Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

Dr Khalil's Intellectual Space

Pak Political Economy +

امریکہ ـ طالبان معاہدہ اور ’’رنگا رنگ‘‘ ردِ عمل

اس تحریر کا مقصد امریکہ ـ طالبان معاہدے کا جائزہ لینا یا اس پر کسی قسم کو کوئی تبصرہ کرنا نہیں۔ اس تحریر کا مقصد اس معاہدے پر جو ردِ عمل سامنے آ رہے ہیں، ان کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا ہے۔ پہلی بات یہ کہ  وہی پرانی حکایت دہرائی جا رہی ہے، […]

کیا ہر روشن دماغ اور سوچنے سمجھنے والا شخص کسی نہ کسی کا ایجینٹ ہے؟

اکثر اوقات سوچ کے سانچے، افراد کی ذہنی ساخت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ قدیمی آبادیوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود کو نہ صرف طبیعی سرحدوں کے اندر بلکہ اپنی اساطیری اور روایاتی سرحدوں کے اندر بھی بند رکھیں۔ یہ بقا کی میکانکیت تھی۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا، تو باہر سے ہر […]

دھڑا دھڑ لیے گئے قرضے کیا لوگوں کی جیبیں کاٹ کر ادا کیے جائیں گے؟

یہاں کچھ ٹویٹس منسلک کی جا رہی ہیں: ہر حکومت جس طرح قرضے لیتی ہے، اس سے یہ باور ہوتا ہے کہ انھیں کوئی پروا نہیں، کیونکہ ان قرضوں کی ادائیگی کونسا ان کی جیب سے ہو گی۔ اس رویے کا کیا حل ہونا چاہیے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ ایک بات تو یہ عیاں […]

بایاں بازو بھی تحریکِ انصاف کی طرح فسطائی (فاشسٹ) ثابت ہو گا

آج کل یوں معلوم ہو رہا ہے کہ جیسے بائیں بازو کی سیاست کا احیا ہو رہا ہے۔ منظور پشتین کی گرفتاری پر مختلف شہروں اور خاص طور پر اسلام آباد میں جو احتجاج ہوئے، بائیں بازو کی جماعت، عوامی ورکرز پارٹی، نے اس میں بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ اس کے بعد […]

میرے پاس تم ہو’’ میں کچھ تو جادو تھا‘‘

میں نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا۔ ہاں، مگر اس کی مقبولیت کو ضرور دیکھا۔ یہ یہی مقبولیت ہے، جس نے مجھے اس کے بارے میں کچھ لکھنے پر مجبور کیا۔ ہمارے گھر میں بھی یہ ڈرامہ دیکھا جاتا تھا۔ اس پر گفتگو بھی ہوتی تھی۔ اسی گفتگو سے اور پھر سوشل میڈیا سے اس کے […]

غیرسرکاری سینسرشپ

کوئی دو ماہ قبل مجھے ’’نیا دور‘‘ (www.NayaDaur.tv) سے لکھنے کی دعوت موصول ہوئی۔ یہ خوشی کی بات تھی۔ میں نے انھیں کہا کہ میں فری لانس مصنف و محقق ہوں، کیا آپ ادائیگی کریں گے۔ انھوں نے کہا ابھی تو ابتدا ہے، آگے چل کر ضرور کریں گے۔ میں نے لکھنا شروع کر دیا، […]

Addendum to the conversation: What should we (the civil society) be doing in India and Pakistan

Here is the link to the original conversation: https://pakpoliticaleconomy.com/?p=1774 As Jayant Bhandari and I conversed, a few others joined. Since they commented publicly, below are copied, though anonymously, what did they add. Anonymous 1: “state fulfilling its constitutional role/responsibilities”, “Form a political party to work as an institution”. ??? How much longer can grown-ups believe […]

بےنظیر بھٹو کا فسانہ

نوٹ: یہ تحریر 31 دسمبر 2019 کو https://nayadaur.tv پر شائع ہوئی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بے نظیر بھٹو دسمبر 1988 میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور پہلی بار وزیرِ اعظم بنیں۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے پاکستان کی دنیا بدل جائے گی۔ پاکستان کے عام لوگوں کے دلدر دورہو جائیں […]

ریاستی معیشت اور شہری معیشت

میری ایک اور تصنیف طباعت کے مراحل میں ہے۔ ریاستی معیشت اور شہری معیشت: علمِ معاشیات پر ریاستی تسلط کی مختصر روداد ریاستی اشرافیہ کی بقا کی انحصار ریاستی معیشت پر ہے۔ شہری معیشت کے غالب آتے ہی، ریاستی معیشت، اور نتیجے کے طور پر، ریاستی اشرافیہ کی طفیلیت، دونوں اپنے انجام سے ہمکنار ہونے […]

What should we (the civil society) be doing in India and Pakistan? A conversation between an Indian and a Pakistani

Jayant Bhandari is an Indian who left India and settled in Canada. I never met him. He’s a Facebook friend. His posts generate thoughtful discussions and that’s how we both found each other in a good friendly relation. I did try to leave Pakistan during my teen years, and failed. Later I abandoned the idea […]

آئین کا نفاذ 14 اگست 1973 کو ہو گیا تھا، پھر تردد کیسا

نوٹ: یہ تحریر https://nayadaur.tv پر شائع نہیں ہو سکی۔ ابھی جب خصوصی عدالت نے جینرل مشرف کے خلاف ’’سنگین غداری‘‘ کے مقدمے میں فیصلہ سنایا، تو اس پر آئی ایس پی آر کی طرف سے فوج میں غم و غصے کے ردِ عمل کا اظہار نہ صرف غیرآئینی اور خلافِ آئین تھا، بلکہ یہ انتہائی […]

ریاست کو نئے سرے سے آئین کے مطابق ڈھالنا ہو گا

نوٹ: یہ تحریر 13 دسمبر 2019 کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/26108/ لاہور میں دل کے ہسپتال پر وکلا کا دھاوا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہو گا۔ تو پھر خرابی کہاں ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ خرابی کہاں نہیں؟ بس ایک آئین ہے، جس سے امید باندھی جا […]

آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم قانون کی روح سے متصادم ہے

نوٹ: یہ تحریر 5 جنوری کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/27722/ فوجی آمروں نے آئین کے ساتھ جو سلوک کیا، اس پر تعجب نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب آئین کو معطل کر کے مارشل لا نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب شخصی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ […]

کیا بایاں بازو بدل رہا ہے؟

نوٹ: یہ تحریر 2 دسمبر کو ’’نیا دور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/25285 اس نومبر میں الحمرا لاہور میں معنقد ہونے والا ’’فیض میلہ‘‘ ’’فیض‘‘ سے زیادہ میلہ ٹھیلہ تھا۔ مراد یہ کہ ایک ڈھیلے ڈھالے بائیں بازو کا میلہ تھا۔ جیسا کہ ملک میں تفریح ایک نایاب شے بن گئی ہے، یہ موقع اس کمی […]

توسیع کی سیاست

سیاسی طاقت کے ریاستی ایوانوں میں کیا سازشیں ہوتی ہیں۔ ہم بےچارے عام شہریوں کو کیا پتا۔ اخبار، ریڈیو اور ٹی وی چینل جو خبر دیتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کیا ہو رہا ہے، کیا ہونے جا رہا ہے۔ ایک بات صاف ہے کہ ریاست، حکومت جس بات کا انکار کرتی ہیں، وہ […]

Increasing prices of petroleum products: what should be done?

Historically, the governments in Pakistan use utility companies (gas and electricity) and petroleum products (since they are the backbone of modern survival) as gold mines to extract as much revenue as they want to raise. So under the circumstances, what should be the policy recommendations? And what should we be demanding? Policy recommendations: Citizens’ demands: […]

میزانیہ مالی سال 2019-20 – کچا چٹھا

The Gist of the Budget 2019-20

زری پالیسی: مختصر نوٹ

A Short Note on Monetary Policy زری پالیسی: مختصر نوٹ (1) یہ اختیار ریاست/حکومت نے ہتھیا لیا ہوا ہے کہ شہری، ادارے اور کاروبار ایک دوسرے کو جو پیسہ قرض دیں گے، اس کی شرحِ سود کیا ہو گی۔ یا حکومت ریاستی اور کاروباری بینکوں سے جو قرض لے گی، اس کی شرحِ سود کیا […]

اگر انتخابات منصفانہ نہیں، تو آپ اسیمبلیوں میں کیوں بیٹھے؟

سیاسی قضیے: 29  دسمبر، 2018 یہ ان دنوں کی بات ہے، جب تحریکِ انصاف ’’دھاندلی دھاندلی‘‘ کھیل رہی تھی، یا اس کے پردے میں کچھ اور۔ اسی پس منظر میں آصف علی زرداری کا ایک بیان پڑھنے کو ملا۔ انھوں نے فرمایا: ’’ہمارا مینڈیٹ تو ہر دفعہ چوری ہوتا ہے۔‘‘ وہ کیا کہنا چاہ رہے […]

پاکستانی فسطائیت کے خد و خال Fascism in Pakistan

سیاسی قضیے: [29 نومبر، 2018] تمہید: ہر معاشرے میں مختلف النوع منفی رجحانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، جیسے کہ خودپسندی، عقل دشمنی، وغیرہ، (تاآنکہ فکری اور سماجی روشن خیالی ان میں سے کچھ رجحانات کا قلمع قمع نہ کر دے!)۔ سبب اس کا افراد کے مابین لاتعداد قسم کے اختلافات ہیں۔ ہاں، ان رجحانات کو […]

پاکستان کے مجرم

’پاکستان کے اصل مجرم سیاست دان ہیں۔‘ یہ میں نے کیا لکھ دیا۔ ہر کوئی سیاست دانوں کو ہی قصوروار گردانتا ہے۔ انھیں ہی لعن

Read More »

حکومت میلہ ـ ایک نظم

میلہ لگا ہوا ہے حکومت کے نام پر میں تیرے کام کرتا ہوں، تو میرے کام کر تجھ کو خودی سے اور طریقے سے کام

Read More »

ثقافتی اجارہ داری

جب اشرافی طبقات، ریاست پر قابض ہوجائیں، جیسا کہ پاکستان میں ہوا ہے، تو وہ زندگی کے ہرشعبے پر اپنا غلبہ قائم کر لیتے ہیں۔

Read More »

ثقافتی منافقت

یہ مقبول نیوز چینلز کے پرائم ٹائم نیوز بُلیٹِن ہیں۔ ان کا ایک سلاٹ، ’اینٹرٹینمینٹ نیوز‘ پر مشتمل ہوتا ہے۔ نہ بھی ہو تو ان

Read More »

ایک اور ذخمی سانپ

بعض اوقات یہ بات بالکل حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے کچھ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ وہ ملوث ہیں ان

Read More »

پسماندگی کی کتاب

پاکستان کے ذہنی وفکری منظر کو پسماندگی کی کھلی کتاب کا نام دیا جا سکتا ہے! اس کالم کی تقریب اسی اخبار میں 10 اکتوبر کو

Read More »

تاریخ اور نظریۂ سازش

یہ بس اتفاق ہے کہ آج میں اپنی ایک پرانی تحریر تلاش کر رہا تھا، اور درج ذیل تبصرہ سامنے آ گیا۔ یہ میری یادداشت

Read More »

اشرافیہ کے طُرے

بے چارے عام لوگ بال کاٹیں تو حقارت سے نائی، حجام کہلائیں۔ خواص بال کاٹیں تو فخر سے ڈیزائینر ہیئر ڈریسر کہلائیں۔ بہت سے کا

Read More »

ریاستی اشرافیہ کا پاکستان ـ 1

وسیم سجاد کے صاحبزادے بیرسٹر حسن سجاد وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے ایڈوائزر مقرراسلام آباد (این این آئی) سابق صدرِ مملکت وچیئر مین سینیٹ وسیم

Read More »

”پیکار – میری شاعری“

میری طبیعت شروع ہی سے موزوں تھی، اس با ت کا مجھے تب پتہ چلا، جب میں نے گورنمینٹ کالج لاہورمیں داخلہ لیا۔ وہاں اقبال

Read More »

ریاستی منافقت

بچوں کا مقدر والدین، اور شہریوں کا مقدر ریاست ہوتی ہے! وضاحت اور تفصیل اس قضیے کی یہ ہے کہ بچے جس طرح کے والدین

Read More »

سرکاری جونکیں

پاکستان کی ریاست ایک ایسا جوہڑ ہے، جس میں سڑتے پانی کو حکومتوں کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ کہنے کو یہ حکومتیں دوچار

Read More »

درمیانی راستے کا قانون

بے شمار مقدمات عدالتوں میں لائے جاتے ہیں ۔ وقت لگتا ہے، تاخیر ہوتی ہے، آخرِ کار فیصلہ ہو ہی جاتا ہے ۔ لیکن پاکستان

Read More »

کراچی کے سوداگر

ایک پاگل دوسر ے پاگل سے کہتا ہے: ”میں سوچ رہا ہوں، لاہور خرید لوں ۔“ دوسرا پاگل جواب دیتا ہے: ”میں بیچوں گا تو

Read More »

آرمی چیف کا فلسفیانہ اقدام

حکومتی عہدیداروں کی تقاریر اور بیانات پڑھنا کوئی اچھا تجربہ نہیں ہوتا ۔ بے معنی تکرار اور جھوٹے وعدوں اور دلاسوں کے ساتھ ساتھ ایک

Read More »

تخیّل کی موت

یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں انسانی تہذیب کی اعلیٰ و ارفع تحصیلات اور اقدار اپنی موت سے ہمکنار ہو چکی ہیں ۔ بالکل

Read More »

پاکستانی سیاست کا کیچڑ

پاکستان کے ستر سے زیادہ ٹی وی چینلز اور لاتعداد اخبارات اور جرائد، جس فکر و دانش کے نمائندہ ہیں، وہ مجموعی طور پر بھیڑ

Read More »

زوال کے نشان

اگر کوئی مورخ زوال اور اس کی حرکیات کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے تو پاکستانی سوسائیٹی سے بہتر نفسِ مضمون اسے شاید ہی کہیں مل

Read More »

تاریخ کی مہم

یہ تحریر ایک گذشتہ پوسٹ، ”ہنداور سندھ تہذیبیں، اور سیاست کے لیے مذہب کا استعمال“ سے جڑی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ میرا خیال ہے، اور یقینا

Read More »

پہلی بات

ایک تو یہ کہ حکمران اور محکوم مختلف ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتیں اور ان کے شہری مختلف ہوتے ہیں۔ اس

Read More »