جعل ساز یا قانون ساز
پاکستان میں ”جرم“، ریاست، سیاست اور حکومت کے ساتھ لازم و ملزوم بن گیا ہے۔ جرائم پیشہ سیاست اور جرائم پیشہ حکومتوں نے پاکستان کو جرائم
نوٹ: یہ تحریر 7 دسمبر 2019 کو ’’نیادور‘‘ پر شائع ہوئی۔ https://urdu.nayadaur.tv/25638/ پاکستانی فسطائیت کا چہرہ دو خطوط سے عبارت ہے، حماقت اور خودراستی۔ لیکن اندر سے یہ اپنے گنوں میں پوری ہے، یعنی اصلاً فسطائیت ہے۔ جتنا پاکستانی فسطائیت، فسطائی ہو سکتی ہے۔ میں نے حماقت کو اس لیے پہلے رکھا ہے کہ خودراستی کا […]
پاکستان میں ”جرم“، ریاست، سیاست اور حکومت کے ساتھ لازم و ملزوم بن گیا ہے۔ جرائم پیشہ سیاست اور جرائم پیشہ حکومتوں نے پاکستان کو جرائم
کیاانصاف ممکن ہے؟ بالخصوص اگر ایک فرد یا افراد کا ایک مختصر گروہ، قتلِ عام کا مرتکب ہو تو پھر انصاف کی نوعیت کیا ہو
یہ ایک مشاہدے کی بات ہے کہ سوسائیٹی کا نظامِ اقدار، قانون کی عمل داری سے ناگزیر طور پرجڑا ہوتا ہے۔ جتنا قانون کی عمل
Today is the day when the five-year term of President Asif Ali Zardari has come to an end (writing this blog in the evening). See
جیسا کہ آج آصف علی زرداری کے عہدۂ صدارت کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ آج کے اخبارات دیکھیے۔ میرا اندازہ ہے کہ قریب قریب
”انصاف کو علاحدہ رکھ دیں، اور پھر دیکھیں تو مملکتیں کیا ہیں، غنڈوں کے عظیم گروہ؟ غنڈوں کے گروہ کیا ہوتے ہیں، غنڈوں کی چھوٹی
پاکستان کے بڑے بڑے سیاسی مسائل کی نوعیت انتہائی حیران کن ہے۔ آئیے ذرا اخبارات کے آئینے میں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ، مثلاً،
سمت کو ئی محفوظ نہیں ہے قدم قدم پر خطرہ ہے یکدم کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی بھی آفت آ سکتی ہے اک لمحہ بھی
پاکستانی فوج کو بالآخر ہزاروں شہریوں کی قیمتی جانوں، اور شہریوں کے ٹیکس کے اربوں کھربوں روپوں کے نقصان کے بعد یہ سمجھ آنے لگا
نوٹ: یہ کالم، سابقہ کالم ’’مافیا سیاست کی جنم کنڈلی‘‘ کا دوسرا حصہ ہے۔ پاکستان میں ریاست، حکومت اور سیاست کی سرپرستی میں موجود مافیا
محبت پل رہی ہے جھونپڑوں میں، کوٹھیوں میں راستوں پر گلیوں بازاروں میں سڑکوں پر محبت پل رہی ہے بستیوں میں، کٹڑیوں میں ایک کمرے
یہ بات درست ہے کہ مافیا گروہ ہر جگہ جنم لے سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ مافیا گروہوں کے
پنجاب میں جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنتی ہے، یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ نت نئے تجرے کیےجاتے ہیں، اور ہر مرتبہ نئے
کراچی، بلدیہ ٹاؤن کی گارمینٹس فیکٹری میں گذشتہ ستمبر میں لگنے والی آگ کو، جس میں ڈھائی سو سے زیادہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع
[نوٹ: یہ تحریر 21 جولائی 2012 کو ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ کے لیے لکھی گئی تھی اور 23 جولائی کو پوسٹ کی گئی۔] گذشتہ ماہ کی بات ہے، جب
یہ سوال کچھ عجیب سا لگے گا۔ یہ سوال اٹھانے والا کچھ ”خود پسند“ محسوس ہو گا۔ یقین کیجیے، یہ سوال بہت اہم ہے۔ اصل
یہ ان دنوں کی بات ہے، جب قانون کی حکمرانی کے لیے وکلا کی تحریک زوروں پر تھی۔ 9 مارچ 2007 کو طاقت کے ایک
شاہ رخ جتوئی کراچی ایئر پورٹ سے بیرونِ ملک فرار ہوا، ایف آئی اے کا اعتراف [روزنامہ ایکسپریس، 29 جنوری، 2013]
تیسری دنیا کے ممالک کے ننانوے فی صد مسائل کا سبب قانون کی حکمرانی اور خود کارحکومتی اداروں کی عدم موجودگی ہے۔ پاکستان غالباً اس
یہ پوسٹ ایک سابقہ پوسٹ: ’’خان فضل الرحمٰن خان اور ان کا ناول، آفت کا ٹکڑا‘‘، سے جڑی ہوئی ہے۔ جیسا کہ اس پوسٹ میں
جس طرح آج کل لائن آف کنٹرول پر حالات خراب ہو رہے ہیں، اور ایک خوف سا محسوس ہو رہا ہے کہ نوبت کہیں جنگ
جب فروری 1999 میں وزیرِ اعظم بھارت، اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہو ر آئے تھے تو یہ پاک بھارت سفارت کاری میں
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پیچھے پاکستانی سیاست اور ریاست کے سنگین جرائم چھپے ہوئے ہیں۔ جب سے واپڈا کا قیام عمل میں آیا، اس
کسی بھی قسم کی قوت، طاقت، اختیار، وغیرہ، سب اتھاریٹی کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ قوت اور طاقت پیدائشی اور فطری بھی ہو سکتی
ٹویٹر پر آج کی ٹویٹ: ترجمہ: یومِ نجات ـ آصف زرداری نے جو نقصان پہنچایا، پاکستانی ریاست، سوسائیٹی اور تصورات پر اس کے اثرات برسوں
Today’s Tweet: Good Riddance Day – the devastation caused by Asif Zardari to exert its impact on the Pakistani state, society and ideas for years
نوٹ: یہ ٹکڑا 4 مارچ 2011 کو لکھا گیا اور 21 مارچ 2011 کو ’’اردو بلاگ ـ سب کا پاکستان‘‘ پر پوسٹ ہوا۔ حکومت ِ پاکستان کی بس چلانے کے لیے ڈرائیوران و
اس ضمن میں ایک خبر (ریاستی اشرافیہ کا پاکستان ـ 5) پہلے پوسٹ کی جا چکی ہے۔ اب 17 جنوری کے روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں اول صفحے پر یہ خبر
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اگوائی میں پارلیمان کے اندراور پارلیمان سے باہر موجود اکثر سیاسی جماعتیں ہر قسم کے غیر آئینی اقدام اور حکومت
نوٹ: یہ کالم ’’نجی تعلیم کی ریگولیشن کا مسئلہ‘‘ کے سلسلے کا تیسرا کالم ہے۔ گذشتہ دو کالم، ”نجی سکول اور خیبر پختونخوا حکومت“، اور ”نجی سکول اور تعلیم
دروازے پر بیل ہوئی۔ جا کر دیکھا تو شاہد اور ظفر کار لیے کھڑے تھے: ’گوجرانوالے جانا ہے۔‘ ’میں تو ابھی سو کر اٹھا ہوں۔
نوٹ: یہ کالم “نجی تعلیم کی ریگولیشن کا مسئلہ” کے سلسلے کا دوسرا کالم ہے۔ جیسا کہ گذشتہ کالم، ”نجی سکول اور خیبر پختونخوا حکومت“ میں ذکر
پاکستان میں ریاست اور حکومتوں کی ناکامی ہمہ گیر ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی اس ناکامی سے مستثنیٰ نہیں۔ کہنے کو ایک خود رو انداز
عرض معروض یہ مضمون مارچ 1992 میں لکھا گیا تھا۔ اسے بغرضِ اشاعت مختلف جرائد کو بھیجا گیا؛ پر کہیں چھپ نہ سکا۔ ان جرائد
کیا پاکستان میں اردو زبان کے اور بھی آسان ہو جانے کی بات عجیب نہیں لگتی۔ کیا پاکستان میں اردو بولنے، پڑھنے، لکھنے اور چھاپنے
It’s just inhuman, against the very norms of the human world, that anyone be killed for his / her ideas. Everyone has ideas, good or
پاکستان ابتدا ہی سے اس المیے کا شکار ہے کہ یہاں آئین اورقانون کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی، اور ہر کوئی کسی نہ کسی
انسانی دنیا کے فیصلے تصورات کی دنیا میں ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارے تصورات ہوتے ہیں، ویسی ہی ہماری زندگی ہو جاتی ہے۔ مغالطہ بھی تصور
غالب امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی ایسا نہیں کرے گی۔ کیوں؟ چند ممکنہ اسباب ذیل میں درج کیے جاتے ہیں: 1– تیسری دنیا
بہت سی باتیں متعدد وجوہات کی بِنا پر ناقابلِ فہم ہوتی ہیں۔ بہت سی باتیں اس لیے ناقابلِ فہم ہوتی ہیں کہ ان کے پیچھے
پنجاب میں لیپ ٹاپ کا لنگر بنٹنا ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ بلکہ اس کی ریس میں، سندھ اور خیبر پختون خواہ کی حکومتیں بھی
یہ 1998 کی بات ہے کہ ایک کتاب کی تلاش کے سلسلے میں اردو بازار میں ’’دوست ایسوسی ایٹس‘‘ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ کتابوں کے
اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ نظمِ حکومت کے حوالے سے ذمے داری سیاست دانوں پر آتی ہے۔ خود سیاست دان یہی
خیال کریں کہ قدیم انسان زندگی کو کیسے سمجھتا، اور اس کے بارے میں کیا تصور رکھتا ہو گا۔ زندگی کی قدر و قیمت کا
’پاکستان کے اصل مجرم سیاست دان ہیں۔‘ یہ میں نے کیا لکھ دیا۔ ہر کوئی سیاست دانوں کو ہی قصوروار گردانتا ہے۔ انھیں ہی لعن
میلہ لگا ہوا ہے حکومت کے نام پر میں تیرے کام کرتا ہوں، تو میرے کام کر تجھ کو خودی سے اور طریقے سے کام
جب اشرافی طبقات، ریاست پر قابض ہوجائیں، جیسا کہ پاکستان میں ہوا ہے، تو وہ زندگی کے ہرشعبے پر اپنا غلبہ قائم کر لیتے ہیں۔
سعید اقبال واہلہ میرے بہت عزیز دوست تھے۔ ہماری دوستی پنجاب یونیورسیٹی کے شعبۂ فلسفہ میں ہوئی، جہاں ایم– اے فلسفہ کرتے ہوئے کچھ اور بہت
وہ کہانی یاد کیجیے جو ایک گذشتہ پوسٹ: ’’مملکتِ اشرافیہ پاکستان، مبارک ہو!‘‘ میں بیان ہوئی ہے۔ اس کہانی میں ’’اوگرا‘‘ کے جن سابق سربراہ
سپریم کورٹ اور سنسنی خیزی
[نوٹ: یہ مضمون 9 دسمبر، 2019 کو لکھا گیا، اور 12 دسمبر 2019 کو نیا دور ڈاٹ ٹی وی میں شائع ہوا۔] ’’جاسوسی کے ذریعے کسی شہری کے وقار کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ انٹیلی جینس حکام کس قانونی اختیار کے تحت ٹیلی فون ٹیپ کرتے ہیں۔‘‘ ’’یہ انسانی وقار کا معاملہ ہے، آرٹیکل […]