پاکستان کے مجرم
’پاکستان کے اصل مجرم سیاست دان ہیں۔‘ یہ میں نے کیا لکھ دیا۔ ہر کوئی سیاست دانوں کو ہی قصوروار گردانتا ہے۔ انھیں ہی لعن
Here is the link to the original conversation: https://pakpoliticaleconomy.com/?p=1774 As Jayant Bhandari and I conversed, a few others joined. Since they commented publicly, below are copied, though anonymously, what did they add. Anonymous 1: “state fulfilling its constitutional role/responsibilities”, “Form a political party to work as an institution”. ??? How much longer can grown-ups believe […]
Jayant Bhandari is an Indian who left India and settled in Canada. I never met him. He’s a Facebook friend. His posts generate thoughtful discussions and that’s how we both found each other in a good friendly relation. I did try to leave Pakistan during my teen years, and failed. Later I abandoned the idea […]
Historically, the governments in Pakistan use utility companies (gas and electricity) and petroleum products (since they are the backbone of modern survival) as gold mines to extract as much revenue as they want to raise. So under the circumstances, what should be the policy recommendations? And what should we be demanding? Policy recommendations: Citizens’ demands: […]
’پاکستان کے اصل مجرم سیاست دان ہیں۔‘ یہ میں نے کیا لکھ دیا۔ ہر کوئی سیاست دانوں کو ہی قصوروار گردانتا ہے۔ انھیں ہی لعن
میلہ لگا ہوا ہے حکومت کے نام پر میں تیرے کام کرتا ہوں، تو میرے کام کر تجھ کو خودی سے اور طریقے سے کام
جب اشرافی طبقات، ریاست پر قابض ہوجائیں، جیسا کہ پاکستان میں ہوا ہے، تو وہ زندگی کے ہرشعبے پر اپنا غلبہ قائم کر لیتے ہیں۔
سعید اقبال واہلہ میرے بہت عزیز دوست تھے۔ ہماری دوستی پنجاب یونیورسیٹی کے شعبۂ فلسفہ میں ہوئی، جہاں ایم– اے فلسفہ کرتے ہوئے کچھ اور بہت
وہ کہانی یاد کیجیے جو ایک گذشتہ پوسٹ: ’’مملکتِ اشرافیہ پاکستان، مبارک ہو!‘‘ میں بیان ہوئی ہے۔ اس کہانی میں ’’اوگرا‘‘ کے جن سابق سربراہ
یہ مقبول نیوز چینلز کے پرائم ٹائم نیوز بُلیٹِن ہیں۔ ان کا ایک سلاٹ، ’اینٹرٹینمینٹ نیوز‘ پر مشتمل ہوتا ہے۔ نہ بھی ہو تو ان
بعض اوقات یہ بات بالکل حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے کچھ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ وہ ملوث ہیں ان
”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں مجھے اداکاری نہیں آتی۔ اگر مجھے سیاسی اقتدارکی خواہش ہو تو روکنے والا کون ہے۔ فوج میرے ساتھ ہے
نوٹ: یہ کالم 24 نومبر کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہوا۔ تاہم، جیسا کہ اخبارات کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، اس کے آخری دو پیرے تبدیل کر
انسانی دنیا کے فیصلے تصورات کی دنیا میں ہوتے ہیں۔ طاقت اور کمینگی سے کام لے کر کچھ بھی کرلیا جائے، اگر وہ تصورات کی
پاکستان کے ذہنی وفکری منظر کو پسماندگی کی کھلی کتاب کا نام دیا جا سکتا ہے! اس کالم کی تقریب اسی اخبار میں 10 اکتوبر کو
گذشتہ کالم، ”قدیم ریاست اور آئین کی بالادستی کا اصول“ میں یہ بحث کی گئی تھی کہ جدید ریاست کوئی خلا سے نازل نہیں ہوگئی، بلکہ اس
آئین کی بالادستی کا اصول، جدید ریاست کی اساس ہے۔ تاہم، ابھی جب آئینی ریاستیں وجود میں نہیں آئی تھیں، تب بھی (یعنی قدیم ریاستوں
اورنگ زیب برخلاف اپنے تین بھائیوں کے ایسا متین شخص تھا کہ پابندی شرع کے لحاظ سے ملکی جوڑ توڑ کے سوا دوسرا خیال نہ
فاربس کی مرتبہ فہرست کے مطابق بِل گیٹس، امریکہ کے امیر ترین اور دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد ہیں۔ وہ 1995 سے لے کر
غیرا خلاقی، غیر قانونی اور غیر آئینی خوراک پر پلنے والی ریاستیں، شکاری ریاستیں ہوتی ہیں۔ یہ ہمیشہ تاک میں ہوتی ہیں کہ کوئی ایسا
گذشتہ سال عید کا دن (یکم ستمبر) تھا، اور ان دنوں کراچی میں امن و امان کے حالات بہت خراب تھے۔ دلبرداشتہ، سابقہ ’’اردو بلاگ
یہ بس اتفاق ہے کہ آج میں اپنی ایک پرانی تحریر تلاش کر رہا تھا، اور درج ذیل تبصرہ سامنے آ گیا۔ یہ میری یادداشت
گذشتہ دوکالموں میں جو ہوش ربا کہانیاں بیان ہوئیں، ان سے آگے بڑھنے کو جی نہیں چاہتا۔ دل دہلا دینے والی حیرانی ختم ہونے میں
بے چارے عام لوگ بال کاٹیں تو حقارت سے نائی، حجام کہلائیں۔ خواص بال کاٹیں تو فخر سے ڈیزائینر ہیئر ڈریسر کہلائیں۔ بہت سے کا
وسیم سجاد کے صاحبزادے بیرسٹر حسن سجاد وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے ایڈوائزر مقرراسلام آباد (این این آئی) سابق صدرِ مملکت وچیئر مین سینیٹ وسیم
یہ کالم مثالوں کے ساتھ ایک ضرب المثل کی تشریح سمجھ لیجیے۔ مثل ہے: حلوائی کی دکان اور دادا جی کی فاتحہ۔ فرہنگِ آصفیہ میں
چینی کے برتن کتنے خوبصورت اور نازک ہوتے ہیں۔ یہ جب ٹوٹتے ہیں، کتنا عجیب چھناکا اور کتنا دکھ ہوتا ہے۔ اگر کسی چائنہ شاپ
میری طبیعت شروع ہی سے موزوں تھی، اس با ت کا مجھے تب پتہ چلا، جب میں نے گورنمینٹ کالج لاہورمیں داخلہ لیا۔ وہاں اقبال
بچوں کا مقدر والدین، اور شہریوں کا مقدر ریاست ہوتی ہے! وضاحت اور تفصیل اس قضیے کی یہ ہے کہ بچے جس طرح کے والدین
جب سے پاکستان بنا ہے تب سے ہی ایک کشمکش مسلسل موجود ہے ۔ یہاں میں یہ کہنے سے گریز کروں گا کہ یہ کشمکش
پاکستان کی ریاست ایک ایسا جوہڑ ہے، جس میں سڑتے پانی کو حکومتوں کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ کہنے کو یہ حکومتیں دوچار
نیو یارک ٹائمز میں 2 اگست کو ڈیوڈ بروکس کا مضمون ایک خط سے شروع ہوتا ہے: ’پچھلے پانچ برس کے عرصے میں، میں نے
بے شمار مقدمات عدالتوں میں لائے جاتے ہیں ۔ وقت لگتا ہے، تاخیر ہوتی ہے، آخرِ کار فیصلہ ہو ہی جاتا ہے ۔ لیکن پاکستان
ایک پاگل دوسر ے پاگل سے کہتا ہے: ”میں سوچ رہا ہوں، لاہور خرید لوں ۔“ دوسرا پاگل جواب دیتا ہے: ”میں بیچوں گا تو
اگست 2010 میں، میں نے انگریزی میں ایک مضمون لکھا تھا: ”پاکستان – ایک جرائم پیشہ ریاست ۔“ میرے دوستوں اور جاننے والوں نے اس
حکومتی عہدیداروں کی تقاریر اور بیانات پڑھنا کوئی اچھا تجربہ نہیں ہوتا ۔ بے معنی تکرار اور جھوٹے وعدوں اور دلاسوں کے ساتھ ساتھ ایک
یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں انسانی تہذیب کی اعلیٰ و ارفع تحصیلات اور اقدار اپنی موت سے ہمکنار ہو چکی ہیں ۔ بالکل
برج نارائن چکبست (1926-1882) کا ایک شعر زبان زدِ عام رہا ہے: زندگی کیا ہے عنا صر میں ظہورِ ترتیب موت کیا ہے انھیں اجزا
پاکستان کے ستر سے زیادہ ٹی وی چینلز اور لاتعداد اخبارات اور جرائد، جس فکر و دانش کے نمائندہ ہیں، وہ مجموعی طور پر بھیڑ
آئین وقانون اور ان کی پاسداری، افراد کے ذہنوں اور طرزِ عمل میں کیوں جاگزیں نہیں ہوتی، اس کی پاکستان سے بہتر مثال کہاں مل
اگر کوئی مورخ زوال اور اس کی حرکیات کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے تو پاکستانی سوسائیٹی سے بہتر نفسِ مضمون اسے شاید ہی کہیں مل
یہ تحریر ایک گذشتہ پوسٹ، ”ہنداور سندھ تہذیبیں، اور سیاست کے لیے مذہب کا استعمال“ سے جڑی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ میرا خیال ہے، اور یقینا
اس 10 اگست کو آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ نے میری دوسری اردو کتاب ریلیز کی ۔ زیل میں اردو میڈیا ریلیز نقل کی جا رہی ہے: میڈیا ریلیز: نئی کتاب:
حامد میر کے کالم معلومات سے بھرے ہوتے ہیں۔ مگر کل 5 ستمبر کا کالم مجھے بہت عجیب لگا۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو
اردو، پنجابی اور انگریزی زبانیں میرے خون میں شامل ہیں۔ اردو اور پنجابی تو ایسے ہیں، جیسے یہ خون میں بولتی ہوں۔ جبکہ، انگریزی اس
غنیمت ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے بحالی (بحالیوں) کے بعد پاکستانی اعلیٰ عدلیہ نے اپنے دامن سے کچھ
یہ اشتہار دیکھیے، جو لاہور ایلیکٹرک سپلائی کمپنی کی طرف سے دیا گیا ہے۔ کیا اس پر اٹھنے والا خرچ لیسکو نے اپنے عملے کی
جب سے پیپلز پارٹی کا موجودہ دورِ حکومت شروع ہوا ہے، یہ ایک آسیب میں گرفتار ہے ۔ پہلے یہ آسیب معزول عدلیہ کی بحالی
Be informed that I have decided to separate the Urdu postings from English ones and put them together into another blog. For the Urdu posts,
فیروز اللغات (اردو) میں ’شہر آشوب‘ سے مراد ایسی نظم ہے، جس میں کسی شہر کی پریشانی و بربادی کا ذکر ہو ۔ فرہنگِ آصفیہ
ایک تو یہ کہ حکمران اور محکوم مختلف ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتیں اور ان کے شہری مختلف ہوتے ہیں۔ اس
Please note: This post has been shifted to the Urdu Blog – Civil Pakistan. To see it, click the link below: Yeh Hawaon Kay Musafir, Yeh
Chronic ‘debt dependence’ By Huzaima Bukhari & Dr Ikramul Haq All is set for the executive board of the International Monetary Fund (MF) to consider
Please note: This post has been shifted to the Urdu Blog – Civil Pakistan. To see it, click the link below: Pakistan Kay Tufaileyay Siyasatdaan