالت نے جینرل مشرف کے خلاف ’’سنگین غداری‘‘ کے مقدمے میں فیصلہ سنایا،
نوٹ: یہ تحریر 13 دسمبر 2019 کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/26108/ لاہور میں دل کے ہسپتال پر وکلا کا دھاوا کوئی پہلا واقعہ
نوٹ: یہ تحریر 5 جنوری کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/27722/ فوجی آمروں نے آئین کے ساتھ جو سلوک کیا، اس پر تعجب نہیں
نوٹ: یہ تحریر 2 دسمبر کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/25285 اس نومبر میں الحمرا لاہور میں معنقد ہونے والا ’’فیض میلہ‘‘ ’’فیض‘‘ سے
سیاسی طاقت کے ریاستی ایوانوں میں کیا سازشیں ہوتی ہیں۔ ہم بےچارے عام شہریوں کو کیا پتا۔ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی چینل جو خبر
Historically, the governments in Pakistan use utility companies (gas and electricity) and petroleum products (since they are the backbone of modern survival) as gold mines